سیکھنے کے کئی اسباق

(Sami Ullah Malik, )

چین اوراسرائیل تعلقات کے حوالے سے بہت کچھ لکھاجاچکاہے،زیادہ تر معاشی اورسیاسی تعلقات کے حوالے سے لکھاگیاہے،چین اسرائیل سکیورٹی تعلقات کے حوالے سے لوگ کم ہی جانتے ہیں۔ چین اوراسرائیل کے سکیورٹی تعلقات کاآغازجون1967ءکی جنگ کے بعدہوا،اس وقت روسی اسلحے کی بھاری کھیپ اسرائیلی فوج کے ہاتھ لگی تھی۔یہ اسلحہ شکست خوردہ عرب افواج سے قبضے میں لیاگیاتھا،اسرائیل کوروسی اسلحے کے خریدارکی تلاش تھی،چینی افواج بھی روسی اسلحہ استعمال کرتی تھیں،جس کے بعداسلحے کی فروخت کے حوالے سے اسرائیل اورچین میں خفیہ مذاکرات کاآغاز ہوا۔

فروری1979ءمیں اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے بیجنگ کے مضافات میں موجود فوجی اڈے کاخفیہ دورہ کیا۔وفدکی قیادت یہودی ارب پتی ساؤل ایسنبرگ کر رہے تھے۔ ساؤل ہولو کاسٹ کے دوران یورپ سے شنگھائی فرار ہوگئے تھے، جس کے بعدانہوں نے مشرقی ایشیامیں بڑامالیاتی کاروبارکھڑاکیا۔ساؤل چین یاایشیائی ممالک میں کاروبارکرنے و الے پہلے یورپی تاجر تھے،ساؤل نے اسرائیلی اسلحے میں چین کی دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا،یہاں تک کہ انہوں نے بیجنگ آنے و الے پہلے اسرائیلی وفد کے سفر کے لیے جہاز بھی فراہم کیا۔ ساؤل اسرائیلی اسلحے کے بارے میں جانتے تھے کیونکہ وہ ایشیائی ممالک سے ہونے والے گزشتہ معاہدوں سے واقف تھے۔

امیر بوہبوٹ اور کاٹز کے مطابق چینیوں کے ساتھ ابتدائی ملاقاتوں کے بعد ساؤل اسلحہ خریداری کی فہرست لے کر اسرائیل واپس لوٹے۔ جس میں میزائل، آرٹلری، گولہ باروداور بکتر بند کی خریداری شامل تھی،انہوں نے اسرائیلی حکومت پر چین وفدبھیجنے پر بھی زور دیا۔ اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم نے وفد بھیجنے کی تو منظوری دے دی مگر اسلحے کی فراہمی کا معاملہ اپنے وزیردفاع ایزر پر چھوڑ دیا۔ وزیر دفاع ایزر نے ذاتی طور پر منظوری دی کہ اسرائیلی کمپنیاں کون سا اسلحہ چین کوفروخت کرسکتی ہیں اور کون سا اسلحہ ناقابل فروخت ہے۔ اس کے اگلے برس اسرائیلیوں نے چین کے کئی اضافی دورے کیے، جس میں اسرائیلی ایئرفورس کے طیاروں کا خفیہ استعمال بھی کیاگیا۔ اس کے بعد چینی براہ راست اسرائیلی حکومت سے رابطے میں آگئے۔ چین ایک بار اسلحہ خریداری کی فہرست کو حتمی شکل دے کر اسرائیلی وفد کو فراہم کردیتا، جس کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم اور وزیردفاع سے لی جاتی۔چین کو1981ءمیں اسلحے کی پہلی کھیپ ٹینک کے گولہ بارود کی شکل میں فراہم کی گئی، یہ کھیپ انتہائی خفیہ طور پر بھجوائی گئی، جس کے بعددونوں ممالک کا ایک دوسرے پر اعتماد بڑھ گیا۔ چینی حکام چند تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد کروڑوں ڈالر کے اسلحہ خریداری کے معاہدے کرنے کے لیے تیار ہوگئے، مگر انہوں نے اسرائیل جانے سے انکار کردیا۔ پیٹر برٹون کے مطابق اس دوران اسرائیل نے ہزاروں چینی ٹینکوں کی جدید کاری کی۔ اکتوبر1984ءمیں چینی قومی دن کی پریڈ میں ان نئے ٹینکوں نے حصہ لیالیکن یہ نہیں بتایاگیاکہ ان ٹینکوں کی جدیدکاری کس ملک میں ہوئی ہے۔ان تعلقات کے حوالے سے رازداری قائم رکھنے کی شرط اسرائیل نے نہیں بلکہ چین نے عائد کی تھی، کیونکہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تعلقات خراب ہونے کے ڈر کی وجہ سے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ان دونوں ممالک کے درمیان خفیہ تعلقات کا سلسلہ1990ءتک جاری رہا۔ اس دوران بیجنگ اور تل ابیب میں دونوں ممالک کے غیر سرکاری مشن موجود تھے۔اسرائیلی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ شبتائی شیوت کے مطابق چین اور اسرائیل میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے ایک برس بعداکتوبر1993ءمیں اسرائیلی وزیراعظم رابن نے پہلی بار چین کا سرکاری دورہ کیا،اسرائیلی وزیراعظم نے چینی صدر جیانگ ژی من سے ملاقات کی۔ یہ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات تھی، اس ملاقات کے دوران اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ نے اپنے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات کی، یہ دونوں ممالک کے انٹیلی جنس سربراہان کی پہلی سرکاری ملاقات تھی۔اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ کے مطابق انہوں نے وزیراعظم رابن کو مشورہ دیا کہ اسرائیل کو چین سے معاملات طے کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے،کیونکہ چین مستقبل میں بین الاقومی سطح پر اہم کردار ادا کرے گا۔

