عمران خان حکومت کی کشمیر کمیٹی

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

عمران خان حکومت کے 100دن پورے ہونے والے ہیں لیکن ابھی تک وہ کشمیر کمیٹی تشکیل نہ دے سکے۔وہ کبھی دعویٰ کرتے تھے کہ ان کی شیڈو حکومت موجود ہے اور ہر شعبہ کے ماہرین کام کے لئے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔ مگر لگتا ہے کہ دیگر قومی ایشوز کی طرح کشمیر ان کی ترجیحات میں تا حال شامل نہیں ہو سکا۔ جب کہ کشمیرپاکستانیوں کی ہمیشہ ترجیح رہا۔بعض حکومتوں نے مصلحت دکھائی۔ عمران خان پنجاب اور لاہور کی سیاست اپنے نام کرنے کا بھی دعویٰ کر رہے ہیں۔ اسی لاہور میں 1908کو آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حکیم ا لامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ شملہ میں 1931میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی وجود میں آئی۔ جس کی سربراہی پہلے مرزا بشیر احمد اور پھر علامہ اقبال ؒ نے کی۔ جو کشمیریوں پر مظالم اجاگر کرتی رہی۔ اسی کی وجہ سے 14اگست 1931ء کو انڈیا ور برما میں یوم کشمیر منایا گیا۔ تقسیم کے بعد بھی ایک کشمیر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں چوھدری غلام عباس، مولانا مودودی ؒ، نواب زادہ نصر اﷲ خان، چودھری محمد علی جیسی شخصیات شامل تھیں۔ حکومت پاکستان نے سرکاری طور پر کشمیریوں کی موجودہ عسکری جدوجہد کے آغاز پر 1990میں وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان کی سربراہی میں کشمیر نیشنل کونسل قائم کی جس کے نائب چیئر مین وزیر پارلیمانی امور خواجہ طارق رحیم تھے۔ 90کی دہائی میں عظیم شخصیت نوابزادہ نصر اﷲ خان مرحوم کی سربراہی میں پاکستان کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی قائم کی گئی جس میں تین سنیٹرز سمیت 24ارکان پارلیمنٹ شامل تھے۔ دوسری پارلیمانی کشمیر کمیٹی چودھری محمد سرور مرحوم کی سربراہی میں 26ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل تھی۔تیسری پارلیمانی کشمیر کمیٹی میں حامد ناصر چٹھہ کی سربراہی میں 13سینیٹرز سمیت 49ارکان پارلیمنٹ شامل تھے۔ یہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا۔ اس کمیٹی کے ارکان میں 14وزراء شامل رہے۔ کشمیر کاز کی اہمیت یہ تھی کہ جب پارلیمنٹ کام نہیں کر رہی تھی توکشمیری قائد سردار محمد عبدالقیوم خان مرحوم کی قیادت میں نیشنل کشمیر کمیٹی کام کر رہی تھی۔مولانا فضل الرحمان بھی پاکستان کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے۔ مگر افسوس ہے یہ صرف غیر سنجیدہ عہدہ رہا۔ کیوں مولانا صاحب بھی عدم تعاون کا واویلا کرتے رہے۔ سارا الزام ایک چیئر مین پر ڈال کر باقی سب بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے چند ماہ پہلے مولانا کی سربراہی میں کشمیر کمیٹی کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا نے صرف مراعات اور مفادات سمیت دنیا کی سیر کے لئے کمیٹی کی چیئر مین شپ سنبھال رکھی ہے۔یہ بات پی ٹی آئی سربراہ نے سرینگر کے میگزین کو انٹرویو میں بتائی جس کے اقتباس پارٹی کے سنٹرل میڈیا آفس نے میڈیا کے لئے خود جاری کئے۔یہی نہیں بلکہ کمیٹی کے اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کمیٹی کے اخراجات کو سامنے لانے کو تیار نہیں۔ یعنی وہ کسی کرپشن کی جانب اشارہ کرتے رہے۔وہ الزام لگاتے رہے کہ حکومت کی کوئی کشمیر پالیسی نہیں۔ جب کہ وہ مشرقی تیمور کی طرح مسلہ کشمیر کے حل کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ا ب کئی ماہ قبل سنا تھا کہ کمیٹی از سر نو تشکیل ہو رہی ہے۔ اکتوبر میں قومی اسمبلی کی 11نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی ہو چکے۔ مگر کشمیر کمیٹی قائم نہ ہو سکی۔ قومی اسمبلی کی 34وزارتی کمیٹیاں تشکیل پائیں گی۔ ہر ایک کے کم از کم 20ارکان ہوں گے۔ چیئر مین بھی بنیں گے۔ یہ سب نوازنے کے لئینہ ہو۔ چار غیر وزارتی کمیٹیاں ہوں گی۔ تمام پارٹیاں اپنی جسامت کے مطابق حصہ مانگ رہی ہیں۔ کشمیر کمیٹی کو اس بار سیاست اور نوازنے کے لئے بروئے کار نہ لایا جائے۔

