افغانستان بھی پاکستان کا پانی بند کردے گا۔۔۔۔2

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30دن ہے۔ جو کہ عالمی معیار کے مطابق 10فی صد بنتی ہے۔ اوسطاً عالمی معیار 40فی صد ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے ماطقب بھارت کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 220دن، امریکہ کی 900دن، مصر کی ایک ہزار دن، آسٹریلیا کی 600دن ، جنوبی افریقہ کی 500دن ہے۔ دریائے نیل کی وجہ سے مصر کی سب سے زیادہ ہے۔ بھارت نے 2050تک اڑاھئی ہزار ڈیم تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ایک طرف وہ اپنا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے دوسری طرف پاکستان کا پانی کم کرنے کی بھی سازش میں مصروف ہے۔ دریائے نیلم جسے بھارت دریائے کشن گنگا کہتا ہے ، کا رخ موڑ دیا گیا۔ پاکستان کو بہت عرصہ بعد ہوش آیا۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب کا بھی وہی حشر ہونے والا ہے۔ دریائے راوی ایک بوند پانی کو ترس رہا ہے۔ اب مغرب سے افغانستان کے دریا ہیں۔ جو بھارت کے نشانے پر ہیں۔ پاکستان کی طرف بہنے والے افغانستان کے ساتھ دریاؤں کا رخ موڑا جا رہا ہے یا پھر ان پر ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ یا ان سے نہریں کھودی جا ئیں گی۔ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف ڈیموں کی فوری تعمیر سے بڑھ سکتی ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ پانی کی زیر زمین سطح کم ہو رہی ہے۔ میٹھا پانی نایاب ہو رہا ہے۔ پنجاب جیسے زرخیز خطے میں کھارا پانی استعمال ہونے لگا ہے۔ ایسے میں سمندری پانی کی فلٹریشن یا بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے سوا کیا راستہ بچا ہے۔ آزاد کشمیر کا آخری کونہ تاؤ بٹ ہے جہاں سے دریائے نیلم داخل ہوتا ہے۔ بھارت نے یہ پانی روک لیا ہے۔ نیلم جہلم پروجیکٹ تاؤ بٹ کے بعد وادی نیلم کے چھوٹے بڑے نالوں کے سہارے چل رہا ہے۔ اس نے بھی مظفر آباد کی آبادی کو سخت پریشان کر دیا ہے۔ مظفر آباد میں ماکڑی سے سنگھم تک درایئے نیلم نالہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شہر کے تمام سیوریج لائینیں اسی دریا میں ڈالی گئی ہیں۔ سیوریض کے لئے مختص اربوں روپے ہڑپ کر لئے گئے ہیں۔ اس کا پتہ نیلم دریا کے نالے بننے کی وجہ سے چلا۔ ورنہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ اس کے باوجود کوئی تحقیقات نہیں ہو رہی۔ اس کا ماحول پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ بھارت نے جہلم پر بھی لاتعداد بجلی گھر تعمیر کئے ہیں۔ یہ سب پروجیکٹ اوڑی سول کے نام سے قائم ہیں۔ ان سے پیدا ہونے والی بجلی بھارت کے شمالی گرڈ میں چلی جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی اندھیروں میں ڈوبی ہے۔ گزشتہ دنوں دنیا نے دیکھا کہ مقبوضہ وادی میں بورڈ امتحانات مین شامل بچوں نے موم بتیوں کی روشنی میں امتحانات دیئے۔ کیوں کہ یہ امتحانات رات کو لئے گئے۔ بجلی نایاب تھی۔ اس لئے امیدواروں ے گھروں سے موم بتیاں لا کر روشنی کی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ بھارت کو کشمیر کے عوام سے کوئی غرض نہیں بلکہ کشمیر کی زمین سے ہی دلچسپی ہے۔ اس لئے کشمیر کے وسائل بھارت میں بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کی صورتحال مختلف ہے۔ مگر نیلم جہلم پروجیکٹ پر کسی معاہدے کی عدم موجودگی نے بعض خدشات کو جنم دیا ہے۔ لوگوں کو بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس لئے فوری معاہدہ کر کے ان خدشات کو سر اٹھانے سے پہلے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے لئے یہ بے حد ضروری ہے کہ افغانستان کے ساتھ آبی معاہدہ کیا جائے۔ تا کہ پانی کی تقسیم بروقت کی اج سکے۔ اٖگان حکومت ہی نہیں ب؛لکہ اپوزیشن اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اس میں شامل کیا جائے۔ تا کہ کسی کو بھارت کی سازش کا شکار ہونے نہ دیا جائے۔ بھارت نے پاکستان دشمنی اپنی قومی پالیسی بنا رکھی ہے۔ اس کے لئے اس کی خارجہ اور داخلہ معالات استوار ہوتے ہیں۔ گڈو بیراج سے سکھر تک دریائے سندھ کا پانی کم ہو رہا ہے۔ کراچی کے عوام پانی پانی کر رہے ہیں۔ گزشتہ ادوار میں پانی ذخیرہ کرنے کی جانب توجہ نہ دی گئی۔ تربیلا، منگلا اور چشمہ پر انحصار کیا گیا۔ کالا باغ کو متنازعہ بنایا گیا۔ اس کی تعمیر کو انا کا مسلہ بنا دیا گیا۔ جب کہ چھوٹے چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جا سکتے تھے۔ اب چیف جسٹس صاحب نے عطیات کی بنیاد پر ڈیم تعمیر کرنے کی مہم چلائی ہے۔ اس کے لئے وہ بیرون ملک ہیں۔ یہ پاکستان کا سب سے اہم اور بڑا مسلہ ہے۔ پانی موت و حیات کا مسلہ ہے۔ اس کے لئے ڈیموں کی تعمیر سمیت افغانستان کے ساتھ فوری معادہ کی ضرورت ہے۔ بھارت نے وہاں اپنے قدم جمالئے ہیں۔ وہ ایران کو بھی گھیرنے لگا ہے۔ اس لئے افغانستان اور ایران کو بنگلہ دیش بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ بھارت نے بنگلہ دیش کو پاکستانی مفادات کے خلاف استعمال کرنے کا سلسلہ تیز کیا ہے۔ کم از کم افغانستان کو بھارت کی جھولی میں ڈالنے کا معمولی قدم بھی خرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دریائے کابل پر بھارت نے ایک درجن سے زیادہ ڈیم تعمیر کر لئے تو دریائے کابل کی حالت دریائے نیلم اور راوی سے مختلف نہ ہوگی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221579 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
26 Nov, 2018 Views: 569

Comments

آپ کی رائے