امریکا کا افغانستان میں ناکامی اور طالبان سے مذاکرات

(Haq Nawaz Jilani, Islamabad)

یہ اس وقت کی بات ہے جب امریکا نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا اور طالبان کی حکومت کو ختم کرکے افغانستان پر اپنا کنٹرول قائم کیا تھا تو ایک سابق طالبان رہنما سے بات چیت ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ایک منصوبے کے تحت حکومت ختم کی ہے۔ اب امریکا افغانستان میں’’ آیا تو اپنی مرضی سے لیکن جائے گا ہماری مرضی سے ‘‘ آج یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ کھر بوں روپے افغانستان میں دہشت گردی کے نام پر جنگ میں پھونگنے کے بعد امریکا اس طالبان سے مذاکرات کررہاہے جس کو دنیا پر میں دہشت گرد، شدت پسند، جاہل ، قدامت پرست، اسلام پرست اور نجانے کیا کیا نام دیے کہ طالبان کے ساتھ دنیا کوئی تعلق نہیں رکھے گی جو طالبان کانام لے گا وہ ہمارا دشمن ہوگا۔ امریکا نے طالبان پر ظلم وزیادتی کے تمام ہربے ناکام ہونے اورگنتانامو بے جیسے اقوبت خانوں میں تشدد کی ایسی تاریخ رقم کی جس پر انسانیت بھی شرماجائے لیکن ان تمام قید وبند ، پر تشد د کاررائیوں، ظلم وزیادتی کے باوجود طالبان کو اپنی سوچ ، فلسفے اور مقصد سے ہٹا نہ کرسکی ۔ امریکا کو اپنی طاقت پر اتنا بھروسہ تھا کہ جنگی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے کہ افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی کو یکسر رد کیا تھا ۔ افغانستان ماضی میں بھی سپر پاور کاقبرستان ثابت ہوا اور امریکا کوبھی وہی سابق ملے گا جو ماضی میں سپر پاور ، برطانیہ اور روس کے ساتھ ہوا لیکن امریکا کو یہ بات اور تاریخ سمجھ نہ آئی۔

آج امریکا طالبان سے مذاکرات اور بات چیت کی بھیک مانگ رہاہے کہ طالبان کو کسی طور طریقے سے راضی کرکے ہتھیار رکھنے اور امریکا کو پرامن راستہ افغانستان سے نکلنے کا مل جائے جس کیلئے پاکستان پر بھی کافی دباؤ ڈالا کیا لیکن پاکستان میں نئی بننے والی تحر یک انصاف کی حکومت جس کی سربراہی وزیراعظم عمران خان کررہے ہیں ‘ نے امریکا کوصاف بتا دیا کہ امریکا پاکستان کو دھمکیا ں نہ دے بلکہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگوں میں قربانیاں کا اعتراف کریں جوامریکا کی وجہ سے پاکستان نے دی ہے ۔پاکستان نے امریکا کی وجہ سے دہشت گردی کے اس نام نہاد جنگ میں 80ہزار جانوں کی قربانی دی اور معیشت کو 130ارب روپے کا نقصان ہوا۔ وزیراعظم نے امریکا کو بتا یا کہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر بات کریں ۔پاکستان کی جانب سے پہلی دفعہ امریکا کو سخت جواب ملا جسکے بعد امریکا نے اپنے بیانات کو بدل کرپاکستان کے کردار کو سراہا اور پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا ۔ پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی نمائیدہ خصوصی زلمی خلیل زاد نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کو افغانستان کی موجودہ صورت حال سے امریکا کو نکالنے کیلئے طالبان کو مذاکرات کے میز پر لانے کی درخواست کی جس پر پاکستان نے افغانستان میں پر امن افغانستان اور امریکہ کی انخلاء کیلئے کو شش شروع کی جس کے باعث طالبان نے امریکا سے مذاکرات کا آغاز کیا ۔

