پیکر وفا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: رقیہ فاروقی
حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ عمر کی تین دہائیاں گزار چکے تھے، جب مکہ مکرمہ میں حق کی صدا بلند ہوئی۔ اہل مکہ کے لیے یہ آواز بڑی نامانوس تھی۔ شر پسند لوگ اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے جب کہ شرفاء بھی حیران و پریشان خاموش کسی انجام کے منتظر تھے۔ازلی سعادت مند حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ تو سب سے پہلے اس آواز پر لبیک کہہ چکے تھے اور ہر سنجیدہ شخص تک اس پیغام کو پہنچانے کے لیے بھی دن رات کو شش کر رہے تھے۔

ایک دن حضرت عثمان کی قسمت جاگ اٹھی۔ جب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ اپنے پارسا دوست سے ملاقات کے لیے آئے اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ تو شاید پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ کہا اْٹھو! مجھے دربار نبوّت میں لے چلو اور اپنے آقا کی غلامی میں شامل کردو۔ ابھی ارادے چل رہے تھے، نکلنے کی تیاری ہو رہی تھی کہ کائنات کے سردارﷺ خود تشریف لے آئے۔

ارشاد فرمایا، عثمان! اﷲ کی جنت کو قبول کرلو، میں تمہاری اور مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔اﷲ پاک نے زبان مبارک میں بڑی تاثیر رکھی تھی، پتھر موم ہو جاتے تھے۔ یہ تو عثمان کا دل تھا پانی سے زیادہ رقیق اور ریشم سے زیادہ نرم۔یہ دور اسلام کے لیے کٹھن دور تھا، آزمائش سے بھرا ہوا۔ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا، قبول اسلام کے ساتھ ہی حضرت عثمان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے لیکن وہاں ایمان تو جذر قلوب میں اترا کرتا تھا پائے ثبات میں لغزش کہاں آسکتی تھی؟نگاہ نبوت میں ایسے مستند قرار پائے کہ اپنی لخت جگر کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔

پھر جورو ستم اس حد تک بڑھا کہ مکہ کو چھوڑ کر حضرت رقیہ رضی اﷲ عنہاکو ساتھ لے کر حبشہ چلے گئے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ افواہ پھیلی کہ مکہ کے حالات سازگار ہو چکے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ مکہ واپس آگئے لیکن ابھی کہاں؟ عشق کے ابھی اور بہت امتحان باقی تھے۔پھر مدینہ کی طرف ہجرت میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔ ابتداء میں مدینہ طیبہ میں مہاجرین کو پانی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ پوری بستی میں میٹھے پانی کا ایک کنواں تھا۔ جو ایک متعصب یہودی کے قبضے میں تھا۔ وہ پانی کے بدلے میں مسلمانوں سے منہ مانگی رقم وصول کرتا تھا۔ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو جب حالات کا علم ہوا تو بارہ ہزار درہم میں’’بئررومہ‘‘ کا آدھا حصہ مسلمانوں کے لیے خرید کر وقف کر دیا۔

جب مسلمانوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد نبوی میں جگہ تنگ ہونے لگی تو حضرت عثمان نے اپنے ذاتی مال سے جگہ خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دی تھی۔ غزوہ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کے پاس اسباب کی کمی ہوئی تو تہائی لشکر کی تیاری اپنے ذمہ لے لی تھی۔ حضور پاک ﷺان کی فیاضی پر اس قدر خوش ہوئے کہ اشرفیوں کو دست مبارک سے اچھالتے اور فرماتے تھے۔ آج کے بعد عثمان کا کوئی کام اس کو نقصان نہیں پہنچا ئے گا۔سخاوت اس قدر تھی کہ نام کے ساتھ غنی کا لقب پڑ گیا۔ مالداری کی کثرت جودوسخا کا سیلاب بن جاتی۔ شب وروز رفاہ عامہ پر مال کو خرچ کرنا ایک ضروری امر تھا۔

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کو دو مرتبہ شرف دامادی حاصل ہوا تھا اور آپ ﷺ کے آپ پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ارشاد فرمایا،اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں میں دے دیتا۔ دیگر خصائل کے ساتھ ساتھ حیائے عثمان تو ضرب المثل بن چکی ہے، کبھی خلوت بھی برہنگی اختیار نہیں فرمائی۔حدتو یہ کہ آپﷺ بھی حضرت عثمان رغی اﷲ عنہ کی حیا کا لحاظ کیا کرتے تھے۔ ایک مجلس میں حضرت عثمان کی آمد پر پنڈلی پر کپڑا درست فرمایا۔ صحابہ نے پوچھا تو ارشاد ہوا کہ جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں، اس سے میں کیوں نہ حیا کروں۔

حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرتے ہوئے نبوت نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دیا۔ پھر اس ہاتھ کو اﷲ پاک نے جمع قرآن کا اعزاز بخشا تھا۔ خلافت کا سندیسہ بھی خود زبان نبوت سے ملا تھا۔ابتدائے خلافت تو بہت شاندار تھی۔ گیارہ سال کا عرصہ سکون اور عافیت سے گزر گیا۔ پھر ایسے فتنے پھوٹے کہ جن کی غلطیوں کا خمیازہ رہتی دنیا تک بھگتنا پڑے گا۔حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے صبر وتحمل کو دیکھ کر باغی اپنی سازشوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر جب ذی الحجہ کا مہینہ آیا۔ سوائے چند صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے مدینہ کی گلیاں خالی دکھنے لگیں۔

ایک دن اچانک نعروں کی گونج سنائی دی۔ صحابہ پریشان ہو کر گھروں سے باہر نکلے، عجب صورتحال تھی۔ باغی امیر المومنین کے گھر کا محاصرہ کر چکے تھے۔ جس پانی کو حضرت عثمان نے مدینہ والوں کو ہدیہ کیا تھا، وہی پانی آپ پر بند کر دیا گیا۔ جب حاجیوں کی واپسی کے دن قریب آنے لگے تو جمعہ کے دن محاصرہ تنگ کر دیا۔ حضرت عثمان کو شہادت کی بشارت مل گئی۔تیاری میں بیس غلام آزاد فرمائے، پھر اپنا پاجامہ زیب تن فرمایا اور تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہو گئے۔ ایسے وقت میں ہماشما کو کس بات کا ہوش باقی رہ سکتا ہے۔ جب اوسان خطا کر دینے والا فتنہ دروازے پر موجود ہو لیکن وہ ہستیاں تو فقید المثال تھیں۔ کیا لذت ہو گی اس تلاوت میں، جب تلاوت کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ زندگی کی آخری تلاوت ہے، پھر بدبختوں نے زندگی کی ڈور کو کاٹ دیا۔ سر ایک طرف لڑھک گیا، زبان پر ایک ہی کلمہ جاری تھا۔ توکلمت علی اﷲقرآن کہ جس آیت پر خون کا قطرہ گرا۔ اس کا بامحاورہ ترجمہ علماء نے لکھا ہے کہ ’’اﷲ پاک ان سے خود نمٹ لے گا‘‘ یعنی حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے دشمنوں سے قیامت تک اﷲ خود نمٹ لے گا۔ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ان مبارک ہستیوں کے ایام شہادت پر ان کے مناقب کے تذکرے عام کیے جائیں تاکہ آنے والے نسلیں ان کو اپنا آئیڈیل بنا کر مخلوق خدا میں خیر کو عام کر سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 498979 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2018 Views: 224

Comments

آپ کی رائے