ایغور مسلمانوں کو جبر کے حالات کا سامنا

(Qadir Khan Yousuf Zai, Lahore)

 شمال مغربی چین کے علاقے ایغورمیں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ’’ انسداد دہشت گردی ‘‘ اور’’ تعلیم نو ‘‘نامی حراستی کیمپوں میں قید میں رکھے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ''سیاسی نظریے کی جبری تلقین'' کے نام پر قائم ان حراستی کیمپوں کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھی چینی حکومت پر الزام عائد کیا ہے ۔ پہلی مرتبہ امریکا نے چین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ امریکی معروف اخبار ’’ نیو یارک ٹائمز ‘‘ نے امریکی اہلکاروں کے ذرایع کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چین میں ہزاروں ایغور اور دیگر اقلیتی مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں قید میں رکھنے پر تادیبی کاروائی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ سے موصولہ دیگر ذرائع کے مطابق ان کیمپوں کے انتظام و انصرام کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ جبکہ سیاسی تربیت کے نام پر ان کیمپوں کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع ہے۔ کیمپوں کے لیے دیواروں کے ساتھ خاردار باڑ، مخصوص کھڑکیاں اور سکیورٹی کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ معروف محقق ایڈریان زینس کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق کم سے کم دو لاکھ افراد کو ’’ذہنی تبدیلی ‘‘کے عمل سے گزرا جارہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ریڈیو فری ایشیا کے مطابق’ سیاسی تربیت کے ایسے کیمپوں میں ہزار وں لوگ بند کیے گئے ہیں۔جبکہ بیرون ممالک ایغور گروپوں کی بعض افشا ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ''سیاسی نظریے کی جبری تلقین'' کے اِن کیمپوں میں9 لاکھ کے قریب افراد کو قید میں رکھا ہوا ہے۔ امریکا کی جانب سے پہلی بار چین کے خلاف ان حراستی کیمپوں میں لاکھوں افراد کی جبری تربیت کی وجہ سے اقتصادیوں پابندیوں کے حوالے سے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ امریکا ، چین کو جاسوسی آلات کی ٹیکنالوجی کی فروخت پرکمی کرنے کا بھی ارادہ رکھتاہے۔ امریکا گمان کرتا ہے کہ چین کے سیکورٹی ادارے اور دیگر ادارے سراغ رسانی کے ان آلات کو ایغورمسلمانوں کے خلاف نگرانی کے لئے استعمال کررہی ہیں۔

