وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

وزیر اعظم عمران خان یا ان کے رفقاء کو شاید اس بات کا اندازہ ہو گا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ سیشن کی کیا اہمیت ہے۔ اس کے عالمی اور علاقائی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہاں کس طرح عالمی اتحاد قائم ہوتے ہیں۔ کس طرح ممالک کی تجارت اور تعلقات فروغ پاتے ہیں۔ جنرل اسمبلی میں سربراہ مملکت یا حکومت کے خطاب کی زبردست اہمیت ہوتی ہے۔ انہیں پہلے خطاب کا موقع دیا جاتا ہے۔ ان کی بات غور اور توجہ سے سنی جاتی ہے۔ اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اسے نوٹ کیا جاتا ہے۔ عالمی میڈیا اس کی براہ راست کوریج کرتا ہے۔ یہ زبردست اور نادر موقع ہوتا ہے کہ جب اس عالمی فورم پر کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم اپنی خارجہ پالیسی پیش کرتا ہے۔ دنیا سے تعاون اور دوستی کا اعلان کرتا ہے۔ دنیا میں قیام امن کے لئے اپنی خدمات کا تذکرہ کرتا ہے۔ مگر کسی ملک کا وزیر خارجہ یاکوئی نامزد نمائیندہ اس فورم پر خطاب کرتا ہے تو اس کی گفتگو کو اس طرح پذیرائی نہیں ملتی جس طرح کہ سربراہ مملکت یا حکومت کو حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں چند دنوں سے یہ بحث چل رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے جائیں یا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ہی گزارہ کر لیا جائے۔ اس بحث کی ضرورت ہی نہیں۔ کیوں کہ عمران خان ہی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا چاہیئے۔ شاید غالب اکثریت کی یہی رائے ہو گی۔ مگر ہر کوئی ذی شعور یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس میں کوئی سیاست نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اگر ملک و قوم کا مفاد مقدم جانتے ہیں اور یہی ان کی ترجیحات ہے تو وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ اس کے لئے ان کے پاس بہت وقت ہے۔ یہ اجلاس 18ستمبر کو نیو یارک میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہو گا کہ نئے پاکستان کا نعرے بلند کرنے والے عمران خان کا دنیا سے بھی پہلا براہ راست رابطہ ہو گا۔ ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کے سربراہاں ملکت یا حکومت اس اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی درست سمجھے تو وہ دنیا سے تعلقات کے فروغ اور پاکستان کی اہمیت اجاگر کرنے کا یہ موقع کبھی ضائع نہ کرے گی۔ اگر پی ٹی آئی میں آمریت نہیں ہے تو اس پر وسیع مشاورت ہو گی۔ سب کی رائے سنی جائے گی ۔ جو لوگ پارلیمنٹ کی بالادستی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بھی بحث کرا سکتے ہیں۔ تا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ رائے سے عمران خان دنیا کے سامنے قوم کا کیس پیش کریں۔ نئی ابتداء کا اعلان کریں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے زبردست کردار کو دنیا کے سامنے رکھیں۔ ملک و قوم کے لئے لابنگ اس فورم سے بہتر کس فورم پر ہو سکتی ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ یہ ذمہ دار ملک ہے۔ اس کی آزاد خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان دنیا سے اور خاص طور پر اپنے پڑوسیوں سے دوستی چاہتا ہے۔ پاکستان سارک کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تا کہ یہ علاقائی اتحاد یورپین یونین جیسا بن سکے۔ سارک ممالک کے تنازعات بات چیت سے حل کئے جائیں۔ نفرتیں ختم ہوں۔ پاکستان اور بھارت بھی ماضی سے نکلیں۔ کشمیر سمیت تمام تنازعات عوام کے مفاد میں حل کریں۔ پانی کا مسلہ حل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کوئی تباہ کن جنگ منتظر ہے کہ جس کا ایندھن معصوم عوام بنیں گے۔ حکمرانوں کی سیاست اور بصیرت کا یہی امتحان ہے۔

