حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے فضائل ومناقب

(Muhammad Riaz Aleemi, Karachi)

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ عام الفیل کے چھٹے سال مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی کنیت ابو عمر تھی لیکن آپ کے صاحبزادے عبد اﷲ کی ولا دت کے بعد ابو عبداﷲ رکھی گئی۔ پانچویں پشت میں آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلۂ نسب رسول اﷲ ﷺ کے شجرۂ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ ابتدائے اسلام میں ایمان لانے والوں میں سے ہیں اسی لیے سابقون الاولون میں آپ کو شمار کیا جاتا ہے۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خاندان بنو امیہ تھا جو اسلام اور مسلمانوں کا نہایت سخت دشمن تھا۔ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کے چچا حکم بن ابی العاص اسلام کے بڑے دشمنوں میں سے تھے۔ جب حضرت عثمان نے اسلام قبول کیا تو آپ کے چچا کو بہت غصہ آیا اور آپ کو پکڑ کر ایک رسی سے باندھ دیا اور کہا کہ تم نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر ایک دوسرا نیا مذہب اختیار کرلیا ہے، جب تک کہ تم اس نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے ، اسی طرح باندھ کر رکھیں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: رب ذوالجلال کی قسم ! مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑسکتا ، میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردو لیکن میرے دل سے دینِ اسلام نہیں نکل سکتا ۔ حکم بن ابی العاص نے آپ رضی اﷲ عنہ کی استقامت سے مجبور ہوکر آپ کو رہا کردیا ۔ (خلفائے راشدین)

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اعلیٰ صفات کے حامل اور کامل الحیاء والایمان تھے۔ آپ کے اخلاق عالیہ رسول اﷲ ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے باطن کو حضور نبی اکرم ﷺ کے سانچے میں ڈھالا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ آپ کا ظاہر یعنی شکل و صورت بھی آقا ﷺ کے مشابہت رکھتی تھی۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے حضر ت عثمان رضی اﷲ عنہ اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ (ابن عساکر) رسول اﷲ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ سے اپنی صاحبزا دی حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا کا نکاح کرنے بعد اپنی صاحبزادی سے فرمایا: تمہارے شوہر عثمانِ غنی تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے باپ محمد ﷺ سے شکل وصورت میں بہت مشابہ ہیں۔ (کنزالعمال)

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا لقب ذوالنورین ہے۔ یہ وہ فضیلت ہے جو آپ کے سواکسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ امام بیہقی روایت کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں، اسی لیے آپ رضی اﷲ عنہ کو ذوالنورین کہتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

رسول اﷲ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا نکاح پہلے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اﷲ عنہا سے کیا۔ حضرت رقیہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کے بعد رسول اﷲ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا آپ کے نکاح میں دے دی۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی عظمت و فضیلت کا عالم یہ ہے کہ حضرت ام کلثوم رضی اﷲ عنہا کے انتقال کے بعد رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بخدا میری اگر کوئی اور بیٹی ہوتی تو اس کو بھی عثمان کے عقد میں دے دیتا۔ ( طبرانی) امام جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲ لکھتے ہیں: حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا: اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو یکے بعد دیگرے میں تمہارا نکاح ان سب سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی باقی نہیں رہتی۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے فضائل و کمالات بے شمار ہیں ۔ آقائے دو جہاں ﷺ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دو مرتبہ جنت کی بشارت سنائی۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے دو مرتبہ جنت خریدی ۔ ایک مرتبہ بئر رومہ خرید کر اور دوسری مرتبہ لشکر عسرہ میں جنگی سازو سامان دے کر (حاکم)۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سچے اور ایماندار تاجر ہونے کی بدولت نہایت دولت مند تھے۔ آپ کی دولت سے اسلام اور مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا ۔ ہجرت مدینہ کے بعد میٹھے پانی کی قلت تھی۔ اس وقت میٹھے پانی کا صرف ایک ہی کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا ، اس یہودی نے کنویں کو ذریعۂ معاش بنایا ہوا تھا۔ غریب مسلمانوں کو پانی کی سخت تکلیف تھی ۔ اس تکلیف کا احساس کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اس کنویں کو آٹھ ہزار میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔ اسی طرح جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جیش عسرہ کی تیاری کے موقع پر ایک ہزار دینار لے رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اﷲ ﷺ نے اس موقع پر دو مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایاکہ آج کے بعد عثمان کو ان کا کوئی عمل نقصا ن نہیں پہنچائے گا۔ (ترمذی)

