علامہ اقبال کا فکر ی وژن اور عصر حاضر کا تعلیمی بحران:تعلیم کا بحران یا تہذیب کا زوال؟(حصہ سوم) تعلیم کا نیا عمرانی معاہدہ --- مستقبل کے لیے فکری فریم ورک ڈاکٹر افضل رضوی: آسٹریلیا قبل ازیں پہلے دو حصوں میں ہم نے یہ جائزہ لیا کہ کیوں جدید تعلیم ہنرمند تو پیدا کررہی ہے لیکن انسان پیدا کرنے سے کیوں قاصر ہے۔فکری معنویت کہاں اور کیوں گم ہوگئی ہے۔ نیز علامہ اقبال کے فلسفے میں اس کا کیا حل ملتا ہے؛ اس پر ایک جائزہ پیش کیا گیا۔ اب اس حصے میں اس بنیادی نکتے کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر کوئی قوم واقعی اپنی تعلیمی اور تہذیبی سمت درست کرنا چاہے تو اسے کن فکری، نظریاتی اور عمرانی تبدیلیوں سے گزرنا ہوگا۔ علامہ محمد اقبال کے نزدیک تعلیمی بحران کا حل محض نصاب کی تبدیلی، امتحانی اصلاحات یا ادارہ جاتی انتظامات میں نہیں بلکہ تعلیم کے تصور (Concept of Education) کی ازسرِ نو تشکیل میں مضمر ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک تعلیم ایک عمرانی معاہدہ (Social Contract) ہے؛یعنی ایسا اجتماعی عہد جو فرد، معاشرے اور ریاست کے درمیان تعلق کی نوعیت طے کرتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ غلط بنیادوں پر قائم ہو جائے تو قوم فکری انتشار، اخلاقی زوال اور تہذیبی بے سمتی کا شکار ہو جاتی ہے، چاہے وہ سائنسی یا تکنیکی ترقی میں کتنی ہی آگے کیوں نہ ہو۔ اس سلسلے میں پہلی بات جو ذہن نشین رہنی چاہیے وہ یہ کہ علامہ اقبال کے مطابق جدید تعلیمی نظام کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ اس نے تعلیم کو نتیجے (Outcome) تک محدود کر دیا ہے، جبکہ تعلیم دراصل ایک عمل (Process of Becoming) ہے۔یہی نکتہ Jean Piaget اپنی تعلیمی نفسیات میں واضح کرتے ہیں۔ پیاجے کے مطابق: The principal goal of education is to create people who are capable of doing new things, not simply repeating what other generations have done (Piaget, 1973) یہ تصورعلامہ اقبال کے نظریہ خودی سے براہِ راست ہم آہنگ ہے۔علامہ اقبال بھی ایسے انسان کی تشکیل چاہتے ہیں جو تقلید نہیں بلکہ تخلیق کرے۔چنانچہ اگر ہم علامہ اقبال اور پیا جے کے تعلیمی افکار کو پیشِ نظر رکھیں تو ہمیں چار ایسے بنیادی نکات ملتے ہیں جن پر عمل کرکے ایک ایسے تعلیمی ماحول کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے جو علم سے مزین ایسے افراد پیدا کرے جو نہ صرف اپنے لیے مفید ہوں بلکہ وہ شعوری اور لاشعوری ہر دو طرح سے اپنے معاشرے کے لیے بھی ممد ومعاون ہوں۔ علامہ اقبال اور پیا جے کے فلسفے کی رو سے تعلیم کے چار بنیادی ستون ابھر کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ (الف) علم: ارتقائی نفسیات کے معروف محقق جین پیاجے (Jean Piaget)کے مطابق علم باہر سے منتقل نہیں ہوتا بلکہ سیکھنے والا خود اسے تشکیل دیتا ہے (Constructivism)۔ علامہ اقبال اسی بات کو روحانی اور فکری سطح پر یوں بیان کرتے ہیں: حقیقت ایک ہے، مگر اس تک پہنچنے کے زاویے مختلف ہیں یعنی علم جامد نہیں، متحرک ہے اور یہی زندہ تعلیم کی بنیاد ہے (اقبال، (1934۔ (ب) مقصد:اقبال کے نزدیک علم اگر مقصد سے خالی ہو تو وہ انسان کو طاقت تو دیتا ہے مگر سمت نہیں اور پیاجے بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعلیم کا مقصدصرف معلومات کا انبار نہیں بلکہ ذہنی ارتقاء (Cognitive Development) ہے۔اس کے مطابق: "Education is not merely about accumulation of facts but about structuring intelligence"(Piaget,1952) (ج) کردار: پیاجے کا اخلاقی نظریہ (Moral Development Theory) یہ واضح کرتا ہے کہ اخلاق رٹنے سے نہیں بلکہ تجربے، مکالمے اور شعوری فیصلے سے بنتا ہے۔جب کہ علامہ اقبال کا اخلاقی ارتقا کا نظریہ خودی کے متحرک تصور کے گرد گھومتا ہے، جسے وہ انسان کی بنیادی روحانی حقیقت اور جوہر سمجھتے ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک زندگی کا مقصد خودی کو مٹانا نہیں بلکہ اس کی اثبات، استحکام اور تکمیل ہے، جو مسلسل اخلاقی اور روحانی ارتقا کے عمل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے (رضوی، 2019)۔ چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ علامہ اقبال اور پیاجے،دونوں کے نزدیک اخلاقی خودمختاری تعلیم کا لازمی جزو ہے۔اپنی تقاریر اور بیانات کے مختلف مواقع پر علامہ اقبال نے واضح کیا کہ تعلیم کو سیکھنے والے کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جانا چاہیے اور اس کا مقصد مخصوص اخلاقی و کردار سازی کی صفات کی تشکیل ہونا چاہیے۔ ایسی تعلیم جو کردار کی تعمیر میں معاون نہ ہو، بے فائدہ ہے۔ تاہم حقیقی قومی کردار صرف بنیادی ضروریات کی فراہمی سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایسی قومی تعلیم درکار ہے جو قوم کے اعلیٰ نظریات اور اقدار کی عکاس ہو (اقبال، 1902/1938)۔مزید یہ کہ اچھا طرزِ عمل مطلوبہ اقدار کو داخلی طور پر راسخ کرنے اور ضبطِ نفس کے ساتھ مثبت وابستگی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کردار سازی اور خودی کے احترام (خود اعتمادی) کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ اقبال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جذبات اور خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت، مشکلات پر قابو پانا، اور دیانت داری کے ساتھ عمل کرنا خود احترام اور اعتماد کو فروغ دیتا ہے، جو مجموعی فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوتا ہے(رضوی، 2019)۔ (د) خودی: پیاجے کے نزدیک تعلیم کا اعلیٰ مقصد Autonomous Individual کی تشکیل ہے یعنی ایسا فرد جو خود سوچ سکے، خود فیصلہ کر سکے۔اسی کا نام علامہ اقبال کے ہاں خودی ہے۔ جدید الہیات اسلامیہ (The Reconstruction of Religious Thought in Islam میں اقبال فطرت کو ذاتِ الٰہی کا مظہر قرار دیتے ہیں اور اس کا تقابل اس طرح کرتے ہیں کہ جس طرح کردار انسانی خودی کی عکاسی کرتا ہے (اقبال، 1930، ص 54)۔گویا پیا جے اور علامہ اقبال کے نزدیک انسان کی خود ی اس کی ذات اور کردار میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ علامہ اقبال کے تعلیمی نظریے کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ عصرِ حاضر میں تعلیم کو جس بحران کا سامنا ہے، اسے محض ادارہ جاتی ناکامی، نصابی فرسودگی یا امتحانی نظام کی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بحران دراصل تہذیبی ہے، کیونکہ تعلیم کسی بھی تہذیب کا فکری، اخلاقی اور روحانی مظہر ہوتی ہے۔ علامہ اقبال نے بہت پہلے اس خطرے کی نشاندہی کر دی تھی کہ اگر تعلیم اپنے تہذیبی مقصد سے کٹ جائے تو وہ قوموں کو بیدار کرنے کے بجائے انہیں فکری غلامی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔علامہ اقبال کے نزدیک جدید تعلیم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے علم کو مقصدِ حیات سے الگ کر دیا ہے۔ تعلیم تہذیب کی محافظ بھی ہے اور معمار بھی۔ جب نصاب، تدریس اور تعلیمی اقدار کسی قوم کے فکری ورثے سے جڑی ہوں تو تعلیم تہذیبی تسلسل کو برقرار رکھتی ہے۔ لیکن جب تعلیم غیر تنقیدی تقلید کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔ اقبال مغربی سائنسی ترقی کے منکر نہیں، مگر وہ اس کے ساتھ جڑی مادّی فکر پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ علم جو روحانیت اور اخلاق سے خالی ہو، انسان کو طاقتور تو بنا سکتا ہے مگر مہذب نہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ تعلیمی بحران دراصل تہذیبی بحران کا عکس ہے۔ اس کا حل محض اصلاحات میں نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری تبدیلی میں مضمر ہے، جس کی بنیاد علامہ اقبال کے تصورِ علم و انسان پر رکھی جا سکتی ہے۔پس دورِ حاضر میں ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جو جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرے لیکن اس کی بنیاد اسلام کے سنہری اصولوں پر رکھی جائے کیونکہ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کو انسانی زندگی سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔ |