غازی سپاہی مقبول حسین جُرات اور بہادری کی عظیم داستان (ستارہ جُرات)

(Tahir Durrani, )

پاک فوج کے اس عظیم سپوت کو سلام۔قوم آپ کی بہادری اور جرات سلام عقیدت پیش کرتی ہے
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے توبے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
مسلمان کو اﷲ کریم نے یہ رتبہ عطا کیا کہ اگر وہ اسلام اور ملک و قوم کی عزت و نامو س کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دے تو اسے شہید کا رتبہ ملتا ہے اور قرآن پاک نے اس کی وضاحت بھی فرما دی کہ ’’ جو اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ گمان بھی مت کرنا بلکہ وہ زندہ ہیں جن کا تم شعور نہیں رکھتے ‘‘ اور جو بچ جائے اسے ’’غازی ‘‘ کا رتبہ ملتا ہے ۔پاکستان کی تاریخ شہیدوں اور غازیوں سے بھری پڑی ہے دشمن اپنی مکاری اور طرح طرح کے حربوں سے نقصان پہنچانے میں لگا ہوا ہے لیکن پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور ا سے اسلام کا قلعہ ہونے کا بھی شرف حاصل ہے ۔اس میں بسنے والی قوم غیور جس کے حوصلے بلند اور ارادے پختہ ہیں وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیناجانتے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو پاک فوج کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں اور طرح طرح کی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔لیکن اُن کو شائد معلوم نہیں آ ج ہم جو آزاد ہیں امن اور سکون کی فضا میں سانس لے رہے ہیں یہ سب پاک فوج کے عظیم سپوتوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔پاک فوج کی دفاعی صلاحیتوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔اس ملک کو ایٹمی طاقت ہونے کا بھی شرف حاصل ہے،اسے مدینہ ثانی بھی کہتے ہیں۔کلمہ طیبہ کا ورد اس کے زرہ زرہ میں چمک دمک رہا ہے پھر کون سی طاقت ہے جو اس ملک کی ترقی اور مقاصد حصول میں روکاوٹ بن سکے ؟

یہ ملک غازیوں ، شہیدوں اور بہادروں کا ملک ہے’’ جب بھی دشمن نے للکارہ تو خون کھول اٹھا ہمارہ ‘‘ تو کیسے ممکن ہے کو ئی اس مملکت خداداد کو زیر کر سکے۔ اس کے بہادر سپوتوں نے دشمن کی قید بھی کاٹی تو اپنے ملک کے نام ، عزت اور شان پر حرف نہ آنے دیا ۔آج ہم ایک ایسے بہادر انسان کے بارے بات کرنے جار ہے ہیں جو دشمن کی قید میں اپنی جوانی میں گیا اور بڑھاپے میں لوٹا یعنی اپنی زندگی کے حسین لمحات کو دشمن کی قید میں گذار دیا لیکن زبان سے ’’پاکستان زندہ باد کا نعرہ بلند کرنے سے کوئی طاقت نہ روسک سکی۔ زبان کٹوا کر بھی دل میں صرف اور صرف پاک فوج اور پاکستانی کی محبت کو کوئی نہ نکال سکا۔ جب ایسے بہادر سپوت اس ملک کی حفاظت میں مامور ہوں تو کیسے اس ملک کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بھارت پاکستان کی سرزمین کواٹوٹ انگ بھارت کے نام سے چھیننا چاہتا ہے تو کبھی اپنے آباؤ اجداد کی وراثت سمجھ کرحاصل کرنا چاہتا ہے،کبھی پاکستان کو ایک غلام قوم سمجھ کر غلام بنانے کو خواب دیکھتا ہے کبھی مسلمانوں کو غاصب اور لٹیرے کبھی دہشتگرد گردانتا ہے اور اس کو ناکام ریاست کا نام دے کر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ 1965ء میں انہیں اغرا ض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے 6 ستمبر کی رات بغیر بتائے بذدلوں کی طرح رات کی اندھیرے میں حملہ کر دیتا ہے جس کا جواب پاک فوج نے ایسا دیا کہ صدیوں یا د رکھے گا۔ستمبر 1965ء کی جنگ سے تقریباََ ایک ماہ پہلے اگست کے مہینہ میں سرحدوں پر کشدگی بڑھ چکی تھی اور پاک فوج کے سپوت اور سرحدوں کے رکھوالے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے چاک و چوبند سینہ تانے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے ، اس جنگ میں ایک بہادر سپاہی جس کا نام مقبول حسین تھا وہ بھی بہادری سے اپنی فرض کی ادائیگی میں سینہ سپر کھڑا ہو گیا۔کشمیر رجمنٹ کا یہ سپاہی مقبول حسین دشمن کی ایک گولی لگنے سے زخمی ہو کر گر پڑا اور بھارتی فوج کی قید میں چلا گیا۔مگر جینوا کنونشن کے بالکل برعکس ان کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا گیا ۔ ظلم اور بربریت کی ایسی داستان لکھی کہ انسانیت بھی شرما جائے ،جنگی قیدیوں کے ہر قسم کے حقوق سے محروم اس سپاہی پر ظم و ستم کی انتہا کر دی ۔17دن کے بعد جنگ ختم ہو گئی لیکن اس فوجی سپاہی کا کوئی اتاپتا نہ لگ سکا کہ یہ کہاں ہیں ۔ گھر والے انتظار کی سولی پر لٹکے رہے ۔بوڑی ماں کی آنکھوں میں ہر وقت بیٹے کا انتظار جھلکتا نظر آتا ۔ کشمیر رجمنٹ میں ان کا نام لاپتہ سپاہیوں کی لسٹ میں ڈال دیا گیا۔1971ء کی جنگ کے بعد بھی ایک معاہدے کے تحت قیدی فوجی گھر وں کو لوٹتے ہیں لیکن غازی ، بہادر سپاہی مقبول حسین اس بار بھی گھر واپس نہیں لوٹتے ۔بوڑھی ماں کا خواب تھا کہ وہ اپنے لخت جگر کی شادی دھوم دھام سے کرے گی جس کا وعدہ خود مقبول حسین محاز پر جانے سے پہلے کر کے جاتے ہیں ماں واپس آوں گا تو سہرا ضرور باندھوں گا۔ لیکن فی الحال وطن کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا زیادہ ضروری ہے۔اُن کی منگیتر بھی اسی انتظار میں رہتیں کہ اُن کا دلہا جلد کامیاب واپس لوٹے گا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر فخر کرتیں کہ اُن کا شریک حیات وطن کی حفاظت کرنے گیا ہوا ہے ۔ مقبول حسین تو اپنے ملک کی حفاظت کے لیے چھٹی لے کر چلا گیا لیکن ان پیار کرنے والے رشتوں کو ایک لمبے انتظارمیں رات دن جاگنے کو دے گیا۔وہ ایسا گیا کہ جب لوٹا تو سوائے قبروں اور حسین یادوں کے اس کے گاؤں میں اور کچھ باقی نہ تھا اُس کی بوڑھی آنکھوں میں آنسو ؤں کے سوا کچھ نہ تھا۔ چالیس سال تک دشمن کی قید میں رہنے والا یہ سپاہی جب لوٹا تو اس کی آنکھیں اپنی ماں اور منگیتر کو ڈھونڈ رہی تھیں 2005ء میں بھارتی قید سے رہائی پائی ، 68سالہ یہ بوڑھا مقبول حسین40سال کے طویل عرصے بعد ان قبروں پر لگے قطبے دیکھ رہا تھاجن قطبوں پر اِن کے پیاروں کے صرف نام لکھے ہوئے تھے اتنی تکالیف سہنے کے بعد سپاہی مقبول حسین اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے تھے لیکن جب ان کے ہاتھ میں کاغذ اور قلم دیا جاتا تو وہ کچھ ہندسے لکھتے 334941 تحقیق سے پتہ چلا یہ اُن کا آرمی نمبر تھا جو آج بھی اُن کو یاد تھا۔کہتے ہیں ان کی ماں کی جب وفات ہوئی تو انہوں نے ایک وصیت کی ’’ کہ میری قبر گاؤں کے داخلی راستے والے قبرستان میں بنانا تا کہ جب میرا بیٹا لوٹے تو میں اسے پہلے ملوں‘‘

سپاہی مقبول حسین جب دشمن کی قید میں تھے تو ’’ پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کرتے تھے جس پر دشمن کو غصہ آجاتا اور وہ ان کے ساتھ ظلم اور تشدد کی انتہا کر دیتے لیکن ان کا جذبہ حب الوطنی دیدنی تھا وہ بالکل نہ گھبراتے بلکہ نعرہ بلند رکھتے اپنی ناکامی پر ایک مرتبہ دشمن نے بزدلی اور سفاکانہ حرکت کرتے ہوئے پلاس سے ان کی زبان دبا دی او ر یوں وہ بولنے سے قاصر ہو گئے۔ دشمن اپنی چالیں چلتا رہالیکن اِن کے جذبہ حب الوطنی کو ختم نہ کر سکے ۔سپاہی مقبول حسین حب الوطنی ، سرفروشی اور جانبازی کی ایک عظیم داستان رقم کر گئے۔ کچھ عرصہ سے بیمار تھے اور سی ایم ایچ اٹک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ آج وہ ہم میں مو جود نہیں آج وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اﷲ کریم آپ کے درجات بلند فرمائے آپ کی قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آپ کی قربانیوں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔آ پ ہر محب وطن پاکستانی کے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔آج مورخہ 29 اگست 2018ء کو ان کا نماز جنازہ اور تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔سپاہی مقبول حسین ایک گمنام سپاہی تھا جو دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتا رہا مصیبتوں کو برداشت کیا ۔ پاکستان کا کوئی راز دشمن پر افشاں نہ ہونے دیا۔چالیس سال تک دشمن کی قید میں رہا، زبان کٹوانے کے باوجود وطن عزیز کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہ نکالا۔ہم سلام پیش کرتے ہیں ایسے بہادر سپاہی کو جس نے اپنی عمر کے خوبصورت پل دشمن کی قید میں گذار دیے ۔ہم سلام پیش کرتے ہیں پاک فوج کو جس نے اِ ن کی عظیم خدمات اور بہادری پر ان کو ستارہ جُرت سے نوازا۔پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 53 Articles with 27157 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More
02 Sep, 2018 Views: 877

Comments

آپ کی رائے