الیکشن دوہزار اٹھارہ بمقابلہ دو ہزار تیرہ (حصہ دوم) پاک بھارت تعلقات اور عمران خان کے نعرے

(Ghulam Muhy ud din , Lahore)
ہم پچیس جولائی دوہزار اٹھارہ رات گیارہ کے قریب کپتان کی وکٹری سپیچ کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔خان صاحب کے رفقانے مختلف اندازمیں خان صاحب کی تصاویر بنانے کی تاریخ رقم کی۔۔۔نوجوان نسل کے یہاں بھی کچھ خواب بکھرے۔۔۔۔۔خان صاحب اور اُن کے چیتوں نے پانچ سال نواز شریف کو بھارت کے ساتھ معاملات کا حل مذاکرات سے کرنے پر گاڑھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔۔۔۔مگر خان صاحب نے خود مودی کے ایک قدم کے ساتھ دو قدم بڑھانے کی بات کر کے خان صاحب نے ایک بار پھر نوجوان نسل کے خواب چکنا چور کردئے۔۔

مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ک نعرہ ہوا ہو گیا۔

ہم پچیس جولائی دوہزار اٹھارہ رات گیارہ کے قریب کپتان کی وکٹری سپیچ کا انتظار کر رہے تھے ۔رات گیارہ بجکر پانچ منٹ پر بریکنگ چلی کہ دوہزار تیرہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اس وقت اپنی جیت کا اعلان کرنے کے لئے مائیک ہاتھ میں لئے میڈیا چینلز کی سکرین پر آچُکے تھے ۔ البتہ کپتان اس وقت تسبیح ہاتھ میں لئے، بنی گالہ میں اپنے رفقا اور خاص مہمان انیل مسرت کے ساتھ وکٹری سپیچ کے لئے تیاری کر رہے تھے ۔ مگر ابھی جیت کا اعلان کرنے کے لئے انتظار درکار تھا ۔ خان صاحب کو کچھ دیر ٹیوی چینلز نے سکرین پر دکھایا مگر بے یقینی کی صورتحال کے تحت تقریر کا وقت تبدیل ہوگیا۔ خیر خان صاحب نے اطمینان برتتے ہوئے نتائج کا انتظار کیا اور بالآخر وہ وقت آیا جب خان صاحب اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے پوری دنیا سے مخاطب ہوئے ۔ بے یقینی کی کیفیت چنندہ رفقا کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی چہرے پر نمایاں تھی۔ مگر اس سے پہلے خان صاحب کے رفقانے مختلف اندازمیں خان صاحب کی تصاویر بنانے کی تاریخ رقم کی جس سے خان صاحب کا اعتماد بحال ہوا ۔کپتان نے کچھ کھلاڑیوں کو باہر جانے کا کہا ۔ جہانگیر ترین بھی اس فوٹو سیشن میں نظر آئے ۔ جنہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے نااہل قرار دیا تھا ۔ نوجوان نسل کے یہاں بھی کچھ خواب بکھرے۔ خیر ان کا ذکر اگلے حصے میں ہوگا یہاں تاریخی لمحات کی بات ہو رہی ہے۔

خان صاحب نے اللہ کا نام لیکر خطاب شروع کیا ۔ بہت سے اچھے ارادے جن میں وزیرِاعظم ہائوس میں نہ رہنا ۔ مختلف قومی عمارتوں کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا اور تمام حلقوں کی دوبارہ گنتی شامل ہیں ۔ اچھے اقدامات کو سراہنا چاہیئے اور ان پہ عمل درآمد پر داد بھی دینی چاہیئے ۔ یہ ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ عوام کے مینڈیٹ سے آئے ہوئے امیدوار اگر آپ کے پسندیدہ نہی ہیں تب بھی آپ کو ایک قوم ہونے کی حیثیت سےاُسکے مثبت پہلووں کی تعریف کرنی چاہیئے ۔ یہ جمہوریت اور انسانیت کے تقاضے ہیں۔

تقریر میں ہر سیاستدان اچھے اقدامات کی تسلی دیتا ہے۔ عوام اُسکے اقدامات دیکھ کر وقت کے ساتھ ساتھ عمل درآمد کی صورت میں ندازہ لگاتے ہیں کہ حکمران قول و فعل کے لحاظ سے کتنا دھنی ہے ۔مگر افسوس ہُوا کہ خان صاحب نے یہاں بھی اپنے نئے ووٹر کو مایوس کیا ۔ نواز شریف کو مودی کا یار ہونے کا طعنہ دینے والے لیڈر جس نے اکثر جلسوں میں کہا کہ نواز شریف نہیں جانتا کہ مودی سے کس لہجے میں بات کرنی ہے ۔ میں بتائوں گا کہ ان سے کیسے بات کرنی ہے۔ سب بڑھکیں ثابت ہوئیں جب خان صاحب نے مودی سے گزارشانہ ایک قدم بڑھانے سے خود دوقدم آگے بڑھنے کی بات کی۔

خان صاحب اور اُن کے چیتوں نے پانچ سال نواز شریف کو بھارت کے ساتھ معاملات کا حل مذاکرات سے کرنے پر گاڑھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ گالیاں عنایت کیں اور مودی کا یار غدار کے کے لقب سے نوازہ ۔ نا صرف سابق وزیر اعظم بلکہ پاکستان مسلم لیگ کے کارکنان کو بھی مودی کا یار غدار کہا۔ مگر یہاں دل جل گیا جب ممکنہ وزیر اعظم نے اسی مودی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور چیتوں نے اسے پاکستان کے مفاد میں بہتر قرار دیا۔ سوال پھر یہ ہی اُٹھا کہ آپکی اپوزیشن میں جو غلط تھا وہ آپکی حکومت میں صحیح کیسے ہوگیا ۔مگر میں ابھی بھی مایوس نہیں۔ وفاق پہلی مرتبہ مِلا ہے ۔ صوبے میں پانچ سال حکومت سے ممکنہ وزیر اعظم کو کتنا سیکھنے کو ملا یہ وفاق کے پانچ سال حکومت میں عوام کے سامنے آجائے گا۔ دوست ممالک نے ممکنہ وزیر اعظم کی جیت کا خیر مقدم بھی کیا ہے اور خطے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

خیر دوسراحصہ یہاں ختم کرتے ہیں عمران خان جیت کا اعلان کر چُکے جسے پوری دنیا کے میڈیا ہائوسز نے کوریج دی۔ خان صاحب دوبارہ گنتی کا اعلان بھی کیا۔ دوبارہ گنتی شروع ہوئی ۔ اڑتالیس گھنٹوں میں چھے صوبائی اور قومی حلقوں میں دوبارہ گنتی کے نتیجے میں تحریکِ انصاف کے امیدوار ہار گئے جو جیت چُکے تھے ۔اور دوسری پارٹیوں کے امیدوار جیت گئے۔اچانک حلقوں کی گنتی رکوا دی گئی ۔ کپتان کو دوبارہ گنتی کا فیصلہ پسند نہیں آیا۔ کھینچا تانی اور تنائو اتنا بڑھا کہ دھاندھلی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ایم ایم اے کی طرف سے رد عمل اس قدر تیز تھا کہ فوج کو بُلانا پڑا ۔عوام جب حق کے لئے نکلتے ہیں تو مشکلات ہیش آتی ہیں ۔سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ پاک فوج کو بدنام کرنے کی عالمی سازش میں پاکستانی عوام استعمال ہورہی تھی۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
02 Aug, 2018 Views: 408

Comments

آپ کی رائے