آنجہانی واجپائی کی شایان شان رخصتی

(Faisal Farooq Sagar, Gujranwala)

آل انڈیا ریڈیو سننے کی عادت مجھے بچپن ہی سے ہے ، پاکستان کے بارے میں بھارت کے منفی پراپیگنڈے سے واقف رہنے کے ساتھ ساتھ بھارتی موسیقی سے لطف اندوز ہونے کایہ بہترین ذریعہ ہے ، پاکستان میں بھارتی ٹی وی چینلز کی بندش کے بعدیہ کمی سیٹلائٹ کے ذریعے پوری کرتا ہوں ، پچھلے کئی روز سے میںVIVIDبھارتی چینل کو جب بھی ٹیون کرتا ہوں ، وہاں سابق بھارتی وزیر اعظم سینئر سیاستدان اٹل بہاری واجپائی کی تقریروں ،انکی سیاسی زندگی اور شاعری کے ساتھ ساتھ انڈین فلمی درد بھرے گانوں کی نشریات جاری پاتا ہوں ، واجپائی کے سوگ میں مکیش ،مْحمد رفیع، کشور کمار ، مناڈے اور دیگر گلوکاروں کے غمگین گانے اس بزرگ سیاستدان کی جدائی پر پیش کئے جارہے ہیں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات کی ادائیگی اور انکی جدائی کے غم میں بھارت میں سات دن کا سوگ کااعلان کیا گیا ہے، واجپائی اس دیس کا 3بار کا منتخب وزیر اعظم تھا جو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا ،مگر انہوں نے اپنے سابق وزیر اعظم کو اس شان سے رخصت کیا ہے کہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا ، سرکاری و نجی ٹی وی پرواجپائی کی آخری رسومات کی نشریات کئی روز تک براہ راست دکھائی گئیں ، پاکستان کے مقابلے میں ایک بہت بڑے مگر پسماندہ ، غریب آبادی کی اکثریت رکھنے اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کرنے والاملک ہونے کے باوجود وہاں کا میڈیا اپنے ملک سے محبت کا بہت زیادہ پر چار کرتاہے ، وہاں جذبہء حب الوطنی کو اپنے لوگوں کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرنے کے لئے وہ ہر حد تک جاتے ہیں ،وہ میڈیا پرانڈین ہونے کو قابل فخر بات کے طور پر پیش کرتے ہیں ، ’بھارت دیش مہان ‘ سرکاری و نجی نشریاتی اداروں کی بنیادی پالیسی ہے ، کسی واقعے ، حادثے یا الیکشن ہارنے کی صورت میں وہاں پاکستانی میڈیا یا دھرنوں میں بیٹھے ہمارے سیاستدانوں کی طرح ملک کو کوسنے یا برا بھلا کہنے کا رواج نہیں، بھارت میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں پر بھی انکا میڈیا ہمارے ملک کی طرح بے لگام نہیں ہو تا ، وہ اپنے ملک کے مفاد کو مدنظر رکھ کر میڈیا پالیسی مرتب کرتے ہیں ،اسکے ساتھ ہی بھارت پاکستان دشمنی کو بھی کبھی نہیں بھولتا ، یہ ان کے میڈیا کا ہمارے لئے ناپسند یدہ پہلو ہے ،تاہم وہ یہ کام اپنے دیس کی محبت میں کرتے ہیں ، سیٹلائٹ پر ویسے بھی بھارت چھایا ہوا ہے ،انکی علم دوستی کا یہ عالم ہے کہ ان کے مختلف زبانوں میں چلنے والے ایجوکیشنل چینلز کو آپ انگلیوں پرگن نہیں سکتے ، وہاں نجی چینلز بھارت کے طول عرض میں پھیلی ہوئی بہت سی زبانوں میں دستیاب ہیں ، ہندی ، اردو،ملیالم ، کنڑا، بنگالی ،مراٹھی، انگریزی سمیت علاقائی و قومی زبانوں میں ملکی و غیر ملکی چینلز کی نشریات دستیاب ہیں ،سپورٹس کے بڑے اور معروف چینلز انڈیا کی ملکیت ہیں ان کی تعداد بھی قابل داد ہے ، یہی معیار انکے ریڈیو کا بھی ہے،جبکہ ریڈیوپاکستان کا آج بھی یہ حال ہے کہ اسکی نشریات کے دوران ایک ہی فریکوئیسی پر