علامہ اقبال کا فکر ی وژن اور عصر حاضر کا تعلیمی بحران:تعلیم کا بحران یا تہذیب کا زوال؟حصہ چہارم‎

علامہ اقبال کا فکر ی وژن اور عصر حاضر کا تعلیمی بحران:تعلیم کا بحران یا تہذیب کا زوال؟حصہ چہارم
اقبال کے وژن کی روشنی میں عملی تعلیمی حکمتِ عملی
ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا

علامہ محمد اقبال کے نزدیک تعلیم محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ ایک زندہ، تخلیقی اور ارتقائی عمل ہے جو فرد کی داخلی دنیا کو بدل کر معاشرے اور تاریخ کی سمت متعین کرتا ہے۔ The Reconstruction of Religious Thought in Islam(RRTI) میں اقبال اس نکتے کو واضح کرتے ہیں کہ علم کوئی جامد حقیقت نہیں بلکہ انسانی شعور کی فعّال کاوش ہے۔ ان کے الفاظ میں علم
"knowledge is sense perception elaborated by understanding".
یہی تصور اقبال کے عملی تعلیمی وژن کی بنیاد بنتا ہے۔ ان کے نزدیک ایسا تعلیمی نظام جو طالبِ علم کو محض رٹّا لگانے، امتحان پاس کرنے اور اطاعت گزار بننے تک محدود کر دے، علم کی روح سے خالی ہو جاتا ہے اور قوم کو فکری جمود کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اسی تناظر میں اقبال فکری غلامی پر سخت تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
گلشن راز جدید اور بندگی نامہ میں علامہ اقبال نے یہ بات باکل واضح کردی ہے کہ ”سوچ کے ذریعے ہی ہمارا علم بڑھتا ہے، اور سوچ ہمارے حسی تجربات کے تابع ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ہمارے حواس کی نوعیت میں تبدیلی آتی ہے تو ہمارے لیے دنیا بھی بدل جاتی ہے۔ یوں سکون، حرکت، کیفیت اور مقدار نئے معنی اور نئی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں“۔
علامہ اقبال کے مطابق تعلیمی اصلاح کا آغاز تعلیم کے مقصد کے تعین سے ہوتا ہے۔ جب تک قوم یہ طے نہیں کرتی کہ وہ کس قسم کا انسان پیدا کرنا چاہتی ہے، اس وقت تک نصاب، ادارے اور پالیسیاں بے سمت رہتی ہیں۔ علامہ اقبال انسانی شخصیت یا خودی کو تعلیم کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم کا حتمی مقصد فردکی خودی کو مضبوط بنانا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم کو فرد کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کے ذریعے اس کی صلاحیتوں کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ وہ معاشرتی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔چنانچہ انہوں نے خود آگاہی اور انسانی شخصیت کی ہمہ گیر تعمیر کو غیر معمولی اہمیت دی اور ایسے نصاب کی وکالت کی جس میں مذہب، فلسفہ، فنون اور سائنسز کا باہمی امتزاج ہو، تاکہ ایک متوازن، باشعور اور ہمہ جہت انسان تشکیل پا سکے۔
پس علامہ اقبال کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض معاشی افادیت یا سماجی حیثیت نہیں بلکہ خودی کی تعمیر ہے۔ وہ ایسی تعلیم کے سخت ناقد ہیں جو نوجوان کو سوال کرنے کے بجائے تقلید پر آمادہ کرے۔ان کے نزدیک آزاد ذہن ہی زندہ قوم کی علامت ہے، اسی لیے وہ مغرب کی اندھی نقالی سے خبردار کرتے ہیں:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
یہی اصول نصاب کی تشکیل پر بھی لاگو ہوتا ہے۔علامہ اقبال کے نزدیک نصاب قوم کے فکری مزاج اور تہذیبی سمت کا آئینہ ہوتا ہے۔ اگر نصاب میں خودی، مقصدِ حیات اور اخلاقی شعور شامل نہ ہو تو تعلیم محض ہنر سکھا کر انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اسی لیے اقبالیات کو محض اشعار یاد کرانے کا مضمون بنانے کے بجائے شخصیت سازی اور فکری تربیت کا ذریعہ بنانا ناگزیر ہے۔
قرآن اور سائنس کے تعلق پر اقبال کا موقف The Reconstruction of Religious Thought in Islam میں نہایت واضح اور دوٹوک ہے۔ وہ قرآن کے مزاج کو تجرباتی اور مشاہداتی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
"It is further clear that the birth of the method of observation and experiment in Islam was due not to a compromise with Greek thought but to a prolonged intellectual warfare with it. In fact, the influence of the Greeks who, as Briffault says, were interested chiefly in theory, not in fact, tended rather to obscure the Muslims' vision of the Qur‘an, and for at least two centuries kept the practical Arab temperament from asserting itself and coming to its own. I want, therefore, definitely to eradicate the misunderstanding that Greek thought, in any way, determined the character of Muslim culture.
Knowledge must begin with the concrete. It is the intellectual capture of and power over the concrete that makes it possible for the intellect of man to pass beyond the concrete. As the Qur‘an says: "O company of Jinn and men, if you can overpass the bounds of the Heaven and the earth, then overpass them. But by power alone shall ye overpass them" (55: 33)".
