ڈیم تعمیر کی مخالفت غداری ہے؟

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

چیف جسٹس ثاقب نثار درد مند انسان ہیں۔ وہ ملک میں پانی کی کمی، تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دے رہے ہیں۔ یہ سب کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں۔ مگر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ حکمران سو رہے ہیں۔ اس لئے چیف جسٹس صاحب کو مجبوری میں از خود نوٹس لینا پڑ رہے ہیں۔ وہ کبھی کسی ہسپتال اور کبھی کسی اور مقام کا معائنہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پانی کا مسلہ ملک میں سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی میں پانی کے لئے ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے دور میں 10ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ہے۔ اس کا اعتراف موجودہ حکومت کے اہلکار بھی کر رہے ہیں۔ جو عوام پر 158ارب روپے کے نئے ٹیکس لگا رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ میں اس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔کمرشل اور گھریلو صارفین کے لئے بھی گیس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کا ایک طوفان امڈ آنے کو ہے۔ جناب وزیراعظم عمران خان پر الزام ہے کہ وہ چندہ ذہنیت کے حصار میں ہیں۔ ملک کوئی نجی ہسپتال نہیں جو چندے سے چلایا جا سکے۔ نہ ہی ملک کرکٹ کا کھیل ہے۔ جسے کھیل تماشہ بنا دیا جائے اور سٹیڈیم میں لوگ چھکے اور چوکوں پر تالیاں بجائیں۔ تا ہم ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے۔ یہ کام حکومت کو کرنا چاہیئے ۔ چیف جسٹس نے اس نیک کام کو شروع کیا ہے۔ اس کے لئے وہ چندہ کو اہمیت دے رہے ہیں۔ پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ عطیات دینے والی قوم ہیں۔ اس لئے اگر وہ ڈیم کی تعمیر کے لئے اپنی دولت کو وقف کر دیں تو یہ ڈیم تعمیر ہو کر رہے گا۔ تا ہم ڈیم ہو یا خدمت خلق کا کوئی بھی کام ۔ اس میں کریڈٹ لینے کی کوشش نہ ہو۔ نہ ہی اس پر سیاست کی جائے۔ آزادی اظہار کے تحت کسی بھی موضوع پر بات کرنا سبھی کا آئینی حق ہے۔ ہر کوئی تنقید کر سکتا ہے۔ چاہے تنقید کوئی پسند کرے یا نہ کرے۔ تنقید مثبت ہو یا منفی، تعمیری ہو یا تخریبی، اسے صدق دل سے برداشت کیا جاتا ہے۔ مہذب معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لوگوں کی وابستگیاں ہیں۔ ظاہر ہے جو لوگ شکایت کرتے ہیں کہ عدلیہ سے انہیں انصاف نہیں ملا، وہ اپنی بات اسی انداز میں ہی کریں گے۔ ہر کوئی آپ کے خیال کا حامی نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک ڈیم کی عمیر کا تعلق ہے، ایک نہیں ہمیں بہت ڈیموں کی ضرورت ہے۔ پانی کے بڑے ذخائر ہوں گے تو یہ پینے اور آبپاشی کے لئے استعمال ہوں گے۔ اگر پانی نہیں تو زرخیز زمین بھی بنجر بن جاتی ہے۔ پانی ہے تو پھر کھیت لہلہا سکتے ہیں۔ پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیداوار میں اضافہ ہو گا تو کسان خوشحال ہو گا۔ ملک میں اناج، غلہ ، سبزیاں، میوہ جات وافر ہوں گے۔ اس سے قیمتیں بھی کم ہوں گی۔ ہم پیداوار کو بر آمد بھی کر سکیں گے۔ جس سے نہ صرف زر مبادلہ میں اضافہ ہو گا بلکہ بیلنس آف ٹریڈ میں بھی کمی واقع ہو گی۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے پیداوار میں جس قدر بھی اضافہ ہو گا، اسے قدر عوام خوشحال ہوں گے۔ مگر اس کے لئے پانی کی ضرورت ہے۔ دریاؤں ندی نالوں ہی نہیں بلکہ بارش کا پانی بھی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے اگر کالا باغ ڈیم متنازعہ ہے تو چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے میں کیا مسلہ ہے۔ ڈیم تعمیر کرتے وقت عوام کا خیال کیا جانا چاہیئے۔ بالخصوص دریاؤں کا رخ موڑنا خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ سرگیں کھودنے سے زیر زمین پانی نایاب ہو رہا ہے۔ نیز اس سے ماحول بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ نیلم جہلم پروجیکٹ کے لئے دریاؤں کا رخ موڑ دیا گیا۔ آج دریائے نیلم مظفر آباد میں ایک نالہ جیسا بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے شہر میں اس سال بہت گرمی محسوس کی گئی۔ حبس میں اضافہ سبھی نے محسوس کیا ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پترینڈ پروجیکٹ کی طرح دریائے نیلم کو بھی مظفر آباد کے قریب گرا کر بجلی پیدا کی جا سکتی تھی۔ مگر عجلت میں اس طرف توجہ نہ دی گئی۔ اب اگر لوگ اس پر تنقید کر رہے ہیں تو اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس صاحب بلا شبہ غیر متنازعہ عہدہ رکھتے ہیں۔ اگر وہ عدل و انصاف کی فراہمی کے ساتھ دیگر اہم امور مملکت سر انجام دیں گے تو اس پرتبصرے اور تجزیئے ہوں گے۔ترقی یافتہ معاشروں میں عدلیہ کے فیصلوں پر بھی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہو گا کہ کوئی نا پسندیدہ رائے رکھنے والا ملک کا غدار قرار پاتا ہے۔ یاا س پر آئین کی آرٹیکل 6کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر ملک کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ مگر سب کا اس پر اتفاق نہیں۔ جو کالا باغ ڈیم تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں کیا وہ بھی غدار قرار پائیں گے۔ ایسا نہیں ہے۔ ڈیم تعمیر ضروری ہے۔ مگر کسی کی رائے پر قدغن بھی آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔ یہ پابندی لگانے والا چیف جسٹس ہو یا کوئی اور۔ دیامر بھاشا ڈیم فنڈ پر توہین آمیز بیانات اور تبصرے پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سمجھے جا سکتے ہیں۔ اسے سپریم کورٹ کے خلاف بہتان تراشی سمجھا جا رہا ہے۔ میڈیا کو قابل اعتراض مواد اور نشریات کی موثر روک تھام کے لئے ادارہ جاتی نگراں کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ عدلیہ ، فوج یا ملک کے کسی بھی ادارے کے خلاف بہتان تراشی نہیں ہونا چاہیئے۔ بلا شبہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو معلوماتی انداز میں پیش کرنا چاہیئے۔ اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ جب کہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں بھی کسی کو اجازت نہیں کہ کسی فرد یا ادارے کی توہین کرے، تا ہم رائے، تنقید، اور توہین میں فرق ہونا چاہیئے۔ جو بھی اقدامات ملک اور قوم کے مفاد میں ہیں، ان پر بھی تعمیری تنقید کی جا سکتی ہے تا کہ اس میں مزید بہتری کے امکانات روشن ہوں۔ اس میں اصلاح بھی ہو۔ کبھی تنقید برائے تنقید بھی کسی مثبت پہلو کو اجاگر کر جاتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231080 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
19 Sep, 2018 Views: 429

Comments

آپ کی رائے