ڈاکٹر واقع مسیحا ہیں ؟؟

(Rashid Ali, Chakwal)
ڈاکٹر صرف ڈاکٹر ہی نہیں ایک مسیحا کی مانند ہے مریض کے لئے

رب تعالیٰ کے بعد مریض اگرکسی پہ بھروسہ کرتا ہے تو وہ ہے ڈاکٹر وہ ڈاکٹر جس کے ہاتھ میں رب کے بعد زندگی اور موت درد اور راحت ہوتی ہے ویسے زندگی موت کا مالک تو میرا سوہنا رب ہے جس نے یہ کائنات ہمارے نبی کریم ﷺ کی محبت میں تخلیق کر دی ۔۔۔

چرند پرند انسان حیوان جانور جھیل دریا ندیاں پہاڑ زمین سمندر اور اس دنیا میں بے بہاہ قدرت کا خزانہ یہ سب کچھ اللہ پاک نے تخلیق کیا ان نعتوں کا جتنا شکر ادا کیا جائے اتنا کم ہے لیکن انسان نا شکرہ ہے ان سب چیزوں پہ شکر ادا نہیں کرتا ۔۔۔

اسی طرح سائنسی تحقیقات میں اگر دیکھا جائے تو اللہ پاک نے انسان کو اتنی ذہنیت دی ہے وہی انسان اپنے ہی رب کا مقابلہ کرنے پہ تلا ہوا ہے نت نئے طریقے اپنا تا ہے اس قل کائنات کے خالق و مالک کے بنائے نظام میں تبدیلی لانے میں ۔۔۔

سائنسی تحقیق میں سائنسدان اتنے آگے نکل چکے ہیں چاند پہ رہنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کرر ہے ہیں انسانی شکل میں روبوٹس تیار کررہے ہیں انسان کے خون کے سیمپلز سے اسکی بیماری معلوم کر لی جاتی ہے ۔۔

تحقیق و تعلیم میں اتنی ترقی ہوگئی ہے ہم دل کا آپریشن کر لیتے ایک انسان کا دل دوسرے انسان میں تبدیل کر لیتے ہیں بچہ پیدا ہونے سے پہلے معلوم کر لیتے ہیں کے بیٹا ہے یا بیٹی اور اسی سائنسی تحقیق کی وجہ کچھ ایسے کام بھی ہم کر رہے ہیں جن سے میرا رب بہت سخت ناراض بھی ہوتا ہے۔۔۔

اسکی وجہ ہے جب ماں باپ کو پتہ لگتا ہے کے بیٹی پیدا ہونے والی ہے تو کچھ لوگ بیٹی کی پیدائش کو بہت نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے ہیں یہی وجہ ہے بیٹی کا سن ابارشن کروالیتے ہیں اور ننھی سی جان جو سانس لے سکتی ہے محسوس کر سکتی ہے درد کو تکلیف کو ہم اپنی بے حسی اور کھوکھلے سٹیٹس کو چکر میں اسکو قتل کر دیتے ہیں جب ابارشن کیا جاتا ہے تو اس ننھی سی جان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے باہر نکالا جاتا ہے یا پھر پیٹ چیر کے اسکو نکال کے پھینک دیا جاتا ہے ۔۔۔

میرے رب نے تو ایک چیونٹی کے پاوں کے نیچے آکے مرجانے کا حساب لینا ہے یہ تو پھر بھی ایک ننھی سی انسانی جان ہے اسکے قتل کا کیوں نہیں حساب لیگا وہ آجکی نوجوان نسل چند منٹ کی تسکین کی خاطر بھی یہی گناہ کرنے لگے ہیں ۔۔۔

وہ بھی اپنی بے حیائی اور فحاشی کو پیار کا نام دے کے ایسے ہی گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں اور ڈاکٹر حضرات چند نوٹوں کی خاطر اس گھناونے فعل میں برابر کے شریک ہیں اور اس قتل میں وہ بھی انکا ساتھ دینے میں اپنی رضامندی ظاہر کردیتے ہیں ۔۔۔

