شیخ کچھ خرچ کر یار

(Arif Jameel, Lahore)
شیخ صاحب نے ڈیفنس میں گھر تو ایک کینا ل کا بنا لیا تھا لیکن اُسکے اخراجات کا اندازہ لگانابھول گئے۔۔۔۔پانی اور اور ٹیلی فون کے بلِ کی ادائیگی میں کچھ زیادہ مہلت نظر آتی اس لیئے جب تک پانی کا محکمہ کنکشن کاٹنے نہ آجاتا شیخ صاحب کو توفیق نہ ہوتی کہ پانی کا بِل ادا کر دیں ۔ جبکہ ٹیلی فون کا کنکشن تو کٹوا ہی دیتے۔۔۔۔" یار پیکج کرواتا ہوں بچے انٹرنیٹ پر فلمیں دیکھ کر ختم کر دیتے ہیں "

شیخ کچھ خرچ کر یار

شیخ صاحب نے ڈیفنس میں گھر تو ایک کینال کا بنا لیا تھا لیکن اُسکے اخراجات کا اندازہ لگانا بھول گئے تھے۔ پہلے اُنکی رہائش ایک خاندان کی صورت میں تھی لہٰذا مل بیٹھ کر اخراجات کی ذمہ داری اُٹھا لیتے تھے اور کھاپی بھی لیتے تھے۔ لیکن اب معاملہ شیخ کی اکیلی جان پر آگیا تھا۔کچن کا خرچہ، کام والی کا خرچہ ، بچوں کی فیسیں اور اُوپر سے بچوں کیلئے یہ نیا سوشہ " ٹیک اَوے" یعنی فون کرو اور کھانا گھر پر اور ادائیگی بھی نقد۔ اِن حالات میں کسی مہینے بجلی کے بل کی ادائیگی روک لیتے اور اگلے مہینے سوئی گیس کا بِل۔

پانی اور اور ٹیلی فون کے بلِ کی ادائیگی میں کچھ زیادہ مہلت نظر آتی اس لیئے جب تک پانی کا محکمہ کنکشن کاٹنے نہ آجاتا شیخ صاحب کو توفیق نہ ہوتی کہ پانی کا بِل ادا کر دیں ۔ جبکہ ٹیلی فون کا کنکشن تو کٹوا ہی دیتے۔

یہاں موبائل کے ایزی لوڈ کا ذکر نہیں کیونکہ اُسکے لیئے شیخ صاحب نے اپنے مطلب کا پیکج ڈھونڈ لیا ہوا تھا جس کی اولین شرط یہ تھی کہ جس سے وہ بات کرنا چاہتے اُس کو مِس بیل مارتے اوردوسری طرف والا فوراً فون کرتا لیکن ساتھ یہ ضرور کہتا " شیخ کچھ خرچہ کر لیا کر یار " کہ تجھے مِس بیل نہ مارنی پڑے تو شیخ صاحب جو حاضر جوابی میں بھی کمال رکھتے کسی کو کہتے،
" ابھی بیلنس کم ہوا ہے"
" یار پیکج کرواتا ہوں بچے انٹرنیٹ پر فلمیں دیکھ کر ختم کر دیتے ہیں "
" یار توں کہیں مصروف نہ ہو اس لیئے مِس بیل ماردیتا ہوں کہ فارغ ہو کر کال بیک کر لے"
" پیکج تو میں نے کروانا ہی چھوڑ دیا ہے بیوی میرا موبائل ہی نہیں چھوڑتی ۔میری اہم کالز آنی ہوتی ہیں" وغیرہ

لیکن اس دوران اگر کسی دِن شیخ صاحب کے مسِ بیل مارنے پر اچانک دوسری طرف سے بے دھیانی میں کوئی کال وصول کر لیتا تو اُس سے کیا بات کرنی تھی وہ تو بعد کی بات ۔۔۔

پھر پورا دِن خوف کے مارے کسی اور کو مِس بیل نہ مارتے کے پھر کوئی فون نہ اُٹھا لے۔۔دِن تو وہ۔۔ شیخ صاحب کیلئے عذاب کا ہوتا کہ اب گپیں کس کے خرچے پر لگائیں ۔پھر اگلے دِن حساب لگاتے شُکر ہے بچت ہو گئی۔دوسری طرف روزمرہ جن دوستوں کو مِس بیل ضرور جاتی وہ جان جاتے آج شیخ کا بڑا خرچہ ہو گیا ہے اور ایک دوسرے کو فون کر کے کہتے " شیخ کا کچھ کر یار " ۔پھر مذاق میں شیخ کو فون کر کے کہتے " شیخ کچھ خرچہ کرلیا کر یار" ۔شیخ بھی یاروں کا یار لہذا وہ بھی وہی کرتا جو پہلے کر رہا تھاجیسے ایک لطیفہ ہے:
شیخ نے بیٹے سے پوچھا کون آیا ہے؟
بیٹا بولا کالونی سے سوئمنگ پول کیلئے چندہ لینے والے۔میں اُن کو ایک گلاس پانی کا دینے لگاہوں
شیخ بولا شاباش بیٹے گلاس میں پانی ساتھ والے گھر سے بھر کر دینا۔۔۔ہاہاہاہا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 175172 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
18 Dec, 2018 Views: 823

Comments

آپ کی رائے