ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔

(Sami Ullah Malik, )

فی زمانہ ارض وطن کا تصور لوگوں کے ذہنوں پر کچھ زیادہ چھایا ہوا ہے۔ بہت سوں کو کچھ اندازہ نہیں کہ یہ تصور کس قدر لچکیلا ہے اور اس حوالے سے انسان کا اپنا مزاج کس حد تک مبالغہ پالتا ہے۔ ارض وطن کو اصل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اب لوگوں کی شناخت کے حوالے سے اہم ترین کیٹیگری شمار ہوتی ہے۔ مگر ایک مشکل یہ ہے کہ جسے ارض وطن قرار دیا جارہا ہے وہ ممکنہ طور پر گھر نہیں بھی ہوسکتی۔ بہت سے لوگ جس سرزمین کو اپنا گھر یا وطن قرار دیتے ہیں وہ گھر یا وطن نہیں بھی ہوسکتا۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آبائی وطن یا آبائی سرزمین کی طرف لوٹنے پر مجبور کردیا جائے اور وہ اُسی سرزمین کیلئےترستے رہیں جہاں سے انہیں بے دخل کیا گیا ہو۔ اور اس عمل میں وہ لمبی مدت تک جذبات کے اتار چڑھاؤ کی منزل میں رہتے ہیں۔

آج سے چھ ماہ قبل لاہور میں الحمرا میں ایک پروگرام میں میری ملاقات ڈاکٹرطیبہ سے ہوئی،بعد میں وہ طیبہ احسان بنیں۔ ان کے شوہر احسان ملک زمیندار تھے۔ وہ شوہر اور دو بچوں کے ساتھ پچھلے تین دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں اوران دنوں لاہورمیں اپنے عزیزوں سے ملاقات کیلئے پاکستان میں موجودتھیں۔ تب میں نے ان سے ان کی آبائی سرزمین اور بنیادی شناخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایسا جواب دیا جو عام طور پر مجھے سنائی نہیں دیتا تھا۔انہوں نے کہا کہ میری فیملی کا تعلق کینیا سے ہے۔ وہ افریقی نسل کی نہیں تھیں مگر افریقا ان کی شناخت کا حصہ بن چکا تھا۔وہ ان بہت سے خاندانوں کی طرح تھیں جنہیں یا تو مغرب میں سکونت اختیار کرنے یا پھر اپنی آبائی یا اصل سرزمین کی طرف لوٹنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ یہ لوگ ان لاکھوں افراد میں شامل تھے جنہیں ہنرمند یا غیر ہنرمند ورکرز کی حیثیت سے افریقا لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے افریقی ممالک میں اپنے کاروبار بھی قائم کرلیے تھے۔ اور پھر افریقا میں آزادی کی لہر شروع ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ نوآبادیاتی دور کو خیرباد کہنے کا دور تھا۔ قوم پرستی کی لہر اٹھ چکی تھی۔ قومی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی گرم بازاری تھی۔ وہ عوام کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کر رہے تھے جس میں ’’افریقنائزیشن‘‘ زیادہ نمایاں ہو۔ اس کے نتیجے میں یورپ اور پاک بھارت سے تعلق رکھنے والے بہت سے گھرانوں کو افریقا چھوڑنا پڑا۔ یہ بہت دکھ دینے والا تجربہ تھا۔ اضافی المیہ یہ تھا کہ ان لوگوں نے جو کچھ کمایا تھا، بنایا تھا وہ بھی چھوڑناپڑا۔یوگنڈامیں عیدی امین نے برطانوی شہریت رکھنے والوں سے کہاکہ وہ یا تو اپنی برطانوی شہریت ترک کردیں یاپھر۹۰دن میں ملک چھوڑ دیں۔ جن لوگوں نے یوگنڈا میں رہنے کو ترجیح دی ان کیلئےبھی معاملات بہتر نہ رہے کیونکہ امتیازی پالیسی برقرار رہی اور وہ اس کے خلاف تھے۔

