تین سال بعد:
"ہرمخلوق نے اپنی تسبیح جان لی ہے۔"(قرآن)ی




" />

مسیحائی

(Robina Shaheen, rawalpindi)


مسیحا ئی
رات کا تیسرا پہر بیت رہا تھا۔۔۔اسفند کا میڈیکل کا پیپر تھا۔۔۔سو وہ دلجمعی سے پڑھائی میں مگن تھا۔۔۔میڈیکل کا آخری سال اور آخری ہی پیپر تھا۔۔۔۔من پسند فیلڈ میں ڈگری لینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا۔۔۔پیشن اور پروفیشن ایک ہو تو اس سے بڑی کوئی عیاشی نہیں۔۔۔۔اسفند نے یہی سوچ کر میڈیکل کو چنا تھا۔۔میڈیکل اس کا خواب ہی نہیں جنون بھی تھا۔۔۔۔۔جو مکمل ہو نے جا رہا تھا۔اس کے خواب کو تعبیر ملنے والی تھی۔۔۔سو وہ بہت مطمئن تھا۔
اف یہ لائٹ نے بھی ابھی ہی جانا تھا۔۔اسفند بڑبڑایا۔۔۔اس نے گرمی اور حبس سے بچنے کے لیئے کھڑکی کھول دی۔۔۔۔اس کا روم ہوسٹل کی تیسری منزل پہ تھا۔۔۔سو تازہ ہوا کا جھونکا اس کی طبیعت ور اعصاب کو فریش کر گیا۔۔۔۔کتاب بند کر کے وہ رات کے فسوں میں کھو سا گیا۔۔۔اس قدر خوبصورت منظر۔۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا۔۔۔۔پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔۔لگتا تھا جیسے مدھر سروں میں دنیا کی خوبصورت ترین موسیقی بج رہی ہو۔۔۔۔وہ مسحور ہو گیا۔۔۔۔پرندے اپنی اپنی زبان میں اللہ کی حمدو ثناء میں مشغول تھے۔۔۔۔وہ بڑے شوق اور جذب سے رات کے اس منظر سے لطف انددوز ہو رہا تھا کہ یکایک موذن کی صدا بلند ہوئی "اللہ اکبر اللہ اکبر"پھر جیسے اس کی ساری حسیات ختم ہو گئیں تھیں۔۔یہ منظر اس کے ہوش اڑا گیا۔۔۔۔موذن کی جیسے ہی آواز گونجی۔۔۔تمام پرندے یکلخت خاموش ہو گئے تھے۔۔وہ جہاں تھا وہی سن ہو گیا۔۔زندگی سمٹ کے اس ایک نقطے پر آ گئی تھی۔۔۔۔
تین سال بعد:
"ہرمخلوق نے اپنی تسبیح جان لی ہے۔"(قرآن)ی




رات کا تیسرا پہر بیت رہا تھا۔۔۔اسفند کا میڈیکل کا پیپر تھا۔۔۔سو وہ دلجمعی سے پڑھائی میں مگن تھا۔۔۔میڈیکل کا آخری سال اور آخری ہی پیپر تھا۔۔۔۔من پسند فیلڈ میں ڈگری لینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا۔۔۔پیشن اور پروفیشن ایک ہو تو اس سے بڑی کوئی عیاشی نہیں۔۔۔۔اسفند نے یہی سوچ کر میڈیکل کو چنا تھا۔۔میڈیکل اس کا خواب ہی نہیں جنون بھی تھا۔۔۔۔۔جو مکمل ہو نے جا رہا تھا۔اس کے خواب کو تعبیر ملنے والی تھی۔۔۔سو وہ بہت مطمئن تھا۔

اف یہ لائٹ نے بھی ابھی ہی جانا تھا۔۔اسفند بڑبڑایا۔۔۔اس نے گرمی اور حبس سے بچنے کے لیئے کھڑکی کھول دی۔۔۔۔اس کا روم ہوسٹل کی تیسری منزل پہ تھا۔۔۔سو تازہ ہوا کا جھونکا اس کی طبیعت ور اعصاب کو فریش کر گیا۔۔۔۔کتاب بند کر کے وہ رات کے فسوں میں کھو سا گیا۔۔۔اس قدر خوبصورت منظر۔۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا۔۔۔۔پرندوں کی چہچاہٹ۔۔۔۔لگتا تھا جیسے مدھر سروں میں دنیا کی خوبصورت ترین موسیقی بج رہی ہو۔۔۔۔وہ مسحور ہو گیا۔۔۔۔پرندے اپنی اپنی زبان میں اللہ کی حمدو ثناء میں مشغول تھے۔۔۔۔وہ بڑے شوق اور جذب سے رات کے اس منظر سے لطف انددوز ہو رہا تھا کہ یکایک موذن کی صدا بلند ہوئی "اللہ اکبر اللہ اکبر"پھر جیسے اس کی ساری حسیات ختم ہو گئیں تھیں۔۔یہ منظر اس کے ہوش اڑا گیا۔۔۔۔موذن کی جیسے ہی آواز گونجی۔۔۔تمام پرندے یکلخت خاموش ہو گئے تھے۔۔وہ جہاں تھا وہی سن ہو گیا۔۔زندگی سمٹ کے اس ایک نقطے پر آ گئی تھی۔۔۔۔

اسفند کہاں گم ہو یار۔۔۔۔۔اس کے بیسٹ فرینڈ علی نے اس کی مسلسل چپ اور غیر معمولی خاموشی کو نوٹس کیا۔۔۔ایگزامز کے بعد وہ مسلسل غائب تھا۔۔نہ کال پہ بات نہ ملاقات۔۔۔۔اچھا میں بیس منٹ تک تمہاری طرف پہنچ رہا مجھے لگتا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔اوکے آکے بات کرتا،،،اس سے پہلے کہ اسفند کچھ بولتا علی کی کال بند ہو چکی تھی۔۔۔۔