ایک مرتبہ جب رسول اﷲ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایاتو ا س وقت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے رسول اﷲ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ جب سب لوگ بیعت کرچکے تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایاکہ عثمان اﷲ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں۔ پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ ( ترمذی) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں: رسول اﷲ ﷺ نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ قرار دیا ۔ یہ وہ فضیلت ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ خاص ہے۔ ( اشعۃ اللمعات)آپ نے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ حبشہ اور مدینہ دونوں جانب ہجرت کی تھی۔ غزوۂ بدر کے لیے جب صحابۂ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین تیاری کررہے تھے تو اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی زوجہ کی طبیعت ناساز تھی اس لیے رسول اﷲ ﷺ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مدینۃ المنورہ میں ہی رہنے کا حکم ارشاد فرمایاتھا۔ غزوۂ بدر میں آپ رضی اﷲ عنہ کی عدم شمولیت کے باوجود رسول اﷲ ﷺ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو بدری صحابہ میں شمار کیا اور بدر کے مالِ غنیمت سے حصہ عطا فرمایا۔

آپ رضی اﷲ عنہ کو سیا سی فہم و بصیرت ، ذکاوت ، عقلمندانہ فیصلو ں اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت مسلمانوں کا تیسرا خلیفہ مقرر کیا گیا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد سب سے پہلے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ سے بیعت کی پھر تمام مہاجرین و انصار نے ان سے بیعت کی ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے زمانۂ خلافت میں بھی اسلامی فتوحات کا دائرہ برابر وسیع ہوتا رہا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے پہلے ہی سال شہر ’’رے‘‘ فتح ہوا جو آج کل ایران کا دارالسلطنت ہے۔ (تاریخ الخلفاء) آپ رضی اﷲ عنہ کے دور میں ہی پہلی مرتبہ بحری جہازوں کے ذریعے قبرص پر حملہ کیا گیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں افریقہ ، اسپین، خراسان ، نیشا پورفتح ہوئے اور اسی طرح ملک ایران کے دیگرشہر طوس، سرخس، مرد اوربیہق بھی صلح سے فتح ہوئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن کریم کی لغت یعنی قرآن کے پڑھنے کے انداز پر اختلاف شروع ہوا جو مسلمانوں میں انتشار کا باعث بنتا جارہا تھا ۔ آپ نے اس معاملہ کی حساسیت اور اہمیت اور اس کے سنگین نتائج کو جانتے ہوئے اعلیٰ بصیرت و ذکاوت سے اس معاملہ کی عقدہ کُشائی کی کہ آپ نے تمام قوموں کو لغت قریش پرجمع کردیا اور دیگر اسلامی ممالک میں اس کی نقول بھجوادیں تاکہ آئندہ قرآن کریم کو صرف لغت قریش میں پڑھا جاسکے۔ اسی اقدام کی بدولت آپ جامع القرآن کے لقب سے بھی مشہور ہوئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا دورِ خلافت تقریباً بارہ سال رہا۔ شروع کے سالوں میں آپ کے خلاف کوئی بغاوت نہیں ہوئی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ۔ حاسدین کا پیمانۂ حسد بڑھنے لگا تو آپ کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی یہاں تک کہ بلوائیوں نے آپ کو شہید کرنے کا ارادہ کرلیا۔ بالآخر ایک دن آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گھر میں تلاوتِ قرآن سے اپنے قلب کو منور فرمارہے تھے کہ اسی اثناء میں چند بلوائیوں نے انتہائی سخت نگرانی کے باوجود آپ کے گھر میں گھس کر آپ کو انتہائی بے دردی سے شہید کردیا۔ (انا ﷲ وانا الیہ راجعون)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz Aleemi

Read More Articles by Muhammad Riaz Aleemi: 75 Articles with 33799 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2018 Views: 559

Comments

آپ کی رائے