حاجی فیقا

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
ہم حاجی فیقے کی ماں کا رویہ اپنا کر لوگوں سے توقع کرتے ہیں کہ لوگ اسے حاجی محمد رفیق کہیں لیکن ہم ماسٹر اخلاق احمد کی ماں کا اخلاق اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

ہم آزادی کے بعد سے ان تعبیروں کو ترس رہے ہیں جن کے خواب ہمیں دکھلاٗے گئے تھے ۔بقول عمران عامی :
ہم کو ہماری نیند بھی واپس نہ ملی
لوگوں کو ان کے خواب جگا کر دیے گئے

آج اکیسویں صدی کے اٹھارویں سال میں بھی پولیس ایکٹ بیسویں صدی کا انگریز کا بنایا ہوا اور تعلیمی نظام بھی وہی منشی گر، سردار بھی وہی اورملک ومشران بھی پرانے البتہ حکمران کی جگہ اب حکمرانوں کے منشی ہم پر مسلط ہیں ۔ اس وقت بھی قوت فیصلہ نظر نہ آنے والوں ہاتھوں میں تھی تو غیر مرئی قوتیں اب بھی موجود ہیں۔آزادی سے پہلے مقامی لوگوں کی کمائی برطانیہ منتقل ہوا کرتی تھی۔ اب برطانیہ کے ساتھ دوبٗی بھی منتقلی کا مرکز ہے ۔ پاکستان کے اندر فاقہ کش روٹی کو، مریض دوائی کو اور نوجوان نوکری کو ترس رہے ہیں مگر پاکستان بننے کے بعد یہاں سے ایک سو بیس ارب ڈالر باہر منتقل ہو چکے ہیں۔

پاکستان اس برصغیر کا حصہ ہے جس کو انگریز سونے کی چڑیا کہا کرتا تھا۔ سونا، چاندی، قیمتی پتھر اور مفید دھاتیں ، زرخیز زمینیں، اونچے پہاڑ ، سر سبز وادیاں اور بہتی ندیوں نے اس علاقہ کو سونے کی چڑیا نہیں بنایا کہ یہ سب کچھ تو دوسرے خطوں میں بھی موجود ہے۔ اس خطے میں موجود انسانوں کی ان قدرتی نعمتوں سے مستفید ہونے کی صلاحیت نے اس خطے کو ممتاز کر رکھا تھا۔ اور انگریز ، جسکی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا ، کی کالونیوں میں یہ علاقہ سب سے امیر کالونی ہوا کرتی تھی ۔ اس علاقے کے لوگ محنتی، ملن سار، مہمان نواز، اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے ،ذمہ دار، قابل اعتبار اور اپنی بات کے پکے اور وفا شعار مشہور تھے۔

آج پاکستانیوں کے بارے میں کسی ملک کا سربراہ کہتا ہے کہ یہ ناقابل اعتبار اور دھوکہ باز ہیں، کسی ملک کی عدالت نے عادی مجرم کا لقب دے رکھا ہے اور کوئی بین الاقوامی ادارہ کرائے کے دہشت گرد قرار دیتا ہے بلکہایک ملک کی پارلیمنٹ میں کسی نے یہ بھی کہا کہ ڈالر کے عوض پاکستانی اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ

میرے محلے میں ایک تاجر رہتے ہیں ، محلے کے سب سے متمول رہائشی ، نام حج سے پہلے فیقا تھا اب لوگ انھیں حاجی فیقا کہتے ہیں ۔ اسی محلے میں ایک اور صاحب رہتے ہیں ، نام ان کاماسٹر اخلاق احمد ہے ۔ ایک ماں نے اپنے بیٹے کا نام محمد رفیق رکھا اور پیا ر سے اسے فیقا کہہ کر پکارتی تھی ۔ دوسرے کو گھر والے پہلے اخلاق احمد اور پھر ماسٹر اخلاق احمد کے نام سے پکارتے ہیں۔

پاکستان میں بے نظیر جب تک زندہ رہی ، کرپشن کے الزامات میں اپنے منصب سے نکالی جاتی رہی، آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب پاکستان کے ایک اخبار نے دیا تھا۔ مگر عدالت میں کچھ بھی ثابت نہ ہوا ۔ اب یا تو لوگوں کا گمان غلط ہے یا ہماری عدالت کا فیصلہ غلط ہے۔ یہی بات نواز شریف کے بارے میں درست ہے ۔ پاناما عدالت میں تو ثابت نہیں ہے مگر لوگوں کا گمان مختلف ہے۔کرپشن کے تندور سے اب بھی ساڑھے تین سو ارب روپے کے الزام کا دھواں اٹھ رہا ہے۔ ہمارے ملک کے کالم نویس اور اینکر پرسن جناب حسن نثار کا فرمانا ہے کہ محمد شریف کا بھارتی پنجاب میں ڈیڑھ مرلے کا مکان تھا۔عمران خان کو یہودی ایجنٹ بتاتے ہیں، زانی اور زکوات خور کا الزام لگاتے ہیں اور جب ہمار ے وزیراعظم کی امریکہ کے ایک ائرپورٹ پر تلاشی ہوتی ہے تو ہماری پاکستانی غیرت کو دھچکا لگتا ہے ۔ ہم حاجی فیقے کی ماں کا رویہ اپنا کر لوگوں سے توقع کرتے ہیں کہ لوگ اسے حاجی محمد رفیق کہیں لیکن ہم ماسٹر اخلاق احمد کی ماں کا اخلاق اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 55132 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Aug, 2018 Views: 215

Comments

آپ کی رائے