بھرتیوں پر پابندی۔۔ بالکل بے جا اور ناجائز

(Ibn-e-Niaz, Maneshra)

الیکشن کمیشن نے آنے والے الیکشن کے تناظر میں پورے ملک میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ انھوں نے کس بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی ہیں۔ اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ تو ای سی پی نے جواب دیا کہ سیاستدان اور حکمران ووٹ لینے کے لیے ہر ادارے میں نئی بھرتیاں اپنی مرضی سے کرتے ہیں جن میں میرٹ کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ بات مان لی ہے اور کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ الیکشن سے پہلے نوکریاں نہ دی جائیں۔ ۔۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ درست ہے کہ من مانیاں بھرتیاں شروع ہو جاتی ہیں ، سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔بھرتی کرنے والوں سے اور ان کے اہل و عیال سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ووٹ انہیں کو دینا ہے۔ اب وہ نوکری لینے والا مجبور ہوتا ہے کہ اپنے علاقے کے کرپٹ ترین بندے کو ووٹ دے اور بقول شخصے ووٹ کو عزت دے، جو کہ سراسر ووٹ کی توہین ہے۔

فیصلہ درست تو ہے لیکن فیصلہ غلط بھی ہے۔ سرکاری نوکری پر صرف اس مرتبہ ہی پابندیاں نہیں لگیں بلکہ ہر سال ہر حکومت نے یہ فریضہ بہ احسن طور سر انجام دیا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود پھر بھی مختلف اداروں میں بھرتیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کیسے؟ سفارش پر۔ کوئی نہ کوئی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایک فون کرتا ہے یا بذاتِ خود شرفِ ملاقات بخشتا ہے اور جاتے ہوئے دو تین عدد کوائف نامے سربراہ کی میز کی نذر کر دیتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں اس کا تقررنامہ اس کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔ اب نوکر کی تے نخرہ کی کے مصداق سربراہ کو اپنی عزت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ کیونکہ منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کی اکثریت کم پڑھی لکھی لیکن زبان کی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اور کام نہ ہونے کی صورت میں ان کی زبان درازیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تو پھر سربراہ کو مجبوراً تقرریاں کرنی پڑتی ہیں۔ درحقیقت پابندیاں لگانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جب جب کسی کو کسی ادارے میں بھرتی کرانا ہو تو وقتی طور پر کسی نہ کسی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر سے این او سی حاصل کرکے کسی ادارے میں ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔

بھرتیوں پر پابندی کا جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور ہوتا چلا آرہا ہے وہ پڑھے لکھوں کی عمر گزرنے کا ہے۔ یونیورسٹی سے جب کم از کم ایم اے یا برابر کی ڈگر لے کے طلباء فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو انھیں پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر تو پابندی ہے۔ تو ایسے میں اس کا دل نہیں ٹوٹے گا تو کیا ہو گا۔پھر پابندیاں ایک دو ماہ کے لیے کھلتی ہیں جس میں سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ جب پابندی لگ جاتی ہے اور طویل عرصے کے لیے ہو تو ان کی عمر گزر جاتی ہے۔ جب کسی بھی اسامی کے لیے عمر کی حد مقرر کی جاتی ہے تو پابندیوں کی وجہ سے جب وہ اہل ہوتے ہیں تو نااہل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرکاری ادارے میں پہلے سے ملازم تو ہوتے نہیں کہ انھیں پانچ سات سال کی رعایت مل جایا کرے۔ یوں بیرزوگاری کی شرح میں ہر سال ایک کثیر تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور سونے پہ سہاگہ اکثر افراد ریٹائرڈ ہوتے ہیں، نیچے سے اوپر ترقیاں ہوتی ہیں تو نیچے والی اسامیاں بھرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ یوں ادارے کو افراد کی کمی کی وجہ سے کام نپٹانے میں دوشواری پیش آتی ہے ۔

سرکاری اداروں میں تو حکومت بھرتیوں پر پابندی لگا دیتی ہے لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھرتیاں ہو سکتی ہیں۔ یہاں بھی سب سے بڑا مسلہ اقربا پروری یا سفارش کلچر کا موجود ہونا ہے۔ بہت کم قابل اور اہل افراد بھرتی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے اگر پاکستان میں بند کارخانے چلا دیے جائیں۔ اگر حکومت وقت نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے پرانی سڑکوں کی ہی توسیع کر دے تو اخراجات میں کافی بچت ہوگی ۔ وہی بچت بند کارخانوں پر لگائی جائے۔ ان کو سرمایہ فراہم کیا جائے اور ہر کارخانے کو پابند کیا جائے کہ وہ کارخانہ شروع کرتے ہی نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بھرتی کرے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ بیروزگار نوجوان غلط کاموں میں ہاتھ ڈالیں۔ اگر نوجوان دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں، جرائم میں مبتلا ہوتے ہیں ، غلط کام کرتے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ بیروزگاری بھی ہے۔ظاہر ہے جب مصروفیت کے لیے کچھ نہ ہوگا تو پھر نوجوان کیا کرے گا۔ وقت تو گزارنا ہے۔ اوپر سے ہر قسم کے جرم کرنے کے پیسے ملتے ہوں اور اچھے ملتے ہوں تو وہ کیوں جرم کی راہ اختیار نہیں کرے گا۔پاکستان میں ہر قسم کی انڈسٹری موجود ہے اور ان انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے افرادی قوت بھی موجود ہے۔ اگر تجربہ نہیں بھی ہے تو پھر بھی ان کی تعلیم اس قدر ہے اور اس مطلوبہ ملازمت کے مطابق ہے۔ بات صرف ان کی رہنمائی کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر فیکٹری ، انڈسٹری میں سینئر ہوتے ہیں جو نئے بھرتی ہونے والے کو تجربہ کار بناتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں نیا بھرتی ہونے والا چاہے جتنا تجربہ کار بھی ہو، اس ادارے کے طریقہ کار پر چلنے کے لیے اس کو سینیئرز کی رہنمائی کی ضرورت ہر قدم پر پڑتی ہے۔

محترم چیف جسٹس صاحب اس وقت بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ جو کام حکومت کے کرنے کے ہوتے ہیں وہ ان کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ہر مقام پر ان کو کڑھنا پڑ رہا ہے کہ جس ادارے میں بھی جاؤ ، وہاں پر ہی دھاندلی پائی گئی ہے، بنیادی حقوق کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محترم جج اس مسلے کی طرف بھی توجہ دیں اور بیرزوگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے قانون پر (اگر موجود ہے تو) عمل درآمد کروائیں اور ان کی عمر گزرنے سے پہلے پہلے ان کو روزگار فراہم کروائیں۔ اور اگر کوئی قانون نہیں ہے تو قانون بنوا کر اس پر عمل کروائیں۔ یقین مانئے سر، کہ سب آپ کو اﷲ کے آگے جھولی پھیلا کر دعائیں دیں گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibn e Niaz

Read More Articles by Ibn e Niaz: 79 Articles with 40890 views »
I am a working, and hardworking person. I love reading books. There is only specialty in it that I would prefer Islamic books, if found many types at .. View More
30 Apr, 2018 Views: 634

Comments

آپ کی رائے