ڈپریشن

(Hafiz Umar, )

ڈپریشن ایک طبعی کیفیت کا نام ہے جس کی بدولت انسان کی کام میں عدم دلچسپی اور مسلسل اداسی بڑھتی رہتی ہے ۔یہ کیفیت مختلف طریقوں سے انسان پر اثر انداز ہوتی ہے مثلا آپ کس طر ح چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، کس نظریے سے باتوں کو سوچتے ہیں اورلوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں ۔

آپ کو روزانہ کی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے، اور بعض اوقات آپ محسوس کر یں گے کہ آپ کی زندگی، زندگی گزارنے کے لائق ہی نہیں ہے۔

درحقیقت ڈیپریشن سوائے بے بسی، پریشانی اور مایوسی کے، اور کچھ بھی نہیں۔ اس کی مثال یوں لے لیجیے کہ آپ نے ایک کام کے متعلق کچھ سوچا اور پھر بہتر طریقے سے اس کی پلیننگ کی کہ آپ اپنا یہ کام اس طریقے سے کریں گے اور کامیاب رزلٹ حاصل کر لیں گے مگر جب ایسا نہیں ہوتا جیسا آپ نے سوچ رکھا ہے اور نتیجہ اس کے برعکس آتا ہے تو اس رزلٹ کا آپ کی ذات پر ایک منفی اثر پڑتا ہے اور آپ اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار یا تو خود اپنی ہی ذات کو ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں یا دوسرے آپ کی نظر میں قصوروار بن جاتے ہیں۔ آپ اس ناکامی کو اپنے اعصاب پر اس حد تک سوار کر لیتے ہیں کہ اپنی صحت خراب کر لیتے ہیں اور بیمار ہوجاتےہیں. اس سارے عمل کے دوران آپ سے جڑا ہر فرد خاص طور پر گھر والے، دوست احباب خاصے ڈسٹرب ہوجاتے ہیں ۔

ڈپریشن سے آپ "آسانی سے" چھٹکارہ نہیں پا سکتے، اس کا علاج کافی طویل بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن انسان کو ہمت نہیں ہارنی چائیے۔ کچھ لوگ ڈپریشن سے چھٹکارے کیلیے ادویات کا استعمال کرتے ہیں ،کچھ لوگ ماہر نفسیات کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

10 اکتوبر پوری دنیا میں ذہنی صحت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کا ہر چوتھا فرد کسی نہ کسی سطح کی ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ یعنی عالمی آبادی کا ۲۵ فی صد ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔ ولڈ مینٹل ہیلتھ کے اعداد و شمار کے مطابق2 کروڑ ساٹھ لاکھ افراد انفضام âschizopheriniaá کے مرض میں مبتلا ہیں، جب کہ 35کروڑ افراد ڈیپریشن جیسے مرض کا شکار ہیں۔ WHOکے مطابق ہر سال10 لاکھ افراد یعنی 40 سیکنڈ میں ایک شخص خود کُشی کر کے اپنے آپ کو ختم کر رہا ہے۔ امریکی اداے نیشنل الائینس فار مینٹل ایلنس کے مطابق امریکا میں6 کروڑ 15 لاکھ افراد ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 8 لاکھ افراد ڈیپریشن کا شکار ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں جس میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔ہمارے ملک کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ یہاں انسانی حقوق کی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کے 34 فی صد لوگ کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں۔ چند سال قبل عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں ذہنی بیماریوں کی ادویات کی فروخت 96 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔یقینا یہ تخمینہ اب ایک سو ارب ڈالر سے کہیں اوپر ہو چکا ہو گا۔

علامات
دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر لوگ زندگی میں ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں ، اور ان میں کئی قسم کی ڈپریشن کی علامات پائی جاتی ہیں۔ ڈپریشن کا شکار شخص کو بہت ساری علامات کی بدولت پہچانا جا سکتا ہے جیسا کہ کام، سکول، سوشل سرگرمیاں یا دوسروں کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی اس بات کو واضح کر سکتی ہےعلاوہ ازیں درجذیل علامات بھی ڈپریشن کے سبب ہو سکتی ہیں:
• بہت زیادہ اداسی
• چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگی
• تمام سرگرمیوں میں عدم دلچسپی
• کم سونا یا بہت زیادہ سونا
• جسم میں ہر وقت تھکاوٹ کا محسوس ہونا
• کم کھانا یا بہت زیادہ کھانا شروع کر دینا
• ہر وقت بے چینی سی رہنا
• کم بولنا ، کم سوچنا
• ہر وقت خود کو ماضی کی غلطیوں پر کوستے رہنا
• کسی بھی بات پر مکمل توجہ نا دے پانا
• موت یا خودکشی کے بارے سوچتے رہنا
• ہر وقت غیر معمولی جسمانی مسائل، جیسے کمر درد یا سر درد کا رہنا
• ہر اچھے برے حالات میں شکوه کرتے رہنا
• کوئی کام یا بات برداشت نا کرنا
• حد سے زیاده حساس ہونا

