اس نے کہا۔۔۔۔ادب سے جھک جا اس ہستی کے آگے رانی رب کی نازل کردہ اک کتاب ہے یہ زندگی
کیا تم نے دیکھا ہے۔۔۔؟ جب زندگی کا تارہ جگمگاتا ہے۔تب زندگی روشنی سے ہم کنار ہونا شروع ہوتی ہے۔یہ ہی اس کے سفر کا پہلا قدم اور آغاز حیات ہوتا ہے۔ایسے میں بے اختیار یہ شعر ذہن میں گونجنے لگتا ہے
ابتداۓ عشق ہے روتا ہے کیا؟ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
زندگی کا آغاز آسمان پر کسی دھندلانے ہوۓ ننھے تارے کی مانند ہوتا ہے۔جو خاموشی سے ہر دم ٹمٹماتا رہتا ہے۔بلکل اسی معصوم بچے کی طرح ،جو دنیا کے غم و اندوہ سے بے خبر اپنی ننھی ننھی شرارتوں ،مسکراہٹوں،اور معصوم خواہشوں میں مگن رہتا ہے۔اسی معصومیت،اسی تازگی اور اسی بے ساختہ روشنی کے ساتھ زندگی کا سفر اپنے پہلے قدم اٹھاتا ہےاور پھر آہستہ آہستہ وقت کی راہوں پر چلتے ہوۓ اپنی نئی نئی منزلوں کیطرف بڑھنے لگتا ہے۔
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ زندگی پانی کے بلبلے کی مانند ہوتی ہے۔جو ذرا سی ٹھیس پر بجھ جاتی ہےاس لئیے یہ ہمیں ہر لمحہ یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی آپ کے لئیے پھولوں کی سیج بھی نہیں ہے ۔جسپر آپ بے پرواہ ہو کر پر سکون نیند سو سکیں۔۔۔شائد زندگی میں مکمل سکون تو کبھی بھی نہیں مل سکتا ہاں اسکی آسائشوں سے دل کو بہلا یا جا سکتا ہےحقیقت تو یہ ہے کہ اس دنیاں کی بنیاد ہی تغیر پر رکھی گئی ہے۔۔ شاعر مشرق نے خوب کہا ہے۔۔۔
سکوں مثال ہے قدرت کے کارخانے میں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
پھر میں نے پوچھا۔۔۔۔تو کیا ہے زندگی؟ اور پھر ۔۔۔۔۔اس نے کہا! پھولوں کی سیج ہے نہ یہ کانٹوں کا گھر ہے۔ شائد کہ یا خدا تیرا حسیں خیال ہے زندگی۔
زندگی اس کائینات کا ایک ایسا حسین منظر اور ایک ایسا مترنم نغمہ ہے جو لطف و سرور کے آنگن میں پرورش پا کر اپنے بچپن کی دہلیز عبور کر تا ہے۔زندگی ایک معصوم پیا مبر کی مانند ہوتی ہے۔جو دنیا میں اور روشنی کا ایک خوشنما پیام لے کر آتی ہے۔ پھر ایک حسین و جمیل خیال کے جھولے میں جھولتے ہوئے اپنی جوانی کے سفر پر روانہ ہوتی ہے۔ اور جوانی کیا ہے؟ جوانی تو آزادی، ولولے اور پرواز کا دوسرا نام ہے۔ وہ ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہے، بالکل ایک اڑتے ہوئے پرندے کی طرح، جس کے سامنے نہ کوئی حد ہوتی ہے اور نہ کوئی قید۔ تب بے اختیار دل یہ کہہ اٹھتا ہے: یونہی بیٹھے بیٹھے جو دیکھا پرندوں کو اڑتے، رشک آ گیا مجھ کو بھی کہ کتنی آزاد ہے زندگی
|