افریقی سرزمین سے نکالے جانے پربہت سے لوگ امریکااوریورپ کی طرف گئے۔کچھ برصغیر کی طرف بھی آئے۔اس نقل مکانی کے بارے میں زیادہ لکھانہیں گیا۔حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۷۱ء میں بنگلا دیش کے قیام کے بعدجن لوگوں کوپاکستان کی طرف دھکیل دیاگیا ان کے بارے میں بھی زیادہ نہیں لکھا گیا۔ بالکل اِسی طرح اب سعودی عرب سے نکلنے پرمجبورہونے والے لاکھوں افراد کے بارے میں بھی نہیں سوچاجارہا۔ان سب کواب تک کوئی ٹائم فریم تونہیں دیاگیامگر انہیں اندازہ ہے کہ ملک چھوڑنا پڑے گا اور بہتر مستقبل کیلئےانہوں نے جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہ بھی چھوڑنا پڑے گی۔سعودی عرب نے ہرغیرملکی پر۲۰۰ریال کاٹیکس عائدکیاہے۔اس کے نتیجے میں پاکستان، بنگلادیش،سری لنکا اورجنوبی وجنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کے لوگوں کیلئےگھروالوں کو ساتھ رکھنا ممکن نہیں رہا۔وہ اگرخودسعودیہ میں سکونت برقراررکھنے میں کامیاب ہیں بھی توکم ازکم اہل خانہ کوگھرواپس بھیج رہے ہیں لیکن بھارت کے باشندوں کیلئے ٹیکس میں خصوصی رعائت دیتے ہوئے صرف۶۰ریال مقررکئے گئے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ بھارتی باشندوں کی تعدادمیں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن ۲۰۳۰ء کے تحت ایک بار پھر لاکھوں افراد اپنے اہل خانہ سے الگ ہونے پر مجبور ہیں یعنی گھرانے منقسم ہو رہے ہیں۔

سعودی فنڈنگ سے قائم ہونے والے فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل(ر)راحیل شریف نے گزشتہ برس پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ کویہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ اس فوجی اتحاد کے قیام سے پاکستان کو متعدد فوائد حاصل ہوں گے۔ ان میں ایک فائدہ یہ ہوگا کہ رکن ممالک کے باشندوں کو سعودیہ میں ویزا فری داخلہ مل سکے گا۔ ہوسکتا ہے کہ راحیل شریف ایسا ہی سمجھ رہے ہوں مگر حقائق تو کوئی اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ٹائمزآف انڈیاکے مطابق سعودی آرامکو نے بھارت کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس میں بھارت کے مغربی ساحل پر پٹرولیم منصوبے کی تعمیر کے لئے مہاراشٹرکی ریفائنری میں44 بلین ڈالرکے علاوہ دوسروں منصوبوں میں مزیدسرمایہ کاری کے معاہدوں پرباقاعدہ دستخط ہوگئے ہیں۔سعودی سرمایہ کاری کی بھارت میں اس کثیرسرمایہ کاری سے بھارتی معیشت کوایک نیاعروج ملاہے جس سے فوری طورپربھارت میں مزیدہزاروں ملازمتوں کومحفوظ بنانے میں جہاں مددملے گی وہاں اسی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی آرامکومیں بھی سینکڑوں آسامیوں پربھارتی افرادکوبھرتی کیاجائے گا۔ادھر"نیوزسعودی عرب"کے مطابق سعودی عرب اوربھارت کے درمیان ایک اورمعاہدہ ہواہے جس کے تحت سعودی عرب کی تینوں فورسزکے کیڈٹس بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں تربیت حاصل کریں گے۔ یقینا یہ پاکستانی حکام کیلئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اوراسے پاکستانی وزیرخارجہ کی مکمل ناکامی کاشاخسانہ بھی کہاجاسکتاہے۔پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ اس وقت تعلقات سردمہری کاشکارہوگئے تھے جب سعودی عرب نے پاکستان سے عملی عسکری مدد کی درخواست کی تھی جس پرملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ایک خصوصی مفادات کے پیش نظرایران کی ناراضگی سے بچنے کیلئے سعودی عرب کومثبت جواب دینے سے گریزکیااورمحض سیاسی بیان پراکتفاکرتے ہوئے اپنی جان چھڑالی جس پرمتحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے کھل کرنہ صرف پاکستان کی اس بے وفائی پرغم وغصہ کااظہارکیابلکہ اس دن کے بعدامارات میں مزیدپاکستانیوں کیلئے ملازمتوں کے دروازے بندکردیئے گئے ۔

