جیل کے دن جیل کی راتیں

(Quayyum Raja, )

بیس سالہ دبلے پتلے محمد ریاض ملک اور راقم نے جب عدالت میں یہ بیان دینے سے انکار کر دیا کہ لبریشن ارمی لبریشن فرنٹ کا دوسرا نام ہے تو جج کا رویہ سخت ہو گیا ۔ میرا بیرسٹر لارڈ گفورڈ جو دوران سماعت لنچ کے وقفے میں زیادہ تر وقت ریاض کے وکلاء کے برعکس میرے ساتھ گزارہ کرتا تھا وہ بھی جج کے رویہ سے کافی پریشان ہو گیا لگتا تھا کہ جج کا اس پر کافی دباؤ تھا کیونکہ جج اکثر اوقات اسے اپنے چیمبر میں بلاتا تھا اور اس کے چہرے کے تاثرات بتاتے تھے کہ جج کیس سمیٹنے کے لیے اس پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ شوائد بتا رہے تھے کہ جج صرف ایک منصف کی حیثیت سے سماعت نہیں کر رہا تھا بلکہ حکومت کی طرف سے اسے یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ ہم سے عدالت میں ایسے بیانات دلوائے جو لبریشن فرنٹ کے چئیرمین کو گرفتار اور لبریشن فرنٹ کو بینڈ کرنے کے لیے استعمال ہو سکیں ۔ پس پردہ بھارت آئی ایس کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس مقصد کے لیے بھی ہمیں ہی استعمال کرنے کی سازشیں ہو رہی تھیں لیکن عجب دنیا ہے کہ جن لوگوں کا ہم دفاع کر رہے تھے وہی مہاترے کیس میں ہمارے دلیرانہ اور اصولی موقف و سٹینڈ سے ملنے والی شہرت سے گھبرا کر ہمیں سائڈ لائن کرنے کی سازشیں کرنے لگے اور ہمارے خلاف یہ مہم آج پنتیس سال بعد بھی جاری ہے۔ دوان سماعت ایک طرف ہم سے تعاون حاسل کرنے کے لیے جج کا دباؤ تھا دوسری طرف امان اﷲ خان کے کچھ سیاسی مخالفین یہ تجویز کرنے لگے کہ جن فرنٹ کے جن سنئیر لوگوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ان کا ہم کیوں دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضع کہا کہ ہم امان اﷲ خان اور مہاترے کو قتل کر کے فرار ہو جانے والے افراد کی نشان دہی کر کے اپنی جان چھڑائیں لیکن ۔ بے شک مہاترے کا قتل ہمیں اندھیرے میں رکھ کر کیا گیا اور اس پر ہمارے درمیان سخت اختلافات نے جنم لیا لیکن میرا موقف تھا کہ ہم یہ مسلہ لبریشن فرنٹ کے اندر اٹھائیں گے کیونکہ اس طرح برطانوی پولیس ہم سبکو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر کے شادیانے بجائے گی اور ہم سب دنیا کی نظروں میں احمق اور بزدل ثابت ہونگے جنکے اختلاف سے لبریشن فرنٹ کے بینڈ ہونے کا بھی خطرہ تھا۔ اپنی عزت۔ اپنی تحریک اور تنظیم کو بچانے کی خاطر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمارے خلاف استغاثہ جو ثبوت پیش کرے گا انکا ہم جواب دیں گے لیکن خود کو بچانے کے لیے اپنی تحریک و تنظیم کے خلاف کوئی بیان نہیں دیں گے۔ سنئیر بیرسٹر لارڈ گفورڈکو جب میں نے صاف جواب دے دیا کہ خود کو بچانے کی خاطر ہم اپنی جماعت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیں گے تو نوجوان خاتون جونئیر بیرسٹر عزابیل دوران وقفہ عدالت کے نیچے سیل میں میرے پاس آئی۔ وہ میرے ساتھ بنچ پر بیٹھی۔ اپنی ٹانگ پر ٹانگ رکھی۔ اوپر والی ٹانگ کے گھٹنے پر اپنے ہاتھوں سے کنگی ماری اور کہا۔ مسٹر راجہ۔ اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا آپکا کام ہے لیکن آپکے وکلاء کی حیثیت سے ٹونی (ٹونی بیرسٹر لارڈ گفورڈ کا پہلا نام تھا) اور میرا فرض ہے کہ آپکو اپنے فیصلے کے نتائج سے پوری طرح اگا ہ کریں۔ عدالت سے تعاون نہ کرنے کے نتیجے میں آپ بہت طویل عرصے کے لیے جیل جائیں گے۔ جج کا فیصلہ ملنے کے بعد شاید آپ شکایت کریں کہ ہم نے آپکو نتائج سے خبردار نہیں کیا۔ اب بھی وقت ہے کہ آپ اپنے فیصلہ پر غور کر لیں۔ میں نے بیرسٹر عزابیل کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ وہ مجھے خوف زدہ کر رہی ہے یا واقعی ہی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری ادا کر رہی ہے تو اس نوجوان اور خوبصورت خاتون نے کہا کہ شاید آپ اپنی موجودہ عمر سے بھی زیادہ عرصہ جیل میں رہیں۔ میرے وکلاء کی نیت کیا تھی یہ ایک لگ بات تھی مگر مجھے فیصلہ اب اپنی عزت۔ اپنے خاندان اور قوم کے وقار اور تحریک و تنظیم کے وسیع تر مفاد اور اپنی جوانی کے درمیان کرنا تھا جو وکلاء کے نزدیک عدالت سے تعاون نہ کرنے کی صورت میں جیل کی نذر ہو جائے گی۔ مجھے اپنے خاندان کے ایک تاریخی بزرگ راجہ برہاں کان یاد آنے لگے جنہوں نے مہاراجہ کے خلاف لوگوں کے حقوق ملکیت کا جب کیس کیا تو انہیں مہاراجہ کی طرف سے کیس واپس لینے کے بدلے بہترین کاشت والی زمین جاگیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپکا ایک بیٹا ہے اس کے لیے تو یا کافی ہو گی مگر عظیم برہان کان نے کہا وہ صرف اپنے بیٹے کے لیے یہ جنگ نہیں لڑ رہے۔میں نے جب آنکھیں بند کر کے سوچا تو مجھے اس آزاد زندگی سے خوف آنے لگا جس میں مجھے تاحیات ایک وعدہ معاف گواہ کی حیثیت سے دیکھا جاتا۔ یہاں بات غرور و تکبر کی نہیں غیرت اور محب وطنی کی تھی۔ مجھے ایک وعدہ معاف گواہ اور غیرت مند انسان و حریت پسند کی زندگی کے درمیان فرق با الکل واضع نظر آ رہا تھا۔ وکلاء نے لفظ وعدہ معاف گواہ استعمال تو نہ کیا مگر جج جو پلان انہیں دے رہا تھا اسکا مطلب یہی بنتا تھا یہاں مجھے ایک درندہ صفت جبر زنائی انگریز مجرم کا وہ بیان یاد آنے لگا جس نے جج کے سوال پر جواب دیا کہ اس نے ایک خاتون کے ساتھ جبر زنا اسی کی فاہدے کے لیے کیا تھا اور شاید یہ جج بھی مجھے کہہ رہا تھا کہ وہ میرے فاہدے کے لیے مجھے وعدہ معاف گواہ بنا کر تاریخ میں میرا منہ کالا کرنا چاہتاتھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر میں نے وکلاء کو دو ٹوک جواب دے دیا تو شاید مجھے دوبارہ وٹنس بکس میں جا کر بیان ریکارڈ کرانے کا جج موقع دینے کے بجائے فیصلہ سنا دے اس لیے میں نے وکلاء کو کہا کہ میں دیکھتا ہوں وٹنس بکس میں مجھ سے کیا سوالات کیے جاتے ہیں۔ میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔ جج نے مجھے دوبارہ وٹنس بکس میں بلا کر پوچھا کہ میں نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ میں نے کہامسٹر جسٹس میرے خلاف جو بھی ثبوت ہیں میں انکا جواب دونگا۔ جج نے فوری طور پر میرے سنئیر بیرسٹر لارڈ گفورڈ کی طرف غصے سے دیکھا۔ جج نے مجھے کہا ٹھیک ہے بیان دو مگر یاد رکھنا آپ میری عدالت کو ایک سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کریں گے۔ میرے خلاف جج کے سخت رویے کے رد عمل میں گیلری سے ایک آواز آئی۔ 'You racist bastard' بعد میں مجھے کسی نے بتایا تھا کہ یہ شفق حسین تھا جسکا آبائی تعلق ڈڈیال سے تھا۔ شفق حسین کی جسارت پر گیلری میں مزید کشمیری جج کے رویے کے خلاف بولنے لگے تو جج نے اپنا رویہ نرم کر تے ہوئے کہا پولیس کو اپنا کیس ثابت کرنا ہو گا۔ ثبوت کا بوجھ الزام لگانے والے پر ہوتا ہے۔ برطانیہ کی عدالت میں وٹنس بکس جج کے دائیں طرف اسی لیول پر ہوتا ہے اور عدالت میں موجود تمام افراد گواہ کے سامنے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے عدالت میں بیٹھے ہوئے پولیس چیف انسپکٹر جان براؤن نے مجھے مکہ دکھایا تو میں نے جج سے کہا جناب آپکی عدالت میں ایک غنڈہ بیٹھا ہوا ہے۔ نشان دہی کرنے پر جج نے کہا براؤن گیٹ آؤٹ اور براؤن صاحب عدالت سے نکل گے
(جاری)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Quayyum Raja

Read More Articles by Quayyum Raja: 48 Articles with 21955 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Nov, 2018 Views: 409

Comments

آپ کی رائے