خطہ سرائیکستان سے زیادتی پرعمران خان جواب دیں

(Imran Zafar Bhatti, Muzzaffar Garh)

پاکستان میں عام انتخابات 25جولائی کو ہوئے تمام جماعتوں نے بھر پور حصہ لیا بہت سی جماعتوں نے پہلے سے ہی دھاندھلی کا رونا شروع کر دیا تھا جس میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف) کے علاوہ دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں حالانکہ ان کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ الیکشن کمیشن، نیب، چیف جسٹس کی تعیناتی اور تمام اداروں میں تعیناتیاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی وغیرہ نے ملکر کیں۔ اب دھاندھلی کے یہ بے بنیاد الزامات بھی یہی پارٹیاں لگا رہی ہیں۔ اگر دھاندھلی ہوئی ہے تو تب بھی انہی جماعتوں کا قصور ہے کیونکہ تین تین باریاں لینے کے بعد بھی اگر یہ نظام ٹھیک نہیں کر سکے تو ان کے ساتھ ایسا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ حالانکہ اس الیکشن کو پاکستان کے معتبر تین ادارے جن میں فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک(فافن) ، پلڈاٹ اور غیر ملکی مبصرین بھی سراہا چکے ہیں ان سب نے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں 2018 کے الیکن بہت بہتر تھے ۔ فارم 45پر بات کی جارہی تھی فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے کہاکہ اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا کچھ مقامات پر ایجنٹ خود اٹھ کر چلے گئے جس وجہ سے ہارنے والے دھاندھلی کا شور کر رہے ہیں۔ بطور مبصر راقم نے بھی دیکھا کہ کئی مقامات پر ایجنٹ رزلٹ سے پہلے چلے گئے۔ بہت کم مقامات پر رزلٹ نہ دئیے گئے۔ اس حوالے سے فافن بھی کہہ چکا ہے کہ 5% مقامات پر فارم 45 نہیں دئیے گئے۔ اب جب الیکشن ہو گئے ہیں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام امیدواروں کے تمام فارم 45 ویب سائٹ پر لگا دئیے ہیں جس کو ضرورت ہیں وہ وہاں سے ڈاؤن لوڈ کر لے اورچیک کرے اگر رزلٹ میں گڑ بڑ محسوس ہو تو عدالت سے لازمی رجوع کرنا چاہیے تاکہ آئندہ فارم 45 کے معاملے کو بھی سنجیدہ لیا جائے۔

اس الیکشن کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی اور 116 قومی اسمبلی کی سیٹیں سمیٹ لیں یہ رزلٹ حیران کن بالکل بھی نہیں کیونکہ بہت سارے مبصرین کا بھی یہی خیال تھا کہ پی ٹی آئی 100سے زائد سیٹیں نکالے گی پی پی پی سے متعلق بھی یہی خیال تھا جتنی سیٹیں پی پی پی نے نکالی ہیں جبکہ ن لیگ کے متعلق تو اس سے بھی کم خیال تھا ۔ کہ ن لیگ اس سے کم سیٹیں لے گی مگر ن لیگ توقعات سے زیادہ سیٹیں لے گئی ہے۔ یہی چیز الیکشن کا حسن بھی ہیں مگر معلوم نہیں اس ملک سے دھاندھلی کا رونا کب ختم ہوگا جو جماعت بھی ہارتی ہے دھاندھلی ، دھاندھلی شروع کر دیتی ہے ۔ حالانکہ ہر بار ایسا نہیں ہوتا اور اس بار تو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی بہت ہی کم نظر آئی ہے ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس بات کا کریڈٹ لیتے کہ انہوں نے ایک اچھا الیکشن کمیشن کا سیٹ اپ بنا دیا ہے جس وجہ سے صاف شفاف الیکشن ہوئے ہیں اور اس بیانیے سے ملک کا نام بھی روشن ہوتا اور دنیا میں پیغام جاتا کہ پاکستان کے ادارے بہتر ہو رہے ہیں پاکستان ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار صاف ، شفاف الیکشن ہوئے مگر افسوس مفاد پرست سیاستدان اس کو بھی متنازعہ کرنا چاہتے ہیں اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔

