وادی سون کی سرد صبح

(Ehsan Awan, Rawalpindi)
ننھے تیترکی ماں کی تڑپ.

ننھے تیتر

وادی سون کی سرد صبح اور ننھے تیترکی ماں کی تڑپ....
یہ مارچ 2k14 وادی سون کی ایک سرد صبح تھی اور میرا اپنے مقامی جنگل سے گزر ہوا....
وادی سون جس طرح خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اسی طرح اس میں موجود جنگلی حیات بھی وادی کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں...
میں جوں ہی جنگل کی حدود میں داخل ہوا ننھی چڑیوں اور تیتروں کی بولیاں سن کر یہ بھول گیا کہ میں کہاں سے اور کیوں آیا ہوں...
یہ وہ لمحات ہیں جو الفاظ میں قلم بند کرنا کسی بھی انسان کیلئے ناممکن ہے کیونکہ قدرت کے اصل رنگ اور خوبصورتی انسان محسوس کر سکتا ہے لیکن مکمل بیان نہیں کر سکتا..
تیتروں کی بولیاں میرے اندر سما چکی تھی اور میں جنگل میں اپنا مقررہ راستہ چھوڑ کر اس مدہوش کرنے والی آواز کے تعاقب میں ہو گیا....
جوں جوں میں قریب جاتا یہ آوازیں مجھ سے اور دور ہوتی جاتی.. آخر تھک ہار کہ میں نے جب تیز قدم بھرے تو میرے سامنے قدرت کا ایک ننھا مسافر راستے میں تنھا کھڑا تھا...
جی ہاں یہ ایک ننھا تیتر تھا جس کی عمر بمشکل بیس یا پچیس دن ہو گی جو اپنی ماں سے بچھڑ چکا تھا اور پریشان حال اپنی دھیمی بولی میں ماں کو پکار رہا تھا...
مجھ سے اسکی خوبصورتی اور پیاری بولی سن کر رہا نہیں گیا اور اس ننھے مہمان کو اپنے ہاتھ پہ اٹھا کر یہ سوچنے لگا کہ اب یہ اپنے خاندان اور ماں سے بچھڑ گیاہے کوئی جنگلی پرندہ یا جانور اس معصوم کی جان کے لے گا...
یہ معصوم مسلسل اپنی ماں کو دھیمی بولی میں پکارے جا رہا تھا..
اور میں پریشانی میں تھا کہ اب اسکا کیا ہو گا..
اس کشمکش کو چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک مخوص اونچی آواز میں اس ننھے تیتر کی ماں گھنی جھاڑیوں سے نکل کر میرے سامنے ایسے بے تاب کڑی تھی جیسے ابھی مجھ پر حملہ آور ہو گی...
ماں کی اس تڑپ کو دیکھتے ہوئے میں نے فورا اپنے ننھے مہمان کو دوبارہ قدرت کے حوالے کر دیا...
میں اس دن سے سوچ میں ڈوبا ہوا کہ ایک پرندے کی ماں کو بھی اللہ کویم نے اتنی تڑپ عطا فرمائی ہےاور انسان کی ماں تو اپنی اولاد کیلئے اس سے کئی درجہ زیادہ تڑپ رکھتی ہے..
اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین کی قدر انکی زندگی کے اندر ہی کرنےکی توفیق عطا فرمائیں نہیں تو کم از کم اس ننھے تیتر والی تڑپ عطا فرما دیں جس کا دل اپنی ماں کے ساتھ جڑا تھا....آمین
تحریر... احسان اعوان
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ehsan Awan

Read More Articles by Ehsan Awan: 2 Articles with 2539 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2018 Views: 1563

Comments

آپ کی رائے