روٹی آسمان سے نہیں گرتی

(Kanwal Naveed, Karachi)

نام نہاد اچھائی کے ٹھیکے داروں سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔

جسم کو سونپ دیجئے غلامی میں خواہ
روح کی تجارت سے مگر آپ گریز کیجئے
کبھی توچھوڑنا جائز ہے کھانے کا پرہیز
لغو باتوں سے آپ ہر دم پرہیز کیجئے
جس طرح الٹے سیدھے کھانے جسم کے حدوخال کو بدل کر رکھ دیتے ہیں اسی طرح آپ کی روح پر اخلاقیات سے روگردانی اثر کرتی ہے۔ شکل و شباہت تو نظر آتی ہے مگر روح نہ نظر آنے کے باعث انسان اسے یکسر فراموش کر دیتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسم سے ذیادہ روح نظر آ رہی ہوتی ہے ، آپ کے کردار و اطوار کے طور پر۔ بہت سے لوگ جو ظاہر ی طور پر خود کو بہت بنا سنوار کر رکھتے ہیں ، اپنی روح کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں ۔ روح ایک شہد کی مکھی کی طرح ہوتی ہے ،جو انسان کی عدم توجہ سے مکھی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسے جہاں شہد جمع کرنا ہوتا ہے وہ گندگی جمع کرنے لگتی ہے۔ ہمارے ارد گرد باغ کم اور نالے ذیادہ ہیں ۔ ہمیں ہر دم چوکنا رہنا ہو گا۔

ہمارے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری روح کو سرشار کرتے ہیں ۔ اسے اچھائی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ کسی بچے پر ایک محبت بھری مسکان لٹا کر دیکھیں ۔ کسی کی مدد کر کے دیکھیں ، جو خوشی محسوس ہوتی ہے ، وہ آپ کوپیزا کھا کر بھی نہیں ہو گی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جسم الٹا سیدھا کھانے کے بعد اپنا آپ ظاہر کرنے لگتا ہے ۔ ہم رُک جاتے ہیں مگر روح ایک بار گندی ہو جائے ہوتی ہی چلی جاتی ہے۔ سمجھیں اس میں وہ سوراخ ہو جاتا ہے ،جو گندگی کو قبول کرنے لگتا ہے۔ اگر چوکنا ہو کر اس سوراخ کو رفو نہ کیا جائے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب مکمل روح بدل کر کچھ اور ہی ہو گئی۔ہم ان بُرائی کو بُرائی سمجھتے ہیں جو ہمیں پڑھا دی گئی ہیں ۔سچ میں بُرائی وہ ہوتی ہے جو کرنے کے بعد آپ کا اپنا آپ بتاتا ہے کہ یہ غلط تھا۔

بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں اچھائی کے لیبل سے بُرائی فروخت کر رہے ہوتے ہیں ۔ ان نام نہاد اچھائی کے ٹھیکے داروں سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔کہانی پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
راجکماری نے پوجا کے بعد اپنی ماں سے کہا۔ اماں بڑی مشکل سے کام ملا ہے مجھے ، جلدی روٹی دے دو۔مجھے جانا ہے۔ چودہ سال کی راجکماری دین دھرم بس اتنا ہی جانتی تھی جتنا اماں نے بتا دیا تھا۔ اس سے ذیادہ جاننے میں اسے دلچسپی بھی نہیں تھی ۔ اسے دلچسپی تھی تو فقظ اس تنخواہ کر رقم میں جو اسے پہلی کو ملتی ۔ جس سے اماں کی دوائیاں،چھوٹے بہن بھائیوں کا کھانا آتا تھا۔ جسم جب خوراک کا متمنی نہیں رہتا تو روح کو زبان ملتی ہے مگر دنیا میں نوے فیصد لوگوں کے جسم کی بھوک انہیں روح کی نہ سننے دیتی ہے ،نہ ہی ان کی روح میں اس قدر سکت باقی رہتی ہے کہ وہ روح کی سن سکیں ۔ یہ بھوک کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے۔

راجکماری روز اپنے کام پر جاتی اور شام کو چار بجے کے قریب واپس آ جاتی ۔ تھکی ہاری بستر پر پڑتے ہی سو جاتی ۔ پھر صبح اماں کو ایک پتھر کی مورتی کے آگے ہاتھ جوڑے دیکھتی ، اماں کے کہنے پر جلدی جلدی ہاتھ جوڑتی ماتھا ٹیکتی اور دوبارہ سے زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے بھاگ کھڑی ہوتی۔ مسلم گھرانوں کی عورتوں میں اکثر اس سے کپڑے ہی دھلاتی تھی۔ کچھ گھروں میں وہ جھاڑو پوچے کا کام بھی کرتی تھی۔ ایک دن وہ روتی ہوئی شام کو گھر آئی ۔ اماں نے پوچھا۔ کیا ہوا راجکماری ۔ اس نے روتے ہوئے کہا ۔اماں ہم ہندو کیوں ہیں ۔ ایسا سوال تھا کہ جس کا سوال اس کی اماں تو کیا کوئی بڑے سے بڑا دانشور نہیں دے سکتا تھا۔اس کی اماں نے اسے سینے سے لگا لیا کہ یہ ہی ہر اماں کا کام ہے۔ کوئی اماں ہندو ، مسلم ، سکھ یا عیسائی نہیں ہوتی ، وہ تو فقط اماں ہی ہوتی ہے۔

