وہ بھول چکی ہے

(Arif Jameel, Lahore)
ابراہیم کو وہ کہہ رہی تھی کھڑکیوں کے جھروکوں۔۔۔۔ قسمیں وعدے بھی کیئے جاسکتے ہیں۔۔۔۔موبائل کا دور ہے۔۔۔۔ دوست نے بھی قہقہ لگایا۔۔۔۔

کھڑکی کے جھروکے سے موبائل تک

ابراہیم کو وہ کہہ رہی تھی کھڑکیوں کے جھروکوں سے اور دروازوں کی چوکھٹوں پر کھڑے ہو کر آنکھوں آنکھوں میں محبت کی رنگین شامیں تو گزاری جاسکتی ہیں اور آج کی طرح کسی بھی وقت موقعہ ملنے پر زندگی گزارنے کیلئے قسمیں وعدے بھی کیئے جاسکتے ہیں لیکن۔
لیکن کیا ؟ ابراہیم بولا۔ وہ بولی! اب موبائل کا دور ہے اور معاملات کھڑکی دروازوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔
ابراہیم حیرانگی سے بولا کیا مطلب؟
کہاں سے ایک اور گفتگو کرنے والا آیا ۔ جس نے پہلے ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کے ذریعے ایسے خوبصورت الفاظ میں پیغامات بھیجے کے دِل کے تار اُس سے جاملے اور پھر ایک ایسا شعر و شاعری کا سلسلہ چل نکلا جس نے دِل کی چوکھٹ پر یہ دستک دی کہ ابرہیم ایک اچھا لڑکا ہے لیکن تیرا پیا ر نہیں۔
چند سالوں بعد ابراہیم کے ایک دوست نے اُس لڑکی کو جدید دور کے ملبوسات میں زیب تن ایک شاپنگ مال میں موبائل پر باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔وہ قریب ہی تھا اور وہ لڑکی کسی کو کہہ رہی تھی "وہ بھول چکی ہے" ۔
ابراہیم کا دوست جانتا تھا کہ لڑکی نے کسی اور معاملے پر یہ جُملہ بولا ہو گا لیکن اُس نے فوراً ابراہیم کو جا کر بتایا کہ تم سارا دِن اُسکی یاد میں فیس بُک پر شعر و شاعری لکھتے رہتے ہو اور آج میں اُسکو کہتے سُنا " وہ بھول چکی ہے " ۔
ابراہیم جان گیا تھا کہ اُسکا دوست مذاق کر رہا ہے اس لیئے وہ ہنس دیا جسکو دیکھ کر دوست نے بھی قہقہ لگایا۔لیکن ابراہیم ہی اپنی ہنسی کی حقیقت جانتا تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 169980 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
20 Oct, 2018 Views: 3883

Comments

آپ کی رائے