بیک وقت دو دو آوازیں آ رہی ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ ایک جگہ تلاوت قرآن پاک اور فلمی و غیر فلمی گانے ایک ہی وقت میں سنائی دے رہے ہوتے ہیں ، بھارت میں ملک کی آزادی کے ساتھ ہی طے کر لیا گیاتھا کہ انک انظام حکومت پارلیمانی جمہوری نظام ہوگا ، انکا یقین ہے کہ جمہوریت ہی میں انکی بقاء سلامتی ترقی اور خوشحالی کا راز ہے ، وہاں کسی کو جمہوریت کو گالی دینے اورجمہوری نظام کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں ہوتی ،وہاں چند جرنیل بیٹھ کر فیصلہ نہیں کرتے کہ ملک میں کتنی جمہوریت ہونی چاہئے ، یا پاکستانی قوم کے لئے سیاسی آزادیوں کی حدود کیا ہیں ، بھارت میں کرپشن کی شرح پاکستان سے کم نہیں ہوگی ، وہاں سیاستدانوں کے نام پر انڈر ورلڈ مافیا کے لوگ جرائم پیشہ افراد کو بھی اسمبلیوں میں بھیج دیتے ہیں مگر نظام کو کوئی گالی نہیں دیتا ، کوئی اپنے ملک کی فوج یا دیگر سکیورٹی اداروں کو سیاست میں جھونکنے کی بات نہیں کرتا ، وہاں جمہوری حکومت کی ناکامی کو جمہوریت کی ناکامی سے تعبیر کرنے کی سازش نہیں کی جاتی ، جمہوریت کی بجائے ملکی دفاعی اداروں کو کنٹرول میں رکھا جاتا ہے ، انہیں سیاسی بیان کی بھی اجازت تو درکنار وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے، جبکہ پاکستانی میڈیا جمہوریت کی طرح بری طرح کنٹرولڈ ہونے کے باوجود اپنی پالیسی میں جذبہ ء حب الوطنی ، علم دوستی کو اہمیت دینے میں مکمل ناکام دکھائی دیتا ہے ، بھارت میں فن اور فنکار کی بے حد قدر کی جاتی ہے ، فنکاروں کو ہمارے ملک کی طرح مراثی یا کنجر کہہ کر انکے فن کو اپنی موت مرنے کے لئے چھوڑنہیں دیا جاتا ، وہ لوگ موسیقی کے دلدادہ ہیں ، مہدی حسن ، میڈم نور جہاں ، استاد امانت علی خان غلام علی ، فریدہ خانم اور نصرت فتح علی خان اور راحت فتح علی کی جتنی پذیرائی پاکستان کے بعد وہاں کی جاتی ہے اسکی کہیں اور ملنا مشکل ہے لیکن انکی یہ پذیرائی انکے فن کی بدولت کی مرہون منت ہے نہ کہ پاکستانی ہونے کی ،پاکستان سے نفرت اور دوری انکی بنیادی پالیسیوں کا حصہ تھا ہے اور شاید آئندہ بھی رہے گا ، ہمارے یہاں سیاستدانوں اور جمہوریت کا تمسخر اڑانے کو تفریح کا بہترین ذریعہ سمجھاجاتا ہے ،ہمارا میڈیا دن رات سیاستدانوں کے نئے پرانے فوٹیج نکال کر دکھاتا اور انہیں نیچ ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے جبکہ 33سال براہ راست مارشل لاء لگا کر عوام کے حقوق غصب کرنے والے آمروں کے بارے میں مذاق سے بھی کچھ کہنے کی جرات نہیں ، یہاں جمہوریت کو ناکام نظام حکومت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، یہی نہیں بلکہ بعض ادارے خبروں کی ہیڈنگز تک سکیورٹی اداروں سے تیار کراتے ہیں ،چنداینکرز پورے 50منٹ کا پروگرام کر کے جمہوری نظام ،سیاسی راہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کاوہ حشر نشر کرتے ہیں کہ سیاست عام آدمی کے لئے قابل نفرت بن کے رہ جاتی ہے ،پاکستانی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں سے دنیا میں پاکستان کا امیج’بنانا ری پبلک ‘ کے طور پر پختہ ہو رہا ، سچ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ، مادر