راجکماری جب جی بھر کر سینے سے لپٹے ہوئے رو چکی تو اس نے ناک صاف کر کے اپنا سوال دہرایا۔ اماں نے اپنی سمجھ کے مطابق بولا ۔ میری بیٹی ،میری ماں نے مجھے ہندو بنایا اور میں نے تجھے۔ کیوں روتی ہے۔ کیا ہوا۔ راجکماری نے کہا میرا کام چھوٹ گیا ۔میری مالکن کی دوست نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ اسے مالکن نے بتایا تھا کہ میں ہندو ہوں ۔ وہ مجھے کہنے لگی کہ تم جن بتوں سے ہاتھ جوڑ کر مانگتے ہو ،وہ کچھ نہیں دے سکتے۔ دینے والا تو رب ہے ،ہمارا اللہ ۔ سب کا رب وہی ہے۔ میں نے کہا،باجی مجھے کام کرنے دو ۔ مجھے گھر جلدی جانا ہے۔ اس نے میری طرف کراہت بھری نظروں سے دیکھا اور بولی جاو۔
میں غسل خانے کو صاف کرنے جا ہی رہی تھی تو وہ باجی بولی ۔ تم اس سے کیوں گھر صاف کرواتی ہو ،کوئی مسلم نہیں ملی۔اسی غسل خانے میں وضو کرتی ہو۔ وہیں یہ بھی ہاتھ دھوتی ہے۔ میری مالکن نے کہا۔ راجکماری اچھا کام کرتی ہے ۔ چھ ماہ سے میرے ساتھ ہے ۔ چور چکار بھی نہیں ۔ اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ہے تو ہندو ہی نا۔ دیکھا تم نے اللہ کا نام سننا بھی نہیں چاہا اس نے۔میں تو یہی کہوں گی بھئی کسی مسلم کو رکھ لو۔ اگر چاہو تو میں بھیج دو گی کل سے ۔ جو یہ لیتی ہے ،اُتنا ہی لے گی۔ ویسے بھی قرآن مجید میں ہے کہ کافر پلید ہوتے ہیں ۔

راجکماری نے اپنی اماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ہی تھا کہ اس کی چھوٹی بہن نے اماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اماں یہ پلید کیا ہوتا ہے۔ راجکماری کی اماں کی انکھوں میں آنسو تھے ۔ اس نے کہا،کوئی پلید نہیں ہوتا ۔ جا کر باہر کھیل ۔ اس نے راجکماری کو تسلی دی ،کوئی بات نہیں ۔ دینے والا اور کام دے دے گا۔ وہ جس نے پیٹ دیا ہے روٹی بھی تو دے گا۔ راجکماری نے چیخ کر کہا کیسے دے گا۔۔ ۔۔۔آسمان نے روٹیاں نہیں گرتی۔

راجکماری کی مالکن نے مریم کو کام پر رکھ تو لیا تھا مگر اس کا دلی سکون جاتا رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے راجکماری کو بنا بات کے سزا دی ہے۔ وہ نماز پڑھ رہی تھی مگر اس کا دھیان اپنے عمل پر تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد جب وہ کمرے میں آئی تو اس نے آ کر آئینہ دیکھا،اس کا چہرہ تو ویسے کا ویسا ہی تھا مگر اسے اپنی انکھوں سے افسوس چھلکتا ہوا دیکھائی دیا۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ کوئی انسان پلید نہیں ہوتا۔سیاق و سباق سے ہٹا ہر بیان کیے جانے والے الفاظ بے معنی ہوتے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اپنی دوست کے سامنے نیک ثابت ہونے کے لیے اس نے انسانیت کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ اس نے ایک گہری آہ بھری ۔انسان جب انسانیت سے گرتا ہے تو شروع شروع میں اسے ضمیر ملامت کرتا ہے ،روح تکلیف سے سٹپٹاتی ہے ۔ جیسے جیسے وہ گرتا چلا جاتا ہے تو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس نے کچھ غلط کیا بھی ہے کہ نہیں ۔ اپنی روح کو بچانے کے لیے ہر دم چوکنے رہیے۔

آپ کی نیکیاں جب ستانے کا باعث بنیں تو اپنے عمل پر نظر ڈالیں ، کہیں یہ نہ ہو کہ آپ جن کو اچھائی سمجھ کر فخر سے انجام دے رہے ہیں وہی آپ کی بُرائیاں لکھی جا رہی ہوں ۔ وہ رب جو ہر اچھے بُرے کو برابر ہوا فراہم کر رہا ہے تاکہ سانس لیتے رہیں تو اس کے غلام ہونے کے ناطے ہمیں بھی اپنی ذات کو وسعت دینی چاہیے۔ راجکماری ہو یا عائشہ انسان کو فقط انسان سمجھنا لازمی ہے۔
انسان انسان سے ہر حال میں جڑا لگتا ہے
انسان انسانیت سے گِرے تو بُرا لگتا ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 184767 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
19 Oct, 2018 Views: 3050

Comments

آپ کی رائے
kamaalll ka likha apne bohaaatttt acha likha asy hi likhte rahiye bht kamaal ka likhte hai time short hone ki waja se comments nh kar pati parhti sab ke hn ,,,,, :)
By: Zeena, Lahore on Oct, 22 2018
Reply Reply
0 Like