اگست2018میں اقوام متحدہ میں انسانی حقو ق کی انسداد نسلی تفریق کمیٹی کی رکن جائے مکڈوجل نے الزام لگایا ہے کہ’’ چین نے 10لاکھ مسلمانوں کو ''سیاسی نظریے کی جبری تلقین'' کے خفیہ حراستی کیمپ میں قید کیا ہوا ہے ۔ کمیٹی کے مطابق چین نسلی تفریق کا یہ معاملہ مسلم اقلیت ایغورکے خلاف پیش آیاہے‘‘۔ایغوروں کا شمار چین میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ ایغورمسلمانوں کے آبائی سنکیانگ علاقے میں کیمپ نما علاقے میں قید میں رکھے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔ فرانس 24ویب سائٹ نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی کو چین کے مذکورہ علاقے میں مسلم اقلیت کو حراست میں رکھنے سے متعلق بہت ساری معتبر رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔ کمیٹی نے بتایا کہ’’ تخمینہ ہے کہ 20لاکھ ا یغورمسلمانوں کو اب بھی سیاسی اسباق دینے والے کیمپوں میں ان کی مرضی کے خلاف حراست میں رکھا گیا ہے‘‘۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ’’اُنہیں بہت سی مصدقہ رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ چین میں ا یغور اقلیت کے تقریبا دس لاکھ افراد کو ایک بہت بڑے خفیہ حراستی کیمپ نما مقام پر تحویل میں رکھا گیااور اب بھی20لاکھ افراد حراست میں ہیں‘‘۔خاتون رکن نے بتایا کہ ''ہمیں اس بارے میں موصول ہونے والی باوثوق رپورٹوں نے گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ چین نے ایغور کے خود مختار علاقے کو ایک بہت بڑے تربیتی کیمپ جیسی شکل دے دی ہے اور مذہبی، شدت پسندی کے انسداد کے نام پر اس علاقے کو ''No Rights Zone'' شمار کر کے اسے مکمل طور پر مخفی رکھا گیا ہے''۔ادھر اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ''ہم چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس پالیسی کو ختم کرے جس کے برعکس نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ساتھ ہی تمام جبری گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کرے''۔چین میں انسانی حقوق کے دفاع کی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ’’ 2017ء میں چین میں ہونے والی مجموعی گرفتاریوں میں 21 فیصد سنکیانگ کے علاقے میں ہوئیں‘‘۔ جبکہ جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے سفیر یوجیان ہووا کا کہنا ہے کہ ’’ان کا ملک تمام نسلی جماعتوں کے درمیان مساوات اور یک جہتی کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے‘‘۔تاہم جائے مکڈوجل نے باور کرایا ہے کہ ’’چین میں ا یغور اقلیت اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ اُن کی نسلی اور مذہبی شناخت پر ''ریاست کے دشمنوں'' جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ مصر اور ترکی سے واپس آنے والے 100 ایغور طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا جن میں سے بعض دوران حراست فوت ہو گئے‘‘۔اقوام متحدہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی ایک واتیما بنتا داہ نے چینی وفد سے استفسار کیا کہ ''چین میں اس وقت ایغور اقلیت کو حاصل مذہبی آزادی کی سطح کیا ہے اور اپنے مذہب پر عمل کے حوالے سے اُنہیں کتنا قانونی تحفظ حاصل ہے؟''
چین کے سرکاری اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ کا کہنا ہے کہ’’ سنکیانگ کے خطے میں استحکام بے حد مشکل سے آیا ہے اور مغربی ممالک اس استحکام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اخبار کے مطابق اگر اس خطے میں شدت پسندی زور پکڑگئی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں اور انسانی جانوں کو بہت بڑے پیمانے پر خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق چین کی پالیسی بالکل درست ہے کیونکہ اس خطے میں سکیورٹی کریک ڈاؤن نے ہی سنکیانگ کو ’’چین کا شام‘‘ یا ’’چین کا لیبیا‘‘ بننے سے روکا ہے‘‘۔اگست2018میں ایک تشویش ناک خبر سامنے آئی تھی جس نے ایغور مسلمانوں کے انسانی و مذہبی حقوق کے حوالے سے چینی حکومت پرسوالیہ نشان کھڑا کردیا تھا ۔ چین کے مغر بی نیم خود مختار علاقے ننگِ شا کے ہوئی نسل کے مسلمانوں نے وائی ژُو شہر کے مشہور قدیمی مسجد کو گرانے کے لئے 3اگست کو مسجد کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا تھا ۔ جس پر ہزاروں مسلمانوں نے مسجد کے باہر دھرنا دے کر انہدام کے خلاف احتجاج کیا ۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق مسجد کی تعمیر کی حوالے سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا ۔ مسجد انہدام کا معاملہ اس وقت حساس ہوا جب مسلمانوں کوکہا گیا کہ مشرق وسطی کی مساجد کی طرز کے بجائے مسجد کے گنبد کو ’’ پگوڈا‘‘ کے دائرہ نما گنبدوں کو تبدیل کردیا جائے ۔ مسجد اانتطامیہ نے اس س تجویز کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سرکاری طور پر چینی حکومت کا دعوی ہے کہ عوام کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی جانب دارنہ سوچ کی وجہ سے چینی حکومت نے بھی اپنی مملکت میں مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت سکیورٹی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ۔ بالخصوص صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلم آبادی کو سخت سکیورٹی انتظامات کا سامنا ہے۔چین میں رہنے والے مسلمانوں پر چینی فوج کے رویے پر برطانیہ کی حکومت بھی تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔خاص طور پر چین کے صوبہ سنکیانگ میں متعدد افراد کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لیے جانے کے معاملات سامنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اپریل2017میں سنکیانگ کی صوبائی حکومت نے ایغور مسلمانوں پر مختلف پابندیوں عائد کی تھی۔ مردوں پر لگائی گئی سب سے نمایاں پابندی کہ وہ اپنی ’داڑھیاں غیر معمولی طور پر نہ بڑھائیں‘۔ خواتین پر نقاب پہننے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ خاص طور پر ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں جیسے عوامی مقامات میں حجاب یا برقعہ کرنے والی خواتین کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے اور فوراً پولیس کو مطلع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔حکام نے ایسے لوگوں کے لیے انعام کا اعلان کر رکھا ہے، جو لمبی داڑھیوں والے نوجوانوں یا ایسی مذہبی روایات کی پاسداری کی اطلاع دیں گے، جس میں انتہا پسندی کا پہلو نکل سکتا ہو۔ اس لئے لمبی داڑھی رکھنے، ریاستی پراپیگنڈے کو ’رَد کرنا‘،گھر سے باہر نقاب پہننے اور سرکاری ٹی وی چینل دیکھنے اور ملازمتوں میں ہن نسل کو ترجیح دیئے جانے جیسے بنیادی حقوق کی خلاف وزری کے معاملات سامنے آچکے ہیں ۔ جبکہ 2014 میں رمضان کے دوران مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر بھی پابندی عائد کر نے کی خبریں آنے پر بھی مسلمانوں میں سخت تشویش پائی گئی تھی ۔ گو کہ چینی حکومت نے ایسی اطلاعات کی تردید کی تھی لیکن بغداد جیسا دارالحکومت دیکھنے والے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں پر چینی فوج کی سخت نگرانی کی خبروں اور سخت ترین مشقتی مشقوں میں جبراََ شمولیت کو یقینی بنانے میں کوئی مبالغہ آرائی شامل نہیں ہے۔