اکیسوی صدی کے ابتدائی برسوں میں اسرائیل امریکی دباؤ پر چین کو اسلحے کی فراہمی اور ہتھیاروں کی جدید کاری کے معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ جولائی2000ءمیں اسرائیل امریکی دباؤ پر چین کے ساتھ دستخط شدہ معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا،اس معاہدے کے اسرائیل چین سے پیسے بھی وصول کرچکا تھا،ایک ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت جدید ایئر بورن ٹریکنگ سسٹم (فیلکن طیارے) فراہم کیے جانے تھے،یہ منصوبہ ہائی ٹیک اسرائیلی ایویونکس پر مبنی تھا، جس کو چین میں روسی ساختہ طیارے پر نصب کیا جانا تھا۔امریکی ٹیکنالوجی کی منتقلی نہ ہونے کے باوجود امریکا کو اس معاہدے پر اعتراض تھا۔ اس کے بعد کئی برسوں تک چین اور اسرائیل تعلقات تلخی کا شکار ہوگئے۔ اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق1990ءسے 2001ء کے درمیان اسرائیل نے چین کو356ملین ڈالر کااسلحہ فروخت کیا،جس میں ہارپی،بغیر پائلٹ طیارے، مختصر فاصلے کے فضامیں مار کرنے والے میزائل (پیتھون) شامل تھے، ان میزائلوں کو بعد میں چین نے پی ا یل آٹھ کے نام سے بنانا شروع کردیا۔2004ء میں امریکا نے اسرائیل کو بغیر پائلٹ طیارے چین کو واپس کرنے سے روک دیا، یہ طیارے اسرائیلی ایئر کرافٹ کی صنعت میں جدید کاری کے لیے لائے گئے تھے اور ان طیاروںمیں امریکی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی نہیں کیا گیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ90کی دہائی میں اسرائیل اور چین کے درمیان بغیر پائلٹ طیارے کی خریداری کے معاہدے پربات چیت کے دوران امریکا نے اعتراض نہیں کیا،پھر2003میں ان طیاروں کو اپ گریٹ کرنے کے معاہدے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، دسمبر2004ء کی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان طیاروں کے صرف پرزے ہی تبدیل نہیں کیے جارہے بلکہ ان طیاروں کا نظام ہی مکمل طور پر اپ گریٹ کیا جارہا ہے۔

