سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

(Mona Shehzad, Calgary)

(آئینہ زندگی اور مونا شہزاد کی نظر )

زندگی کا نام پی سفر ہے۔اس سال جولائی میں، میں معمول کے مطابق اپنی جاب پر تھی ،اچانک والدہ کا فون آیا ان کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں، رات تک میں جہاز میں سفر کررہی تھی ،میرا سفر کا دور دور تک فوری ارادہ نہیں تھا مگر میں رات کے مہیب اندھیرے میں تنہا جہاز میں موجود تھی۔کیلگری ائیر پورٹ پر میرے میاں اور بچے پیچھے اکیلے رہ گئے تھے اور میں اپنی منزل کی طرف اکیلی رواں دواں تھی۔میں نے غور سے دیکھا بیشتر لوگ جہاز میں سو رہے تھے ، میں اپنی سوچوں میں گم سوچ رہی تھی۔اس وقت ایک خلا ہے جس میں ہم موجود ہیں نہ زمین ہے ،نہ آسمان ہے۔ میں آس کی ڈور پکڑے سفر کررہی تھی۔میں ٹورنٹو ائیرپورٹ پر اتری تاکہ کنکٹنگ فلائٹ connecting flightلے سکوں۔۔میں نے اردگرد دیکھا ،لوگوں کا اژدھام تھا،کچھ چھٹیاں گزارنے جا رہے تھے،کچھ فکر و کرب میں مبتلا تھے۔ہر چہرہ ایک کہانی تھا، میں الوک نگری میں چہرے پڑھنے پر مامور تھی۔خوش چہرے، مسکراتے چہرے، روتے چہرے،،بیزار چہرے، تھکے ہوئے چہرے۔میری نظر ایک پاکستانی لڑکی پر پڑی وہ ائیر پورٹ لاونج میں بیٹھی روتی جاتی تھی،اس کی گود میں شیر خوار بچہ تھا،اس کا شریک حیات اس کو کان میں تسلی دیتا۔میرا دل مٹھی میں آگیا، میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولی:
"شیر خوار بچہ گود میں لے کر غم کررہی ہو۔اللہ سے مدد مانگو۔"

اس نے تعجب سے مجھے دیکھا مجھے احساس ہوا میں خود رو رہی تھی ۔میں اسے چھوڑ کر آگے چل پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا اس کا رونا رک گیا تھا ۔اس کی نگاہیں مجھ سے ملیں تو وہ مسکرا اٹھی ۔میری دنیا بھی اس کی خوبصورت مسکراہٹ سے کچھ دیر کے لئے جگمگا اٹھی۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں عجب احسان مندی کی دنیا آباد تھی، میرے دل کو ڈھارس بندھ گئی۔میں نے دیکھا دنیا سفر میں تھی، کیلگری ائیرپورٹ، ٹورنٹو ائیرپورٹ، ابوظہبی ایئر پورٹ، لاہور ائیرپورٹ سب بھرے ہوئے تھے ۔خلق خدا سفر میں تھی۔ہر شخص بھاگ رہا تھا، مجھے روز جزا یاد آگیا، نفسانفسی کا عالم ہوگا۔خلق خدا بھاگی پھرتی ہوگی۔میں جہاز میں جس جوڑے کے برابر بیٹھی ،وہ سادہ سے میاں بیوی تھے،ان کی عمر زیادہ تھی،مگر بیٹی صرف پانچ سال کی تھی۔وہ بچی بہت بے سکون تھی،روتی جاتی، وہ اپنی سیٹ پر بیٹھنے کو تیار نہیں تھی ،اس عورت نے بتایا کہ وہ نیویارک سے چلے ہیں، رات بھر ائیرپورٹ پر بیٹھے ہیں اس لئے بچی تھک گئی ہے۔ آخر کار بچی تھک کر سو گئی،اس کی ٹانگیں میرے اوپر تھیں، اس کی ماں نے بچی کو ہلانا چاہا تو میں نے اسے منع کیا کہ بچی کے آرام میں مخل نہ ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک روشنی سی آگئی۔ایک دم بولی:۔
باجی شالا جیوے تیرے سر دا سائیں، تیرے بچے، تیرے ماں پیو جناں دی بیماری تے تو چلی ائے۔"
میری پنجابی کی استعداد کافی کم ہے ،مجھے اس کی دعا اسی طرح یاد ہے۔

مجھے اس خاتون نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ اس کی شادی کے سولہ سال تک اولاد نہ ہوئی تو اس نے اپنے میاں کی دوسری شادی نو سال پہلے کروا دی۔اب اس سوتن میں سے چار بچے ہیں، تین بیٹیاں ایک بیٹا، جس میں سے ایک یہ بچی تھی، جو اس نے گود لے لی تھی ۔اس نے بتایا اب اس کی سوتن کسی متعدی مرض کا شکار ہےتو وہ اس کی تیمارداری کے لئے جارہے ہیں ۔اس عورت کو پتا چلا کہ میں لکھاری ہوں تو میرا ہاتھ پکڑ کر بولی:
"باجی میرے تے کہانی لکھ ڈال۔"