بچوں اور نوجوانوں میں ڈپریشن کی علامات
عموما بچوں اور نوجوانوں میں ڈپریشن کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں، لیکن یہ علامات کچھ مختلف بھی ہو سکتی ہیں:
• چھوٹے بچوں میں، ڈپریشن کی علامات میں اداسی ، چڑچڑاپن، فکر، شدید درد، سکول جانے سے انکار کرنا یا وزن کا بالکل کم ہو جانا، شامل ہیں۔
• نوجوانوں میں، ڈپریشن کی علامات میں اداسی، چڑچڑاپن، منفی سوچ، غصہ، سکول میں خراب کارکردگی یا سکول سے مسلسل غیر حاضری، بہت زیادہ حساس پن ، منشیات کا زیادہ استعمال، زیادہ کھانا اور زیادہ سونا، خود کو نقصان پہچانا، روزمرہ کی سرگرمیوں اور سوشل سرگرمیوں سے دور رہنا، شامل ہیں۔

بوڑھے لوگوں میں ڈپریشن کی علامات
بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ڈپریشن بھی بڑھ سکتا ہے اسے ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔ بد قسمتی سے بعض دفعہ چھوٹوں کی لا پرواہی سے ڈپریشن بڑھتی عمر میں لا علاج بھی ہو جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بوڑھے لوگ ہر چیز سے اکتا جاتے ہیں، اپنی پریشانی تکلیف کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتے، ہر چیز کو نا پسند کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ کسی سے مدد مانگنے میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ بوڑھے لوگوں میں درجذیل ڈپریسن کی علامات پائی جا سکتی ہیں:
• حافظے میں کمزوری
• شخصیت میں بدلاؤ
• جسمانی درد
• تھکاوٹ
• نیند کے مسائل
• باہر جانے کی بجائے گھر میں رہنا پسند کرنا
• خواہشات کا کم ہونا
• خودکشی کے بارے سوچنا (خاص کر بوڑھے مرد)

ڈیپریشن یا ٹینشن انسانی جذبات، اہلیت اور شخصیت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔اگر کوئی بات ہمارے ذہن کو پریشان کرتی ہے تو آسان حل یہ ہوگا کہ ہم اس بارے میں نہ سوچیں، بلکہ جس وقت ہم نارمل ہوں تو تنہائی میں بیٹھ کر اس کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیں کہ آخر شروعات کہاں سے ہوئی، کوئی نہ کوئی نقطہ ضرور ملے گا۔ اور اگر پھر بھی کوئی حل نہ ملے تو کسی سے مشورہ طلب کریں جس پر ہمیں بھرپور اعتماد ہو۔
ہنگامی صورتحال میں کیا کرنا ہے ؟

اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو ڈپریشن کی وجہ سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں یا خودکشی کر سکتے ہیں ، تو 911 یا اپنے مقامی ہنگامی نمبر پر فورا فون کریں.علاوہ ازیں اگر آپ خودکشی کے خیالات رکھتے ہیں تو ان آپشنز کو بھی زیر غور رکھیں:
• اپنے ڈاکٹر یا ذہنی صحت سے متعلق پروفیشنل کو کال کریں
• قریبی دوست تک پہنچنے کی کوشش کریں
• آپ کمیونٹی کے کسی وزیر، روحانی رہنما یا کسی دوسرے سے رابطہ کریں

خطرے کے عوامل
عموما نوجوانوں میں ڈپریشن 20 یا 30 سال کی عمر میں ہوتا ہے لیکن یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے ۔ مردوں کی نسبت عورتوں کو زیادہ ڈپریشن میں تشخیص کیا گیا ہے۔ایسے عوامل جو ڈپریشن کو فروغ دیتے ہیں، درجذیل ہیں:
• کچھ شخصی خصوصیات، جیسے کم خود اعتمادی اور بہت زیادہ کسی پر منحصر ہونا
• جانبدار یا کشیدگی کے واقعات، جیسے جسمانی یا جنسی زیادتی، کسی اپنے کا مر جانایا مالی مسائل
• کسی خونی رشتے کا ڈپریشن کی بدولت کوئی نقصان کرنا
• ہم جنس پرستی یا ٹرانس جینڈر کو سپورٹ نا ملنا
• شراب یا تفریحی منشیات کی بدولت
• کینسر، اسٹروکیا دل کی بیماری سمیت سنگین بیماریاں
• کچھ ادویات، جیسے ہائی بلڈ پریشر ادویات یا سونے کی گولیاں (کسی بھی دوا کو روکنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کریں)

ڈپریشن سے منسلک پیچیدگیاں
ڈپریشن ایک سنگین خرابی ہے جو آپ اور آپ کے خاندان پر خوفناک ثابت ہو سکتی ہے. اگر وقت پر اس کا علاج نہ کیا جائے تو ڈپریشن اکثر بدتر ہوجاتا ہے، نتیجے میں بہت سارے مسائل جنم لے لیتے ہیں جو آپ کی زندگی کے ہر علاقے کو متاثر کرتے ہیں.

ڈپریشن سے منسلک پیچیدگی کی مثالیں درجذیل ہیں:
• زیادہ وزن یا موٹاپا، جس میں دل کی بیماری اور ذیابیطس پیدا ہوسکتا ہے
• درد یا جسمانی کمزوری
• شراب یا منشیات کا غلط استعمال
• پریشانی، گھبراہٹ یا سماجی فوبیا
• خاندان کے تنازعات ، تعلقات کی دشواری، اور کام کے مسائل
• سماجی تنصیب
• خودکش احساسات، خودکش کوششیں
روک تھام
یقین کے ساتھ تو کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عمل ڈپریشن کو ختم کر دے گا، تاہم یہ حکمت عملی مدد کر سکتی ہے:
• اپنے اندر خود اعتمادی بڑھائیے
• مشکل ترین حالات میں بھی فیملی اور دوستوں کے ساتھ رہیے
• ابتدائی مرحلہ میں ہی اپنی بیماری کا علاج کروائیے
• ہر چیز ،کام، اور بات کا صرف مثبت پہلو دیکھیں
• تنہا رہنے سے پرہیز کریں
• حقیقت کو قبول کرنے میں جلدی کریں
• اپنے منفی رویے اور سوچ کو کسی کاغذ پر منتقل کریں اور جلا دیں یا پھاڑ دیں

آسان اور متبادل علاج
آج کے گونا گوں معاشرتی، سماجی مسائل اور مالی پریشانیوں کی وجہ سے ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہر کوئی پریشان ہے۔ ڈیپریشن اس قدر عام ہے کہ شاید ہی کوئی اس سے محفوظ رہا ہو۔ روزانہ کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے پالا پڑتا ہے جس کی وجہ سے خواہ مہ خواہ ڈیپریشن ہو جاتاہے۔ بعض اوقات بغیر کسی وجہ کے ڈپریشن شروع ہو جاتا ہے اور بڑے بڑے کام یاب لوگ کو کہتے سنا گیا ہے کہ ان کا زندہ رہنے کو دل نہیں کرتا۔ ڈیپریشن میں انسان خود کو بے بس محسوس کرتا ہے اور سہارا ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیپریشن اور دوسرے نفسیاتی مسائل کے لیے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنا مفید ہے، اپنے پر اعتماد رکھیں کہ آپ کو ایک خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔

شہد ملے دودھ کے ساتھ سیب کھانا ہر طرح کے ڈپریشن میں مفید ہے۔ معمول کی چائے اور کافی کے بجائے گلاب کی پتیوں سے قہوہ بنا کر پیا جائے تو بہت جلد طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ کاجو ڈپریشن کو ختم کرنے میں حیرت انگیز خوبیوں کا حامل ہے۔ موسم سرما میں اس کا استعمال جاری رہنا چاہیے۔

روزانہ صبح اٹھ کر پروگرام بنایے اور اس کے مطابق کام کریں۔ جو چیز زیادہ اہم اور ضروری ہے اسے پہلے کریں۔ اپنے خیالات کو پراگندہ نہ ہونے دیں۔ نفرت، غصے، پشیمانی ، پریشانی اور حسد کے جذبات کو دل سے نکال دیں۔ محبت، خوشی، پیار اور تعاون کے جذبات دل میں بسا لیں، اس سے آپ کا من راضی ہو گا اور آپ خوش وخرم رہیں گے۔ سادہ پہنیں، سادہ کھائیں اور خود مختلف مشاغل یافلاحی کاموں میں مصروف کریں۔ ضرورت مندوں کی مدد کریں، اس سے دلی سکون ملے گا۔

ڈپریشن اور حقیقی مسلمان
چونکہ حقیقی مسلمان زندگی کے فلسفے سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے ۔ وہ آزمایش کی خدائی اسکیم سے پوری طرح واقف ہوتا ہے ۔ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دکھ اس زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔ وہ اس سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے کہ ان عارضی دکھوں پر صبر و استقامت کے نتیجے میں اس کے لیے ابدی راحت کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ لہٰذا وہ مشکل ترین اور حوصلہ شکن حالات میں بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا ۔ اس لیے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان سماجی حالات کی خرابی کے باعث ڈپریشن میں مبتلا ہے ، زندگی سے بیزار ہے ، مستقل افسردہ رہتا ہے ، دیکھنے میں ہر وقت بیمار لگتا ہے ، حسد ، خوف اور بزدلی کا شکار ہے تو یقینااس کی مسلمانیت میں کوئی کھوٹ ہے ،ورنہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص مسلمان ہو اور ڈپریشن کا شکار ہو جائے ۔ مسلمان کا معاملہ تو یہ ہے کہ
خزاں کی پشت پہ لکھے بہار کا قصہ
وہ غم زدہ ہے ،مگر خوش قیاس کتنا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz Umar

Read More Articles by Hafiz Umar: 3 Articles with 12921 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2018 Views: 1021

Comments

آپ کی رائے