کشمیرمیں خاندان لوہر کوٹ کی حکومت ۔۔۔۔۔ ایک نظر میں (آخری حصہ)

(Amir Jahangir, )

راجہ اوسچل کے قتل کے بعد1125ء میں سپہ سالار گگنہ چندرکی معاونت سے اوسچل کے ایک بھائی سلہن کشمیر کاحکمران بنا۔سوسل کو جب راجہ اوسچل کے قتل اور سلہن کے حکمران بننے کی خبر ملی تو ایک لشکر جرار تیار کرتے ہوئے کشتواڑ کے راستے کشمیر پر حملہ آور ہوالیکن ناکام لوٹا۔راجہ سلہن کے دور میں گگنہ چندر نے موضع گگنہ گیر اور ایک مستحکم قکعہ تعمیر کروایا۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد سپہ سالار گگنہ چندر اور راجہ سلہن کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ۔گگنہ چندر نے سوسل سے مل کر3ماہ 27دن کی حکومت کے بعد راجہ سلہن کومعزول کرتے ہوئے لوہر کوٹ کی طرف بھجوا دیا۔

راجہ سلہن کی معزولی کے بعد گگنہ چندر کی مدد سے سوسل نے تخت حکومت سنبھالا۔راجہ سوسل شجاعت وبہادری،مستقل مزاجی،عاقبت اندیشی اور عالی حوصلگی میں ممتاز تھا۔فسادیوں اور شر انگیزوں سے بخوبی واقف تھااس لی ہر وقت مسلح رہتا تھا اور اپنے وفا دار ساتھیوں کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ملک کو فتنہ فساد سے پاک کرنے کے لیے فسادیوں ، باغیوں ،سرکشوں اور فتنہ پروروں کی سرکوبی کرتے ہوئے جلاوطن کر ڈالا۔راجہ سوسل نے گگنہ چندر کی بھی سرکوبی کی ٹھان لی ۔گگنہ چندر ایک چالاک آدمی تھا اس نے اپنی ناقدری اور بے حرمتی دیکھی تو اس نے اسچل کے بیٹے سے ہاتھ ملایا اور اس کو سبز باغ دکھاکر چچا کی مخالفت پر آمادہ کیا۔گگنہ چندر نے اوسچل کے بیٹے سے مل کر راجہ سوسل کے خلاف طبل جنگ بجایا لیکن ناکامی ہوئی۔اسی دوران1131ء میں راجہ دیوک والئی پریاگ کشمیر میں آیا اور اس کے ہمراہ ہرش دیو کا پوتا بکھاچربھی تھا۔بکھاچر نے کشمیر کی رعایا کو حکمران کے خلاف دیکھا تو اس کے دل میں حکومت کشمیر کی ہوس نے انگڑائی لی۔تما م جلا وطن اور راجہ سوسل کے ظلم و ستم سے لوگ بکھاچر کے پاس جمع ہوئے اور اس کا حوصلہ بڑھانے لگے۔راجہ سوم پال والئی راجوری اور ڈگرپال،راجہ بہلول نے بھی بکھاچر کی معاونت کی حامی بھری۔بکھاچر نے لشکر تیار کرتے ہوئے1132ء میں طبل جنگ بجا دیا۔راجہ سوسل کی فوج کے کچھ سردار مارے گئے اورباقی ماندہ دلبرداشتہ ہو گئے اور میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔تقریبادو سال تک جنگ جاری رہی اور کبھی راجہ سوسل غالب آتا اور کبھی بکھاچر ۔اس ساری صورتحال سے راجہ سوسل کی پوزیشن دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔بالآخر راجہ سوسل میدان خالی چھوڑتے ہوئے بھاگ کیا اور موضع تاپر میں ملک سیہ بٹ کے ہاں پناہ لی۔ملک سیاہ بٹ بھی راجہ سوسل کے ہاتھوں معزول ہوچکا تھااور اس نے بکھاچر کو سوسل کی پناہ کی اطلاع دی ۔بکھاچر کا سپہ سالار کلیان مل وہاں پہنچا اور راجہ سوسل وہاں سے بھاگ گیا۔راجہ سوسل 8سال 6کی حکومت کے بعد تخت چھوڑ کر بھاگ گیا اور تن تنہا لوہر کوٹ جا پہنچا۔