افغان مسئلے پر امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات شروع ہے لیکن ان مذاکرات کے پہلے ہی دن یعنی21جنوری2019کو دارالحکومت کابل کے قریب میدان وردگ کے صدرمقام میدان شار میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک چھاؤنی پر حملہ ہوا جس میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے۔جبکہ بعض ذرائع اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو سے زیادہ بتا رہے ہیں جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ۔ پیر کو ہونے والے اس حملہ کو افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس )پر اب تک ہونے والے حملوں میں سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے یہ حملہ قطر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اجلاس سے چند ہی گھنٹے بعد ہوا جس میں پہلے حملہ آور نے بارود سے بڑی گاڑی (ہم وی )اڑائی اور پھر کم از کم دو حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کی۔ افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے آنے والی بارود سے بھری دوسری گاڑی کو ناکارہ بنایا اور اس گاڑی کے ساتھ تین ممکنہ خود کش حملہ آوروں کو مار دیا۔

قطر میں افغان طالبان دفتر کے بعض ذرائع نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ آج اور کل کے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان مذاکرات میں میدان وردگ میں ہونے والے حملے پر کوئی بحث ہوئی؟ اس ذرائع کے مطابق کسی نے بھی اس حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
تجز یہ کاروں اور ماہرین کے مطابق اس حملے کو مذاکرات سے جوڑنا اس لیے بھی غلط ہوگا کیوں کہ ان حملوں کے لیے کئی کئی ماہ تیاریاں ہوتی ہیں۔ تاہم ایسے حملوں کا مقصد یہی ہے کہ طالبان امریکہ اور افغان حکومت کو یہ دیکھادیں کہ وہ آج بھی کتنے طاقتور ہیں۔

قطر میں طالبان ذرائع کے مطابق ان کی طرف سے محمد عباس ستانکزئی، مولانا فاضل، مولانا خیراﷲ خیرخواہ، شہاب الدین دلاور، قاری دین محمد اور عبدالسلام حنفی شریک ہیں۔ طالبان ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان سے بیرونی افواج کا انخلا، جنگ بندی، طالبان رہنماں کے نام بلیک لسٹ سے نکالنا، قیدیوں کا تبادلہ اور اعتماد کی بحالی پر زیادہ بحث ہوئی لیکن اس ذرائع کے مطابق کوئی پیشرفت اب تک نہیں ہوئی ہے ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق قطر کے حالیہ مذاکرات میں نہ صرف مثبت باتیں ہوئی ہیں بلکہ یہی اجلاس پہلے مذاکرات کے بریک اپ کی رکوری تھی۔

جولائی 2018 سے امریکہ اس کوشش میں ہے کہ وہ نہ صرف طالبان سے مذاکرات کریں بلکہ افغان طالبان ‘افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کے لیے بیٹھیں۔ طالبان پچھلے کئی ماہ میں متعدد بار امریکہ کے ساتھ ملے ہیں۔ بات چیت بھی ہوئی ہے، لیکن اب تک طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

قطر میں طالبان کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں شریک تمام ممالک اپنے اپنے مفادات اور روایتی حریفوں کے خلاف ایجنڈے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے گزشتہ دنوں دھمکی آمیز اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنے وعدے کی تکمیل نہیں کرتا تو طالبان امن مذاکرات ملتوی کر سکتے ہیں۔اس اعلامیے کے مطابق نومبر میں دوحہ میں ہونے والے امریکہ اور طالبان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ اگلے اجلاس میں افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا اور افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے پر بات ہو گی لیکن اب امریکہ اسی ایجنڈے سے منہ پھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ ایک عرصے سے پاکستان پر اسی لیے دبا ڈال رہا تھا کہ وہ طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انھیں مذاکرات کے لیے راضی کریں۔ تاہم ابھی تک طالبان کی جانب سے ا یسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو قریب سے دیکھنے والے دوحہ میں طالبان دفتر کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ اب مذاکرات میں امریکہ اور طالبان سے زیادہ دیگر ممالک کے مطالبات ہیں جن میں سعودی عرب، ایران، قطر اور پاکستان شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ایران اور قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات قطر کے خلاف ان مذاکرات میں اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات اس باراہم اسلئے بھی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ افغانستان میں مزید امریکی فوجی کی تباہی اور ہر روز ہونے والی مالی نقصان برداشت کرنے کوتیار نہیں ۔ امریکی صدر جلد از جلد افغانستان سے جان چھوڑنا چاہتا ہے ۔وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ افغانستان میں قیام سوائے بربادی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں لہٰذا جتنا جلدی ہوسکے طالبان سے مذاکرات کو کامیاب بنایا جائے ۔

