الیکٹیبلز ہی جیت کی ضمانت کیوں؟

(Ali Jan, )

جب سے الیکشن 2018کا طبل بجا تب سے ہرسیاستدان کے چہرے پر گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے ’’الیکٹیبلز‘‘ یعنی ایسے امیدوار جو اپنے حلقے میں ہرممکن اعتبار سے الیکشن جیتنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتے ہوں جیساکہ جاگیردار،وڈیرہ،پیر، اسی لیے ہرپارٹی نے ٹکٹ دیتے ہوئے الیکٹیبلز کوترجیح دی ہے تحریک انصاف کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سے الیکٹیبلز کرپٹ اور نا اہل ہیں مگرپھربھی انکو پارٹی ٹکٹ مل گیا اس طرح پچھلے بیس برس سے پارٹی کی خاطرقربانیاں دینے والے نظریاتی کارکنوں کونظرانداز کیا گیا ہے اور جو عمران خان نظام میں تبدیلی لانے کی باتیں کرتے تھے یہ عمل اس سے مطابقت نہیں رکھتااگرکہیں کہ نواز شریف کی پاناما کیس میں نااہلی کے بعد ن لیگ میں قیادت کابحران ہے توغلط نہ ہوگا کیونکہ شہباز شریف کو کبھی پارٹی پر کنٹرول نہیں رہا اور مریم تو ابھی نئی نئی ہے اور پارٹی کے پرانے ساتھی چوہدری نثار کا پارٹی سے علیحدہ ہونا ن لیگ کے لیے واضع نقصان کے برابرہے اور جنوبی پنجاب کے بہت سے سیاستدانوں کا ن لیگ چھوڑکرپی ٹی آئی میں شمولیت بھی جھٹکے سے کم نہیں مگرپی ٹی آئی میں ٹکٹوں کی تقسیم پر جھگڑے (جہانگیراورقریشی)اورپارٹی کے وفاداروں کے شرمندہ کردینے والی حرکتیں پارٹی کے کارکنوں کومایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دے رہی۔یہ الیکٹیبلز پچھلے اکہترسالوں سے الیکشن لڑتے چلے آرہے ہیں اورانہوں نے جائیدادیں توبنالیں مگرعوام میں اپنا اچھا مقام نہ بنا پائے کیونکہ ان کے حلقوں کی عوام الناس کیااکثریت کی زندگی نمایاں بہتری نہیں آسکی سیاست کے معنی ’’خدمت‘‘کے ہیں مگر الیکٹیبلز میں خدمت کا جذبہ کم ہی ہوتا ہے۔الیکشن کا عمل الیکٹیبلزکیلئے پرکشش عمل ہوتاہے جس سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں مثلاًفنڈز،ٹھیکے ،سرکاری منصوبوں کاملناکرپشن کھانے یا کمیشن کا احتمال۔

اگربات کریں خان صاحب کے 2011کے جلسے کی جسمیں عمران خان نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی میں کوئی کرپٹ نہیں کوئی اثاثے نہیں چھپاتا ،ہم جاگیردارہ نظام کو ختم کریں گے ہم موروثی سیاست کو ختم کریں گے اصل میں اسی جلسے سے پی ٹی آئی ایک طاقت بنی تھی مگراب یہ سب باتیں جھوٹ ثابت ہوچکی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے کئی ذمہ دار کرپٹ چورثابت ہوچکے ہیں جاگیرداروں وڈیروں کوٹکٹ مل چکے ہیں علی ترین کو ٹکٹ دے کرتب سے خان نے موروثی سیاست والے وعدے کو بھی توڑدیا تھامگرعمران خان سمجھ دار سیاستدان ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اگرزیادہ ترٹکٹ نظریاتی کارکنوں کو دیئے جاتے تو الیکشن میں تحریک انصاف ماضی کی تبدیلی کی خواہش مندجماعتوں تحریک استقلال جماعت اسلامی کے مانند بڑی کامیابی حاصل نہ کرپاتی کیونکہ نظام بدلنے کیلئے حکومت میں آنا بہت ضروی ہے اسی وجہ سے اب پی ٹی آئی ’’الیکٹیبلز‘‘کوٹکٹیں دینے میں جٹ گئی ہے اور جب الیکٹیبلز پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں تو پی ٹی آئی پہلے کی طرح یہ نہیں کہہ سکتی کہ اب ان کی پارٹی میں کرپٹ چور نہیں اور نہ ہی یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ سٹیٹس اور قوت سے نفرت کرتے ہیں قومی اسمبلی کی 272نشستوں پرانتخابات ہوتا ہے اور 190نشستیں چھوٹے شہروں ،قصبوں اوردیہاتوں پرشامل ہے اور 190انتخابی حلقوں کی سیاست ڈیڑھ سے ڈھائی ہزار خاندانوں کے گرگھومتی ہے جس سے اندازالگاسکتے ہیں کہ جس کے ساتھ پچاس فیصدسے زیادہ خاندان کھڑے ہوں جیت اسی کی ہوگی اور الیکٹیبلزہمیشہ ان خاندانوں پرراج کرتے ہیں جب ان کی ایک نسل بڑھی ہوجائے تواگلی نسل میدان میں اترآتی ہے بیٹے،بیٹی،بیوی،بھائی،بھتیجے ،بھانجی یاکوئی بھی رشتہ داراسی لیے عوام کوالیکشن میں نئے چہرے کم ہی دیکھنے کوملتے ہیں ۔