ملت فاطمہ جناح ؒ،لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو ، نواز شریف، جاوید ہاشمی سمیت سیاستدانوں اور انکی اولادوں کو اپنے اپنے عوامی سیاسی کردار کی بھاری قیمت چکانا پڑی ، قائد اعظم ؒ کے ساتھ ہونے والے سلوک پر الگ کسی وقت بات ہو گی ، ہمارے یہاں سیاستدانوں نے بظاہر حکومتیں تو بنائیں مگر بیشتربے اختیار رہے ،اسکے باوجود انہیں اقتدار کی پاداش میں یا تو جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑا یا جلاوطنی قید اور غداری کے الزامات کو سینے پر پتھر کی سل کی طرح رکھ کر زندگی کے دن پورے کرنا پڑے ، ادھر1998 واجپائی پہلی بار 13دن دوسری بار 13ماہ اور تیسری بار پانچ سال کے لئے بھارتی وزیر اعظم رہے ، 1974ء بھارت ایٹمی تجربات کر چکا تھا اسکے باوجود مئی 1998میں واجپائی نے پانچ زیر زمین ایٹمی دھماکے کئے تو خطے کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ، بھارت میں اپنی پذیرائی دیکھ کر ایک بار تو واجپائی سفارتی ا ٓداب تک بھول گئے تھے ، جب پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے بطور وزیر اعظم6 ایٹمی دھماکے کئے تو یہی واجپائی دوستی بس پر بیٹھ کر پاکستان آنے پر مجبور ہوئے ، بھارت کے ساتھ پوری تاریخ میں اتنی بڑی سفارتی کامیابی پاکستان کو پہلے اور نہ ہی بعد میں کبھی نصیب ہوئی ، تب سابق آرمی چیف پرویز مشرف اور انکے ساتھی جرنیلوں کو بہت برالگا تھا ، پاکستان کی خارجہ پالیسی وزیر اعظم کے ہاتھ میں نہیں ہوتی ، نوازشریف کو اسکا درست اندازہ نہیں تھا ،، بھارت کے ساتھ مسائل اور تنازعات کے حل کے لئے پاکستان آنے والی دوستی بس کو جنرل مشرف نے کارگل جنگ چھیڑ کر پنکچر کر دیا، مذاکرات کی بات پھر آئی گئی ہو گئی ، مشرف اور انکے حواری مارشل لاء کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تو پھر مذاکرات یاد آگئے ،بالکل ایسے ہی جیسے آج جنگجو عمران خان کو اقتدار میں آکر بھارت کے ساتھ مذاکرات سوجھ گئے ہیں ، مشرف نے اپنے دور میں واجپائی کی نشست پر جا کر سلیوٹ تک کیا مگر انکی دال نہ گل سکی ،واجپائی کی زندگی کا مشکل ترین دور اس وقت آیا جب فروری 2002میں گجرات میں ہندؤں کی ایک ٹرین جلائے جانے کا واقعہ فسادات کا باعث بن گیا ، اس واقعہ میں 59لوگوں کی جان گئی تھی ، واقعہ کاالزام مسلمانوں کے سر آگیا،گجرات کے حکمران آج کے وزیر اعظم نریندر مودی تھے جو فسادات کو قابو کرنے میں مکمل ناکام رہے ، اس دوران ہندوؤں نے ہزاروں مسلمان مردو خواتین کو انکے گھروں میں زندہ جلا دیا ، مساجد مسمار کردی گئیں ،یہ فسادات دو ماہ تک جاری رہے ، واجپائی بعدازاں گجرات گئے اور متاثرہ خاندانوں کے لئے امداد وغیرہ کا اعلان کیا ، حساس طبیعت کے انسان شاعر وزیر اعظم واجپائی نے ایک تقریر میں کہا کہ مسلمان آخر جائیں تو کہاں جائیں ، انکے الفاظ ہندو انتہا پسندوں کو سخت ناگوار گزرے ، بہرحال مسلمانوں کے مطالبے کے باوجودانہوں نے نریندر مودی کو وزارت اعلیٰ سے الگ نہ کیا ، بعد ازاں بھارتیہ جنتا پارٹی 2004کا انتخاب ہار گئی تو واجپائی نے تسلیم کیا کہ نریندر مودی کو نہ ہٹانا ہماری غلطی تھی ۔