مشکوک افراد کے خلاف چین کے جاسوسی اداروں کا رویہ عالمی ذرایع ابلاغ میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایغورمسلمانوں کو مقامی حکومت کی جانب سے جبراََ ڈی این اے ٹیسٹ ، موبائل فونز کی چیکنگ، مملکت کے خلاف تنقید اور اسلامی شعائر کے خلاف جانب دارانہ رویوں کی شکایات عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ چین کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ چین نے حال میں دنیا بھر میں ہونے والے شدت پسند حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسلامی شدت پسندوں کو چین کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

پاکستان سمیت کئی مسلم اکثریتی ا یغور مسلمانوں اور سنکیانگ انتظامیہ کے درمیان تصادم اور ا یغور مسلمانوں کی تہذیب سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں ایغورمسلمانوں کے حوالے سے چینی حکومت کے اقدامات کی اطلاعات و دیگر خبروں کو بہت کم موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح فلسطین ، مقبوضہ کشمیر ، عراق ، شام اور میانمار سمیت دیگر ممالک میں مسلمانوں یا اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی سماجی، مذہبی تنظیموں کی جانب سے احتجاج میں ایغور کے مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی آزادنہ فراہمی کے لئے موثر آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ سنکیانگ میں انتظامیہ اور مقامی ایغور اصل میں مسلمان ہیں لیکن تہذیب کے اعتبار سے وہ خود کو وسطی ایشیا کے ممالک سے نزدیک سمجھتے ہیں۔صدیوں سے اس علاقے کی معیشت کاشتکاری اور تجارت پر مبنی رہی ہے۔ یہاں کے قصبے مشہور شاہراہِ ریشم کے اہم مراکز رہے ہیں۔20ویں صدی کے شروع میں ایغوروں نے کچھ عرصے کے لیے آزادی کا اعلان کر دیا تھا، لیکن 1949 میں کمیونسٹ چین نے اس علاقے پر پوری طرح قبضہ کر لیا۔