مارچ2010ء میں چینی اور اسرائیلی حکام نے ایک بار پھر سکیورٹی تعلقات بحال کیے۔ سب سے پہلے چینی فوج کے ترجمان نے اسرائیل کا دورہ کیا، اس کے سات ماہ بعد اکتوبر2010ء میں اسرائیلی فوج کے ترجمان بر یگیڈیئر جنرل بیناہ کی قیادت میں ایک وفد نے چین کا دورہ کیا، دورے کے دوران بیناہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے گفتگو کی۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وفد نے کثیر آبادی والے علاقوںمیں لڑائی اور عوامی حمایت کے حوالے سے اپنے تجربات کا تبادلہ بھی کیا۔ اس دورے کے بعد چینی فوجیوں کو اسرائیلی فوج کے ترجمان کے ماتحت تربیت حاصل کرنے کے لیے بھیج دیاگیا۔ بغیر پائلٹ طیارے کے معاملے کے بعد پہلی بار دونوں ممالک نے عوامی اور سرکاری سطح پر تعاون کیاتھا۔جون2011ء میں اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک نے چین کا دورہ کیا، یہ پوری دہائی کے دوران کسی اسرائیلی وزیردفاع کاچین کاپہلا دورہ تھا۔ بارک کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر دفاع نے اپنے چینی ہم منصب اور وزارت دفاع کے حکام سے ملاقات کی اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی، دونوں ممالک کے درمیان ایرانی خطرے، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل میں پیش رفت اور انسداد دہشت گری کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔مئی2012ء میں اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل بینی گانتز نے چین کا دورہ کرکے اپنے چینی ہم منصب جنرل چن بنگڈ سے ملاقات کی۔ اگست2011ء میں اسرائیلی دورے کے بعد یہ پہلا دورہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں فوجی سربراہان نے باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم کیا۔اطلاعات کے مطابق مئی2013ء میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل ایویو کوچی نے چین کا خفیہ دورہ کرکے اپنے چینی ہم منصب ودیگر انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی۔اسرائیلی حکام نے ایرانی جوہری پروگرام اور بشاالاسد کی حکومت کے خاتمہ کے حوالے سے انتہائی خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا۔اسرائیل نے شام میں موجود کیمیائی اور جدید ہتھیار(جن میں چینی ہتھیار بھی شامل تھے) دہشتگرد وں کے ہاتھ لگنے کے خدشے کا اظہار بھی کیا۔

مارچ2014ء میں اسرائیلی فوج کی میڈیکل کورکے وفد نے’’چائنامیڈ2014‘‘نامی نمائش میں شرکت کی۔بیجنگ میں موجود اسرائیلی اتاشی کرنل امیراسیل نے چینی فوجی حکام سے میڈیکل لاجسٹک سیکٹرپرتفصیلی بات چیت کی۔اس موقع پراسرائیلی فوج کی میڈیکل کورکے کمانڈربھی موجود تھے ۔چین کو سامان کی فراہمی کے حوالے سے گفتگو کے لیے ملاقات میں طبی شعبے سے وابستہ تین اسرائیلی کمپنیوں کو بھی مدعو کیاگیاتھا۔ایہود بارک کے دورے کے جواب میں چین کے چیف آف اسٹاف جنرل چن بنگڈ نے اسرائیل کا دورہ کیا۔اطلاعات کے مطابق اس دورے میں دونوں ممالک نے اسرائیلی سرکاری کمپنی آئی اے آئی اور چین کے درمیان تعاون پر غور کیا،جس کا مقصد شہری استعمال کے لیے طیارے بنانا تھا۔ جنوری2016ء میں آئی اے آئی نے لنگ یان کمپنی کے ساتھ مل کر چین کے صوبے میں مشینری کی مرمت اور بحالی کا پہلا چینی انٹر پرائز قائم کرنے کااعلان کیا۔