بھارت میں جب بھی ہندو مسلم فسادات ہوتے ہیں،یا کشمیر میں کوئی نوجوان آزادی کے دیے کو اپنے خون سے روشن کرتا ہے ، دوقومی نظریئے کی سچائی اور حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ، حضرت مجدد الف ثانی ؒ ، ڈاکٹر محمد اقبال ؒ ، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور انکے ساتھیوں نے مسلمانوں کے لئے جس الگ وطن کی ضرورت محسوس کی تھی وہ ہزارفی صد جائز اور اصولوں پر مبنی تھی ۔واجپائی خطے میں امن کا ایک موقع لے کر پاکستان آئے تھے ، اس لئے بطور امن پسند پاکستانی امن کے لئے اٹھنے والے انکے ایک ایک قدم کی میرے دل میں بڑی قدر ہے واجپائی کی نظمیں اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ ایک روایتی بھارتی سیاستدان نہیں تھے ،وہ واقعی امن چاہتے تھے جنگ نہیں ،انہوں نے ایک بھارتی و زیر اعظم کے طور پرمینار پاکستان آکر پہلی بار پاکستان کو تسلیم کیا تھا ،انکی آخری رسومات میں انہیں انکے شایان شان طریقے سے رخصت کیا گیا ہے ، ادھرپاکستان میں ایٹمی پروگرام کے بانی کا عدالتی قتل کر دیاگیا، امن کی بات کرنے والا 3بار کا وزیر اعظم نواز شریف خاندان سمیت جلاوطن ہوا،اب بیٹی اور داماد کے ساتھ جیل کاٹ رہاہے ، گاہے بگاہے ان کے بارے میں غداری کاالزام بھی سر اٹھاتارہتا ہے جبکہ بھارت میں جمہوریت مضبوط ہونے سے ادارے بھی مسلسل مضبوط ہور ہے ہیں ،وہاں جمہوریت کے سر پر کوئی تلوار نہیں لٹک نہیں رہی ،دشمن ملک سے اچھی باتیں سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے ، یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیادونوں ممالک دشمنی ختم کر کے اچھے ہمسایوں کی طرح نہیں رہ سکتے ،یقینا رہ سکتے ہیں ، کشمیر بھی آزاد ہو سکتا ہے ، دوستی بس بھی چل سکتی ہے ، شرط یہ ہے کہ دونوں جانب عوامی نمائندہ حکومتیں قائم ہوں اور فیصلے عوام کے منتخب نمائندے کریں ، دوقومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے لیکن یہ جنگ وجدل کانام نہیں ، دو قومیں الگ الگ تہذیب و تمدن مذہبی وسیاسی آزادی کے ساتھ اپنے اپنے ملک میں امن کے ساتھ رہیں ، اس سے اچھی بات کوئی ہونہیں سکتی ، ایک دوسرے کو ٹکڑوں میں بٹا دیکھنے کی بچگانہ خواہش نے 70سال ضائع کئے ہیں ،دونوں ملکوں کو ہتھیاروں ، جنگی سازوں سامان،میزائلوں اور ٹینک خرید سے فرصت ملے تو اپنے لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کر نے کا سوچ سکیں گے ، دونوں ملکوں کے فسادیوں کے تسلط سے نکل کر سوچنا ہو گا،عمران خان نے آتے ہی تجارت کی بات کی ہے ، یہی بات نواز شریف کرتے تو غدار کہلاتے تھے ،دیگر ممالک سے مہنگی اشیا ء خریدنے کی بجائے دونوں ہمسائے ایک دوسرے سے فائدہ لیں تو کتنا اچھا ہے ،ء سلگتا جلتا ہندوستان مہاتما گاندھی اور دہشت گردی کاشکا رپاکستان قائد اعظمؒ کا خواب نہیں ہو سکتا، دونوں جانب کے جنگجو ٹھنڈے دل سے سوچیں ،کشمیر سمیت تمام مسائل حل کریں اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Farooq Sagar

Read More Articles by Faisal Farooq Sagar: 75 Articles with 27694 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2018 Views: 324

Comments

آپ کی رائے