سفر ختم ہوا ،میں اسپتال پہنچی کیونکہ دونوں والدین اسپتال میں تھے۔اسپتال پہنچی تو ایک نئی نگری سامنے تھی، خلق خدا بیمار تھی،مجبور تھی، بے کس تھی۔موت کی کسیلی بو ہوا میں چارسو پھیلی ہوئی تھی ۔ایک گھنٹے پہلے جو زندہ شخص تھا ،اس کا ایک نام تھا،رشتہ تھا،موت کے حادثے کے بعد وہ ڈیڈ باڈی تھا۔میرے والد میری نظروں کے آگے گھل رہے تھے ۔نمک کی طرح وہ پگھلتے جارہے تھے، ایک طرف والدہ بیمار تھیں ۔میں بس ایک ہی دعا میں مصروف تھی ۔

اللہ تعالی میرے والدین کے لئے ویسی نرمی کردے جس نرمی سے انھوں نے مجھے پالا تھا۔

میں واپس آگئی، میرے والد گزر گئے ۔میری ہستی کا ایک حصہ منوں مٹی کے ڈھیر میں سو گیا۔میں پھر بھی اپنی زندگی کے معمولات میں مصروف تھی، مگر کچھ کھو گیا تھا۔ میں نے اس عرصے میں بہت کچھ سیکھا۔ بحثیت لکھاری مجھے لگتا ہے کہ میری آنکھیں آئینہ بن گئی ہیں، مجھے لگتا ہے جیسے احساس نے مجھے گھیر لیا ہے۔ یہ آگہی کے در اب وا یوگئے ہیں۔اب ہر منظر میرے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے۔

میں پچھلے ہفتے بچوں اور میاں کے ساتھ Banff اورLake Louise گئی۔دنیا کے ہنستے مسکراتے، خوش چہرے نظر آئے ۔ایسا لگا جیسی ساری خلق خدا سیر و سیاحت میں مصروف ہے۔ میں نے آسمان کو دیکھا، آسمان نیلا تھا، جھیل کا پانی بھی نیلا تھا۔کنارے پر ایک جوڑا رشتہ ازدواج میں جڑ ریا تھا۔ دلہا اور دلہن تصویریں بنوا رہے تھے۔دلہن اپنے سفید لباس میں ملبوس ایک پری لگ رہی تھی۔میں مسحور سی ہوکر ان کو دیکھتی رہی۔ معصوم بچے قلقاریاں مارتے پھر رہے تھے۔ میری یاد کا دریچہ وا ہوا مجھے میرے والد بہت یاد آئے ۔2008 میں میرے والدین آخری دفعہ کینیڈا آئے تھے۔ میں نے دوبارہ اپنی یادوں کو جیا۔مجھے یاد ہے Three sisters نامی قصبے سے گزرتے ہوئے مجھے پرانی یاد آئی ،جب اباجی اور امی کے ساتھ ہم Banff گئے تھے ،تو اس قصبے کے پاس سے گزرتے ہوئے اباجی نے کہا تھا :
"منزہ بیٹا ! یہ بھی آپ کی طرح تین بہنوں کا شہر ہے."

ایک اور قصبہ رستے میں Dead Man's Flats کے نام سے آتا ہے،اباجی ایک شاعر تھے انھوں نے ایک دلچسپ کہانی اپنے تخیل سے بنائی اور غیر معمولی طور پر وہ حقیقت نکلی جب میں نے Dead man's Flats پر ریسرچ کی۔غرض بہت سی خواشگوار یادیں اپنے پیارے اباجی کی آئیں ۔

واپسی پر ہم کھانا کھانے کیلگری کے مشہور و معروف فاطمہ ریسٹورانٹ میں رکے۔ پورا ریسٹورانٹ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ چمکتے، مسکراتے چہرے ۔ایک کونے میں ایک میاں بیوی نے اپنے چند احباب کو دعوت پر بلایا ہوا تھا۔ رنگا رنگ ماحول تھا، فضا میں کھانے کی مسحور کن خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔میں نے اپنی فیملی کے چمکدار چہروں پر نظر ڈالی۔میں نے اللہ تعالی کا تہہ دل سے شکریہ کیا کہ اس نے مجھے اپنی قدرت ہر موقع پر ،ہر جگہ پر دکھائی۔ مجھے ہر جگہ اللہ تعالی کی موجودگی کا احساس ہوا اور یہ بھی پتا چلا کہ یہ حکم ربی ہے کہ ہم کس گروہ میں شامل ہونگے۔ سفر کرنے والوں میں؟
۔بیماروں میں،؟

سیر و سیاحت کرنے والوں میں وغیرہ وغیرہ ۔مگر ان تمام حالتوں میں ایک چیز ہمارے ہاتھ میں ہے،وہ شور مچا کر بے بسی کا اظہار کریں یا شکر گزاروں میں شامل ہوجائیں ۔میں نے اللہ تعالی سے التجا کی :
"یا رب شکر گزاروں میں شامل کردے۔ دنیا کا یہ سفر آسان کردے۔"
آمین ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175733 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
23 Oct, 2018 Views: 1038

Comments

آپ کی رائے