ڈاکٹر صرف ڈاکٹر ہی نہیں ہوتا وہ اپنے پیشہ کا ایک محافظ بھی کہلاتا ہے کیونکہ رب کے بعد اس ڈاکٹر کو ہی عوام اپنا سب کچھ مانتی ہے درد تکلیف کی راحت کا مسیحا مانتی ہے اگر ڈاکٹر ہی جلاد بن جائے موت کا کاروبار کرنے لگ جائے تو عام انسان کیا کرے؟؟

میں اپنے ساتھ بیتے کچھ واقعات بیان کر دیتا ہوں میرے والد صاحب کی اچانک سے طبعیت خراب ہوگئی میں گھر میں نہیں تھا اپنی ملازمت کے سلسلے میں زیادہ تر گھر سے دور ہی رہتا ہوں میرے بہنوئی جو پاس ہی تھوڑی دور رہتے ہیں ۔۔۔

میں نے انکو کال کی وہ ابو لے کے بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے گئے وہاں انکا فوری علاج شروع کیا گیا اور چند گھنٹوں بعد انکی طبعیت سنبھل گئی اور ڈاکٹرز نے انکو ڈسچارج کر دیا واپسی کے دوران والد صاحب کی صحت پھر سے بگڑ گئی ۔۔۔

اور گھر والے انکو اقریب کے شہر دنیا پور میں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں لے گئے ان ڈاکٹر صاحبان نے بنا کچھ جانچے انکو ڈرپس اور انجیکشن لگادئیے جنکی وجہ انکی حالت اور بگڑ گئی مجھے بلایا گیا میں کوئی دس گھنٹے کا صفر طے کر کے گھر پہنچا تو والد صاحب تو بہت بری حالت میں پایا میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا لحاظہ میں انکو لے کے پھر سے بہاولپوروکٹوریا ہسپتال لے گیا ۔۔۔

کیونکہ ملتان نشتر ہسپتال بہت دور پڑتا ہے اسکی نسبت وکٹوریا قریب ہے وہاں والد صاحب کو ایمرجنسی وارڈ میں رکھا گیا جو فارمیلیٹیز تھیں وہ پوری کی گئیں علاج شروع ہوا اور چند گھنٹو ں بعد انکو ایمرجنسی سے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ۔۔۔

وارڈ میں ایک دن گزارہ کوئی ڈاکٹر راونڈ پہ نا آیا نرسز آتیں اور اپنی روٹین وائز کام کر کے چلی جاتیں اگر ڈاکٹر کا پوچھتے تو کہتیں کے وہ صبح کے ٹائم پہ راونڈ پہ آتے ہیں اسکے بعد اگلی صبح آئینگے میں پریشان دوسری صبح کا انتظار کرتا رہا ساری رات ایسے ہی جاگتے گزرگئی۔۔۔

اللہ کر کے صبح ہوئی دو ڈاکٹر ز دکھائی دئیے وارڈ میں انکی راہ تکتا رہا خیر کوئی ایک آدھ گھنٹے بعد انکی آ مد ہو ہی گئی والد صاحب کی پوزیشن دریافت کی کہا چیک کر رہے ہیں اللہ خیر کریگا اور چل دیئے قریب کے بیڈ پہ پڑے ایک مریض کے ساتھی نے بتایا کے یہ ڈاکٹر ز نہیں سیکھنے والے آئے سٹوڈنٹس ہیں ۔۔۔
انکو ککھ نہیں پتہ یہ کیا بتائینگے میں نے نرس نے پھر سے ڈاکٹر کا دریافت کیا تو انہوں نے کہا وہ اپنے کیبن میں ہیں ان سے جا کے مل لیں میں وہاں گیا کچھ دیر انتظار کے بعد ان سے مصافحہ ہوا اور ادب سے ان سے گزارش کی ڈاکٹر صاحب ہمیں کوئی چھتیس گھنٹے ہوگئے ہیں کوئی ڈاکٹر وارڈ میں دکھائی نہیں دیا مریضوں کوئی چیک نہیں کرنے آیا۔۔

انہوں نے کہا آپ چلیں میں آتا ہوں میں واپس آگیا اور انکی راہ تکنے لگ گیا وہ دن بھی گیا ڈاکٹر صاحب کو توفیق نا ہوئی آنے کی اس وارڈ میں سبھی لوگ پریشان تھے اور ساتھ میں یہ بھی کہتے تھے کے اگر ان پہ کوئی زور ڈالیں تو دھمکیاں دیتے ہیں کے کہیں اور لے جائیں مریضوں کو ۔۔