باوثوق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب پاکستان یا جنوبی ایشیا کے کسی اور ملک سے غیر ہنر مند افرادی قوت کی درآمد میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا۔ ۲۰۱۷ء میں سعودی عرب سے ۸۴۶۸۹ پاکستانیوں کونکال دیاگیا۔ان میں بہت سے وہ تھے جو ویزاکی میعادسے زائد قیام پذیرتھے یاغیرقانونی طورپرکام کررہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جولوگ ایک مدت سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اُن کیلئےبھی حالات بہت اچھے نہیں ہیں۔
پاکستانیوں اورجنوبی ایشیا کے دیگرعلاقوں کے لوگوں کے سعودی سرزمین سے تعلقات کی طویل تاریخ ہے۔۱۹۳۰ءاور۱۹۴۰ء کے عشرے میں متعدد علمانے اپنے اہل خانہ کے ساتھ حجازمقدس میں سکونت اختیار کی۔ وہاں آج بھی ایسے مکانات دکھائی دیتے ہیں جن کے دروازوں پر’’الہندی‘‘ اور ’’السندھی‘‘ لکھاہواملتاہے۔بعد میں جب سعودی عرب میں تیل نکالنے کے سلسلے نے زور پکڑا تب سعودی معیشت کواپ گریڈ کرنے میں پاکستانیوں نے انقلابی نوعیت کا کرداراداکیا۔۱۹۵۷ءمیں پاکستانی ماہرمعاشیات انورعلی سعودی عریبین مانیٹرنگ اتھارٹی کے سربراہ بنے۔ یہ ادارہ ملک کے تمام وسائل کے نظم و نسق کا مینڈیٹ رکھتا ہے اور ملک کے مرکزی بینک کا کردار ادا کرتا ہے۔ انور علی اس عہدے پر ۱۹۷۴ء تک فائز رہے۔ ہزاروں پاکستانی ہنرمندوں نے سعودی معیشت کومضبوط بنانے میں نہایت اہم کرداراداکیا۔ان میں سے بہت سوں کاتعلق خالصتاًپیشہ ورٹیکنیکل افرادکاتھاجو ملک کے بہت سے حصوں میں فعال تھی۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ رہے ہیں۔ ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں پاکستان کی فوجی حکومتوں کاایک خاص کرداررہااورپاکستان کے توسط سے امریکااوربرطانیہ نے بھی اہم کرداراداکیا۔۱۹۵۰ء،۱۹۶۰ءاور ۱۹۷۰ء کے عشرے میں بہت سے پاکستانیوں کوسعودی شہریت دی گئی۔ ویسے امریکااوریورپ کے برعکس سعودی عرب میں اگر بچے ایک خاص مدت قیام نہ کریں توشہریت نہیں ملتی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے عرب مشرق وسطیٰ اور بالخصوص سعودی عرب اور لیبیا سے تعلقات بہتر بنائے تو لاکھوں پاکستانیوں کو ان دونوں معیشتوں کے مستحکم کرنے کا موقع ملا۔ پاکستانیوں کیلئےسعودی عرب میں کام کرنے کا دگنا فائدہ تھا۔ ایک طرف تو بہتر معاشی امکانات تھے اور دوسری طرف مقدس سرزمین پر قیام کا اعزاز۔ میں چندماہ قبل بغرض عمرہ سعودی عرب گیا تو وہاں مجھے کئی ایسے ڈاکٹر، انجینئرز اورصاحبِ حیثیت تاجرملے جوپچھلی چاردہائیوں سے زائدوہاں مقیم ہیں اوران کی عمریں بھی ۷۵سال سے تجاوز کر چکی ہیں۔ان میں کئی ڈاکٹرزتوایسے ہیں جنہوں سعودی عرب میں ہیلتھ سروس کے قیام کے حوالے سے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں سعودی سرزمین پرقدم رکھا تھا۔ انہیں ریٹائر ہوئے زمانہ ہوچکا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ زندگی کے آخری ایام مدینہ میں گزریں لیکن اب سب پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

