بلتستان کی جنت نظیر وادیوں کی سیر

(Abdul Rehman Mir, Islamabad)

جولائی کا مہینہ تھا ۔ یونیورسٹی میں چھٹیاں اور شہر میں ہلکی سی گرمی جاری تھی۔ مجھے کینیڈا سے کسی فرینڈ کی کال آئی کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ کل اسلام آباد کیلئے روانہ ہورہا ہے اور چار دن بعد سکردو پہنچ رہا ہے۔ اسلام آباد سے روانگی سے قبل بھی انہوں نے مجھے سکردو ائرپورٹ آنے کا کہا۔ میں ائر پورٹ پہنچا اور اپنے کینیڈین فرینڈ جیک اور انکی اہلیہ ایما ،بیٹی سوفیہ اور بیٹا جسٹن سے ملا۔ یہ سکردو میں ان کا پہلا دن تھا۔ اس سے پہلے وہ یہاں کبھی نہیں آے تھے۔ لہٰذا میرے مہمان پرسکون دکھائی دے رہے تھے ۔ پھر ہم وہاں سے شنگریلا ریزوٹ کی طرف نکل پڑے۔ شنگریلا کو دیکھ کر جیک اور ایما نے کہا ایسی حسین جگہ شاید ہم نے خوابوں میں بھی نہیں دیکھا۔انہوں نے خوب لطف اٹھایا۔ تصویریں بنوائیں ۔ ایما کو فوٹوگرافی کا بہت شوق تھا اور ہمیں پوز دینے کا۔ جیک چونکہ ایک لکھاری، شاعر، ادیب، کالم نگاراور ڈاکٹر بھی ہیں۔ سوفیہ بیالوجیکل سائنس کی سٹوڈنٹ ہے اور جسٹن کلچر اینڈ لٹریچر کا سٹوڈنٹ ہے۔ ہم نے پورا شنگریلا اپنی آنکھوں سے دیکھا اور رات وہاں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ رات کے کھانے میں ٹراؤٹ مچھلی نے مزا دوبالا کر دیا۔ دوسرے دن صبح نو بجے ہم اپر کچورا جھیل کی سیر کو نکلے۔ وہاں کشتی رانی کے ساتھ ساتھ خوب فوٹوگرافی کی۔ چیر لفٹ کا مزا ہی کچھ اور تھا ۔ صرف ایک ہزار روپے میں پورے علاقہ کا سیر کیا۔ چیر لفٹ کے مالک کا کہنا تھا کہ دن میں تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ سیاح آتے ہیں۔ وہاں سے ہم سکردو شہر کے لیے روانہ ہوئے پھر کھرپوچو فورٹ کی طرف چل پڑے۔ کھرپوچو قلعہ تک جانے کے لیے بھی چیر لفٹ لگی ہوئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور دیگر سیاح کھرپوچو قدیم فورٹ دیکھنے چیر لفٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم نے بھی ٹکٹ خریدا ۔ دوسو روپے کا ایک ٹکٹ تھا۔ شاید دن میں چار لاکھ کی کمائی تھی۔ پھر ہم کھرپوچو فورٹ پر پہنچ گئے۔ وہاں سے پورا سکردو شہر سامنے نظر آرہا تھا۔ فورٹ کے باہر مختلف مقامات پر فوڈ ہٹس بنائے گئے تھے۔ ہر ہٹ والا دن میں پچاس ہزار کا سیل کر رہاتھا۔ صفائی کا زبردست انتظام کیا ہوا تھا۔ فورٹ کے اندر اور باہر رضاکار اور سیکیورٹی کا بہترین انتظام تھا۔ ایما نے پورا منظر کیمرے میں محفوظ کیا۔ جسٹن بار بار سکردو شہر کی طرف دیکھ کر کہتا تھا یہ کسی جنت سے کم نہیں۔ سنگلاخ پہاڑوں کا شیدائی تھا۔وہ کہہ رہا تھا کہ:کیا کرشمہ ہے ،شہر کے چاروں اطراف پہاڑ، ایک طرف دریااور جھیل اور درمیان میں آبادی۔ میں نے کہا جسٹن ابھی تم نے بلتستان کی خوبصورتی نہیں دیکھی ہے۔ رات کنکورڈیا میں گزار کر دوسرے دن شگر کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اس لیے جیک نے کہا دریا کے کنارے چلے جائیں گے جو کنکورڈیا ہوٹل کے سامنے سے رینگتا ہوا جارہا تھا۔ لہٰذا ہم رانگا کے راستے دریاے سندھ کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں بھی عوام اور سیاحوں کا جم غفیر تھا۔ بچوں کے لیے کھیل کود کی بہتر سہولیات موجود تھی۔ ان کے مالکان دن میں تقریباً پچاس سے ستر ہزار کما رہے تھے۔ سب سے زیادہ منافع مچھلی فروشوں کا تھا جو دن میں لاکھوں کما تے تھے۔ چلتے چلتے ہم دریاے سندھ کے عین کنارے پہنچ گئے۔ وہاں خوب کشتی رانی اور فوٹوگرافی کی۔ کشتی مالکان صرف سو روپے میں دریاے سندھ کا سیر کراتے تھے۔ دن میں یہ لوگ بھی چالیس پچاس ہزار روپے کما رہے تھے۔ شام کو ہم کنکورڈیا ہوٹل واپس آگئے اور کھانا کھانے کے بعد میں گھر چلا گیا۔ دوسرے دن نو بجے میں ہوٹل کے لیے روانہ ہوا ۔ جیک اینڈ فیملی شگر کے لیے تیار تھیں۔ پھر ہم نے جربہ ژھو کے لے رخت سفر باندھ لیا۔راستے میں صرفہ رانگا ڈیزرٹ سے گزر رہا تھا کہ جسٹن اور سوفیہ نے سٹاپ سٹاپ کا شور مچایا۔ وہاں ڈیزرٹ کی مخصوص گاڑیاں کرائے پردستیاب تھی۔ سیاحوں کا رش تھا۔ ہم نے بھی ایک گاڑی بک کرائی اور جیک نے زبردست ڈرائیونگ کی ۔ ہم نے ڈر کے مارے شور مچایا مگر جیک مزے لے رہا تھا۔ کافی لمبا ٹریک تھا مگر جیک نے نے صرف آدھے گھنٹے میں طے کر لیا۔ یہ وہی ٹریک ہے جہاں ہر سال بین الاقوامی ڈیزرٹ ریلی نکالی جاتی ہے۔ یہاں بھی مالکان اچھا کما رہے تھے۔ ڈیزرٹ کار کا کرایہ فی گھنٹہ پانچ ہزار روپے لے رہے تھے۔ پھر ہم جربہ ژھو کی طرف نکل پڑے۔راستے میں جیک اور ایما سے گفتگو کرتے ہوے میں نے کہا ۔ آج بلتستان کے چٹیل پہاڑوں کے دامن میں، دنیا کے بلند ترین سرد صحرا میں دیس بدیس کے کتنے خوبصورت لوگ جمع ہوئے ہیں۔ منفرد تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب کے متوالے اتنے لوگ جمع ہیں کہ صحرا میں جیسے رنگ برنگے پھول کھل اُٹھے ہیں۔دامن بلتستان ، بیرونی دنیا سے اس لئے بھی منفرد ہے کہ یہاں کا سنگلاخ جغرافیہ دیکھنے کو تو سخت وچٹیل سہی مگر یہاں کی تہذیب و ثقافت تاریخی اعتبارسے ہی نہایت امن و آشتی، رواداری، معاشرتی ہم آہنگی اورروایتی مہمان نوازی کی خوبیاں لئے نہایت فرحت بخش اور انسانیت پرور ہے۔کسی بھی خطے کی خوبصورتی صرف جغرافیہ اور فطر ی نظاروں سے مکمل کہاں ہوتی ہے۔ جب تک اس پر بسنے والے لوگ اچھے نہ ہوں۔ کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ ہم نے پرندوں کی طرح ہواؤں میں اُڑنا سیکھا ، مچھلی کی طرح دریاؤں میں تیرنا سیکھا مگر انسانوں کی طرح زمین پر رہنا نہیں سیکھا۔دنیا کی اصل خوبصورتی امن و امان سے ہے ۔ سرزمین بلتستان کے باسیوں نے باہمی رواداری، معاشرتی ہم آہنگی اور اُخوت و بھائی چارے کی ایسی مثال قائم کر رکھی ہے جو خطے کے فطری حسن کو دوبالا کر دیتی ہے۔یہاں کے باسی پتھروں میں چھپے نگینے ہیں ۔جیک اینڈ فیملی نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہاں کی خوبصورتی کی تعریف کی۔