الیکشن کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ۔ اس پارٹی نے زیادہ سیٹیں خطہ سرائیکستان سے حاصل کیں۔ جبکہ ن لیگ کو خطہ سرائیکستان سے ہر جگہ سے منہ کی کھانی پڑی ، سرائیکی قوم نے بھی خطہ سرائیکستان سے ن لیگ کو اس لیے بھگایا کیونکہ الیکشن کمپین کے دوران شہباز شریف نے اسی خطہ (ڈیرہ غازیخان) میں کھڑے ہو کر اسی قوم کے خلاف تعصب اور بغض کا مظاہرہ کیا ۔ اسی طرح ن لیگ نے اپر پنجاب سے زیادہ سیٹیں نکالیں جس وجہ سے ن لیگ کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور ن لیگ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں کھو چکی ہے ۔ اس لیے شہباز شریف نے سرائیکی قوم سے بدلا لیا اور سرائیکی خطہ میں ایک بھی مخصوص نشست نہ دی اور خطہ سرائیکستان کو یکسر انداز کر دیا۔ مگر اسے معلوم نہیں کہ اس کے اس فعل سے خطہ میں اس کیلئے نفرت مزید بڑھے گی کم نہیں ہوگی۔ سرائیکی قوم ن لیگ کو اپنے وسیب کا دشمن جاننے لگی ہے اس کی وجہ کیا ہے ۔ ن لیگ نے کبھی سوچا ہے نہ ہی کبھی سوچے گی۔

سرائیکی قوم پاکستان تحریک انصاف کو لیکر حیران ہے کہ جس پارٹی کو وفاق اور صوبے میں حکومت بنانے میں بہت زیادہ معاون بنی اسی سرائیکی قوم کو پاکستان تحریک انصاف نے کیوں نظر انداز کر دیا راجن پور، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخان، رحیم یار خان، ملتان، بہاولپور، بھکر میانوالی، لیہ و دیگر جتنے بھی سرائیکی اضلاع ہیں پاکستان تحریک انصاف کا بول بالا ہوا مگر مخصوص نشستوں میں پاکستان تحریک انصاف نے خطہ سرائیکستان کو نظر انداز کر دیا کیا اس خطہ میں کوئی بھی اس قابل نہ تھا کہ اسے مخصوس نشست دی جاتی ۔ خطہ سرائیکستان اس بات پر افسوس کر رہا ہے کہ عمران خان نے بھی شہباز شریف کی طرح لہور کو ہی نوازنا شروع کر دیا ہے کیا پورا پنجاب صرف لہور ہی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے 30 میں سے تقریباً25نشستیں لہور کو دیں اسی طرح ن لیگ نے بھی 25میں سے 21نشستیں لہور کو دے دیں تو کیا باقی اضلاع کا کوئی حق نہ تھا ۔ ن لیگ تو اپنی بھڑاس نکال رہی ہے وہ اس خطہ کی ویسے بھی خیر خواہ نہ تھی مگر پاکستان تحریک انصاف نے ایسا کیوں کیا۔ اس خطہ کے عوام عمران خان سے جاننا چاہتے ہیں کہ اس عوام کو ان کا حق کیوں نہیں دیا۔ اس ایشو پر ایک اور نقطہ نظر بھی آیا ہے کہ اس خطہ کے لوگوں نے مخصوص نشستوں کیلئے اپلائی نہیں کیا تھا تو اس بات کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ ہم سب جانتے ہیں مخصوص نشستوں کیلئے درخواستیں دیتا کوئی نہیں جسے پارٹی کا سربراہ چاہتا ہے اس سے درخواست مانگ لیتا ہے اور اسے مخصوص نشست پر ممبر اسمبلی بنا دیتا ہے تو یہ دلیل فضول سی لگتی ہے ۔اگلے آنے والے وقتوں میں عمران خان اس بات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ سینٹ خالی ہونے والی نشستوں پر بھی سرائیکیوں کو موقع ملنا چاہیے۔ سرائیکی قوم کو وفاقی وزارتوں میں بھی حصہ ملنا چائیے اور اس خطہ کی عوام کا سب سے بڑا اور دیرینہ مطالبہ صوبہ سرائیکستان کا مطالبہ بھی پورا کرنا ہوگا ورنہ پانچ سال گزرتے دیر نہیں لگتی۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین(کالم نگارکا تعلق خطہ سرائیکستان سے ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Zafar Bhatti

Read More Articles by Imran Zafar Bhatti: 24 Articles with 7210 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2018 Views: 179

Comments

آپ کی رائے