ڈاکٹر سلیم اختر

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: سید شاہ زمان شمسی
اردو ادب کا ایک عہد اور ایک معتبر نام جناب ڈاکٹر سلیم اختر داغ مفارقت دے گئے۔ ڈاکٹر سلیم اختر 11 مارچ، 1934ء کو برطانوی راج میں لاہور، موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد قاضی عبد الحمید ملٹری اکاؤنٹس (CMA) میں ملازم تھے۔ اس لیے جہاں جہاں ان کا تبادلہ ہوتا رہا بچوں کو بھی ہمراہ لے جاتے رہے۔ قیام پاکستان کے وقت آپ کے والد قاضی عبد الحمید بیوی بچوں کے ہمراہ انبالہ میں مقیم تھے۔ سلیم اختر کو انبالہ، پونہ، لاہور، فورٹ سنڈیمن، (بلوچستان) اور راولپنڈی میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ انہوں نے میٹرک فیض الاسلام ہائی اسکول راولپنڈی سے 1951ء میں کیا۔

ایف اے اور بی اے گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی سے اور ڈپلومہ آف لائبریری سائنس، ایم اے (اردو)، پی ایچ ڈی جامعہ پنجاب لاہور سے کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ مختلف ادبی رسالوں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے بطور اردو لیکچرار پہلی ملازمت گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں کی۔ وہاں آٹھ سال رہنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور چلے آئے۔ اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں درس وتدریس کی ذمہ داریاں نبھا تے رہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر اردو کے ان چند نقادوں میں شامل ہیں جو نقاد ہونے کے ساتھہ ساتھہ بہترین تخلیق کار بھی ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی پہچان تین حوالوں سے ہوتی ہے۔ بطور نقاد، افسانہ نگار اور استاد۔ ان کی کتاب اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ اردو ادب کی اب تک لکھی گئی تاریخ میں ایک اہم حوالہ تصور کی جاتی ہے۔ ابتدائی دور میں ان کے ہاں رومانی اور جذباتی قسم کے موضوعات بھی ملتے ہیں۔ ایک محبوبہ ایک طوائف، سویٹ ہارٹ اور کٹھ پتلی وغیرہ کا موضوع قابل زکر ہے۔ اس کے علاوہ کلب، ڈانس، شراب، شباب، جذباتی محبت۔ یہ سب کچھ ان کی کہانیوں میں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک رومانی رویہ ترقی پسندوں جیسا بھی ان میں پایا جاتا ہے اور وہ ہے صورت حال کو بدلنے کی خواہش۔

ہم مرکز دائرے، دو راستے ایک پل اور مچھر طبقاتی نظام کی بدولت وجود میں آنے والے اقتدار پر لکھے گئے افسانے ہیں۔ ان میں چھوٹی بڑی مجبوریاں، گھٹن اور اجتماعی رویوں کی مختلف شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ افسانوی مجموعوں اور ناولوں کے علاوہ تنقید، تحقیق اور دیگر کئی موضوعات پر ڈاکٹر سلیم اختر کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں آدھی رات کی مخلوق، مٹھی بھر سانپ، کڑوے بادام، کاٹھ کی عورتیں، چالیس منٹ کی عورت، ضبط کی دیوار شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کی کلیات بھی نرگس اور کیکٹس کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کی دیگر کتابوں میں اک جہاں سب سے الگ (سفرنامہ)، نشان جگر سوختہ (آب بیتی)، انشائیہ کی بنیاد، ادب اور کلچر، ادب اور لاشعور، فکر اقبال کا تعارف، اقبال اور ہمارے فکری رویے، کلام نرم و نازک، شادی جنس اور جذبات، ہماری جنسی اور جذباتی زندگی، عورت جنس اور جذبات، عورت جنس کے آئینے میں، مرد جنس کے آئینے میں وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 2008ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501982 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jan, 2019 Views: 350

Comments

آپ کی رائے