دوسری طرف افغان طالبان کی تاریخ کو جاننے والے جانتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے پاس ہارنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ طالبان امریکا کے خلاف جنگ اور کارروائیوں کو جہاد سمجھ کر کررہے ہیں ۔ اس دفعہ مذاکرات کی ناکامی کا مطلب ہوگا افغانستان کو مز ید تباہی کے حوالے کرنا۔ اس لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سنجید گی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے طالبان کی شرائط مان لیں کیوں کہ ہارئی ہوئے لشکر شرئط پیش نہیں کیا کرتے ۔ افغان حکومت کو افغانستان کی زمینی حقائق کا ادارق کرنا چاہیے ۔ افغان حکومت کو اب یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ افغانستان تب تک پرامن ملک نہیں بن سکتا جب تک طالبان کو شریک اقتدار نہیں کیا جاتا ۔ فوج ، پولیس سمیت کوئی بھی ادارہ اتنا مضبوط نہیں جو طالبان کا مقابلہ کرسکیں ۔ آئے روز حملوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ طالبان افغانستان میں ایک مضبوط اور طاقت رکھنی والی پارٹی ہے جو اپنی شرائط پر گیم پچھلی اٹھارہ سال سے کھیل رہی ہے۔ طالبان کا یہ موقف کافی وزن رکھتا ہے کہ ہم نے اگر امریکا کوافغانستان میں فوجی آڈے دینے ہی تھے تو اتنی لڑائی کی کیا ضرورت تھی ۔

بحرکیف امید ہے کہ اس بارے ہونے والے طالبان اور امریکا مذاکرات میں کامیابی ضرور ملیں گی۔ چھ روزہ مذاکرات اب ختم ہوچکے ہیں جس کے بارے میں میڈیا رپورٹس ہے کہ فریقین کے درمیان معاہد ہ طے پا گیا ہے جس میں امریکی افواج کے انخلاے سمیت کئی باتوں پر اتفاق ہوا ہے لیکن باقاعدہ طور پر دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے کی نقول جاری نہیں ہوئے لیکن معاملات طے پاگئے جس سے اب مزید راستے کھل جائیں گے۔ طالبان کو موجودہ حالات اور دور جدید کے تقاضوں اور افغانستان کے عوام جو کئی عشروں سے جنگ میں مبتلا ہے کو مدنظررکھتے ہوئے اپنے موقف میں لچک کا مظاہر ہ ضرور کرنا چاہیے۔ تب مذاکرات اور بات چیت کامیا ب ہوسکتے ہیں۔پاکستان کی بھی کو شش ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو۔ افغانستان میں دہشت گردی یا خراب حالات کا اثر براہ راست پاکستان پر پڑتا ہے۔ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا ہے لیکن اگر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا اور حالات یوں ہی خراب رہتے ہیں تو پاکستان کو فکر ہے کہ قبائلی علاقے ایک دفعہ پھر جنگ اور دہشت گردی کی لپیٹ میں نہ آجائے ۔ اس لئے پاکستان ہر صور ت افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 239 Print Article Print
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 265 Articles with 104546 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More

Reviews & Comments

Language: