میں کھٹکتا ہوں دل کفر میں کانٹے کی طرح

(Tahir Durrani, )
سلسلہ وار نشانِ حیدر کی دوسری قسط
پاک فوج کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان ِ حیدر پانے والے دوسرے عظیم انسان میجر طفیل کی یاد میں تحریر

میں جب سر زمینِ پاک پر آزاد گھومتا ہوں، میں جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بے خطر سفر کرتا ہوں، میں جب اونچے اونچے پہاڑوں میں سے گذر کر خوبصور ت جھیل کا دلکش نظارہ کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس ملک کے امن و امان کو بحال رکھنے میں وہ نوجوان جو کم عمری میں اپنی جان کو وطن عزیز کی سالمیت پر قربان کرتے ہیں یہ اُن ہی کی منہون منت ہے جو آج ہم آزادی کی سانسیں لے رہے ہیں جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی نظر سے دیکھا میرے وطن کے ان شیر جوانوں نے اسے جہنم واصل کر کے ہی سانس لیا۔

خیبر سے کراچی تک امن کی صورت حال کا سہرہ بھی پاک فوج کے جوانوں کے سر ہے جنہوں نے جاڑے کی سردی اور ٹھٹرتی راتوں میں اپنے سکون کو بالا طاق رکھتے ہوئے قوم کو سکون مہیا کیا،سخت گرمی میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ہمیں پُر سکون ماحول فراہم کیا ۔ کبھی ہم نے سوچا برف باری ہو یا طوفان یہ فوجی جوان بھوکے پیاسے اپنوں سے دُور وطن عزیز کی عزت ، حُرمت اور حظاظت کے لیے چوکس کھڑے رہتے ہیں قوم و وطن کی عزت کے لیے 22 بائیس ہزار فٹ کی بُلندی پر ایک ایک سال پڑے رہتے ہیں اٹھارہ بیس کلو وزنی گَن/ کلاشنکوف تھامے تھکان سے چُور چوُر مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے فرض کی ادائیگی میں مست رہتے ہیں۔اِ ن کے جذبے کو سلام ِ عقیدت پیش کرتا ہوں جو اپنے بوڑھے باپ کی کمزور کمر کا سہار ا بننے کی بجائے ملک و قوم کی خاطر بارڈر پر دن رات کھڑا رہنا پسند کرتا ہے جو اپنی بیوی کو بیوہ ہونے اپنے بچوں کو یتیم ہونے کے ڈر سے بے فکر محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔میں سلام پیش کرتا ہوں پاک فوج کے جوانوں کو، پاکستان کی پولیس کو، ائرفورس کی جانبازوں کو تینوں افواج کے سرفروشوں کو، رینجرز کے بہادر سپوتو ں کو ۔واﷲ ،آپ کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پوری قوم آپ کے ساتھ ہر لمحہ ہر گھڑی کھڑی ہے ۔

شہید کے رتبے اور مرتبے پر مُسلم اوربُخاری شریف کی حدیث کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش ہے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا کریم حضرت محمد ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ’’کوئی شخص بھی جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں لوٹنے کے لیے تیار نہ ہوگا، خواہ دنیا میں جو کچھ مال اور اسباب بھی موجو د ہے اسے دے دیا جائے، مگر شہید جنت میں جو عزت اور مقام پائے گا تو وہ مزید تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹ جائے اور اسی شہادت کا مرتبہ اور مقام حاصل کرے یہ خواہش وہ بار بار کرے گا‘‘۔

شہید کے دو معنی ہوتے ہیں حاضر ہونا، دیکھنا، شریعت کی اصطلاح میں اﷲ کریم کی راہ میں مارے جانے والوں کوشہید کہتے ہیں،تدفین کے بعد شہید اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کرتے ہیں کہ مجھے دنیا میں پھر بھیجا جائے تا کہ اﷲ کی راہ میں پھر جان کا نذرانہ دینے کی لذت اور سُرور سے لطف اندوز ہو ، جو اس سے پہلے مجھے ملی تھی، وفات کے بعد شہید کو رزق ملتا رہتا ہے اور شہید کا جسم زمین نہیں کھاتی اسلام نے شہید کو جو مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے وہ اور کسی کو نصیب نہیں ہوا ،یہ تو بات بحیثیت مسلمان ہم خوب جانتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے لیکن شہید کو اﷲ جلہ شانہ نے یہ عظیم رتبہ عطا کیا ہے کہ قبر میں اس کا جسم مٹی نہیں کھاتی یہ اﷲ کریم کا ایک بڑا معجزہ ہے ۔

سورۃ العمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’ اسلام میں بہت کم لوگ شہداء کے مرتبے کے برابر ہیں، وہی شہداء جو سوچ سمجھ کر اور خلوصِ دل کے ساتھ معرکہ حق و باطل میں قدم رکھتے ہیں اور اپنے پاکیزہ خون کے آخری قطرات تک اﷲ کی راہ میں نچھاور کر دیتے ہیں۔

آیئے قارئین پاکستان کے دوسرے عظیم انسان جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے پاک فوج کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر کو اپنے نام کیا اس بہادر قومی ہیرو کا نام ہے میجر طفیل ۔

میجر طفیل محمد شہید طفیل محمد جن کے والد کا نام چوہدری موج دین تھا 22 جولائی 1914ء کو موضع کھرکال ضلع ہوشیار پور (بھارت) پنجاب میں پیدا ہوئے ، گُجر برادری سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان7 اگست 1958 ء بروز جمعرات کو سرزمین وطن کی خاطر بھارتی سورماؤں کو جہنم واصل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔ ان کی شہادت کشمی پور ضلع کومیلا جو کہ مشرقی پاکستان اور آج بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے ، پر جان جانِ آفرین کے حوالے کی۔

ان کی عظیم قربانی ، جُرت اور بہادری کے پیش نظر نشانِ حیدر دیا گیا، نشان ِ حیدر پانے والے یہ دوسرے فوجی ہیں جن کو پاک فوج کا سب سے بڑا اعزاز دیا گیا۔میجر طفیل محمد نے 1943ء میں 16 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا ،اپنی بٹالین کے علاوہ شہری مسلح فورسز میں مختلف کمانڈ اور تدریسی تقرریوں پر مشتمل ایک امتیازی کیریئر کے بعد انہیں 1958ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)رائفلز میں تعینات کر دیا گیا۔7اگست 1958ء میں انہیں کچھ بھارتی دشمنوں کا صفایا کر نے کا مشن دیا گیا ۔ کہ بھارتی دستے لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے رات کے وقت ایک مارچ کیا ور 7 اگست کو بھارتی چوکی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے انتہائی قریب جا کر صرف 15 گز کے فاصلے سے عقب سے حملہ آور پارٹی کی قیادت کی اور دشمن کی ہوش اُڑا دیے ا پنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر اتنی بہادری سے لڑے کہ تاریخ رقم کر دی۔گولیوں کی بوچھاڑ کی پرواہ کیے بغیر بہادر اور جُرت سے دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔

جب بھارتی فوج نے مشین گَن سے فائرنگ کی تو میجر طفیل چونکہ صف اول میں تھے اس لیے گولیوں کا شکار ہوئے جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے لیکن ان کا جذبہ دیدنی تھازخموں کی پرواہ کیے بغیر اپنے مشن کی ہدایات جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا حکم دیتے رہے ، جسم سے خون بہتا رہا جس سے ان کی زندگی کا چراغ آہستہ آہستہ مدہم ہونے لگا۔ جب دشمن کی دوسری مشین گن نے فائرنگ شروع کی تو میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ اس کا نشانہ بن گئے میجر طفیل نے ایک پختہ یقین کے ساتھ گرنیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کر دیا۔ میجر طفیل محمد زخموں سے چُور چُور تھے لیکن وہ اپنے دستے کی کمانڈ جاری رکھے ہوئے تھے حملہ اُس وقت تک جاری رکھا جب تک دشمن کو چھٹی کا دودھ نہ پلا دیا بھارتی دشمن اپنے پیچھے 4 لاشیں اور 3 قیدی چھوڑکر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور اسی دن 7اگست 1958ء کو ز خموں کی تاب نہ لا سکے اور میجر طفیل محمد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے (شہید ہو گئے )ان کی بہادری اور قومی خدمات ، حب الوطنی اور بلند ہمتی پر انہیں فو ج کا سب سے بڑا اعزاز نشان ِ حیدر دیا گیا۔آپ کو فاتح لکشمی پور بھی کہا جاتا ہے 5 نومبر 1959ء کو کراچی میں ایوان صدر میں منعقدہ ایک خاص تقریب میں اِن کی بیٹی نسیم اختر کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل صد ر محمد ایوب خان نے یہ اعزاز دیا۔طفیل محمد شہید کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور آ پ کی خدمات اور حب الوطنی کو یاد رکھا جائے گا۔قارئین یہ سلسلہ نشان ِ حیدر جاری رہے گا انشاء اﷲ۔ تا کہ ہمارے نوجوان نسل پاکستان کے ان غیور بیٹوں اور وطن عزیز پر اپنے خون کو نچھاور کرنے والے عظیم ہیروز کے بارے جان سکیں کہ کیسے وطن عزیزکی خاطر بہادری سے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تا کہ نوجوانوں کے اندر جذبہ حب الوطنی اور پاک فوج کے ساتھ عقیدت پیدا ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 52 Articles with 25890 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More
25 Jun, 2018 Views: 378

Comments

آپ کی رائے