کشمیری صدیوں سے غیر ملکی تسلط اور قابض حکمرانوں کے مظالم کے شکار رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری، ان کو ایمان فروشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن تحریک آزادی جاری رہی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے دکھ و درد کو محسوس کیا اور اس پر عملی اقدامات کئے۔ 13 جولائی 1931ء کو سرینگر میں مسلمانوں کے قتل عام نے سب کو غمگین کر دیا،شملہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا واحد مقصد کشمیریوں کی تحریک آزادی کی عملی امداد کرنا تھا۔اس وقت لوگ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی امداد سے زیادہ مادی اور عملی امداد پر یقین رکھتے تھے۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی نے ہندوستانی مسلمانوں کو تحریک پاکستان کے لئے بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر پر100سال تک جنگ لڑنے کا بھی اعلان کیاتھا۔

عمران خان حکومت الجھی ہوئی ہے۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی بھی از سر نو تشکیل نہ ہو سکی۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ رہی ہے اور تحریک آزادی کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کا تجدید عہد کیا ہے۔لیکن عملی طور کچھ نہیں ہوا۔کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ایسے سائینسی خطوط پر استوار اور منظم و مربوط کرنے کی ضرورت تھیکہ بھارت مسلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ عالمی دباؤ کے بغیر ناممکن ہے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی، سارک پلیٹ فارم کشمیر کی تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ مسلہ عالمی سطح پر اجاگر نہ ہو۔ بلکہ پاک بھارت قیادت مل کر اسے حل کرے۔ اس کا مقصد ہی مسلہ کو عالمی مسلے سے نکال کر دو طرفہ علاقائی مسلہ بنا دینا ہے۔ لیکن عالمی اور بھارتی رائے عامہ کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ جدوجہد آزادی کے شہداء کے بچے، بیوائیں، زہنی اور جسمانی طور ناکارہ کئے گئے، اپنے گھرو بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے بھی خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور اس کی رکنیت خانہ پری کے طور پر نہ کی جائے بلکہ اس کا سربراہ کوئی ایسا ہو جس کی کشمیر کاز کے ساتھ کمٹ منٹ ہو۔ جو حلف کی پاسداری کرے۔ اس کا احتساب ہو۔جو اپنے منصب کے ساتھ کچھ انصاف بھی کر سکے۔ کشمیریوں پر کوئی ایسا شخص سوار نہ کیا جائے جو کشمیر ایشوکے حروف ابجد تک نہ جانتا ہو۔ کشمیریوں پر اس بار رحم کیا جائے۔ عمران خان مشرقی تیمور کی طرز پر کسی حل کی بات کر رہے ہیں۔کشمیر ایشوپر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کیبھی ضرورت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219860 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
16 Nov, 2018 Views: 494

Comments

آپ کی رائے