"سامان ساتھ لانا"

(ام بلال, ریاض)

شروع اللہ کے نام سے جو نہایت رحمان اور رحیم ہے

نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جسکے ہاتھ میں کائینات کی سلطنت ہے۔اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
جسنے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔(سورۃ الملک 1,2)

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

14 اپریل 2015۔۔۔ یقیناً اس دن کی صبح میری زندگی میں آنے والی دوسری صبحوں سے مختلف تھی۔جبکہ سورج روز کی طرح پوری آب وتاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ میں بھی کوئی فرق نہیں تھا۔ ھوا ویسےہی نرماہٹ سے چہروں کو چھو رہی تھی۔ مگر میری زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی تھی جس سے کےمیں بے خبر تھی۔صبح نے میرے کانوں میں آکر کچھ اس طرح سرگوشی کی۔

صبح وشام جو تو کرتی بندگی کا اقرار ھے
تیری بندگی کا آج سب سے بڑا امتحان ھے

دوسری تمام صبحوں کی طرح اس صبح بھی بلال نے اپنے ابو کے ساتھ کھڑکی سے آخری بار تھکی تھکی مسکراہٹ کے ساتھ دنیا کی زندگی کا نظارہ کیا۔ بہت سی راتوں کی طرح گزشتہ رات بھی وہ اپنی تکلیف کی وجہ سے سو نہ سکا تھا مگر میں کیا کہوں کہ وہ کبھی اپنی تکلیف پر بھی رو نہ سکا تھا۔ رات کو جب وہ میرے بازو پر سر رکھکر لیٹا ھوا تھا تو میں نہیں جانتی تھی کہ اب وہ کبھی میرے بازو پر اسطرح سر رکھ کر نہیں سوئےگا اور کبھی ہمیشہ کی طرح میں اس سے یہ نہ کہہ سکوں گی کہ بیٹا اللّٰہ ھمارے ساتھ ھے۔
مگر مجھے یقین ھےکہ اللّٰہ ھمارے ساتھ تھا، ھے اور ھمیشہ رہے گا۔ ان شاءاللہ
بہر کیف بات پھر صبح کی آتی ھے کھڑکی سے نظارہ کرنے کے بعد اس نے اپنے ابو سے اپنی زندگی کا آخری ناشتہ کیا اور حسب عادت اسی طرح ناشتہ کرتے ہوئے پلٹ کر میری طرف مسکرا کر دیکھا
جیسے وہ ھمیشہ دیکھتا تھا۔۔
۔۔۔۔ اب کوئی کہے کہ نہ تم دیکھ سکتی تھیں کہ وہ دیکھ کر کیسے مسکراتا تھا۔۔ اور نہ وہ بول سکتا تھا کہ کیسے بتاتا کہ ماں میں نے کھانا کھا لیا۔۔۔
مگر شاید کوئ یہ نہیں جانتا کہ ماں اولاد کو آنکھ سے نہیں دل سے دیکھتی ھے۔
آنکھ سے تو میں نے پہلی مرتبہ اسکو اس دن دیکھا تھا جب رب نے تحفے کی صورت میں اسکو میری گود میں ڈالا۔
حقیقت میں وہ رب العزت کا دیا ہوا ایک بہت بڑا تحفہ تھا اس کے معصوم اور پر نور چہرے کو دیکھ کر اسی دن میرا دل اندر سے روشن ہوگیا۔
مجھے نہیں معلوم کہ وہ میرے پاس اتنے تھوڑے دن کیلئے آیا تھا۔باوجود اسکے کہ وہ جب تک زندہ رہا تکلیف میں رہا اور وہ وقت اسقدر تیزی سے گزر گیا کہ پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر اب وہ جب چلا گیا تو یہ تین سال گزرنا مشکل ہو گیا کیا عجب بات ھے کہ وہ جب تھا تو وقت پر لگا کر اڑ گیا اور جب وہ نہیں ھے تو وقت تھم گیا۔

کوئی صحیح کہتا ھے کہ خوشیوں کو پر لگ جاتے ھیں اور مشکل وقت کٹتے نہیں کٹتا۔ میرا دل بہت کچھ کہتا ھے لیکن وہ الفاظ کی صورت میں باہر نہیں آتا ھے دل روز تڑپتا ھے مگر آنسو برسات کی طرح برستے نہیں۔

ھم جہاں رہ رھے ھیں یہاں چاروں اطراف صحرائی زندگی ھے شہر سے دور جو صحراء ھیں وہاں اونٹ بانوں کو جب اپنے اونٹ دوسری طرف منتقل کرنا ہوتے ہیں تو وہ اوٹنی کے بچے کو گاڑی میں بیٹھا کر لے جاتے ھیں۔اوٹنی خود اپنے بچے کے پیچھے چل کر جاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے بچے کا نگہبان میرے بچے کو لے جا چکا ھے میرے بچے نے اپنی خاموش زبان میں یہ پیغام دیا ھے۔
"تمھیں بھی میرے پیچھے اسی راستے آنا ھے۔ مگر اس سفر کیلئے سامان ساتھ لانا ھے"
میں تو اس دنیا میں اللّٰہ کا ایک خاص مہمان بن کر آیا تھا۔اسلیئے مجھے ساتھ میں سامان لانے کی ضرورت نہیں پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنے ساتھ سامان اچھے سے اچھا لانا تا کہ یہاں گزارا آسانی سے ہو سکے۔۔۔۔۔۔

میں تو اس پیغام کو جان گئ ھوں اور کوشش کر رہی ھوں سامان اکھٹا کرنے کی۔۔۔۔ مگر آپ سب سے گزارش ھے کہ آپ بھی اس سفر کا اچھا سامان آج سے ہی اکھٹا کر لیں تاکہ وہاں کوئ مشکل نہ ھو۔

اللہ ھمیں اپنے سب گھر والوں کے ساتھ بخیر و عافیت جنت نعیم میں داخل کرے اور ھم سے راضی ھو جائے۔

آمین
والسلام
ام بلال ریاض
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ام بلال

Read More Articles by ام بلال: 15 Articles with 16692 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2018 Views: 2789

Comments

آپ کی رائے
ma sha ALLAH...
ap ne bohat acha topic ka name rakha...mujhy umeed hai k me bhi apna saman tiyar kr logi...........
apki ye khani parh kr dil ko aik itmenan sa mil gya hai.....
apka behad shukriya ALLAH apko iska behad ajar de....ameen
By: samra, lahore on Apr, 27 2018
Reply Reply
0 Like