"مزید یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں مشاہدہ اور تجربہ کے طریقِ کار کی پیدائش یونانی فکر سے کسی مفاہمت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے برعکس یونانی فکر کے ساتھ ایک طویل فکری کشمکش کا حاصل تھی۔ درحقیقت یونانیوں کا اثرجو،بقول بریفاولٹ (Briffault) زیادہ تر نظریے میں دلچسپی رکھتے تھے، حقیقت میں نہیں،مسلمانوں کے قرآنی وژن کو واضح کرنے کے بجائے اسے کسی حد تک دھندلا دینے کا باعث بنا، اور کم از کم دو صدیوں تک عملی عرب مزاج کو اپنے جوہر کے اظہار اور اپنی اصل قوت کے ظہور سے روکے رکھا۔ اس لیے میں اس غلط فہمی کو قطعی طور پر دور کرنا چاہتا ہوں کہ یونانی فکر نے کسی بھی اعتبار سے مسلم تہذیب کے کردار کا تعین کیا ہو"۔
مزید لکھتے ہیں:
"علم کی ابتدا لازماً محسوس اور ٹھوس حقائق سے ہوتی ہے۔ ٹھوس حقیقت پر فکری گرفت اور اس پر قدرت ہی وہ ذریعہ ہے جو انسانی عقل کو ٹھوس سے ماورا ہونے کے قابل بناتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:"اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، تم بغیر زور کے نہ نکل سکو گے (اور وہ ہے نہیں)"(الرحمن: 33)۔
یہ اقتباس اس تصور کی نفی کرتا ہے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک اصل مسئلہ سائنس نہیں بلکہ وہ علم ہے جو اخلاق سے کٹ جائے۔ اسی خطرے کی طرف وہ یوں اشارہ کرتے ہیں:
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
یہ علم کی اس صورت پر گہرا طنز ہے جو طاقت تو پیدا کرتی ہے مگر عدل، رحم اور اخلاق سے خالی ہوتی ہے۔علامہ اقبال اسی لیے قرآن کی حکمت اور جدید سائنسی علوم کے امتزاج کو تعلیم کی ناگزیر شرط قرار دیتے ہیں۔
تاریخ کی تدریس کے بارے میں بھی ان کا نقطہ نظر محض واقعاتی نہیں بلکہ تربیتی ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ قیادت، فیصلے اور کردار سازی کا آئینہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان تاریخ کو ماضی کا بوجھ نہیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی سمجھیں۔ ایسی تاریخ جو شعور نہ دے، محض معلومات کا انبار بن جاتی ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے باب میں علامہ اقبال کا موقف آج کے دور میں اور زیادہ معنویت اختیار کر گیا ہے۔ وہ سائنسی ترقی کے مخالف نہیں، مگر اسے انسان کا خادم دیکھنا چاہتے ہیں، آقا نہیں۔ ان کا یقین تھا کہ اگر ٹیکنالوجی اخلاقی ضابطوں سے آزاد ہو جائے تو وہ انسان کو سہولت کے نام پر غلام بنا دیتی ہے۔ اس لیے ان کے وژن کے مطابق جدید تعلیمی حکمتِ عملی میں ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاقی شعور کی تربیت ناگزیر ہے۔مزید برآں ان کے نزدیک تعلیمی نظام کا اصل مرکز استاد ہے۔ وہ استاد کو محض معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ قوم کا معمار سمجھتے ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں:
مقصد ہو اگر تربیتِ لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
یعنی علامہ اقبال استاد کو ایسا مینارہئ نور سمجھتے ہیں جو اپنے طلبہ کے اذہان کو علم کے نور سے منور کردے۔ چنانچہ وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر سورج (استاد)بھٹک جائے یعنی اپنی روشنی کا صحیح عکس نہ ڈال سکے تو بدخشاں کے لعل (طالب علم)کی تربیت بھی وہ نہیں کر سکتا۔ مراد یہ ہے کہ اگر استاد طالب علموں کو علم کی صحیح اور سچی روشنی نہ دے تو قیمتی سے قیمتی اور لائق سے لائق طالب علم بھی راہ راست سے بھٹک جائے گا جیسا کہ آج کل کے تعلیمی اداروں میں بھٹکے ہوئے طالب علم نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب جہاں تعلیم کی خرابی ہے وہاں اساتذہ کی خرابی بھی ہے۔جب ان کی دوربین نگاہیں اساتذہ کا حال دیکھتی ہیں تو ان کا قلم پکار اٹھتا ہے:
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ، کیا مدرسہ والوں کی تگ و دَو
وہ کہتے ہیں کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ ساری دنیا روایات کے پھندوں میں گرفتار ہے اور اس میں مدرسہ، مدرسے والے اور ان کی دوڑ دھوپ بھی شامل ہے اس لیے تعلیم کا صحیح نتیجہ برآمد ہونے کی کوئی امید نہیں۔کیونکہ:
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
جن اساتذہ میں یہ صلاحیت ہو سکتی تھی کہ وہ اپنے زمانے کی رہنمائی کر سکتے تھے وہ مشاق اور قدیم دماغ رکھنے والے استاد جدید دور کے تابع ہو گئے ہیں اور طالب علموں کو صحیح راہیں دکھانے کی بجائے زمانہ حاضر کی تعلیم کے پیروکار بنے بیٹھے ہیں۔یہی نہیں پھر وہ دورِ جدید کے تعلیمی اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں:
عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش
علامہ اقبال اس شعر میں موجود دور کی مغربی اثرات رکھنے والی درسگاہوں کے طالب علموں خصوصاً مسلمان طالب علموں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موجودہ دور تمہارے لیے موت کا فرشتہ ہے جس نے تمہاری اصل دینی روح کو قبض کر کے تم پر دینی اور انسانی موت پیدا کر دی ہے اور یہ موت کیا ہے روزی کمانے کی فکر ہے۔ زمانہ جدید کے مدارس طالب علموں کی روحانی اور انسانی تربیت کے بجائے انہیں روزی کمانے کی فکر میں لگائے ہوئے ہیں حالانکہ مقصد تعلیم کچھ اور ہے۔
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے کھو دیتی ہے جب ذوقِ خراش
علامہ کہتے ہیں کہ تعلیم جسے تہذیب کا محور ہونا چاہیے تھا اور جس سے طلبہ کے دلوں میں عشقِ محمدﷺ کی شمع روشن ہونا چاہیے تھی دورِ جدید کے تعلیمی اداروں نے عشق کی اس چنگاری کو دبا دیا اور جذبات کی فراوانی سے بالکل خالی کر دیا ہے۔ وہ عشق جو کبھی عقل کو یہ کہا کرتا تھا کہ تو خواہ مخواہ کے بہانے بنا کر زندگی کی اصل حقیقت سے دور نہ ہو آج وہ جذبہ عشق تجھ میں نہیں رہا جس کی بنا پر تیری عقل نے مادر پدر آزادی حاصل کر کے تجھے اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا ہے۔
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ تعلیمی ادارے ایسی تعلیم وتربیت سے کنارہ کشی اختیار کرلیں جو طلبہ کو محبت ِ رسول ﷺ سے بیگانہ کردے اور اس کے ذہن کا مرکز محض حصول ِ روز گار بنادے۔ چنانچہ وہ ان تعلیمی اداروں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں کہ:
فیضِ فطرت نے تجھے دیدہَ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفّاش
علامہ اقبال عصرِ حاضر کے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں:
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے، مگر صاحبِ کتاب نہیں
یہاں علامہ کی مراد ان کتابوں پر عمل کی نہیں ہے جو نصاب جدید میں موجود ہیں اور ان طالب علموں کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ ایسی کتابوں کی طرف اشارہ ہے جن کو پڑھ کر طالب علم صحیح انسان بن جائیں۔ ایسی کتابیں جدید نصاب میں تو نایاب ہیں البتہ الہامی کتاب قرآن یا اس کی روشنی لیے ہوئے دوسری کتابوں کی صورت میں موجود ہیں۔پھر وہ طلبہ سے خطاب کرتے ہیں کہ:
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش
گویا ان کا راسخ یقین ہے کہ تعلیم حاضر نے طالب علموں کو قدرت اور فطرت اور ان کے تقاضوں سے بہت دور کر دیا ہے۔اسی لیے وہ دست بدعا ہیں کہ:
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
علامہ کہتے ہیں کہ اے نوجوان تم ایک ایسے سمندر کی مانند ہو جس کی لہروں میں کوئی تڑپ اور بے قراری نظر نہیں آتی۔ میری دعا ہے کہ خدا تمہاری زندگی کے سمندر کو کسی طوفان سے آشنا کر دے یعنی تمہارے اندر صحیح زندگی، انسانیت اور صحیح مسلمانی کا جذبہ اس حد تک پیدا ہو جائے جیسا کہ سمندر میں طوفان ہوتا ہے۔
چنانچہ RRTI میں بھی وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فرد کی داخلی زندگی ہی قوموں کی تقدیر بناتی ہے۔اسی لیے وہ استاد کی کردار سازی، فکری بصیرت اور اخلاقی استحکام کو تعلیمی اصلاح کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اگر استاد خود فکری طور پر بانجھ ہو تو بہترین نصاب بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔
المختصرعلامہ اقبال تعلیم کے پورے نظام کو ایک نئے عمرانی معاہدے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس میں عقل، تجربہ، وجدان اور وحی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ تکمیلی کردار ادا کرتے ہیں۔گویا علامہ اقبال کا تعلیمی وژن نہ صرف مذہبی اور نہ ہی محض سائنسی ہے، بلکہ ایک جامع انسانی وژن ہے جو جدید دنیا کے فکری اور اخلاقی بحران کا عملی حل پیش کرتا ہے۔
ع ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
یہ”نم“دراصل تعلیم کے صحیح مقصد، خودی کی بیداری اور اخلاقی بصیرت کا ہے اور یہی وہ سرمایہ ہے جس کے بغیر کوئی تعلیمی اصلاح پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔



Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 142 Articles with 234680 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More