ہمارے محسن قائداعظم بہت ہی اصول پسندتھے مگروہ بھی الیکٹیبلزسے نہ بچ سکے ایک زمانے میں آل انڈیا مسلم لیگ کے نوابوں اور جاگیرداروں کی جماعت کہاجاتا تھا 1935سے قائداعظم نے مسلم لیگ کے معاملات دیکھنے لگے لیکن وہ بھی الیکٹیبلز کا تعاون مددلینے پرمجبور ہوگئے جنوری 1946الیکشن ہوئے جسے مسلمانوں نے ثابت کرنا تھا کہ آل انڈیامسلم لیگ ہندوستان کی واحد نمائندہ جماعت بن چکی ہے فتح کی خاطر ہی انہیں بنگال سندھ یوپی سرحدبمبئی اور بیہار میں بہت سے الیکٹیبلزکوٹکٹ دینے پڑے ان میں بیشترزمیندارنواب اورپیرتھے اور اسی وجہ سے اپنے حلقوں میں اثرورسوخ رکھتے تھے مگراسکے ساتھ ہی قائداعظم نے نظریاتی کارکنوں کوبھی مایوس نہ کیا علم ادب اور صحافت سے تعلق رکھنے والوں کو ٹکٹیں جاری کردیں مسلمان انہیں چاہتے تھے اسی وجہ سے دولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ جیت گئے کیونکہ اس الیکشن میں دولت اور سٹیٹس کی لالچ نہیں تھی یہ انتخاب آزادی پاکستان کیلئے ہوئے تھے اسلیے جیت حق کی ہوئی تھی کیونکہ جس نے نعرہ لگایا لے کررہیں گے پاکستان توجیت اس کا مقدربن گئی۔

جسے آج لوگ لوٹے کہہ رہے ہیں یہ عمل شروع سے چلتا آرہا ہے کیونکہ تب سے الیکشن جیتنے والے بیس سال تک پارٹیاں بدل بدل کر اقتدار سنبھالتے رہے مگر1970میں ذوالفقارعلی بھٹو نے روٹی کپڑااورمکان کا نعرہ لگایا اور مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمان نے صوبائی خودمخیاری کا نعرہ لگایا دونوں پارٹیوں نے الیکٹیبلز کے علاوہ نظریاتی رہنماؤں کو بھی ٹکٹیں دیں اور تقریباً تمام نے کامیابی حاصل کی اس وقت بھٹو کی محبت اتنی زیادہ تھی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگربھٹو کھمبے کو بھی ٹکٹ جاری کریں تووہ بھی جیت جائے گا اسی لیے سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی نے کسی بھی ایسے امیدوار کو ٹکٹیں نہیں دی جو الیکٹیبلز ہوں صباء فیصل ایک سماجی رہنما عورت ہیں اور ان سے امیدلگائی جاسکتی ہے کہ وہ جیت کراپنے حلقے میں اچھے کام کرسکیں ۔اصغرخان،قاضی حسین،ذوالفقارعلی بھٹوکے بعدعمران خان وہ چوتھا پاکستانی لیڈرہے جس نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا اور اپنی شہرت میں واضع اضافہ کیا تھا مگرالیکشن کے قریب آتے ہی انہوں نے اپنا سٹیٹس بنانے کیلئے الیکٹیبلز کااستعمال کیا اور نظریاتی کارکنوں کو مایوس کیا۔دیہی علاقوں میں کوئی غریب آدمی اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا انہیں لازماً مققامی سردار امیریااثرورسوخ والے لوگوں کے کہنے پر ووٹ ڈالنا پڑتا ہے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ان لوگوں کو ووٹ کا جمہوی حق نہیں کیونکہ یہ کمزورلوگ انہیں اسلیئے ووٹ دیتے ہیں تاکہ وہ انہیں تھانہ کچہری سے بچاسکیں روٹی سے جدوجہدکے بعدعوام کاسب سے بڑامسئلہ انصاف نہ ملنا ہے اس لیے زیادہ ترالیکٹیبلز ان لوگوں کو تھانہ کچہری سے ڈراکرووٹ حاصل کرتے ہیں ۔اس ترقی یافتہ دور میں بھی جنوبی پنجاب کے کئی دیہی علاقوں میں آج بھی لوگ اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں جس سے لوگوں میں بیماری کی عام ہے اور یہ لوگ صاف پانی دیکھ کرجتنا خوش ہوتے ہیں اتنا امیرلگژری کاردیکھ کربھی خوش نہیں ہوتامگرپچھلے دس سال میں سوشل میڈیا پر لوگ اپنے مسائل شیئرکرتے ہیں جس سے اس علاقے کے سیاستدانوں کے ترقیاتی کام نظرآجاتے ہیں کہ وہ صرف اپنا بینک بیلنس بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کررہے ۔عوام اب صرف اسی بات پر آس لگائے بیٹھے ہیں کہ پی ٹی آئی میں چاہیے الیکٹیبلز ہیں تو کوئی پروہ نہیں کیونکہ خان اقتدارمیں آکر اپنے منشورکو عملی جامہ پہنائے گامگرعمران خان کو یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ان لیکٹیبلزکوٹکٹیں تودے دی ہیں یہ نہ ہو ان کی پچھلی کارکردگی سے وہ کامیاب ہی نہ ہوں اور پی ٹی آئی کی کشتی ہی ڈوب جائے کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس شناخت کا بحران ہے اگرپی ٹی آئی اپنے حامیوں کوپاکیزہ ٹکٹ ہولڈروں کے پیچھے متحدکرنے میں ناکام رہی تویہ امرناگزیرہے کہ گونوازگے کے بعدگوعمران گوبھی ناممکن نہیں ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 243 Articles with 74246 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2018 Views: 328

Comments

آپ کی رائے