راجہ سوسل کے بھاگ جانے کے بعد 1133ء میں بکھاچر نے اعنان حکومت سنبھالا۔ابتدا میں راجہ بکھاچر نے خوب عدل وانصاف سے حکومت کی حق داروں کو حق دیا۔ رعب و دبدبہ اس قدر تھا کوئی بھی خرابی کی بات نہیں کرتا تھا۔لیکن اچانک اس کی صحبت میں منافقوں اور فسادیوں نے اپنی چگہ بنا لی۔عیش و عشرت میں اس قدر مستغرق ہوا کہ ہر وقت ناشائستہ اعمال کے ارتکاب میں لگا رہتا۔شہوت پرستی اور زناکاری کا بھی مرتکب رہا۔راجہ بکھاچر اپنے ایک وزیر کو سوسل کی گرفتاری کے لیے بھیج کر اس کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی سے اپنی نفسانی خواہشات کی پیاس بجھاتا رہا۔وزیر کو جب اس بات کا علم ہوا توانتقاما اس نے سوسل کو گرفتار کرنے کے بجائے اس سے ہاتھ ملایا اور کشمیر پر قبضے کی دعوت بھی دے ڈالی۔تمام امراء اور وزراء عہد و پیمان کرتے ہوئے اپنے پرانے راجہ سے جا ملے اور معرکہ آرائی ہوئی۔جو سپاہی اور سردار میدان جنگ میں جاتا وہ لڑائی کے بجائے سوسل کی فوج میں شامل ہو جاتا۔راجہ سوم پال والئی راجوری اس کی مدد کے لیے آیا لیکن جب راجہ سوم پال کا خالو مہیب مارا گیا تو راجہ بکھاچر کا سارا کھیل ختم ہو گیا۔فوج منتشر ہو گئی اور بھاگ کر دارالسلطنت جا پہنچی۔سوسل اپنی فوج لے کر سرینگر پہنچا تو تمام شہریوں نے اس کا بھر پور استقبال کیا ۔راجہ بکھاچر یہ حالات دیکھ کر 6ماہ12دن کی حکومت کے بعد تخت چھوڑ کر راجوری کی طرف بھاگ گیا۔

راجہ بکھاچر کے بھاگنے کے بعد سوسل نے ایک مرتبہ پھر سلطنت کشمیر کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔فتنہ و فساد جاری رہا اور بکھاچر نے دوسرے راجاؤں سے مدد لے کر کشمیر پر حملہ کیا اور راجہ سوسل نے بھی بھرپور جواب دیا ۔اس جنگ سے شدید مالی و جانی نقصان ہوا اور راجہ سوسل خودبھی میدان میں نکل آیا۔ قوم ڈانگر کبھی راجہ سوسل سے ملتے اور کبھی بکھاچر سے ۔زراعت کا نظام تباہ و برباد ہو گیا اور قحط پھیل گیا۔بکھاچر نے ہمت نہ ہاری اور راجہ سوسل نے تنگ آ کر لوہر کوٹ سے اپنے بیٹے جے سنگھ کو حکومت کشمیر کے لیے بلایا۔جے سنگھ کے بارہ مولا پہنچنے پر شاندار استقبال ہوا۔سوسل یہ دیکھ کر خوش ہوا اور01سال 04ماہ اور24دن کی حکومت کے بعد تخت اپنے بیٹے کے سپرد کرتے ہوئے خود بکھاچر کے مقابلے کے لیے نکل گیا۔

