قانون سے بالاتر کوئی نہیں

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

کراچی سے پی ٹی آئی کے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی سید عمران علی شاہ کی اس حرکت نے ایک بار پھر عوامی خدمت گاروں پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔نیشنل سٹیڈیم کے نزدیک سر عام ایک بزرگ شہری پر تشدد اور تھپڑوں کی بارش کی گئی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی ایسی مثالیں پہلے بھی ملتی ہیں۔ جب عوام کے منتخب لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے معصوم شہریوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ صرف پی ٹی آئی کی بات نہیں۔ دیگر پارٹیوں سے وابستہ لوگ بھی اس لا قانونیت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ عوام کے جو لوگ خادم ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں پر پلتے ہیں۔ پولیس، بیوروکریسی، جوڈیشری سمیت تمام سرکاری ملازم چاہے وہ ایس پی، تھانیدار ہو، ڈی سی ہو یا کوئی بھی ہو، وہ عوام کا ملازم ہے۔ اگر نوکر کہیں تو شاید وہ اپنی تضحیک سمجھیں۔ مگر یہی درست ہے۔ مگر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ خود کو کوئی خلائی مخلوق سمجھتے ہیں اور عوام کو خاص طور پر غریب کو زدو کوب کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ عوام کے منتخب کردہ بعض لوگ تو کچھ زیادہ ہی فرعونیت اور نمرودیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔وہ جج بن جاتے ہیں۔ جب کہ کوئی جج بھی قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ اگر کسی نے کیسا بھی جرم کیا ہو ، اس کی سزا ہے۔ مگر جرم ثابت ہوئے بغیر کوئی از خود کسی پر تشدد نہیں کر سکتا۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عمران شاہ کوئی جاہل شخص نہیں اور نہ ہی کوئی ناخواندہ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ ان کے والد ایم کیو ایم سے وابستہ تھے۔ معروف ڈاکٹر تھے۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے 70ہزار سے بھی زیادہ آپریشنز کئے ہیں۔ برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ عمران شاہ کے داد بھی جج رہے ہیں۔ پاکستان ہجرت کرنے سے قبل یہ خاندان باعزت سمجھا جاتا تھا۔ آخر ایک تعلیم یافتہ شخص آپے سے باہر کیوں ہو گیا۔ اگر چہ ایم پی اے صاحب نے تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وضاحت کی ہے کہ جس شہری کی بات ہو رہی ہے اس نے بلا وجہ کسی دوسرے شخص کا راستہ روکا ہوا تھا۔ ان سے رہا نہ گیا۔ اور گاڑی سے نیچے اتر کر اسے دھکادیا۔ تشدد نہیں کیا۔ جب کہ ویڈیو میں واضح طور پر وہ شہری کو تھپڑ مار رہے ہیں۔ ان کے گارڈز بھی قریب ہی کھڑے ہیں۔ عمران علی شاہ نے غلط بیانی سے کام لیا اور اب معذرت بھی کر لی ہے۔ عمراں خان صاحب کے لئے اس طرح کی اطلاعات بے چینی کا باعث بن رہی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود اس معاملہ پر سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی۔ نامزد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی سخت ایکشن کی بات کی۔ اس کے بعد شاہ جی کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی بھی کہتے ہیں کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اس معاملہ میں کیا پیش رفت ہو گی۔ شاید عوام کو کبھی پتہ نہ چل سکے۔ ظاہر ہے کہ معذرت کے بعد معاملہ رفع دفع ہو جائے گا۔ جیسے کہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کوئی کسی کو پھانسی نہیں لگا سکتا۔ ٹوکن سزا ہی دی جا سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ عوامی نمائیندے خود کو قانون سے بالا تر کیوں سمجھنے لگتے ہیں۔ جب قانون ساز ہی قانون شکنی کے مرتکب ہوں تو دیگر سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ آپ کسی بھی سرکاری دفتر میں چلے جائیں، وہاں سائلین کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ملازمت کے حصہ کے طور پر ڈیوٹی کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جیسے کہ رشوت بھی ملازمت کا حصہ بن رہی ہے۔ اس کا مطالبہ ایسے انداز میں ہوتا ہے کہ لگتا ہے کہ یہ بھی تنخواہ کا ہی ایک حصہ ہے۔ ورنہ جائز کام بھی نہ ہو گا۔ کسی ایگزیکٹو کے دفتر یا تھانہ جائیں تو بعض افسران فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ احسان بھی جتلاتے ہیں۔ محکمہ مال کی بات ہی نرالی ہے۔ زمین کی نقل کے لئے بھی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ اگر کبھی کوئی شفاف تحقیقات ہوئی تو پتہ چلے گا کہ پٹواری، گرداورم تحصیلدار، اس کا نائب ، پولیس سے مل کر لا تعداد سرکاری اراضی ، شاملات، خالصہ سرکار یا دیہہ کا رقبہ بھی اپنے نام یا پیسے لے کر مافیہ کے نام کر چکے ہیں۔

ماورائے قانون تشدد یا اغواکاری یا حراستی گمشدگیاں بھی ہوتی ہیں۔یہ ان سب سرکاری لوگوں کی جانب سے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے کی سوچ ہے یا یہ خود کو ہی قانون سمجھتے ہیں۔ یہ خود ہی جج بن جاتے ہیں۔ جو مرضی ہو کرتے ہیں۔ یہ مائینڈ سیٹ ہے۔ اس کہاوت کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ پھل دار ٹہنی جھک جاتی ہے۔ وہ زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ اسی طرح شعور من کسی اختیار اور عہدے کے بوجھ سے جھک جاتا ہے۔ حلیم اور نرم بن جاتا ہے۔ اس کی اکڑ، تکبر اور غرور دب جاتا ہے۔ لیکن جو عوام کے لئے نفع بخش نہ ہو وہ جھکتا نہیں بلکہ مغرور ہو جاتا ہے۔ یہ غرور ہی اسے غریب اور بے کس کو کیڑہ مکوڑہ سمجھنے کی شے دیتا ہے۔ وہ خادم کے بجائے حاکم بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ رشوت، ظلم، نا انصافی ایسے کرتے ہیں جیسے یہ ان کا حق ہو۔ یہی حرکت آج عمران علی شاہ جی نے کی۔ انھوں نے اپنے بزرگوں پر ایک دھبہ لگا دیا۔ ہو سکتا ہے کہ انھیں اس کا احساس ہو، ندامت میں اس کی تلافی کی کوشش کریں۔ مگر منصب کا غلط استعمال کرنے والے وہ اکیلے نہیں۔ آج ہم جا بجا ایسے لوگ دیکھتے ہیں جو دوسروں کی حق تلفی کرتے ہیں۔ فخر سے کسی بے بس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ ریاست ہی نہیں بلکہ اداروں میں آئین اور قواعد سازی کرنے والے کسی عام ملازم یا شہری یا سائل کے نام پر اپنا مفاد پہلے دیکھتے ہیں۔ اگر چہ سب تعلیم یافتہ ہیں مگر افسوس ہے تعلیم کے ساتھ اس تربیت کا فقدان ہے جو انسان کو غلام کے بجائے انسان سمجھنے کیا درس دیتی ہے۔ جب شفاف احتساب کے بجائے انتقام لیا جائے تو ایسے لوگ ہی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو کوئی منصب ملنے پر مغرور بن جاتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی مخلوق پر ظلم کرتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221325 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
20 Aug, 2018 Views: 232

Comments

آپ کی رائے