مسئلہ کیا ہے بھائی؟

(Kanwal Naveed, Karachi)

ملتا وہی ہے جو کچھ ہم دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارا اپنا آپ ہی ہمارے پاس لوٹتا ہے۔

سچ سنا ہے تو ،بُرا بھلا کہتا ہے ہمیں۔
ملنے کی سرشاری و مزا سارا بھول گیا۔
پیٹ میں مڑور جو اُٹھے تو روتا ہے اب۔
وہ انگلیاں چاٹنے کا مزا سارا بھول گیا۔
کبھی کبھی کچھ باتیں تکلیف دہ ضرور ہوتی ہیں مگر سمجھ جانے کے بعد انسان ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بے وقوفی کو تسلیم کر لیتا ہے ۔ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔فسٹ ایر میں اسے ذرا ذرا سی غلط فہمی ہوئی کہ نائلہ اسے پسند کرتی ہےپھر سیکنڈ ایر میں تو اسے یقین ہی ہو گیا کہ ہو نہ ہو وہ دل ہی دل میں اسے چاہتی ہے۔ اسی لیے تو کینٹین میں اس کے لیے جگہ چھوڑ دیتی ہے۔ نظر ملنے پر نظر جھکا دیتی ہے۔ جب دوستوں میں تذکرہ ہوتا تو عدیم فخر محسوس کرتا۔ دوست بھی بڑھا چڑھا کر محبت کوبیان کرتے ۔ آج تو نائلہ نے ایک نظر دیکھا ہے چل ٹریٹ دے۔ آج تو نائلہ تیرے قریب سے گزری ہے چل کچھ منگوا۔ مڈل کلاس بندے کے مڈل کلاس دوست کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ عدیم بھی اپنی جمع پونجی دل کھول کر اپنے کنگلے دوستوں پر خرچ کرتا ۔ نام نائلہ کا اور کام نااہلوں کا۔ بس یہی سلسلہ چل نکلا تھا۔
ایک دن وہ ہوا جو ہونا نہیں چاہیے تھا۔ عدیم نے ہمت باندھی اور نائلہ سے بات کرنے کی سوچی ۔ خوداعتمادی اس کے نااہلوں نے سموسوں کے ساتھ چٹنی کھا کر اس قدر بھری تھی کہ اسے لگا آج نہ کہا تو جذبات کہ قہ ہی نہ ہو جائے سو اس نے اپنے دل کو تھاما اور سیدھا نائلہ کی طرف چل پڑا بُرا یہ ہوا کہ کسی کمبخت نے کیلے کا چھلکا راستے میں پھینکا ہوا تھا۔ عدیم کی نظر نائلہ پر تھی،اس کا پاوں پھسلا اور سیدھا نائلہ کہ پاوں میں جا گرا۔
بہت سے فلمی سین اس کی نظر میں گھوم گئے جہاں ہیرو ،ہیروین کے اوپر جا گرتا ہے ۔ یہاں مگر معاملہ ذرا سا مختلف تھا۔ ہیرو نے کیلے کے چھلکے کا کچومڑ نکال دیا مگر ہیروین کے جوتے تک سے نہ ٹکرا سکا۔انتہائی شرمندگی سے اس نے نظریں اُٹھا کر نائلہ کو دیکھا۔ یہ نام بھی اس کے کان میں اتفاق سے چلا گیا تھا جب اس کی دوست اسے پکار رہی تھی۔
نائلہ اور اس کی دوستوں نے ایک مسکراہٹ بھری نظر اس پر ڈالی اور اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی مگر اس کی مسکراہٹ اس کے گھٹنوں میں ٹھہر سی گئی۔ اس نے دل ہی دل میں شعر دہرایا۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
اسے خبر نہیں تھی کہ ہونے کیا والا تھا۔ وہ اپنے آپ کو رگڑتا ہوا دوبارہ نائلہ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ کس طرح دو سال سے اسے دیکھ دیکھ کر اور اس کے نام کی پارٹیاں دے کر دن گزار رہا تھا۔ ابھی وہ نائلہ کے سامنے کھڑا ہوا ہی تھا کہ نائلہ نے راستہ بدلنے کی سوچی ، اس نے دوبارہ اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننے کی کوشش کی ۔ اس کی حرکت نائلہ کو ناگوار گزری۔ اس نے گھور کر پوچھا ۔ کیا مسلہ ہے بھائی ۔ ہم نے چھلکا نہیں پھینکا۔
