میں نے پو چھا۔۔۔آنسو کیا ہیں؟

میں نے پوچھا۔۔۔ آنسو کیا ہیں؟
اس نے کہا:
"میں اک آنسو ہی سہی، ہوں بہت انمول مگر
یوں نہ پلکوں سے گرا کر مجھے مٹی میں ملا۔"
کیا تم نے۔۔۔ کسی ٹوٹے ہوئے، بے ربط خواب کو خیالوں میں روتے دیکھا ہے؟ جو اپنی تکمیل سے پہلے ہی چکنا چور ہو گیا ہو۔ اور وہ خواب کیا ہے؟ تم ہی تو وہ خواب ہو، جو بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ سہہ نہ سکا، اور آخرکار آنکھ سے آنسو بن کر بہہ گیا۔
کیا تم نے۔۔۔ کسی بے سہارا آب کو پتھر پر پھسلتے دیکھا ہے؟ جیسے کسی مجبور اور بے بس آنکھ سے بہنے والا آنسو، جو کسی سہارے کی تلاش میں تھا، مگر بے سود آبِ رواں بن کر بہہ گیا۔ اور وہ آب کیا ہے؟ وہی تو تمہاری آنکھ سے گرنے والا وہ بے بس آنسو ہے، جو کسی سنگ کے سرد و خاموش رخسار پر بہہ گیا۔
کیا تم نے۔۔۔ چشمِ گل سے گرتی شبنم کے قطرے دیکھے ہیں؟ جیسے رات نے اپنے تمام دکھ پھولوں کی پلکوں پر رکھ دیے ہوں۔ صبح کی پہلی کرن آتے ہی وہ خاموشی سے بکھر جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے دل کے درد آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں۔
کیا تم نے۔۔۔ ہرے بھرے اشجار پر ٹھہری ہوئی اوس کی بوندیں دیکھی ہیں؟ جیسے بھرپور جوانی میں کوئی عاشق اپنے دل کے زخموں پر خاموشی سے آنسو بہا رہا ہو۔ پھر طلوعِ آفتاب کی تپش میں آہستہ آہستہ وہ بوندیں مٹ جاتی ہیں۔ وہ اوس کیا ہے؟ وہی تو دل کی وہ خاموش فریاد ہے، جو رات کی تنہائی میں آنسوؤں کی صورت جنم لیتی ہے۔
کیا تم نے۔۔۔ چٹانوں کے قلب میں گرتی آبشاروں کی روانی دیکھی ہے؟ جیسے کسی ماں کے سینے سے نکلی ہوئی کوئی درد بھری فریاد، جس نے اپنے سوز و گداز سے سنگ دل پہاڑوں کے سینے بھی چیر دیے ہوں۔ اور وہ آبشار کیا ہے؟ وہی تو ہے، جو نرمی سے بہتے بہتے سخت دل پر بھی اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے، بالکل ماں کے دل سے نکلی ہوئی اس خاموش دعا کی طرح، جو عرش تک پہنچنے کی طاقت رکھتی ہے۔
کیا تم نے۔۔۔ سیاہ بادلوں کو فلک پر بے چینی سے بھاگتے اور دوڑتے دیکھا ہے؟ جیسے کوئی انسان اپنے دل میں گناہوں کی سیاہی لیے بے قرار پھر رہا ہو۔ پھر اچانک اس کی وہ بے چینی زار و قطار آنسوؤں کی صورت برسنے لگتی ہو۔ کیا تم نے ان بادلوں پر کبھی غور کیا ہے؟ وہ برس کر کیسے ہلکے ہو جاتے ہیں، اور پھر اجلے گالوں کی مانند پاکیزگی اوڑھے واپسی کا سفر طے کرتے ہیں۔
شاید انسان بھی ایسا ہی ہے۔ وہ اپنی محرومیوں، دکھوں، ویرانیوں، مسرتوں اور تکلیفوں کو آنسوؤں کی صورت بہا کر اپنے باطن کو ہلکا کر لیتا ہے۔ آنسو کمزوری نہیں، دل کی زبان ہیں؛ وہ رب کے حضور خاموش دعا بھی ہیں، توبہ کی پہلی منزل بھی، اور روح کی پاکیزگی کا آخری غسل بھی۔ جو آنکھ رونا جانتی ہے، وہ دل کو پتھر نہیں بننے دیتی۔ شاید اسی لیے بعض آنسو زمین پر گرنے سے پہلے آسمان میں قبول ہو جاتے ہیں۔
naila rani riasat ali
About the Author: naila rani riasat ali Read More Articles by naila rani riasat ali: 126 Articles with 193864 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.