پاکستان اور بھارت میں پانی پر جنگ ہو گی؟۔۔۔۔۔ 1

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

بھارت کا ایک اور سرجیکل سٹرائک کا دعویٰ بھی پہلے جیسا ہی ہے۔ پاکستان کا پانی روکنے اورسندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکیاں بھی سرجیکل سٹرائیک جیسی تھیں۔اگر چہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے کشن گنگا اور رتلے منصوبوں کا مسلہ عالمی بینک کے صدر جم یانگ کم کے ساتھ اٹھایا۔ وہ کسی مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کر رہے ہیں۔بھارت کو عالمی ثالث عدالت نے نیلم دریا میں 9کیوبک میٹر پانی فی سیکنڈ رواں رکھنے کو کہا ہے جس پر عمل نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نیلم میں پانی کا بہاؤ بہت کم ہو چکا ہے۔ اب جب کہ نیلم جہلم پروجیکٹ شروع ہوا اور نوسیری سے دریا کا رخ موڑا گیا تو مظفر آباد میں نیلم نالہ لئی بن گیا۔جس پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دھمکیوں کی جانب دنیا متوجہ نہ ہوئی۔ عالمی بینک کا کردار بھی مثبت نہیں۔ عالمی بینک نے آبی تنازعہ کے حل کے لئے غیر جانبدار ماہر تقرر کرنے کی بھارتی درخواست منظور کی۔جب نریندر مودی نے کہا کہ وہ سند ھ طاس معاہدہ ختم کر دیں گے اور پاکستان کا پانی روک دیں کے تو عالمی بینک یا کسی بھی عالمی فورم نے کوئی نوٹس کیوں نہ لیا۔ بھارت یک طرفہ طور پر کوئی معاہدہ کیسے ختم کر سکتا ہے جب کہ اس کی عالمی ضمانت بھی موجود ہو۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدہ کا ضامن ہے۔ بھارت پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر درجنوں ڈیم اور بجلی گھر تعمیر کر رہا ہے۔ کئی مکمل ہو چکے ہیں۔ جہلم ، چناب اور نیلم پر ڈیم اور بجلی گھروں کی تعمیر پر پاکستان اس لئے اعتراض کرتا ہے کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کئے گئے۔ دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم پر بھی بھارت نے وہی پالیسی اختیار کی جو 1978میں سلال پروجیکٹ پر عملائی تھی۔ جہلم، چناب اور نیلم دریا مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کی طرف بہتے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ ر یاست پرناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ تکنیکی حماقت اور کوتاہی ہے کہ پاکستان نے کیسے ایک مقبوضہ علاقے کے پانی سے متعلق ایک قابض ملک سے معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ قبضے کو جائز قرار دینے کی ایک کڑی تھی۔ بھارت کے کشمیر کے ساتھ پانی ہی نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کے مفادات وابستہ ہیں۔ بھارت کو کشمیر کا پانی، وسائل کی ضرورت ہے۔ اسے عوام سے کوئی غرض نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فورسزکشمیریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ بھارت دریائے چناب پر مجوزہ’’میار‘‘ ڈیم اور بجلی گھر منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کرنے پر رضامند ہوا تھا۔مگر اس پر کاربند نہ رہا۔ بھارت کی سیاست میں پاکستان کو ہر قیمت پر نقصان پہنچانا سر فہرست رہتا ہے۔ مسلہ ایک میار ڈیم کے ڈیزائن کا ہی نہیں بلکہ چناب پر تعمیر ہونے والے پکال گل، کلنال منصوبے بھی مسلہ ہیں۔ ان کے ڈیزائن بھی پاکستان کے مفادات کو شدید نقسان پہنچانے کے لئے تیار کئے گئے۔ اگر بھارت چناب پر 48میگاواٹ کے لوئر کلنائی منصوبے پر پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ، جیسے کہ دعویٰ کیا گیا تو وہ ایسا ڈیزائن تیار ہی نہ کرتا۔ اس لئے کسی جلد مفاہمت کی امید خوش فہمی ہو سکتی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستانی ماہرین کو خوش فہمیوں میں مبتلا کرتے ہوئے اپنا الو سیدھا کر لیا۔ مذاکرات میں چناب پر 1000میگاواٹ کے پکال ڈل منصوبے پر پاکستانی اعتراضات کو بھارت نے کسی کاخاطر میں نہیں لایا۔ یہ منصوبہ ایک ہزار میگاواٹ بجلی پہلے فیز میں پیدا کرنے کے لئے شروع کیا گیا ۔اس کے سپل ویز اور سٹوریج پر پاکستان کو اعتراض ہے۔ میار بجلی گھر کا پہلا فیز 120میگاواٹ کا ہے۔ اس کے ڈیزائن کا بھی مسلہ ہے۔