چھلکا ۔عدیم گویا بھول ہی چکا تھا کہ ابھی بھی وہ سجدہ ریز کیوں ہوا تھا۔ اس نے غور کرتے ہوئے اپنے ناتواں ذہین کو تکلیف دی۔ جو نائلہ کہ ہوتے ہوئے کسی اور چیز کو سوچنے سے انکار کر رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ کوئی بات نہیں ۔ نائلہ نے تعجب سے عدیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ بھائی آپ ہمارا راستہ پھر کیوں روک رہے ہیں ۔ ہم نے چھلکا نہیں پھینکا ۔ عدیم نے تھوک کو نگلا اور بالوں میں زرا سٹائل سے ہاتھ پھیر کر کہا۔ وہ مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا۔ اس نے نظریں نائلہ پر یوں پیوست کی کہ نائلہ نے دوپٹہ کو درست کرتے ہوئے کہا۔ کیسی بات ؟
نائلہ کی دوستیں بھی تعجب سے دیکھنے لگی۔ عدیم نے دوستوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ صرف آپ سے بات کرنی ہے۔ نائلہ نے لہجے میں سختی لاتے ہوئے کہا۔ بھائی ،مجھے کوئی بات نہیں سننی ۔ وہ لگا تار اسے بھائی کہہ رہی تھی مگر اسے وہ لفظ سنائی نہیں دے رہا تھا جو وہ سننا نہیں چاہتا تھا۔ عدیم نے پھر دھیرے سے کہا۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ آپ مجھ سے پیار کرتی ہیں ۔ نائلہ نے ہنس کر کہا۔ یہ غلط فہمی انہیں کیونکر ہوگئی۔ عدیم نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ آپ ہمیشہ کینٹین میں مجھے دیکھ کر ہٹ جاتی ہیں نا۔ آپ کا یوں جگہ چھوڑ دینا ۔ ۔۔۔۔۔ نائلہ لگاتار ہنسنےلگی ۔ اسے ہنستا دیکھ کر عدیم کچھ شرمندہ سا ہو گیا۔ نائلہ نے کچھ دیر ہنسنے کے بعد کہا،میں تو مچھر کو دیکھ کر بھی جگہ چھوڑ دیتی ہوں ۔ اس کا مطلب اس سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔عدیم نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ وہ ۔وہ کہتے ہیں کہ آپ میری طرف دیکھتی ہیں ،جیسے ہی میں دیکھتا ہوں تو نظریں نیچی کر لیتی ہیں ۔ لڑکیاں نظر اسی کو دیکھ کر جھکاتی ہیں جس سے انہیں محبت ہوتی ہے۔نائلہ نے تلخی سے کہا۔ یہ لڑکیاں کس طرح اور کیسے محبت کرتی ہیں ، اس کے علاوہ بھی تم لوگ کسی چیز پر سرچ کرتے ہو۔ الو کہیں کے۔الو تو پھر پیارا ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو تو اُلو کہنا اُلو کی توہین ہے۔نائلہ نے دھیرے دھیرے مذید کچھ بھنبھنایا مگر وہ عدیم کی سمجھ میں نہ آیا ، اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ اچھی باتیں نہیں کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نائلہ جا چکی تھی۔ وہ وہیں ساکت کھڑا اس کے الفاظ کو بار بار دہرا رہا تھا۔ جیسے کوئی میتھ کا سوال سمجھا کر گئی ہو ۔ سمجھ آنے کے بعد بھی دماغ اس کا اعادہ کرتا رہے۔
