پاکستان رائٹرز گلڈ پنجاب کے گلڈ ہاؤس لاہور میں اطفال ادب کی کتب پر تقسیم ایوارڈ کی تقریب ۔۔۔۔۔۔۔۔ رپورٹ : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

پاکستان رائٹرز گلڈ پنجاب کے گلڈ ہاؤس لاہور میں اطفال ادب کی کتب پر تقسیم ایوارڈ کی تقریب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رپورٹ : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار پاکستان رائٹرز گلڈ ، گلڈ ہاؤس لاہور میں بچوں کی کتب کے حوالے سے تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت معروف شاعر اکرم سحر فارانی نے کی، مہمان اعزاز ڈاکٹر اظہار احمد گلزار رکن صوبائی مجلس عاملہ تھے جب کہ خصوصی شرکت ڈاکٹر حافظ خورشید حسن۔ سماہنی بھمبر آزاد کشمیر سے تھے۔ نظامت کے فرائض نذر بھنڈر رکن صوبائی مجلس عاملہ نے ادا کیے۔ 2022 میں اطفال ادب کے حوالے سے چھپنے والی کتب میں سے ملنے والی پچیس کے لگ بھگ کتب میں انعام کے حقدار ٹھرنے والی تینوں امیدواران خواتین تھیں ۔جن میں فرزانہ چیمہ کی تصنیف "ہادی ہمارے" ، کانتہ رابعہ کی تصنیف " سارے دوست ہیں ہمارے " اور مسرت ناز کی تصنیف "گلدستہ" پر کیش پرائز دس دس ہزار فی کس کے ساتھ ایوارڈ اور اسناد بھی دیں گئیں۔دو درجن سے زائد ادیبوں کی اطفال ادب کے لیے مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتب بھیجی گئی تھیں جن میں پہلے نمبر پر آنے والی تین خواتین کو انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔حسن اتفاق یہ کہ تینوں ایوارڈ یافتہ خواتین پر مختلف محتقین اور دانشوروں کے مرتب کردہ رزلٹ کی روشنی میں نمبر یکساں آئے تھے اس لیے تینوں لکھاریوں کو یکساں انعامات اور ایوارڈز دیے گئے۔ انعامات تقسیم کرنے کے لیے چیئر پرسن ٹرسٹ پاکستان رائٹرز گلڈ محترمہ فرح جاوید ، محترم بیدار سرمدی صوبائی سیکرٹری، ڈاکٹر اخلاق حیدرآبادی رکن مرکزی مجلس عاملہ پاکستان،ڈاکٹر اظہار احمد گلزار رکن صوبائی مجلس عاملہ پاکستان رائٹرز گلڈ اور صدر مجلس محترم اکرم سحر فارانی اور ڈاکٹر حافظ خورشید حسن نے اپنے دست مبارک سے انعام یافتگان میں سرٹیفکیٹ،کیش پرائز اور ایوارڈز تقسیم کیے۔ صاحب تقریب سحر اکرم فارانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ادب انسان کو " انسان" بناتا ہے ۔سائنس ایجادات کرتی ہے تو ادب ان کا بہتر استعمال سکھاتا ہے سائنس دکان کھولتی ہے تو ادب طرح طرح کی کہانیوں کے ذریعے انسان کو اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر کاروبار کرنے پر اکساتا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے آج پاکستان رائٹرز گلڈ کے اس یادگار پروگرام میں شامل ہو کر بہت خوشی ہوئی ہےاور میری یہ دعا ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح ہمیشہ چلتا رہے اس موقع پر محترمہ فرح جاوید نے کہا کہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی طرف سے ادیبوں کی حوصلہ افزائی ایک خوش آئند اور بہت بڑا معرکہ ہے۔ایک تعطل کے بعد ہم اس سلسلے سے جڑے اور ان شاءاللہ یہ سلسلہ اب اسی طرح جڑا رہے گا ۔انھوں نے کہا کہ 2022 کی کتب پر تقسیم انعامات کی تقریب میں خاصی تاخیر ہوئی ۔ فرح جاوید نے مزید کہا کہ کوئی قوم دنوں یا مہینوں میں نہیں بنتی کسی ہجوم کو قوم بنانے اور معاشرے کی اخلاقی تربیت کرنے کے لیے سالہا سال کی ریاضت درکار ہوتی ہے ۔اس محنت و مشقت کا اہم کردار ادیب ہوتا ہے ۔میرے خیال میں بالواسطہ یا بلا واسطہ درحقیقت ادیب جیسے مفکر لوگ ہی معاشرے کی تربیت کرتے ہیں اور ہمیں اپنے اس اہم طبقہ کی ہر طرح حوصلہ افزائی کرنی ہے ۔ محترم بیدار سرمدی نے کہا کہ زمین کے گرد گھوم گھوم کر سیٹلائٹ کی طرح ادیب معاشرے کے گرد گھوم گھوم کر اسے ہر زاویے سے دیکھتا ہے، ہر پہلو کا گہرا مشاہدہ کرتا ہے ، ادیب معاشرے کی گلی سڑی تصویر سے ایک نیا رخ تک کشید کر لیتا ہے ۔یہ ایک ایسا رخ ہوتا ہے کہ جو معاشرے کو خبردار کرتے ہوئے تہذیب و آداب کھاتا ہے ۔محترم بیدار سرمدی نے مزید کہا کہ اطفال ادب کے حوالے سے بہت کم کام ہو رہا ہے اس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے ۔اج کی اس تقریب میں اطفال ادب کے حوالے سے جس طرح ادبا کی حوصلہ افزائی کی ہے وہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔انھوں نے کہا پاکستان رائٹرز گلڈ نے ہمیشہ شعراء و ادباء کو ایک ایسا پلیٹ فارم عطا کیا ہے یہاں سے علم و نور کے سوتے پھوٹتے رہے ہیں۔اور آئندہ بھی ہر طرح کوشش جاری رہےگی کہ پاکستان رائٹرز گلڈ ادیبوں کی کتب پر انعامات کی تقاریبات کا انعقاد کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہے۔ ڈاکٹر اخلاق حیدرآبادی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا آج پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیرِ اہتمام گلڈ ایوارڈ برائے بچوں کی کتب 2022 کی یہ منفرد اور باوقار تقریب ہمارے ادبی سفر میں ایک نہایت خوشگوار سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایوارڈ نہ صرف تخلیق کاروں کے عزم، محنت اور جذبے کا اعتراف ہے بل کہ ہماری قومی ادبی روایت کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک مؤثر کاوش بھی ہے۔ بچوں کے لیے معیاری ادب تخلیق کرنا محض لکھنے کا عمل نہیں بل کہ مستقبل کی ذہنی، اخلاقی اور تخلیقی تشکیل کا ذمہ دارانہ فریضہ ہے۔ آج ہم انھی ممتاز قلم کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہاں جمع ہیں۔ بچوں کا ادب کسی بھی قوم کی فکری بنیادوں کا سنگِ اول ہوتا ہے۔ اسی ادب کے ذریعے بچے دنیا کو سمجھتے، سوال کرتے، سیکھتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ کہانیاں صرف تفریح نہیں ہوتیں بلکہ کردار سازی، تخیل کی آبیاری اور سوچ کو نئی سمت دینے کا مؤثر ترین ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ لکھاری جو بچوں کے لیے لکھتے ہیں دراصل ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں روشنی کا چراغ جلاتے ہیں۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کا یہ ایوارڈ اس چراغ کو مزید روشن کرنے کی کوشش ہے۔ آج جن بچوں کے ادیبوں کو اس اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے، وہ محض کہانی سنانے والے نہیں بل کہ نئی نسل کے خواب بُننے والے فنکار ہیں۔ انھوں نے مشکل اور مصروف دور میں بھی بچوں کی ذہنی سطح، ان کی معصومیت، سوالات اور بدلتی ہوئی تکنیکی دنیا کو سامنے رکھ کر ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جو ہمارے بچوں کو نہ صرف خوشی دیتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت کو مضبوط بھی کرتے ہیں۔ ان تخلیق کاروں کی محنت، عزم اور فن کو ہم دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں۔ پاکستان رائٹرز گلڈ ہمیشہ سے علمی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں اپنی مثال آپ رہی ہے۔ اس ادارے نے نہ صرف نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کی بل کہ سینئر تخلیق کاروں کو وہ پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں ان کا کام عزت اور توجہ کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ بچوں کی کتب پر خصوصی ایوارڈ کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ گلڈ آنے والی نسلوں کی فکری آبیاری کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ ایسے ادارے زندہ قوموں کی شناخت ہوتے ہیں۔ آخر میں میری دعا ہے کہ ہمارے قلم کار اسی جذبے سے لکھتے رہیں اور ہماری نئی نسل کو ایسا ادب فراہم کرتے رہیں جو انہیں سوچنے، سمجھنے، آگے بڑھنے اور بہتر انسان بننے میں مدد دے۔ اللہ کرے کہ پاکستان رائٹرز گلڈ کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری و ساری رہے اور ہمارے ادیب، شاعر، محقق اور بچوں کے لکھاری دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتے رہیں۔ ہم سب مل کر ادب کی وہ روایت قائم رکھیں جو آنے والے برسوں تک نسلوں کو روشنی عطا کرتی رہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے سیکرٹری پاکستان رائٹرز گلڈ بیدار سرمدی، محترمہ فرح جاوید اور رکن مرکزی مجلس عاملہ ڈاکٹر اخلاق حیدر آبادی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان احباب نے پاکستان رائٹرز گلڈ میں نئی روح پھونک دی ہے ۔اس کے اندر ایک تحرک پیدا کر دیا ہے ، نت نئے پروگرام ہو رہے ہیں ، مشاعرے ہو رہے ہیں ، مقابلہ کتب کی تقاریب کا انعقاد ہو رہا ہے اور اس کا تمام تر سہرا ان مخلص قلم کاروں کو جاتا ہے ۔۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار نے مزید کہا کہ ادب کا یہ کمال ہوتا ہے کہ یہ انسانوں میں ہمت پیدا کرتا ہے اور آگے سے آگے بڑھنے پر قائل کرتا رہتا ہے۔یوں ذہن و کردار سازی ہوتی چلی جاتی ہے اور معاشرہ ترقی کے منازل طے کرتا آگے بڑھتا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ادب سے دور ہٹتے جا رہے ہیں ۔اس طرح کی تقاریبات کا انعقاد کر کے پاکستان رائٹرز گلڈ لوگوں کو پھر سے جوڑنے کا کردار ادا کرنے کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ نذر بھنڈر رکن صوبائی مجلس عاملہ اور نقیب محفل نے کہا کہ پاکستان رائٹرز گلڈ شاعروں، نثر نگاروں اور تخلیق کاروں کا ایک قومی ادارہ ہے جس کا مقصد ادبی سرگرمیوں کا فروغ اور اہلِ قلم کے حقوق کا تحفظ ہے۔اس کے تحت ہونے والے اج کے بچوں کی کتب پر تقریب انعامات ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے اور ان شاءاللہ اب یہ سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ رہے گا اس تقریب میں شعراء سے ان کلام بھی سنا گیا جو قصور، لاہور،فیصل آباد، گوجرانوالا اور کشمیر سے تشریف لائے تھے۔ ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اور روںق کو دوبالا کیا۔ یاد رہے ۔۔۔۔۔۔ پاکستان رائٹرز گلڈ ادیبوں اور اہل قلم کی "انجمن مصنفین" ہے جو 29 جنوری 1959ء کو کراچی میں بابائے اردو مولوی عبد الحق،جمیل الدین عالی،قدرت اللہ شہاب اور کئی قد آور شخصیتوں کے زیر صدارت قائم ہوئی اور وہی انجمن کے پہلے رکن بنے۔ اس انجمن کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے ادیبوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ چنانچہ انجمن کو پزیرائی ملی اور پاکستان کے تقریباً تمام قابل ذکر ادیب اور شاعر اس انجمن کے رکن رہے۔ نیز رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام متعدد ادبی انعامات کا آغاز بھی ہوا جو پاکستان کے بڑے اور اہم ترین ادبی انعام قرار پائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رپورٹ: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ۔ رکن مجلس عاملہ ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ( ادارہ مصنفین پاکستان) ا۔ منٹگمری روڈ ۔ لاہور
Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 38 Articles with 40570 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.