مکمل آزادی۔۔۔ہنوز دلی دور است

(Amjad Siddique, Lahore)
نوازشریف پر بھارت نوازکا الزام لگتارہتاہے۔ان کے مودی کی حلف برداری کے لیے بھارت جانے پربہت برامنایا گیا۔پھر جب مودی پاکستان میں نوازشریف کے گھر آئے تواسے اس سے بھی برا تصورکیا گیا۔دونوں واقعات کے مضمرات نوازشریف کوجھیلنا پڑے۔انہیں مشکلات سے گزرنا پڑامگر اپنی استقامت پر سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔مودی کی حلف برداری کے لیے جانا ان کے اٹل ارادوں کی دلالت کرتاہے۔اور مودی کا اپنے گھر خیرمقدم اس بات کاثبوت کہ نوازشریف کو حلف برداری میں شمولیت پرکچھ پچھتاوہ نہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی ملے ستر سال ہوچکے اب دونوں ممالک کے نظریات اور سوچ میں واضح فرق آچکا۔اب جزباتیت کم ہوچکی۔آج دونوں ممالک آگے کی سوچ رہے ہیں۔ا ب خواہ مخواہ کی اچھل کود کی بجائے قوم اور ریاست کے بھلے کے لیے منصوبہ بندیاں ہوہی ہیں۔نوازشریف سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک میں کچھ لوگ تبدیلی سوچ کے خلاف ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ خواہ مخواہ کی یہ اچھل کو دجاری رہے۔ان کا دال دلیہ اس سے وابستہ ہے۔

پاکستان کو ایک آزاد،خودمختار اور ترقی یافتہ ریاست بننے کی راہ میں ابھی بہت رکاوٹیں ہیں۔کچھ لو گ ہمیں کولہو کا بیل بنائے رکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔نوازشریف ان کے خلاف سوچ رکھتے ہیں۔سیاسی قوتوں نے اب تک جس تھوڑے بہت پر اکتفا کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔نوازشریف اس روایت کو بدلنا چاہتے ہیں۔وہ لولے لنگڑے اقتدارکی بجائے پورے اختیارات کے ساتھ اقتدار لینا چاہتے ہیں۔نوازشریف پہلے لیڈر ہیں جو اس بھیڑ چال سے نکلنے کی کوشش میں ہیں۔ اس پہل کے سبب انہیں جابجا رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ممکن ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید انہیں کوئی ہمنوائی مل جائے۔فی الحال وہ سخت قسم کی تنہائی کے شکارہیں۔جو لوگ ملک کو خالہ جی کے گھر کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔وہ حاوی ہورہے ہیں۔ملالہ یوسف زئی کا پاکستان کا دور ہ بھی اسی بے یقینی اورافراتفری کے ماحول کو بڑھاوا دے رہا ہے۔اس دورے کو بڑا ہائی لائٹ کیا گیا۔ان کی آمد سے چار دن پہلے ہی میڈیا میں کمپین شروع کردی گئی۔ان کی قربانیاں اور اس کے اعتراف میں دنبا بھر سے ملی محبت کو ہر چینل نے کسی بریکنگ نیوزکی طرح چلایا۔اپنے گھر پہنچنے پر ملالہ کا رد عمل بڑا جزباتی تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان آکر بہت خوش ہیں۔انہیں مجبورا پاکستان سے جانا پڑاتھا۔جیسے ہی موقع ملا وہ گھر لوٹ آئیں۔ اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ کچھ دن پاکستا ن میں گزارنے کے بعد دوبارہ بیرو ن روانہ ہوجائیں گی۔