عدیم کے دوست اس کے گرد گول دائرہ میں کھڑے تھے۔ سب کے سب یہی جاننا چاہتے تھے۔ بھابھی نے کہا کیا؟ عدیم سوچ رہا تھا کہ سچ بولے یا پھر ہمیشہ کی طرح اپنے جمع کردہ پیسوں کو ان نام نہاد دانشوروں کے اوپر خرچ کر دے ، جن کو یقین تھا کہ نائلہ ان کے دوست پر فدا ہے۔ عدیم نے دل ہی دل میں سوچا پہاڑ میں جائے ایسی سچائی جو عزت کا فلودہ کر دے ۔ان کو آج فلودہ ہی کھلا دیتا ہوں۔ وہ چپ چاپ تھا ۔ دوست اسے گدگدا رہے تھے۔ اپنے ہاتھوں سے نہیں الفاظ سے۔ کہاں ملنے کا پرو گرام بنا۔ کہا کیا بھابھی نے۔ فون نمبر لیا۔ ایک نے تو حد کر دی۔ عدیم یار وہ جو کیلے کا چھلکا تھا ، اس کی منصوبہ بندی تو نے کہاں کی۔ عدیم کو اپنے گھٹنوں میں درد محسوس ہوا۔ دل کا درد مگر کچھ ذیادہ تھا۔اس کے جذبات اب کڑوی سی دوا میں تبدیل ہو چکے تھے۔ جس سے اس کو ہوش محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اپنے دوستوں سے کہا۔ یار اس سے بات کر کے لگا وہ میرے مطلب کی نہیں ۔ ۔۔۔سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا؟
عدیم نے افسردگی سے ان کی طرف دیکھا اور کہا۔ یار وہ کہہ رہی تھی اس کا نکاح ہو چکا ہے ۔دوسرے کی بیوی کو دیکھنا بھی میں گناہ سمجھتا ہوں ۔کاش کہ پہلے پتہ ہوتا ۔ کاش۔ اس کے دوست خاموش تھے ۔عدیم نےمسکرانے کی کوشش کی اور دُکھی دل سے بولا ۔۔۔چلو یہ سلسلہ ختم ہونے کی خوشی میں تمہیں آخری ٹریٹ دیتا ہوں ۔ اس کے سب دوست چلائے۔ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ ویسے بھی یار لڑکیوں کی کمی ہے ۔شیزادہ ہے شیزادہ۔ ۔ عدیم نے اس دانش ور کی طرف دیکھا۔ آج جب عدیم گھر جا رہا تھا تو وہ راستے میں آنے والے درختوں کو بے اختیار گھورتا اگرچہ اس نے اُلو دیکھا ہوا تھاپھر بھی نہ جانے کیوں نظر درخت کی طرف چلی جاتی۔ نائلہ کی آواز اس کے کان میں بار بارسنائی دے رہی تھی۔تم لوگوں کو اُلو کہنا اُلو کی توہین ہے۔ دوسال کے عرصے میں اس نے جو امیدیں نائلہ سے لگا رکھی تھی۔ سب کی سب ایک سوال نے ختم کردی۔ اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ اس سے کہے گی، مسلہ کیا ہے بھائی۔ اس نے اداسی سے ایک لمبی آہ بھری۔وہ بس سے اتر کر دھیرے دھیرے بھاری قدموں کے ساتھ چل رہا تھاکہ ایک لڑکی نے پیچھے سے اس کے سامنے آتے ہوئے کہا۔ بھائی گاڑی کا ویل بدلنے میں میری مدد کریں گئے۔ اسے نائلہ کا بھائی کہنا یاد آیا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ،غلط نائلہ نہیں تھی۔ میں غلط تھا۔ یہ لڑکیاں کس طرح ہر لڑکے کو بھائی کہہ دیتی ہیں ،سمجھ لیتی ہیں مگر ہم لڑکے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم لڑکی کو بہن نہیں بنا پاتے ، وہ چپ چاپ اس لڑکی کے پیچھے پیچھے چل دیا تا کہ اس کی مدد کرئے۔
اس کے دوست اسے کالج میں آنے والی نئی لڑکی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ اب اُلو بننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے اس خوبصورت لڑکی کے پاس سے گزر جانے کے بعد مسکرا کر کہا ،نہیں یار مجھے پسند نہیں آئی۔ اب مجھے اس چکر میں نہیں پڑنا۔ پڑھائی پر دھیان دیتے ہیں ، اگر کسی قابل بن گئے تو خوبصورت لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے۔ کوئی نہ کوئی ضرور مل ہی جائے گی۔ عدیم کے دوستوں نے زبان ہونٹوں پر پھیری ۔ وہ مسکراتا ہوا لائبریری چلا گیا۔وہاں بیٹھ کر اس نے پڑھنے کی ناکام کوشش کی۔ کتابوں کو دیکھتے ہوئے ۔اس کی نظر ایک کتاب پر پڑھی ،جس پر محبت کی نفسیات لکھا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ،کیا محبت کی بھی نفسیات ہوتی ہے۔
