میں نے پوچھا۔۔۔تنہائ کیا ہے؟

میں نے پوچھا۔۔۔ تنہائی کیا ہے؟
اس نے کہا۔۔۔ قسم سے! تنہائی مار دیتی ہے۔ عذاب بن کر روح پر اترتی ہے۔ آنسوؤں کی لڑی بن کر پلکوں سے چھم چھم بہنے لگتی ہے۔ تنہائی کے بوجھ سے سانسیں ٹوٹنے لگتی ہیں، اور سانس کی ڈوری سے بندھی ہر آس آہستہ آہستہ چھوٹنے لگتی ہے۔ پھر ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔
وقت ٹھہر جائے تو۔۔۔
کیا تم نے کسی اداس شام کے پہر تنہا پنچھی کو اڑتے دیکھا ہے؟ شاید وہ وحشت میں ڈوبا منظر تمہیں کسی پیاسی روح کی تصویر دکھائی دے۔
کیا تم نے کسی خاموش شام میں سورج کو تنہا غروب ہوتے دیکھا ہے؟ جیسے کوئی ہارا ہوا مسافر، منزل سے پہلے ہی اپنے قدم روک دے۔
کیا تم نے اندھیری رات کو روشنی پر چھاتے دیکھا ہے؟ کیسے وہ ہر امید کو اپنی آغوش میں سمیٹ کر خاموشی اوڑھ لیتی ہے۔ یہ بھی تنہائی کا ایک روپ ہے۔
کیا تم نے بادلوں کی اوٹ میں چاند کو چھپتے دیکھا ہے؟ جیسے کسی بے بس انسان کی آخری امید بھی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے۔
کیا تم نے مجنوں کو لیلیٰ سے بچھڑتے دیکھا ہے؟ جیسے روح جسم سے جدا ہو جائے، مگر سانسیں پھر بھی چلتی رہیں۔
کیا تم نے پروانے کو شمع پر مرتے دیکھا ہے؟ وہ خاک ہو کر بھی امر ہو جاتا ہے، اور شمع اس کی راکھ کو اپنے دامن میں سمیٹے جلتی رہتی ہے۔
کیا تم نے صحرا میں کسی تنہا بلبل کو دیکھا ہے؟ جو بھوک، پیاس اور تھکن کے باوجود، آنکھوں میں منزل کا خواب اور دل میں کسی کی آس لیے مسلسل سفر کرتا رہتا ہے۔
کیا تم نے کسی مچھلی کو سمندر کے کنارے تڑپتے دیکھا ہے؟ جو سمندر سے چند قدم کے فاصلے پر ہو، مگر پھر بھی ایک بوندِ آب کو ترس رہی ہو۔ وہ ہر آنے والی لہر کو اس امید سے تکتی ہو کہ شاید یہ موج اسے اپنی آغوش میں لے لے، مگر ہر لہر اسے چھوئے بغیر گزر جائے، اور سمندر اس کی خاموش فریاد سے بے خبر اپنی روانی میں بہتا رہے۔
کیا تم نے گلابوں کے باغیچے میں کسی اداس پنچھی کو دیکھا ہے؟ جس پر بہار کی دلکشی اور گلابوں کی خوشبو بھی بے اثر ہو چکی ہو۔ جس کے گرد رنگ، مہک اور زندگی کا شور ہو، مگر اس کے دل میں صرف خزاں بسی ہو۔ جب غول در غول پرندے اپنی منزلوں کی طرف اڑ جائیں، تو وہ تنہا پنچھی خاموش نگاہوں سے انہیں جاتا ہوا دیکھتا رہ جائے، اس امید میں کہ شاید کوئی پلٹ کر اسے بھی اپنا ہمسفر بنا لے۔
پھر میں نے پوچھا۔۔۔ تنہائی کیا ہے؟
وہ مسکرایا بھی نہیں۔
بس اتنا کہا۔۔۔
تنہائی وہ خاموش درد ہے، جو انسان کو زندہ رکھتے ہوئے بھی آہستہ آہستہ اندر سے مار دیتا ہے۔
اس میں نہ شور ہوتا ہے، نہ زنجیریں، نہ کوئی دکھائی دینے والا زخم۔ صرف ایک خاموش کرب ہوتا ہے، جو وقت کو روک دیتا ہے، امید کو تھکا دیتا ہے، اور انسان کو لوگوں کے ہجوم میں بھی تنہا چھوڑ دیتا ہے۔
naila rani riasat ali
About the Author: naila rani riasat ali Read More Articles by naila rani riasat ali: 128 Articles with 194895 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.