پاک بھارت انڈس واٹرز کمیشن کا115واں اجلاس اگست2018کے آخری ہفتہ لاہور میں ہوا تو بھارت نے نیلم اور جہلم پر منصوبوں کا معائنہ کرنیکے لئے پاکستانی ماہرین کو اجازت دی ۔ تاریخیں بھی طے کیں۔ مگر بعد میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں پنچائتی انتخابات کا بہانہ بنا کر مکر گیا۔بھارت مون سون بارشوں کے موسم میں پیشگی اطلاعات اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار دینے میں بھی ٹال ومٹول کرتا ہے۔گزشتہ دنوں بھارت نے اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان میں تباہی پھیلانے کی کوشش کی۔وہ مذاکرات کے دوران پیشگی معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانیوں کے باوجود وعدوں کی پابندی نہیں کرتا۔ اس بار بھی ایسا ہو ۔ پاکستانی ماہرین کو زیر تعمیر منصوبوں کا دورہ کرانے کی اجازت نہ دینا حکمت عملی ہے۔ماضی میں دریائے نیلم پر کشن گنگا پروجیکٹ کا دورہ کرانے میں بھی کوئی مکاری تھی۔ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے دریائے نیلم کے بہاؤ کوروکا گیا۔ بھارت کا یہ منصوبے انتہائی خطرناک ہے۔ یہی راستے چین کی طرف بھی جاتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بانڈی پورہ سے گریز تک بھارتی انجینئرز کو ہی کام پر لگایا گیا ہے۔ مزدور بھی کشمیری نہیں بلکہ بھارت سے لائے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد صرف ڈیم کی تعمیر یا بجلی گھر ہی نہیں بلکہ مبصرین کو خدشہ ہے کہ بھارت زیر زمین سرنگیں اور جنگی نظام قائم کر رہا ہے۔کشن گنگا منصوبے کے علاقے میں کشمیریوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بھارت کے اس علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات اور رازداری سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔ کشن گنگا ڈیم تنازعہ کو دو طرفہ طور پر طے کرنے کا بھارتی نکتہ بھی اہم ہے ۔ پاکستان نے اس مسلہ کو ثالثی عدالت میں لے جانا زیادہ مناسب سمجھا۔ بھارت سندھ طاس معاہدے میں نرمی چاہتا ہے۔ جب کہ یہ معاہدہ مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ ہونے کے باوجودطے پانا ہی غیر قانونی ہے۔ بھارت کشن گنگا ڈیم پر 330میگاواٹ بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ چناب پر 850میگاواٹ کا ’’رتلے ‘‘بجلی گھر تعمیر کر رہا ہے۔ پاکستان نے ثالثی عدالت اور عالمی بینک سے بھی رجوع کیا۔ عالمی بینک کی نگرانی میں دونوں منصوبوں پر پاکستان بھارت کے درمیان سیکریٹری سطح کے مذاکرات بھی ہوئے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا پانی بھارت کو دیا گیا اورمغربی دریاؤں چناب، جہلم اور سندھ کو پاکستان کے حصے میں آیا۔ دریائے راوی صحرا بن چکا ہے۔ جہاں کشتیاں چلتی تھیں وہاں آج ریت کے ڈھیر ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے حصوں کے دریاؤں کے پانی کو بھی روک لیا ۔ ان دریاؤں کا رخ موڑا جا رہا ہے۔بھارت میں جن سنگھی حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ موڑنے اور پانی روکنے کے لئے 15ارب ڈالرز کے پن بجلی گھروں کی تعمیر شروع کی ہے۔جس کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔جاری۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 596 Articles with 236227 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
03 Oct, 2018 Views: 486

Comments

آپ کی رائے