چین کا موقف یہ ہے کہ رابعہ قدیر سمیت کئی جلاوطن رہنما امن و امان میں خرابی کا سبب بن کر مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔جبکہ بعض سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں میں آہستہ آہستہ ایغوروں کی مذہبی، معاشی اور تہذیبی زندگی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ایغور مسلمان چینی حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں سنکیانگ میں ہونے والے مظاہروں اور اس کے بعد 2008 میں بیجنگ اولمپک کے دوران حکومت نے انھیں دبانے کی مہم اور تیز کر دی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دہائی میں اہم ایغور رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا گیا یا ان پر شدت پسندی کے الزامات لگائے جانے کے بعد انھوں نے دوسرے ممالک میں پناہ لے لی۔چینی حکومت کا نکتہ نظر یہ ہے کہ ایغورشدت پسند ملک سے الگ ہونے کے لیے بم حملے، بدامنی اور توڑ پھوڑ کی کی تحریک چلا رہے ہیں۔حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ میں نائن الیون حملے کے بعد چین میں ایغور علیحدگی پسندوں کو القاعدہ کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چینی حکومت ایغورکے حوالے سے کئی رہنماؤں کو جہاں شدت پسند قرار دیتے ہیں تو ان پر افغانستان میں تربیت حاصل کرنے کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔ صرف سنکیانگ میں مسلمانوں کی تعداد 80لاکھ سے زائد ہے۔ ایغور ترک زبان بولنے والی اقلیت ہے، جس کے زیادہ تر ارکان قدرے معتدل اسلام پر عمل پیرا سنی مسلمان ہیں۔11ستمبر2003میں چین کے شمال مغربی صوبہ سنکیانگ میں حکام کا بیان سامنے آیا تھاکہ صوبے میں علیحدگی پسند عناصر کو بیرون ملک سے امداد بھی مل رہی ہے۔سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری وینگ لیکوان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت علیحدگی پسندوں کے خلاف جاری لڑائی میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے لیکن بیرون ملک سے آنے والی امداد اور تربیت سے ان کا کام اور مشکل ہو رہا ہے۔ان دنوں علیحدگی پسند تحریک چلی تھی جس میں صوبے کے تقریباََ 200افراد جاں بحق ہوگئے تھے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شمال مغربی صوبے میں مسلمانوں کی تعداد نصف سے زیادہ ہے ۔ مقامی مسلم آبادی ، مقامی انتظامیہ پر الزام لگاتی ہے کہ ’’ تبت ‘‘ کی طرز پر انہیں اقلیت میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جب کہ ان کی اپنی تہذیب و ثقافت ہے۔

جولائی 2009میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے۔ ایغور مسلمانوں اور ہن نسل چینیوں کے درمیان فسادات میں 150سے زاید افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔ ایغور مسلمانوں کی خواتین نے شہر کے ایغور علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بہتبڑی تعداد میں حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیاتھا ،جواباََ ہن چینیوں نے شہر کی سڑکوں پر جلوس نکالا اور ایغور مسلمانوں کی دکانوں کے شیشے توڑ دیئے اور سٹالوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ مظاہرین ایغور مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور وہ گھریلوں ساخت کے ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ ہن چینیوں کے اس جلوس کو ایغور آبادی والے حصوں اور بازاروں میں جانے سے روکنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اہلکار نوی پلے اور امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے دونوں اطراف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا گیا تھا۔

چین اس خدشات میں مبتلا ہے کہ 2009میں اُرمچی علاقے میں نسلی ہنگاموں کے بعد سنکیا نگ میں بھی بڑے پیمانے پر پُر تشدد ہنگاموں کی وجہ سے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ حکومت سنکیانگ میں جبر کی پالیسیاں اختیار کرنے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اُن بھاری فنڈز کو نمایاں کرتی ہے، جو معدنی وسائل سے مالا مال اس خطّے کی اقتصادی ترقی کے لیے خرچ کی جا رہی ہیں۔ چین کی نسلی پالیسیوں کے ایک ماہر جیمز لائی بولڈ کے مطابق’’ سنکیانگ میں سکیورٹی کے اقدامات لوگوں اور خیالات کے بہاؤ کو روکیں گے اور یوں ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ پروگرام کے خلاف جاتے ہیں‘‘۔

