حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاﷲ علیہ

(Shoukat Ullah, Banu)

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے اٹھارہ برس کی عمر میں اپنی والدہ ماجدہ سے اجازت طلب کی اور حاجیوں کے ایک قافلے کے ہمراہ علم حاصل کرنے کی غرض سے بغدادراونہ ہوئے۔ ان دنوں بغداد علمی سرگرمیوں کا گہوارہ تھااور لوگ دور دراز علاقوں سے آکر بڑے بڑے علماء و فضلاء سے علم کی پیاس بجھاتے تھے۔ قافلے کے ساتھ بغداد راونگی کے وقت والدہ ماجدہ نے آپ ؒ سے ہر حال میں سچ بولنے کا وعدہ لیا۔ قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا کہ راستے میں ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے اسے لوٹ لیا۔ ایک ڈاکوآپ ؒ کے پاس آیا اور پوچھا۔ ’’ اے لڑکے ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ ‘‘۔ آپ ؒ نے جواب دیا۔ ’’ میرے پاس چالیس دینار ہیں ‘‘۔ڈاکو کو آپ ؒ کی بات پر یقین نہیں آیا اور آپ ؒ کے جواب کو مذاق سمجھ کے چلا گیا ۔ اس کے بعد دو ڈاکو اور آئے اور آپ ؒ نے ان کے سوال کا بھی وہی جواب دہرایا۔ڈاکوؤں کو آپ ؒ کی بات پر یقین نہیں آیا اور سارا ماجرا اپنے سردار سے بیان کیا۔ سردار نے آپ ؒ کو بلوایااور پوچھا۔ ’’ اے لڑکے ! تمہارے پاس کیا ہے ؟ ‘‘۔’’ میرے پاس چالیس دینار ہیں ‘‘۔ آپ ؒ نے جواب دیا۔سردار نے پوچھا۔ ’’ تو نے انہیں کہاں چھپایا ہے ؟ ‘‘۔ اس پر آپ ؒ نے بتایا۔ ’’ دینار میری قمیض میں سلے ہوئے ہیں ‘‘۔جب قمیض اُدھیڑ کر دیکھا گیا تو اس میں سے واقعی چالیس دینار برآمد ہوئے۔ ڈاکوؤ ں کا سردار آپ ؒ کے سچ بولنے سے بڑا متاثر ہوا اور بولا۔ ’’تمہیں معلوم ہے کہ ہم ڈاکو ہیں ، پھر تم نے ہمیں ان چھپے ہوئے دیناروں کے متعلق کیوں بتایا۔ حالاں کہ تم انہیں بآسانی خفیہ رکھ سکتے تھے ‘‘۔ آپ ؒ نے فرمایا ۔ ’’ میں نے قافلے کے ساتھ روانگی کے وقت اپنی بوڑھی ماں سے ہمیشہ سچ بولنے کا وعدہ کیا تھا اور محض چالیس دینار کی خاطر میں وعدہ خلافی کیوں کرتا ‘‘۔ آپ ؒ کا جواب سن کر سردار پر لرزہ طاری ہو گیا اور رو رو کر کہنے لگا ۔ ’’ اے لڑکے ! تجھے اپنی ماں کے ساتھ کیے گئے وعدے کا اتنا پاس ہے اور شرم ہے مجھ پر ، جو میں اتنے سالوں سے اپنے خالق و مالک سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہوں ‘‘۔شرمندگی اور ندامت کے ان الفاظ کے ساتھ سردار اپنی جگہ سے اٹھا اور آپ ؒ کے دست مبارک پر توبہ کی ۔ سردار کی دیکھا دیکھی باقی ڈاکوؤں نے بھی توبہ کی اور تمام لوٹا ہوا مال اہل قافلہ کو واپس کیا۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ نے بغداد پہنچ کر سلطان نظام الملک کے مدرسہ عالیہ نظامیہ میں داخلہ لیا۔ وہاں علامہ شیخ ابو سعید ؒ سے درس قرآن حاصل کیا۔پھر قواعد تجوید ، علم تفسیر ، فقہ اور اُصول حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ مختصر عرصے میں آپ ؒ ایک معتبر عالم ہوگئے اور اپنے استاد کے اصرار پر اسی مدرسے میں پڑھانا شروع کیا۔ آپ ؒ کے درس و تدریس اور شخصیت کی بدولت طالب علموں کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ وہ جگہ کی کمی کی وجہ سے مدرسے سے باہر بیٹھ کر تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ چنا ں چہ مدرسے کی توسیع کر کے اس کا نام مدرسہ قادریہ رکھا گیا۔ آپ ؒ کے وعظ و نصیحت ، درس و تدریس اور دعوت رشد وہدایت کی بدولت نہ صرف عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک کثیر تعداد مشرف بہ اسلام ہوئی بلکہ مسلمانوں نے بھی اپنے عقائد درست کیے۔
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ؐ ہے

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کنیت ’’ابو محمد ‘‘ اور القابات ’’ محی الدین ، محبوب سبحانی ، غوث الاعظم ‘‘ وغیرہ ہیں۔ آپ ؒ نے 91 برس کی عمر میں وفات پائی ۔ نماز جنازہ حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب ؒ نے پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ آپ ؒ کا مزار بغداد میں ہے جہاں ہر وقت زائرین کا ہجوم رہتا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128910 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jun, 2018 Views: 524

Comments

آپ کی رائے