اس لئے ہم لوگ چپ ہیں کیا کریں لیکن مجھ سے چپ نا رہا گیا اور میں دوسرے دن جاکے ڈاکٹر صاحب سے تھوڑا سا تلخ لہجے میں بات کی اور انکو انکی ذمہ داری کا احساس دلانے کی کوشش کی لیکن جناب کی طرف سے مجھے جواب ملا کے تمھارا مریض کوئی وی آئی پی ہے کیا جو اسکو پروٹوکول دیں جاو میں آ کے چیک کرتا ہوں ۔۔

اگر زیادہ کوئی پرابلم ہے تو میرے کلینک پہ لے آووہاں پروٹوکول بھی ملے گا اور اچھا علاج بھی مجھے اس بات پہ بہت غصہ آیا اور تلخ کلامی ہوگئی انکو میں نے بھی کہا کے آپکی اس بات اب آکو جواب دینا پڑیگا آ لوگوں کو اللہ پاک نے ایک ذمہ داری ہے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے آپکو تنخواہیں ملتی ہیں یہ سب مراعات عوام کے پیسوں سے آپکو دی جاتی ہیں ۔۔۔

اس کے باوجود آپ یہ رویہ رکھتے ہیں صرف چند پیسوں کی خاطر آپ غم کے مارے لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اس ڈاکٹر سے میری اچھی خاصی بحس ہوگئی اور میں غصے سے باہر نکل آیا لیکن اسکو ایک بات ضرور کہی کے اب آپ خود مجھے یا میرے مریض کو تلاش کرتے آئینگے ۔۔۔

میرا کیونکہ میڈیا سے تعلق ہے اس لئے میں اپنا آخری حربہ وہی اپنا یا جو کے میں کرنا نہیں چاہ رہا تھا شام کا کوئی سات بجے کا وقت تھا میڈیا کی گاڑیاں اپنی DSNG'Sکے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئیں گارڈ کو تھوڑا ڈر ہوا کے ایک ساتھ تین چار میڈیا کی گاڑیا ں آنا مطلب کوئی پنگا ہے۔۔۔

تھوڑی دیر کے بعد (ایم ایس) کو کال پہنچ گئی جس کے بعد (ایم ایس ) کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے ٹھیک بیس منٹ بعد وہی ڈاکٹر صاحب میرا نام پکارتے ہوئے مجھے تلاش کررہے تھے اور میرے والد صاحب وہی ڈاکٹر صاحب اپنے ہاتھوں سے انکی ویل چئیر چلاکے ایک بار پھر سے ایمرجنسی میں لے گئے وہاں انکا پھر سے چیک اپ شروع ہوا۔۔۔

رات انکو وہی پہ رکھا دوسرے دن انکی حالت کافی بہتر تھی انکو ایک روم میں شفٹ کر دیا جہاں ایک باقاعدہ ڈاکٹر کو بٹھایا گیا انکی نگرانی میں جس وارڈ سے ہم لوگ شفٹ ہوئے تھے وہاں بھی اب باقاعدگی سے ڈاکٹر ز کے راونڈ شروع ہوگئے تھے مریضوں کو باقاعدگی سے چیک کیا جانے لگا صفائی ستھرائی کا بھی بڑا اچھا انتظام ہونے لگا جن واش رومز کو کوئی صاف تک نہیں کرنے آتا تھا ۔۔۔

وہ بھی ایک دن میں چمکنے لگ گئے تھے سب مریض اور ان کے اہل وعیال مجھے تلاش کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور مجھے اور میرے والد صاحب کو دعائیں دینے لگے کے تمھاری وجہ سے ہما را بھی اب خیال رکھا جارہا ہے ۔۔

کچھ مریض تو ایک دو دن میں ہی ٹھیک ہو کے چل دئیے جو کہتے تھے ہم لوگ پچھلے دس پندرہ دنوں سے یہاں لاوارث حالت میں پڑے تھے اب اللہ کا شکر دو دنوں میں صحت یاب ہوکے جا رہے ہیں صرف تمہاری وجہ سے اللہ پاک تمھارے والد کو جلد شفا دے ۔۔