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر ہلکی سی آواز نے وٹس ایپ میسج شو کیا۔ کسی نے ویڈیو بھیجی تھی ۔ اس نے ہینڈ فری لگایا اور ویڈیو دیکھنے اور سننے لگا۔ ویڈیو اپنی ذات پر فوکس کرنے سے متعلق تھی۔ وہ ہنسا اور دل ہی دل میں سوچا ہم سب جانتے ہیں مگر ہم جانتے بوجھ کر انجان بن جاتے ہیں تا کہ خود کو خوشی دے سکیں ۔ اگرچہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ نائلہ کو دیکھنا ، اسے گھورنا کسی لحاظ سے مناسب نہیں تھالیکن وہ ایسا کرتے ہوئے اپنے دل کو تسلی دے دیتا کہ وہ کوئی غلط کام تھوڑا ہی کر رہا ہے۔ اس کے دوستوں نے جب اسے ایسا کرتے دیکھا تو کسی ایک نے بھی اسے اس غلط کا م سے نہیں روکا۔وہ بھی اس کی طرح جانتے بوجھتے اپنے نفس کی تسکین کر رہے تھے۔ ہم سب یہی تو کرتے ہیں ۔ اپنا جائزہ لینے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا اور ہم دوسروں کی نظروں ، مسکراہٹ اور چال تک کا تجزیہ کرنے میں فقط چند منٹ لگاتے ہیں ۔ اس نے افسردگی سے ایک آہ بھری ۔ہم اپنے ساتھ ایک مدت سے ہوتے ہیں مگر ہم اپن جذبات کو اپنے احساسات کو نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ہی درست کرنے کی کوئی فکر کرتے ہیں ۔ ہمیں ہمیشہ دوسروں کی فکر لگی رہتی ہے۔ پچھلے سال سے جب بھی وہ شیشے میں کالج آنے سے پہلے خود کو دیکھتا تو یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیسا لگ رہا ہے بلکہ وہ یہ تصور کرتا کہ نائلہ اس کو دیکھ کر کیا کہے گی۔ اس نے اپنی انکھوں کو بند کرتے ایک لمبی آہ بھری۔ میں کیسا بے وقوف تھا۔ میرے دوست بھی ساری سچائی سمجھتے ہیں پھر بھی انہوں نے بھی جھوٹ بولا ۔ میں نے بھی جھوٹ بولا۔ ملتا وہی ہے جو کچھ ہم دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارا اپنا آپ ہی ہمارے پاس لوٹتا ہے۔ کافی وقت گزر چکا تھا ،وہ لائبریری سے اُٹھ کر باہر آ گیا۔ اس کے دل میں بار بار یہی الفاظ آ رہے تھی۔ یہی ہمارا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔ خود کو چھوڑ کر سب پر نظر رکھنا اور جھوٹ بولنا کہ ہم دوسروں کے دل کی بات جانتے ہیں جبکہ خود کو بھی نہ جاننے والا کسی دوسرے کو خاک جانے گا۔
اس کی نظر لائبریری سے لوٹتے ہوئے ،جب بھی کسی لڑکی پر پڑتی تو اس کے کانوں میں گونجنے والی آواز اسے نظر جھکانے پر مجبور کر دیتی۔ وہ اپنے پیروں کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک لڑکے سے ٹکرا گیا۔ اس لڑکے نے غصے سے کہا۔ مسلہ کیا ہے بھائی۔ اس کا جی چاہا کہ ایک مکا اس کے منہ پر مارتے ہوئے کہے ،میں نہیں دیکھ رہا تھا تو دیکھ لیتا لیکن آواز مردانہ تھی مگر الفاظ ،وہ ضبط کر کے رہ گیا۔اس کی پہلی محبت کی یاد گار فقط چند الفاظ ہی تو تھے،اُلو ۔ مسلہ کیا ہے بھائی؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182709 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
15 Oct, 2018 Views: 2135

Comments

آپ کی رائے