اس حوالے سے چینی حکومت کی جانب سے سنکیانگ میں مسلمانوں کی جبراََ از سر نو ’’ ذہنی تربیت ‘‘ کے انہیں کیمپوں میں بند کرنے کے اقدامات منظر عام پر آئے ہیں ۔ معروف محقق ایڈریان زینس کے مطابق 2لاکھ سے زائد مسلمانوں کو کیمپوں میں ذہنی تربیت کے نام پر حراست میں رکھا گیا ۔ اسی طرح یہ اطلاعات بھی سامنے آئی کہ چینی حکام ایغورمسلمانوں کو سفری پاسپورٹ جاری کرنے سے قبل ان کے ڈی این اے کے نمونے کا ریکارڈ بھی رکھتی ہے۔ ایڈریان زینس کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کو جبر کے حالات کا سامنا ہے اور اس تناظر میں حکومت نے کیمپوں کو تین مختلف سطحوں پر قائم کر رکھا ہے۔ ان کیمپوں کو دیہات، قصبے اور شہر کے لیول پر قائم کیا گیا ہے۔ ان میں رکھے جانے والے افراد کے ساتھ سلوک بھی اُن کے عقائد کی شدت کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ ان کیمپوں سے مقامی حکومت بیجنگ کو ایسا تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

بلاشبہ چین پاکستان کا ایک معتبر اور قابل اعتماد پڑوسی ملک ہے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کو ناکام بنانے میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ سی پیک ( ون بیلٹ ون روڈ) منصوبہ جہاں چین کی جانب سے عظیم تر معاشی منصوبہ ہے تو اس کی کامیابی کا تمام تر دارو مدار پاکستان کی جانب سے ملنے والی راہداری کی وجہ سے ممکن ہے ۔ لیکن ان تمام ملکی مفادات سے ہٹ کر با حیثیت مسلم قوم دنیا میں کہیں بھی مسلم امت کے ساتھ زیادتی اور جانب دارانہ اقدام برتا جاتا ہے تو امت مسلمہ سراپا احتجاج بن جاتی ہے۔ ایغورمسلمانوں کے حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ باعث تشویش ہے۔ خاص طور پر نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے چین کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی خبر نے تحفظات میں اضافہ کردیا ہے کہ اگر سنکیانگ اور دیگر شمال مغربی علاقوں میں ایغور مسلمانوں کو جواز بنا کر امریکا نے اقدام اٹھا لیا تو جہاں چین۔ امریکا تعلقات میں تلخیاں بڑھ جائیں گی تو دوسری جانب امریکا کی کوشش ہے کہ وہ شمالی مغربی صوبے میں مسلم علیحدگی پسندوں کی جنگ میں پاکستان ، مسلح جنگجو گروپس بنا کر شامل کرائے ، اس منصوبے سے امریکا کے فروعی مفادات تو شائد پورے ہوسکتے ہیں لیکن اس کا نقصان ایک نئی جنگ کی صورت میں امریکا کو بھی اٹھانا پڑے گا ۔

چین کے شمال مغربی صوبے کے داخلی معاملات چینی حکومت کا اندرونی معاملہ ہے لیکن چین کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ نسلی اور مذہبی شناخت پر ''ریاست کے دشمنوں'' جیسا برتاؤ کے مفروضے پر جبری حراست ، اسلامی شعائر ،( داڑھیاں، روزہ ، حجاب ) پر پابندیاں مساجد کے انہدام ، یا پھر نقشے میں جبری تبدیلی کے لئے دباؤ سمیت دیگر حساس معاملات میں احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔جس طرح چین کے لئے ون بیٹ ون روڈ منصوبہ اہم اور ناگزیر ہے اسی طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے کسی بھی ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ نسلی اور مذہبی شناخت پر ''ریاست کے دشمنوں'' جیسا برتاؤ نا قابل قبول ہوگا۔چینی حکومت کو مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے واضح اقدامات کرنا ہونگے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں مسلمانوں کے خلاف نسلی و مذہبی امتیازی سلوک کی رپورٹس کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ۔بلا شبہ دنیا بھر میں شدت پسندی ، انتہا پسندی کے عفریت نے کسی بھی ملک کو محفوظ نہیں رکھا ہوا ، لیکن مخصوص نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں سے جانب داری کا تاثر ابھرتا ہے۔ خاص طور پر پاک۔ چین دوستی متعدد ممالک کی نظروں میں بری طرح کھٹک رہی ہے ۔ چین کو اقوام متحدہ کی کمیٹی کی رپورٹ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ امت مسلمہ کے تحفظات دور کرنے کے اقدامات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan Yousuf Zai

Read More Articles by Qadir Khan Yousuf Zai: 371 Articles with 144391 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Oct, 2018 Views: 348

Comments

آپ کی رائے