سعودی معیشت کا مدار جب تیل پر ہوا تو ملک پر دولت برسنے لگی۔ سعودیوں کو محنت کرنے سے کچھ خاص دلچسپی نہ تھی۔ محنت کرنا بھارت، پاکستان، بنگلادیش اور سری لنکا وغیرہ کے باشندوں کا کام تھا۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کسی نے ایک سعودی سے پوچھا کہ ’’محبت‘‘ محنت کا معاملہ ہے یا لطف کا۔ وہ بولا یہ لطف ہی کا معاملہ ہوسکتا ہے کیونکہ محنت کا معاملہ ہوتا تو ہم کسی انڈین کی خدمات حاصل کرلیتے!لیکن نئے سعودی ولی عہدنے خطے کی سیاست میں سعودی عرب کے دوست اور دشمن کی فہرست کونئے سرے سے ترتیب دیاہے جس کیلئے ان کے غیرملکی مشیرامریکی صدرٹرمپ کے یہودی دامادکانام لیاجارہاہے جس نے سعودی قدامت پسندی کومکمل طورپرتبدیل کرکے جدت پسندی کے نئے دورمیں داخل کرنے کامشورہ دیا ہے جس کے بعدولی عہد محمد بن سلمان نےبہت کچھ تبدیل کردینے کے عمل کاآغازکردیاہے۔سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کوڈرائیونگ کی اجازت مل گئی ہے اوران دنوں سعودی نوجوان لڑکیاں سعودی میڈیاکے ذریعے اپنی اس آزادی پرخوشی کااظہارکررہی ہیں جس میں اجازت کے پہلے ہی دن شہزادہ طلال اپنی بیٹی کی ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ بیٹھے اپنی خوشی کااظہارکرتے دکھائی دے رہے ہیں اورمغربی ممالک کے میڈیانے اس ترقی یافتہ سعودی عرب کوخوب وائرل کیاہے۔سعودی عرب کی کچھ خواتین نے باقاعدہ ٹیکسی کاروبارمیں بھی شمولیت اختیارکرلی ہے اورسعودی حکومت نے پہلی مرتبہ چندخواتین کوکابینہ میں بھی شامل کیاہے۔ملک بھرمیں نہ صرف سینماء بلکہ باقاعدہ کیسینوبھی کھل گئے ہیں۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن ۲۰۳۰ء کے تحت۵۰۰بلین ڈالرکی مالیت کا۲۸ہزارکلومیٹررقبے پرمبنی ایک نیا"فری شہر"آبادکیاجارہاہے جہاں موجودہ سعودی شرعی قوانین کااطلاق بالکل نہیں ہوگاجومغربی ممالک،امریکااوردیگرامیرممالک کےسیاحوں کیلئے"ویزہ فری"ہو گا۔سعودی ولی عہدکے مطابق کہ اب تیل کی دولت پر انحصار نہ کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سعودی بھی کام کریں اور غیر ملکی محنت کشوں کے محتاج نہ رہیں۔ ان کا وژن ۲۰۳۰ء جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والوں کیلئےامکانات کے دروازے بند کر رہاہے۔

معاملہ صرف ٹیکس تک محدود نہیں۔ سعودی عرب میں غیر ملکیوں کیلئےاور بھی بہت سی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ مقامی اداروں کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ فرنٹ ڈیسک ملازمتوں کیلئےغیر ملکیوں یا اجنبیوں کی خدمات حاصل نہ کریں۔ غیر ہنر مند محنت کشوں کو کمانے میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے دیگر بہت سے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک اور نیا رجحان متعارف کرایا ہے جس نے سعودی معاشرے میں تھوڑی بہت ہلچل تو مچا ہی دی ہے۔ یہ رجحان ہے کمزور نسلوں کے خلاف نسل پرستانہ رویہ۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں غیر ملکیوں کی دکانوں سے خریداری کا رجحان کمزور پڑتا جارہا ہے۔ لوگ دانستہ انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ امتیازی رویہ بہت سے غیر ملکیوں کیلئےشدید کاروباری نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ اسدملک کا بھی یہی معاملہ ہے۔ وہ ۱۹۸۰ء سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ایک دور تھا کہ وہ مارٹ چلاتے تھے مگر اب معاملات بہت بگڑ چکے ہیں، اب ان کے پاس دو بڑی کاروں کے بجائے ایک پک اپ ہے۔ وہ اور ان کے اہل خانہ اپنی آبائی سرزمین (پاکستان) واپس جانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بہت سے پاکستانی سعودی عرب چھوڑ کر واپس آرہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کیلئےمزید پریشانیاں پیدا ہوں گی، جو اب بھی وہیں ہیں کیونکہ جو کچھ ان کے پاس ہے اس کی اچھی قیمت نہیں ملے گی۔ سعودی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جانے والے اپنی چیزوں کو اونے پونے داموں بیچ کر جائیں گے۔ اس کے باوجود بہت سے پاکستانیوں کیلئےاب بھی سعودی عرب بہت اچھی جگہ ہے کیونکہ وہ پاکستان سے موازنہ کرنے پر سعودی عرب کو بہتر پاتے ہیں۔ سعودی عرب میں مال معیاری ملتا ہے، کرپشن نہیں ہےمگرسعودی عرب میں کام اورقیام کیلئےآنے والے دنوں میں عزت نفس کوخیرآبادکہناپڑے گاتب جاکرگزارہ ہوگاتاہم سعودی عرب میں سب کچھ بہت مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ پہلے سعودی عرب میں پانچ ریال میں ایک گھرانہ ایک وقت کا کھانا کھالیا کرتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اور بہت چھوٹے رقبے کے مکانات میں گزارا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر کسی کو پاکستان میں اُس کے آبائی مکان کے مقابلے میں سعودی عرب کے چھوٹے سے مکان کی طرف متوجہ کیا جائے تو وہ اس حوالے سے سوچنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔

زینب اپنے اہل خانہ کی نسبت بہت پہلے کزن سے شادی کے بعد کراچی منتقل ہوگئی تھی۔ وہ اب بھی عبایا پہنتی ہے۔ وہ چالیسویں، برسی وغیرہ کو بدعت سمجھتی ہے۔ اسے اپنے سسرالیوں کا مزارات پر جانا پسند نہیں۔ اُسے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اُس کے کزن مختلف بدعات میں مبتلا ہیں۔ اس نے ایک کزن کو عمرے کے دوران خانہ کعبہ کا غلاف کوچومنے سے بھی روک دیا تھا۔ اُسے اس بات پر بھی بہت دکھ ہوتا ہے کہ پاکستان میں خواتین پردہ نہیں کرتیں اور آزادانہ گھومتی پھرتی ہیں۔زینب کے بھائی بہن بھی اب وطن واپس آچکے ہیں مگر اب تک وہ یہاں سیٹل نہیں ہو پائے۔ ان کے ذہن میں سعودی عرب ہی کا ماحول ہے۔فاطمہ کے دادا نے ۱۹۵۰ء کے عشرے میں سعودی عرب میں سکونت اختیار کی تھی۔ اس کے شوہر نے سعودی شہریت نہیں لی۔ وہ سعودی عرب ہی میں پیدا ہوا اور مذہبی تعلیم حاصل کی۔ اُسے جدہ میں قیام کا موقع دیا گیا جہاں اس نے ایک جنرل اسٹورچلایااوربعدازاں اس کوترقی دیتے ہوئے سپرسٹورمیں تبدیل کردیاجہاں درجنوں افرادکام کرتے تھے لیکن جب کاروبارعروج پرپہنچاتواس کےسعودی کفیل کے مطالبات بڑھتے گئے اوربالآخروہ دن بھی آیاکہ اس کے سپرسٹورپرسعودی کفیل نے قبضہ کرلیا اور انصاف کیلئے پوراایک سال دھکے کھانے کے بعداب اُسے اور اُس کے اہل خانہ کوپاکستان میں بسنے پرمجبور کردیاگیاہے۔ اُسے عربی کے سواکوئی زبان نہیں آتی۔ اس حوالے سے وہ غیر معمولی مشکلات کا شکار ہے۔

جن پاکستانی گھرانوں کو وطن واپسی پر مجبور کردیا گیا ہے ان میں سے بیشتر کو امید ہے کہ محمد بن سلمان کوبہت جلداندازہ ہوجائے گا کہ وہ مقامی آبادی کے ذریعے اپنے وژن پرعمل نہیں کرسکتے اور یہ کہ انہیں واپسی کا موقع دیا جائے گا! بہت سے سعودی بھی سمجھتے ہیں کہ نیا سسٹم کام نہیں کرسکتا اور یہ کہ کچھ دن انتظار کیجیے، پھر واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ ایسی سوچ کو جاگتی آنکھوں کے خوابوں کے سواکیاکہاجاسکتا ہے؟ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں مذہبی ثقافت بہت مختلف ہے۔ سعودی عرب سے آنے والوں کے ذہن پر نجدی ثقافت ثبت ہے جبکہ پاکستان میں معاملہ بالکل مختلف ہے۔

سعودی عرب میں مقیم بہت سے پاکستانیوں کوایک اوربہت بڑی مشکل نے دوچارکررکھاہے کہ ان کی شب وروزکی محنت سے کمائے ہوئے مال سےخریدی ہوئی جائیدادوں پریاتوان کے قریبی رشتہ داروں نے قبضہ کررکھاہے یاپھرپاکستان میں ہاؤسنگ کمپنیوں کے ظالم،دغابازمکارمالکان پلاٹ اورمکان کاچکمہ دیکران کی عمربھرکی کمائی کولوٹ کردندنارہے ہیں اورہمارے کمزورادارے ان کوانصاف دینے سے قاصرہیں اورہمارازرخرید میڈیابھی ان مظلوموں کی دادوفریادپرکان نہیں دھر رہاکہ ہاؤسنگ کمپنیوں کے کروڑوں روپے کے اشتہارات نے میڈیا ہاؤسزکوخریدرکھاہے۔اس نازک مسئلے پرجہاں خاندان تقسیم ہورہے ہیں اورنوبت قتل وغارت پرپہنچ رہی ہے وہاں متاثرہ خاندان بے آسراہوکرخودکشیوں پرمجبورہوگئے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225749 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2018 Views: 1134

Comments

آپ کی رائے