راجہ سوسل نے حکومتی تاج اپنے بیٹے جے سنگھ کے سر پر رکھ کرسلطنت کی ذمہ داریوں کو خر آباد کہتے ہوئے بکھاچر کی سرکوبی کے لیے نکل پڑا۔بکھاچر بھی کوہستانی اقوام پر مشتمل جمعیت جمع کرتے ہوئیمقابلہ کے لیے تیار ہو گیا۔ایک خون ریز معرکہ ہوا جس میں کبھی سوسل غالب آتا اور کبھی بکھاچر۔جے سنگھ عدل و انصاف سے حکومت کرنے لگا ۔رعایا اس کی گرویدہ ہو گئی۔انتظام ملکی ٹھیک کرنے کے بعد ملکی حفاطت کے لیے فوج میں بھرتی شروع کر دی۔مطلبی اور خوشامدیوں نے راجہ کے اس قدر کان بھرنا شروع کر دیے کہباپ سے اس قدر بد گمان کیا کہ اس کا دشمن ہو گیا۔باپ سے بد گمان ہو کر اس کے دشمنوں سے رابطے بڑھانے لگا۔پہلے راجہ راجوری سے رشتہ اتحاد جوڑا اور پھر بکھاچر کے لیے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔اسی دوران سوسل کا قتل ہو گیا تو تمام پیغامات دھرے کے دھرے رہء اور تمام جھگڑا جے سنگھ کے سر آپہنچا۔راجہ جے سنگھ اور بکھاچر کے درمیان جنگ ہوئی اور اس جنگ میں بکھاچر مارا گیا۔بکھاچر کی موت کے بعد راجہ سلہن کا چھوٹا بھائی لوٹن قلعہ لوہر کوٹ سے نکل کر جے سنگھ کے مقابلے پر آ گیا۔اس جنگ میں جے سنگھ پھر خوش قسمت رہا اور لوٹن مارا گیا۔ تمام فتنہ و فساد سے پاک ہو کر جے سنگھ عدل و انصاف اور امن و امان سے حکومت کرنے لگا۔رعایا خوش ہوکر عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنے لگے۔علماء اور فضلاء کی قدر دانی کرنے لگا۔راجہ جے سنگھ کے دور میں ہی مشہور تاریخ دان ’’پنڈت کلہن‘‘نے کشمیر کی مشہور اور مستند تاریخ’’راج ترنگنی‘‘لکھی۔چنگیز خان والئی ترکستان نے اسی کے دور میں پنجاب پر حملہ کیا۔پنڈت کلہن لکھتا ہے کہ ترکوں کی لڑائی میں جے سنگھ مارا گیا۔جے سنگھ نے 26سال11ماہ اور27راز تک حکومت کی۔

راجہ جے سنگھ کی وفات کے بعد وزیر مول چند کی مدد سے 1162ء میں جے سنگھ کا بیٹا پرانوکشمیر کا حکمران بنا۔جے سنگھ کی وفات کے بعد کشمیر ،پھکلی ، جموں، کشتواڑ اور تبت کے راجاؤں نے سرکشی کی لیکن وزیر مول چند نے جوانمردی ، حکمت عملی اور دانشمندی سے سرکوبی کی۔وزیر مول چند کی وفات کے بعد راجہ پرانو نے اس کی جگہ دو وزیر مقرر کیے لیکن دونوں مکار اور لالچی تھے۔راجہ پرانو7سال 6ماہ بعد دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔راجہ پرمانو کی وفات کے بعد 1170ء میں اس کا لڑکا ورتی دیوکشمیر کا حکمران بنا۔امن وامان اور خوشی سے حکومت کرنے لگا۔یہ راجہ لاولد مرااور کوئی جانشین نہ تھااوراراکین سلطنت نے باہم مشورے سے حکومت کسی دوسرے خاندان میں منتقل کر دی۔یوں خاندان لوہر کوٹ کی حکومت کا مجموعی طور پر 160سال2ماہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
(٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMAR JAHANGIR

Read More Articles by AMAR JAHANGIR: 33 Articles with 15075 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 May, 2018 Views: 363

Comments

آپ کی رائے