تمہیں پتہ ہماری زندگی میں بارہ کا ہندسہ کیوں خاص ہو کر رہ گیا ہے؟علی نے اسفند کی بیزار صورت پہ نظر ڈالی اور دوسری دیوار پہ لگے کلاک پر۔۔۔۔دونوں پہ بارہ بج رہے تھے۔۔۔اسفند نے استفہامیہ نظروں سے علی کو دیکھا۔کیونکہ ہم سوتے بھی بارہ بجے۔۔اٹھتے بھی ۔۔۔۔اسی لئے ہماری شکلیں بھی بارہ بجا تی نظر آتی ہیں۔۔۔۔۔میں ٹھیک ہو یار۔۔۔۔خاک ٹھیک ہو۔۔۔یہ بڑھی ہوئی شیو،یہ آنکھوں کے گرد ہلکے۔۔۔یہ بیزار صورت ۔۔ہو نا ہو کوئی چکر ضرور ہے۔۔۔کہیں محبت تو نہیں ہوگی موصوف کو۔۔۔۔کون ہے وہ ۔۔۔۔ابھی رشتہ لے کر جاتا ہوں اپنے یار کا۔۔۔علی نے ایک ہی سانس میں سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔۔۔۔ایسا ویسا کچھ نہیں ہے۔۔۔بس مجھے لگتا میری زندگی میں کچھ ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔اسی کے بارے میں آج کل فکر مند ہوں۔۔۔کیا ہوا زندگی کو اچھا بھلا برائٹ مستقبل ہے تمہارا۔جدی پشتی رئیس پاس سو ایکڑ اراضی۔۔۔۔شاہانہ زندگی۔۔۔اوپر سے میڈیکل کی ڈگری۔۔۔۔۔کس چیز کی کمی ہے۔علی نے اسفند کی اچھی خاصی کلاس لے ڈالی۔۔۔اسی دوران مسجد سے اذان بلند ہوئی۔۔۔اچھا یار میں نماز کے لیئے جا رہا۔۔۔تم نے چلنا ہے تو آؤ۔۔۔۔اور علی کے لیئے یہ منظر ناقابل یقین تھا۔۔۔۔اسفند اور نماز۔۔۔وہ تو ہوسٹل میں جو نمازی سٹوڈنٹس ہوتے تھے ان کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔اسفند جا چکا تھا اور علی کی حالت ایسی کہ جیسے کاٹو تو لہو نہیں۔۔۔۔

یار تم تو یکسربدل گئے ہو۔۔۔۔۔علی نے آج تین ماہ بعد اسفند کو دیکھا تو کہہ ڈالا۔ ۔۔اسفند نے ایک نظرعلی کو دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔۔۔۔انقلاب اسی کو کہتے ہیں شاید۔۔علی نے تبصرہ کیا۔۔۔۔اچھا یہ تو بتاؤ ۔۔یہ تبدیلی رونما کیسے ہوئی؟علی نے اسفند کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھ کر پوچھا۔۔۔اسفند چائے کے کپ پہ نظریں جمائے بولنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔پھر اس نے من و عن اس رات کے تیسرے پہر والا قصہ سنا ڈالا۔۔۔وہ حیرت سے سنتا رہا۔۔۔

تین سال بعد:
اسفند نے میڈیکل کے بعد جاب کر لی۔۔۔مگر اب اس کا پیشن بدل چکا تھا۔۔۔سوچ بدلی تو سب کچھ ہی بدل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ ہر وقت اللہ اور اس کی مخلوق کی فکر میں رہتا،اللہ نے اسے ہدایت بخشی اور اپنے بندوں میں شامل کر لیا۔کہاں وہ برانڈ کانشیس اسفند جس کا ایک پرفیوم بیس بیس ہزار کا ہوتا تھا۔۔اب وہ ایک سادہ سا نوجوان تھا۔۔جس کا لائف سٹائل یکسر بد ل چکا تھا۔۔۔اس کے پاس تین سے زیادہ سوٹ نہ ہوتے تھے۔۔۔ایک جوتا۔۔۔جب وہ ٹوٹتا تو دوسرا آتا۔۔۔میڈیکل کو اس نے انسانیت کی خدمت کے لیئے وقف کر دیا۔۔۔وہ ایک مسیحا بن گیا۔۔۔سچ مچ کا مسیحا۔۔۔جو جسم پہ لگی چوٹوں کو رفو کرتا ہی تھا ساتھ میں روح پہ لگے زخموں کو بھی۔۔۔۔نماز تہجد کی اذان پہ چڑیوں کی بیک وقت خاموشی ایک ایسا منظر تھا جو اسے سرتاپا بدل گیا۔۔۔اور وہ اس مشن میں اکیلا نہ تھا علی بھی اس کے ساتھ تھا۔۔۔آخر وہ غار یار تھے ۔ اس نے کہیں پڑھا تھا سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے اسے اللہ کے لیئے وقف کر دیا جائے،اسفند نے اپنی قابلیت اورزہانت کو انسانیت کے لیئے وقف کردیا۔۔۔اس نے مسیحائی کا فن سیکھ لیا تھا۔
"ہرمخلوق نے اپنی تسبیح جان لی ہے۔"(قرآن)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Robina Shaheen

Read More Articles by Robina Shaheen: 4 Articles with 10538 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Dec, 2018 Views: 2264

Comments

آپ کی رائے
سلام۔ آپ کی یہ کہانی کسی رسالے میں چھپی ؟؟
By: Mohammad Bilal Razavi, Lahore on Dec, 14 2018
Reply Reply
0 Like