ملالہ یوسف زئی ایک متنازعہ کردار ہے۔اس کردارپرماضی میں سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔اب جس طرح و ہ عین ان دنوں پاکستان آئی جب الیکشن کی آمد آمد ہے۔شبہات بڑھ رہے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک با رپھر پاکستانیوں پر امپورٹڈ حکمران نازل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے۔جو لوگ یہاں غیراعلانیہ بادشاہت کررہے ہیں۔ان کی غیر قانونی بادشاہت نے ملک کو دیوالیہ او ربے توقیر کررکھا ہے۔دنیا کے لیے پاکستان کسی بکاؤ مال سے کم نہیں۔جس طرح امریکہ صدر ہمیں بار با رپیسے ہضم کرنے او رکام نہ کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔وہ ہمارے بادشاہوں کی ناکامیوں کی دلیل ہے۔ملالہ یوسف زئی کی آمد کو کسی خفیہ مشن کا حصہ تصور کیا جارہاہے۔یہ بھی بادشاہوں کی اندھری رنگری کا شاخسانہ ہے۔اس آمد سے پاکستانیوں کا رد عمل جانچا جانا مقصود ہے۔عوام کا رد عمل او رسیاسی قیادت کا موقف بھی۔اب تک ملالہ یوسف زئی سے متعلق کچھ لوگوں کے تحفظات کو بے جا قرارنہیں دیا جاسکتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات میں جب سکولوں پر حملہ ہونے کے کئی واقعات ہوئے۔صرف ملالہ یوسف زئی پر حملے کو کیوں زیادہ اہمیت ملی۔پھر جس دن ملالہ پر حملہ ہوا اس دن دوسری بچیاں بھی نشانہ بنیں۔ان میں سے کسی کا نام تک سامنے نہیں آیا۔ ملالہ کو پہلے پاکستان میں وی و ی آئی ٹریٹمنٹ ملا پھردنیا بھرمیں انہیں بہت زیادہ توجہ ملی۔اس ترجیحی سلوک پر ملالہ کو مشکوک الفاظ سے یاد کیا جاتاہے۔کہا جاتاہے کہ ملالہ یوسف زئی کو ملنے والی اس غیر معمولی توجہ کا سبب اس کی وہ تحریریں اور افکارہیں۔جو وہ بڑے عالمی نشریاتی ادارے سے شیئر کرتی رہیں۔ان کی تحریریں بالعموم اسلام کو قدرے متنازعہ دین ثابت کرنے کی کوشش قراردی جاسکتی ہیں۔ان تحریروں کا لب لباب یہی تھاکہ عورتوں کی زندگی بہت مشکل بنادی گئی ہے۔ ایک مخصوص لباس پہننے پر مجبور کیا جاتاہے۔ہمیں یہ نہیں کرنے کی اجازت ہم وہاں نہیں جاسکتے وغیرہ وغیرہ۔اس طرح کی اسلا م سے بے زاری پر مبنی تحریروں نے انہیں یہودو نصاری کی منظور نظر بنادیا۔جو دوسری بچیاں حملہ آوروں کا نشانہ بنیں۔ان کا نام اس لیے کوئی نہیں جانتاکہ وہ اس طرح کی تحریروں کی خالق نہ تھیں۔ہمارے بادشاہ مغرب کے نامزد لوگ ہم پر مسلط کرکے اپنی بادشاہت بچارہے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کی اس الیکشن سیزن میں پاکستان کا دورہ یہودو نصاری کی ایک چال تصور کیا جارہاہے۔اگر کل کو ملالہ یوسف زئی کو نگران وزیر اعظم نامزد کردیا جاتاہے تو تعجب نہ ہوگا۔اس سے قبل معین قریشی اور شوکت عزیز بھی اس طرح کی انہونی دکھاچکے ہیں۔ملک کے اندر بیٹھے کچھ لوگ او رملک کے باہر کے کچھ لوگ ہمیں آج بھی غلام اور بے توقیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ہم اب بھی دوسروں کی تمناؤں اورمرضی کے مطابق پتلی تماشہ کرنے پر مجبور ہیں۔ عوام کی نمائدگی کو روندنے والے بادشاہ پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔عوامی مینڈیٹ کو مفلوج کر کے اپنی دھونس ثابت کی جارہی ہے۔حقیقی آزادی اور خودمختاری کادعوی ہنوز دلی دور است سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 66186 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2018 Views: 152

Comments

آپ کی رائے