طیارے والے معاملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا یہ پہلا اعلانیہ منصوبہ تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج اور پولیس دونوں چینی ڈرونز کا استعمال کررہے ہیں۔ اسرائیل ڈیفنس کی رپورٹ کے مطابق ان ڈرونز کو زمینی فوجیں آپریشنز میں استعمال کررہی ہیں، اسرائیلی فوج کو مزید200ڈرونز اور ان کے پرزہ جات کی ضرورت ہے۔ یہ پہلی چینی ساختہ مشین ہے جس کو اسرائیلی فوج استعمال کررہی ہے۔ اسرائیل کا اپنا ڈرون بنانے کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع اپنے ضوابط کی وجہ سے براہ راست چینی کمپنی سے یہ ڈرونز حاصل نہیں کرسکتی ہے۔ کوئی نجی سپلائر ہی یہ ڈرونز اسرائیلی فوج کو فراہم کرسکتا ہے۔ اسرائیل اور چین کے سکیورٹی تعلقات میں حالیہ پیش رفت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ امریکا کے زیر سایہ دونوں ممالک کے سکیورٹی تعلقات کس حد تک مضبوط ہوسکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے سکیورٹی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے باوجود عسکری تعاون کی سطح نسبتاً کم ہے، اس کے علاوہ اسرائیل کی دفاعی مصنوعات برآمد کرنے کی پالیسی میں بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، لیکن پھر بھی دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات سے چین کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ چین کو صرف نئی ملٹری ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں بلکہ انسداد دہشتگردی کے حوالے سے بھی وسیع معلومات درکارہیں،اورانسداد دہشتگری کے حوالے سے اسرائیل کاعملی تجربہ کافی وسیع ہے۔ اسرائیلی حکومت عالمی طاقت کے طور پر چین کی اہمیت کو سمجھتی ہے اوراس کے ساتھ سکیورٹی تعاون میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ اندازہ ہے چین کے حوالے سے اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی پرواشنگٹن کو اعتماد میں ضرور لیاگیا ہوگا،تاکہ اسرائیل اورامریکا تعلقات میں کشیدگی سے بچاجاسکے اور اسرائیل کے چین کے ساتھ سکیورٹی تعلقات میں بھی کوئی گڑبڑ پیدا نہ ہونے پائے۔

چین کے ساتھ سکیورٹی تعلقات مضبوط کرکے اسرائیل کوایرانی جوہری اور میزائل پروگرام کے خلاف اقدامات تیز کرنے کا نیا راستہ مل سکتا ہے۔اسرائیل چینی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو منتقلی روکنے کی کوشش کرے گا،کیوں کہ یہ ہتھیار دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں، جو اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ تاہم چین عالمی معیشت میں سی پیک اور ون روڈ پراجیکٹس کی کامیابی کیلئے بہت بڑی سرمایہ کاری کررہاہے اس لئے وہ ہرمعاملے میں انتہائی محتاط روی کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے تاکہ وہ طاقتیں جوان پراجیکٹس کواپنے معاشی مفادات کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں،تاکہ ان کوایساکوئی بہانہ میسرنہ آئے جس کی بناء پرمشرقِ وسطیٰ اوردیگرمنڈیوں کاراستہ مسدود ہو جائے۔

اسرائیل کے دورے کے دوران نائب صدر وانگ کئی وجوہات کے لئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں. صدر زی کے سب سے زیادہ قابل اعتماد مشیر ہونے کے علاوہ، وانگ اسرائیل کی تاریخ پر چینی اموراورمعاملات پرایکاتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ متحرک اسرائیلی ہائی ٹیک ماحولیاتی نظام جودنیابھرمیں دفاعی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھاجاتاہے،اس سے بخوبی واقف ہیں اوراسرائیل بھی وانگ کواپناایک بہترین وفاداردوست سمجھتاہے جواسرائیل اورچین کے درمیان نہ صرف ایک رابطہ کاربلکہ ایک اہم پل کی حیثیت اختیارکرچکے ہیں۔وانگ چینی خارجہ امورکے انتہائی واحد اعلی افسرہیں جو پچھلے بیس سال سے اسرائیل اورچین کے مابین یہ اہم کرداراداکر رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں 24/اکتوبر2018ء کویروشلم میں نیتن یاہوکے ساتھ ایک اعلی سطحی وفدکے ساتھ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پرچین کے موجودہ کرداراور"ون روڈون بیلٹ"پراہم کامیاب مذاکرات کیلئے موجودتھے۔یادرہے کہ مشترکہ اسرائیل چین تعاون جائنٹ گروپ کی سربراہی بھی وانگ کررہے ہیں جہاں انہیں فوری فیصلوں کااختیاربھی حاصل ہے۔

ایک عالمی جریدے سے گفتگوکرتے ہوئے وانگ نے یہ تسلیم کیاکہ اسرائیل جس کی پوری آبادی ایک درمیانی سائز کے چینی شہر کے مقابلے میں کم ہے، اس کی جدید ترین ٹیکنالوجی، اس کے کاروباری ڈی این اے، اور یونیورسٹیوں اور کاروباری دنیا کے درمیان انتہائی مثراثرورسوخ ہے اورچین یقینا اسرائیل کے تعاون سے بہت کچھ سیکھ سکتاہے۔اس لئے دونوں ممالک کے مابین تعاون سے ترقی کے بہت سے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاریخی طور پر، امریکی کمپنیاں بشمول برکشائر ہیتھایے(مثلا آئکراورویزا)اورمائیکروسافٹ جیسے کمپنیاں کی بے تحاشہ سرمایہ کاری نے اسرائیلی معیشت میں انتہائی قابل قدراضافہ کیاہے اورپچھلے سال انٹیل اور(Mobileye)نے 15بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کی ہے جس کی چین اسرائیلی طرزکی پیروی کرتے ہوئے گزشتہ پانچ سالوں میں روایتی ایشیائی سرمایہ کاروں کے اشتراک کے ساتھ ہانگ کانگ،جاپان،کوریااورسنگاپورمیں سرمایہ کاری کی ہے ۔مزیدچین نے آٹوموبائل مینوفیکچررز سے متعلق صحت سے متعلق خدمات، صافیچ (پانی کی صافی، ڈیلیلریشن اور فضلہ کے انتظام)، سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی میں خاص دلچسپی ظاہر کی ہیاوراسرائیل میں مزدوری کی بہت زیادہ قیمت کی وجہ سے، چین نے عالمی سرمایہ کاروں کومقامی چینی کمپنیوں کے اشتراک سے اپنی مصنوعات تیارکرنے کی بھی پیشکش کی ہے جس کی بنا پرعالمی سرمایہ کاروں کارحجان تیزی سے چین میں مزیدسرمایہ کاری پر مرکوزہے۔

درحقیقت شروع دن سے ہی امریکا اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کافی مضبوط ہے اور حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے توثابت کردیاہے کہ وہ اسرائیل کانہ صرف مربی ہے بلکہ محافظ بھی ہے ۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کوپس پشت ڈالتے ہوئے بیت المقدس میں نہ صرف اپنا سفارتخانہ منتقل کیاہے بلکہ اپنے اتحادیوں کوبھی اس کیلئے مجبورکررہاہے۔کیونکہ اسرائیل دونوں چین اور امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، جس کافائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل دو جنات کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد بھی کررہاہے۔ادھر اسٹریٹجک صنعتوں میں سرمایہ کاری کی ایک بہت بڑی تعداد ممکنہ حد تک چین تک محدود رہتی ہے، لیکن اس طرح کی پابندیاں بھی زیادہ تردیگرممالک پربھی لاگوہورہی ہیں۔حال ہی ایک معاہدے کے تحت اسرائیل میں انفراسٹرکچر جیسے پلوں،سرنگوں،بندرگاہوں اورہائی ویزچین کمپنیوں کے ذریعہ بنائے جارہے ہیں اور چینی تعمیراتی کارکنوں کی ایک بڑی تعدادپہلے سے ہی اسرائیل میں موجودہے جس کی بناء پرچین کی اقتصادی ترقی میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہورہاہے۔

اسرائیل مشرق وسطی اورافریقہ کے درمیان یورپ اورایشیاکے درمیان واقع ہے۔اس طرح،چین کے بیلٹ اورروڈ انیشیٹو کیلئے اس کی اسٹریٹجک پوزیشننگ واضح ہے۔2015 میں اسرائیل چین کے زیر انتظام ایشیا انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (AIIB) کا بانی رکن بھی بن گیا، کیونکہ اسرائیل بھی مستقبل میں ایشیاء کی مارکیٹوں کومزید تلاش کرناچاہتاہے۔ون بیلٹ ون روڈکے اعلان کے بعد اسرائیل چین کے اشتراک سے دوردرازتجارتی منڈیوں تک اپنی رسائی کویقینی بناناچاہتاہے لیکن فی الحال مشرقِ وسطی میں جاری اس کی پالیسیاں اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہیں۔

