انتخابات 2018 : مرکزیت کا تاج کس کے سَرسجے گا؟

(Hafiz Abdul Raheem, Islamabad)

پاکستانی سیاست کا ایک المیہ یہ ہے۔ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کبھی اہل اور دیانتدار حکمران نہیں ملا۔کسی نے ملکی خزانے اور معیشت کو استحکام دینے کی سعی بھی نہیں کی۔عوام کو بھی یہ شعور نصیب نہیں ہواکہ اس ملک کے لیے صحیح رہنما کا انتخاب کر سکے۔

1988ء کے بعد پاکستان کی سیاست پردو جماعتوں کا غلبہ رہا۔دونوں جماعتوں کو تین تین بار اقتدار میں آنے کے مواقع ملیں ۔1988؁ء سے 1999؁ء تک ان دو جماعتوں کو چیلنج کرنے کی کسی تیسری جماعت کو ہمت بھی نہ ہوئی۔1999؁ء کے بعد پرویز مشرف کی تخلیق کردہ مسلم لیگ ق اور 2002؁ء میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے مذہبی جماعتوں نے اِن کو چیلنج کیا۔2008؁ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کوبینظیر بھٹوکی شہادت کے نتیجے میں ملنے والی ہمدردی سے آخری بار اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔2013؁ء میں آصف زرداری کی پارٹی سرپرستی ، پاکستان تحریک انصاف کی نووارد و ناتجربہ کار جماعت اور مذہبی جماعتوں کی باہم نااتفاقی نے مسلم لیگ نواز کو ایک بار پھر بھاری مینڈیٹ سے کامیابی کا موقع دیا۔جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کو وفاق اور ملک کے بڑے صوبے(پنجاب) میں حکومت بنانے کاموقع ملا۔

2018؁ء تک یہ دونوں جماعتیں وفاق اور مرکزیت کی بڑی علامت سمجھی جاتی تھی۔ان کے مقابلے میں کوئی تیسری جماعت کا تصور ہی نہیں تھا۔کیونکہ دونوں جماعتیں ووٹ کو عزت دینے کی بجائے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔نتیجے میں دونوں پارٹیوں کی مرکزیت پر کنٹرول کمزور ہو گئیں۔چنانچہ سیاسی جماعتوں کا دائرہ کارمخصوص صوبوں تک محدود ہو گیا۔یعنی پاکستان پیپلز پارٹی سندھ ، پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب و بلوچستان ، متحدہ مجلس عمل کاکمزور ہوتا ہوا ووٹ بینک خیبر پختونخواہ و بلوچستان اور عوامی نیشنل پارٹی کا اثر خیبر پختونخواہ کے چند اضلاع تک محدود رہا۔2013؁ء کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف بیک وقت خیبرپختونخواہ سمیت پورے پاکستان میں ان ساری جماعتوں کو چیلنج کر رہا ہے۔پاکستان میں پارٹی مقبولیت کی ایک نئی سروے جو کہ پلس کنسلٹنٹ نے کی ہے۔اس سروے کیمطابق پی ٹی آئی وہ واحدسیاسی پارٹی ہے۔جس کی مقبولیت خیبرپختونخواہ میں 2013؁ء کی نسبت 2018؁ء میں 47 فیصد سے 57 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔پورے پاکستان میں 2017؁ء کی نسبت 2018؁ء میں پاکستان کی سرکردہ سیاسی جماعت بن گئی ہے ۔ایک اور رپورٹ کیمطابق دنیا بھر میں اس کے چاہنے والے سپورٹرز کی تعداد سب سے زیادہ ہیں۔ان ساری اعداد و شمار کیمطابق 2018؁ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ میں واضح اکثریت کے ساتھ صوبائی حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آئے گی۔اسی طرح قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن ) سے مقابلہ ہوگا جو کہ غالب امکان ہے کہ شایدپی ٹی آئی کو دیگر پارٹیوں کی نسبت زیادہ سیٹیں مل جائے۔ہاں البتہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کو روایتی سیاست کی بدولت صوبائی سیٹوں میں پھر بھی اکثریت ملنے کا امکان ہے ۔سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کمزور کارکردگی اور پی ایس پی اور پی ٹی آئی کی متحرک ہونے کی وجہ سے ان کی ووٹ بینک پر کافی اثر پڑے گا ۔بلوچستان کی سیاست میں بھی پی ٹی آئی کافی سرایت کر چکی ہے۔لیکن یہاں ووٹ ڈالنے کی شرح میں ہمیشہ سے کمی دیکھی گئی۔شرح میں کمی کے چند نمایاں وجوہات ہیں۔تعلیم کی کمی ،ووٹ کی اہمیت سے ناواقفیت ، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، نمائندوں کی ابتر کارکردگی، قبائلی روایات کی بدولت خواتین کے ووٹ ڈالنے کا کم رجحان ہے۔ ان ساری وجوہات کے علاوہ سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے عوام کی ایک روایتی کمزوری ہے کہ وہاں وڈیروں ، سرداروں اور چوہدریوں کے خوف سے کوئی اپنی مرضی سے ووٹ نہیں ڈال سکتا۔اختلاف کی صورت میں معاشرتی پابندیاں ، استحصال اور ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کسی بھی سیاسی جماعت کو مرکزیت کا درجہ تب حاصل ہوتا ہے۔جب کوئی جماعت عوام کی درست سمت میں نمائندگی کرے۔خواہ وہ ایک یا زیادہ سیٹوں کے ساتھ صوبائی اور قومی سطح پر نمائندہ جماعت کیوں نہ ہو۔ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کے حقوق کی سیاست کی۔ تب ہی پیپلز پارٹی کو مرکزی جماعت کا درجہ ملا۔ عمران خان نے عوام کے حقوق کا مطالبہ کیا۔تب ہی پورے ملک میں عوام کی جانب سے پذیرائی ملی۔اور مرکزیت کا درجہ ملا۔ہاں جماعت کی اندرونی چپقلش نے اس کو نقصان پہنچایا۔لیکن ہر نئی جماعت میں اس قسم کے مسائل ہوتے ہیں۔جسکو بہتر رہنمائی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔

بہرحال پاکستانی سیاست میں ایک جماعت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔دوسری جماعت پچھلے کئی عشروں سے روٹی، کپڑا ، مکان کا نعرہ لگا رہا ہے۔ تیسری جماعت قانون کی حکمرانی ، انصاف کی فراہمی اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے وعدے کر رہا ہے۔ مذہبی جماعتیں عہدِ خُلفائے راشدین کی واپسی اور ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنانے کادعویٰ کر رہے ہیں۔لیکن 2018؁ء کے انتخابات میں مرکزیت کا تاج اس جماعت کے سر سجے گا۔جن کو ملک کے پانچ اکائیوں سے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوجائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz Abdul Raheem

Read More Articles by Hafiz Abdul Raheem: 30 Articles with 12383 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 328

Comments

آپ کی رائے