مجھ سے کچھ ڈاکٹرز نے پوچھا کے تم کون ہو جو تم نے پوری رات ہمارے ایم ایس تک کو جگائے رکھا ہے جو ہر آدھے گھنٹے بعد کال کر کے تمھارے والد کی طبعیت پوچھتے رہے ہیں میں نے کہا کے میں عام انسان ہوں کوئی بہت بڑی طوپ یا کوئی سیاسی کارندہ نہیں ہوں ۔۔

میں نے کبھی بھی اپنی شناخت نہیں کروانی تھی اگر آ لوگ اپنا رویہ ایسا نا رکھتے تو خیر چند دن بعد میرے والد صاحب کی موت واقع ہوگئی اور میں انکو لے کے گھر آگیا آج ڈاکٹرز پہ اتنے سالوں بعد اس لئے لکھ رہا ہوں کے کچھ دن پہلے ہی ایک ایمر جنسی میرے گھر میں ہوئی رات کو کوئی بارہ بجے کا ٹائم تھا میں گاوں میں گھر میں ہی تھا ۔۔

پاس ہی کر کے کلینکس اور ہسپتال ہیں لیکن نام کے سب کے جا کے دروازے بجائے کالز کیں کچھ تو میرے جاننے والے بھی ہیں علاقے کے ہونے کی وجہ سے لیکن کسی نے نا تو دروازہ کھولا اور نا ہی کال اٹھائی اس لئے آ ج یہ سب لکھنے پہ مجبور ہوگیا۔۔

ڈاکٹر صرف ایک ڈاکٹر ہی نہیں اس پہ اس ہر مریض کی ذمہ داری ہوتی جو کسی نا کسی مرض میں مبتلا ہوکے اس سے اپنی تکلیفوں کی راحت دردوں سے چھٹکارہ پانے کی غرض سے جاتا ہے بھاری بھرکم فیسیں دیتا ہے مہنگی ترین دوائیاں خریدتا ہے ۔۔۔

صرف اس لئے کے اسکی تکلیف دور ہو لیکن نام نہاد ڈاکٹرز کیا کرتے ہیں پہلے تو اسکو دو نمبر دوائی دینگے پھر دو دن بعد چیکپ کے بہانے پھر اسکو بلائینگے اسکو تھوڑی اچھی دوائی دینگے تیسرے راونڈ میں اچھی دوائی دے اسکو اپنے وش میں کر لینگے ۔۔۔

اور اپنی دولت کی ہوس بھی پوری کر لینگے آپ بیس تیس سال پیچھے چلے جائیں تو آپکو سوائے بخار نزلہ زکام یا چند ایک مرض کا علم ہوتا تھا جو ہوا کرتے تھے انسانوں میں لیکن آ ج کل بیماریوں کے نام سن کے ہی بندہ موت سے پہلے مرنے لگ جاتا ہے ۔۔

اسکی وجہ صرف یہی ہے ڈاکٹرز کی غفلت انکی لاپرواہی انکا رویہ انکا غیر ذمہ دارانہ ہے لوگ ڈاکٹرز کے پاس جاتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں درد ناک میں ہوتا ہے دوائی کان کی دے دیتے ہیں ہوتا بخار ہے لیکن بندرہ سو ٹیسٹ لکھ کے دے دیتے ہیں ۔۔۔

اپنی ہی لیبز بنائی ہوئی ہیں اپنے ہی میڈیکل سٹورز بنائے ہوئے ہیں غذب خدا کا انکے میڈیکل سٹور سے لی گئی دوائی کہیں اور سے ملتی بھی نہیں یہ ہے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ جس کا نام سائنسی دنیا میں ڈاکٹر رکھا گیا ہے جو جلاد کے روپ میں اس سوسائٹی کا ناسور بنتا جا رہا ہے ۔۔

خاص طور پہ پرائیویٹ ڈاکٹرز کے تو کیا کہنے سب ڈاکٹرز ایک جیسے نہیں ہیں چند ایک بہت اچھے بھی ہیں جو اپنی ڈاکٹری کو اپنی ذمہ داری کے طور پہ نبھا رہے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں اللہ پاک انکو اور ہمت و استقامت دے ۔۔۔آمین
پاکستان زندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Ali

Read More Articles by Rashid Ali: 3 Articles with 1506 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Oct, 2018 Views: 430

Comments

آپ کی رائے