چین اوراسرائیل کے درمیان سیاحت پربھی بھرپورتوجہ دی جارہی ہے جس کے باعث چین کے درمیانی طبقے میں اس تجارت کوفروغ حاصل ہورہا ہے اورحالیہ اعدادوشمار کے مطابق 2017 میں سیاحوں کی تعداد2016کے مقابلے میں تین گنااضافہ ہواہے۔اسی طرح چین اوراسرائیل میں ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کیلئے مطالعہ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اورثقافتی اورمیڈیا کے تبادلے عام ہوئے ہیں۔اس طرح ترقی پذیرتعلقات میں سیاحت کی تجارت بھی ان دونوں کوقریب لانے میں کافی معاون ثابت ہورہی ہے۔

چین اوراسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی دواہم وجوہات یہ بھی ہیں کہ"ون روڈون بیلٹ" کے اعلان اورمقاصدکے حصول کیلئے چین کیلئے عالمی منڈیوں میں تجارتی اجارہ داری کیلئے اسرائیلی جدیدٹیکنالوجی سے بھرپوراستفادہ حاصل کرنے کیلئے چینی دلچسپی کاایک اہم ڈرائیواس کا12واں پانچ سالہ منصوبہ تھا (مارچ 2011 میں اپنایا گیا تھا)جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی چینی مصنوعات کیلئے اپنےملک کادروازہ کھول دیاجس نے مغربی ممالک کی منڈیوں کوجہاں ایک بحران میں بھی مبتلاکیاوہاں چین بھی مغربی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔مئی 2013 میں چین کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہوکے کامیاب دورے کے بعدچین نے نیشنل کیمیائی کارپوریشن (کیمائن) اوراسرائیل کے زرعی کیمیکل کارخانہ مٹششیم آگن انڈسٹری میں15 بلین امریکی ڈالرکی سرمایہ کاری کی جس میں پچھلے چندسالوں میں مزیدسرمایہ کاری میں اضافہ ہواہے۔

حواوی نے پہلے سے ہی اسرائیل میں آراینڈ ڈی سینٹرقائم کیاہے اورمئی 2018 میں"علی بابا"اور"نی جیک ما" نے اسرائیل کادورہ کیا، اور شروع اپ ملت میں سرمایہ کاری کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے-اس کی بڑی مارکیٹ اوربڑھتی ہوئی، جدید ترین طبقے کے ساتھ،چین اسرائیل کے لئے ایک بہترین پارٹنرہےجس میں ایک اہم گھریلومارکیٹ ہےجبکہ اسرائیل کی پڑوسی مارکیٹوں تک رسائی نہیں ہےجبکہ چین کےعرب دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اورمشرقِ وسطی کے روٹ میں اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات بہرحال چین کے مفادمیں ہے۔تاہم یہ امر انتہائی اہم ہے کہ''انوویشن ٹیکنالوجی''جوامریکااورچین کے درمیان یک اہم تشویش کا سبب ہے اس کی بنا پراگرمستقبل میں امریکی چین کے تجارتی تعلقات خراب ہوجاتے ہیں تو، اسرائیل کیلئے امریکا کی خارجہ پالیسی پرکیا اثرات مرتب ہوں گے؟کیااسرائیل بیک وقت دونوں کشتیوں کاسواربن سکے گا؟ تاہم چین کی کامیاب خارجہ ومعاشی پالیسیوں میں ہماری نئی حکومت کیلئے سیکھنے کے کئی اسباق موجودہیں کہ ملک کے مضبوط معاشی حالات ہی بہرحال خطے میں پاکستان کوایک ایسے مقام پرکھڑاکرسکتی ہے جس کاخواب ہم پچھلی سات دہائیوں سے اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 149883 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2018 Views: 381

Comments

آپ کی رائے