فاتح کون ہوتا ہے؟

(Murad Ali Shahid, Doha)

سوشل میڈیا پر لودھراں الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جیت کے فاتحانہ نعرے اور ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے۔کہ شیر کی دھاڑ سے پی ٹی آئی کا دودھ خشک ،روک سکتے ہو تو روک لو،ایہہ کھیڈ نئیں زنانیاں دی۔وغیرہ وغیرہ ۔اسی طرح سے اور بہت سے کمنٹس پڑھتے پڑھتے میں اوراقِ تاریخ میں گم ہوتے ہوئے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ فتح کیا ہے؟فاتح کون ہوتا ہے؟فاتح کی کیا خوبیاں ،کمال،بصیرت اور نظریہ و فکر ہوتا ہے۔کیا چند ہزار ووٹ لے کر ایک کرپٹ سسٹم میں،کرپشن کا حصہ بننے کو فتح اور فاتح کہا جائے گا؟لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ،مجبوریووں سے کھیل کر،بلیک میل کر کے،خوشامد اور لالچ د ے کر جیت کے آپ ایسے فاتح بن گئے ہیں جو دلوں کو مسخر کر کے فاتح زمانہ کہلاتے ہیں۔نہیں ہرگز نہیں ،اس کا جواب بھی ہمیں تاریخ کے اوراق سے ہی مل پاء ے گا کہ ۔مولانا روم سے وقتِ آخر کسی نے کہا کہ مولانا صاحب آپ آخری سانسیں گن رہے ہیں۔اب آپ اس دنیا فانی سے کوچ کر جائیں گے۔تو معاً مولانا روم نے جواب دیا کہ میں دنیا کے تخت سے چلا جاؤں گا مگر لوگوں کے دلوں پر راج کروں گا۔اور آج مولانا روم اپنے علم و حکمت اور دانش و دانائی سے واقعتاً اور حقیقتاً لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔دلوں کو تسخیر کرنا اگر اتنا آسان و سہل نہیں تو اتنا مشکل بھی نہیں ہے،تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ محض چند درست فیصلے اور ان پر عمل پیرائی اور مستقل مزاجی سے لوگوں نے زمانے کو تسخیر کر لیا۔مثلاً ونسٹن چرچل دوسری جنگ عظیم کا ہیرو کہ ایک وقت میں اتحادی افواج یہ جنگ ہار رہے تھے اور دور دور تک ان کے جیتنے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے کہ تفتیشی انداز میں ایک انگریز افسر نے چرچل سے پوچھا کہ کیا ہم یہ جنگ جیت جائیں گے۔؟تو چرچل کا عجب جواب سن کر افیسر بھی ششدرق حیران رہ گیا کہ افیسر’’کیا میرے ملک میں عدالتیں انصاف نہیں کر رہی ہیں‘‘جواب ملا سر کیوں نہیں عدالتیں انصاف کر رہی ہیں۔تو چرچل نے پر اعتماد لہجے میں دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کا نشان v بناتے ہوئے کہا کہ ہم یہ جنگ جیت جائیں گے۔چشم فلک نے دیکھا کہ نا صرف اتحادی افواج فتح سے ہمکنار ہوئی بلکہ آج بھی جب کوئی ٹیم یا الیکشن میں فتح حاصل کرتا ہے تو چرچل کے انداز کو اپناتے ہوئے دو انگلیوں سے نشان وکٹری بناتا ہے۔اور تو اور اب تو V بنانا اتنا فیشن بنتا جا رہا ہے کہ چور،ڈاکو ،لفنگے ،لٹیرے اور کرپٹ سیاستدان دولت لوٹ کر ملک سے باہر کاروبار چلانے والوں کو بھی جب پولیس پکڑ کر جیل لے کر جا رہی ہوتی ہے تو وہ بھی وکٹری کا V بناتے ہوئے مسکراتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔اور پھر میرے حبیب ﷺدنیا کے عظیم فاتح کی تو شان ہی کچھ اور ہے۔کہ جن مکہ والوں نے آپﷺ کو ایک دن ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا جب وہی مکہ فتح ہوتا ہے تو جس فاتحانہ انداز میں آپﷺ مکہ میں داخل ہوتے ہیں ان کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔سبحان اﷲ کیا منظر ہے ارض کائنات کے عظیم فاتح مگرآنکھیں بطور شکر باری تعالیٰ جھکی ہوئیں ، خانہ خدا میں پڑے بتوں کو اپنے اپنے عصا مبارک سے گراتے جاتے اور وجاٗالحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا کی تلاوت فرماتے جاتے۔ایک صحابی فتح کے موقع پہ آپﷺ کے آگے آگے آپﷺ کا پیغام سناتا جاتا کہ خبردار جو صحن کعبہ میں داخل ہو ان پر تلوار نہ اٹھانا،جو ابو سفیان کے گھر پناہ لے اس کی گردن نہ کاٹنا،بچوں،عورتوں،بوڑھوں کو قتل نہ کرنا،انسان تو انسان درختوں ،نباتات،اور جانوروں پر بھی ظلم نہ کرنا۔اسی فاتحانہ انداز میں آپ ﷺ صحن کعبہ میں پہنچتے ہیں۔کفارانِ مکہ سہمے بیٹھے ہیں۔ہو کا عالم ہے،نماز کا وقت ہو جاتا ہے،حضرت محمدﷺ حکم فرماتے ہیں کہ بلال آج کعبہ کی چھت پہ چڑھ کر اذان دو۔بلال حبشی اذان کی صدا بلند فرماتے ہیں تو حباب بن اسید کفارانِ مکہ میں سے ایک شخص اونچی آواز میں بولتا ہے کہ شکر ہے کہ میرے آباؤ اجداد گدھے جیسی(نعوذ باﷲ) آواز سننے سے قبل ہی وفات پاگئے۔اذان ختم ہوتی ہے۔لب مبارک سے پھول جھڑتے ہیں کہ لاتثریب علیکم الیوم۔آج سب کے لئے عام معافی ہے۔صحن کعبہ نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اٹھتا ہے اور سب سے پہلے حباب بن اسید اٹھتا ہے،معافی کا طلبگار ہوتا ہے اور مسلمان ہونے کی التجا کرتا ہے۔رحمت اللعالمین کی کشادہ رحمت اسے بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔اور انہیں مکہ کا گورنر بنا دیا جاتا ہے۔سبحان اﷲ یہ ہے فاتح،یہ ہے اندازِ حکمرانی،یہ ہے سیاسی بصیرت اور عوام کے دلوں پہ حکمرانی اور راج۔جس دن یہ اندازِ حکمرانی اور فاتحانہ خصوصیات پاکستانی سیاستدانوں میں آ گئیں سمجھو پاکستان کی تقدیر بدل گئی وگرنہ حکمران کبھی بھی عوام کو یہ شعور نہیں آنے دیگے کہ ان کی اپنی سیاسی دکان خطرے میں پڑھ کر بند ہونے کے چانسز زیادہ ہو جائیں گے۔
وہ ادائے دلبرانہ ہو یا نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 99 Articles with 33264 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2018 Views: 420

Comments

آپ کی رائے