وزیراعظم عمران خان ملک و قوم کا مفاد سمجھتے ہیں۔ یہ وقت دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کرنے کا ہے۔ پاکستان کا روشن چہرہ سامنے لایا جاسکتا ہے۔ افغانستان، بنگلہ دیش، ایران، نیپال، سری لنکا، عرب دنیا کے حکمرانوں نے ملاقاتیں کرنے اور دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا یہ موقع ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستان کی سفارتکاری کس قدر چوکنا اور سنجیدہ ہے۔ اس میں کیسی اہلیت ہے کہ وہ نیو یارک میں عمران خان کی ملاقاتوں کا اہتمام کریں۔ ملیحہ لودھی تعلیم یافتہ اور مخلص سفارتکار سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ان کا امتحان ہے۔ مگر عمران خان کا دورہ بہت ضروری ہے۔ اس کے لئے اگر کفایت شعاری، یا بچت کا بہانہ بنایا جائے تو بات کچھ اور ہو گا۔ عمران خان کا نیویارک نہ جانا ملک و قوم کے مفاد میں نہ ہو گا۔ بلکہ اس مفاد کو نقصان پہنچے گا۔ دنیا سمجھے گی کہ وہ اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ سمندر پار پاکستانی بھی مایوس ہوں گے۔ ان کے احباب اور عزیو اقارب بھی ان کے انتظار میں ہوں گے۔ یہ دورہ انہیں دنیا اور فیملی خاص طور پر بچوں سے ملاقات کا بھی موقع فراہم کرے گا۔ اگر عمران خان دورہ نہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیں تو بات صاف ہے کہ انہیں پاکستان سے زیادہ اپنی زات سے پیار ہے۔ کیوں کہ ان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے یہ خطاب کافی اہم ہے۔ دنیا بھی اس کا انتظار کر رہی ہو گی۔ دنیا نئے پاکستان کے بارے عمران خان کے وژن کو دیکھنا چاہے گی۔ ایک سال بعد یہ موقع میسر آئے گا۔ تب تک عمران خان کی گڈ یا بیڈگورننس کی پرکھ ہو چکی ہو گی۔ آج پاکستان بدلنے اور تبدیلی کا عزم ہے۔ اس لئے دنیا اسے دیکھے گی۔ توجہ سے سنے گی۔ بات موثر ہوئی تو اثرانداز ہو گی۔ نئے تعلقات بن سکتے ہیں۔ عمران خان امریکی میڈیا ہاؤسز کے ادارتی بورڈز سے بھی ملیں گے۔ اس طرح ان کا موقف واضح طور پر دنیا کے سامنے آئے گا۔ وہ تھینک ٹینک اداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان یہ خطاب ملک کے لئے بہت اہم ہیں۔ اگر عمران خان صاحب اپنے بچوں اور دوستوں سے فی الحال ملاقات سے گریز کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی مگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ان کا خطاب اور اس میں پاکستان کے خلاف چند قوتوں کا دہشتگردی کا گٹھ جوڑ کو بے نقاب کریں گے۔ مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے دنیا سے تعاون طلب کریں گے۔ پاکستان کی معیشت کے فروغ کی بات کریں گے۔ دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے۔ان کی یقین دہانی اہمیت کی حامل ہو گی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی جو اہمیت عمران خان کی ہو گی وہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب خانہ پری کے مترادف ہو گا۔ 150سے زیادہ ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کے درمیان کسی وزیرخارجہ کو دنیا کیسے سنجیدگی سے لے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے پر گرمجوشی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ جب کہ 6ہزار سے زائد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار دنیا میں امن کے لئے یو این مشن کے تحت کانگو، ہیٹی، مالی، صومالیہ، سوڈان سمیت دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں اور اس نے بہت قربانیاں بھی دی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 230650 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
02 Sep, 2018 Views: 371

Comments

آپ کی رائے