ہم گفتگو میں محوتھے کہ اسی دوران ہم جربہ ژھو پہنچ گئے۔ جربہ ژھو کا منظر بھی کسی پریستان سے کم نہ تھا۔قدرت کے دل فریب مناظر سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے بلتی روایتی کھانوں کا بھی خوب مزے اڑائے۔ یہاں بھی کشتی رانی کا لطف اُٹھاے بغیر نہ رہ سکے۔ پھر ہم شگر فورٹ کی طرف روانہ ہوگئے اور رات وہاں گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ شام کو ہم فورٹ کے لان میں کرسی لگاے بیٹھ گئے۔ کھلےِ کھلےِ سے چہرے، ہونٹوں پر سجی مسکان اور آنکھوں میں جھلکتی طمانیت کے ساتھ جیک اینڈ فیملی میری طرف دیکھ رہے تھی اور میں بولا جا رہا تھا۔ دیانتداری ، لگن اور جذبہ ہمارے معاشرے کا وطیرہ ہے ۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان کی خوبصورت سرزمین کے لوگ بھی اعلیٰ انسانی اقدار کی وجہ سے شہرت کے حامل ہیں۔ پاکستان کے لئے دیگر علاقوں سے بھی بڑھ کر بے پناہ محبت کرنے والے، جفاکش اور بلند ہمت افراد سے بھر پور یہ سرزمین جسے اللہ نے ہر طرح کی نعمتوں سے نواز رکھا ہے ، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹیK-2، پریوں کی وادی فیر ی میڈوز، دیوتاؤں کی سلطنت دیو سائی، برفیلی دلہن راکاپوشی ، رام لیلیٰ کا مسکن راما اور وادی پھنڈر اس پاک سرزمین کو کشورِ حسین بنا تی ہے۔اتنے میں ٹیبل پر کھانا لگ گیا۔ کھانے کے دوران دوسرے دن شگر چھوترون (گرم چشمہ) جانے کا پلان بنایا گیا۔ ہم صبح دس بجے ہشوپی باغ پہنچ گئے۔ وہاں مختلف قسم کے پھلوں کے مزے لئے۔ پھر وہاں سے آگے سبززاروں، مرغ زاروں اور ندیوں کو عبور کرتے ہوے ہم نے اپنا سفر جاری رکھا۔ راستے میں جسٹن کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک خوبصورت اور سرسبز میدان سے گزرتے ہوے جیک نے گاڑی روکنے کو کہا۔ اور وہاں پر موجود مختلف قسم کے پھولوں اور جڑی بوٹیوں کا گچھا اکھٹا کیا اور آگے کے ہوٹل پر ہم اُتر گئے۔ جیک نے ان جڑی بوٹیوں کو صاف کیا اور پھولوں کی پتیاں الگ الگ کیا پھر انہیں پیس پیس کر پلیٹ پر رکھا اور جسٹن کو کھلایا۔ جسٹن دس منٹ کے اندر ٹھیک ٹھاک ہوگیا ۔ ڈاکٹر جیک اور ان کی بیٹی جڑی بوٹیوں کے بارے میں کافی علم رکھتے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس علاقے میں ہزار وں اقسام کی جڑی بوٹیاں موجود ہیں جو انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہیں۔ گرم چشمے پر بھی سیاحوں کا کافی رش تھا۔رات ہم نے تسر گاوں میں گزاری۔ شگر مل سے چھو ترون تک مختلف مقامات پر سیرگاہیں بنائی گئی تھی۔ ہوٹلز،گیسٹ ہاوسز، اور ہٹس بھی موجود تھے اور سیاحوں کی خاطر تواضع کرنے کے ساتھ ساتھ حلال روزی بھی کما رہے تھے۔ ایک ہٹ مالک کہہ رہا تھا کہ وہ دن میں بیس سے تیس ہزار روپے کماتا ہے۔ دوسری صبح ہم واپس شگر کے لیے روانہ ہوگئے اور گریس ہوٹل میں قیام کیا۔ پھر گانچھے کا پلان بنایا گیا۔ صبح آٹھ بجے ہم روانہ ہوگئے۔ ہم نے پہلے پہل تھلے بروق جانے کا فیصلہ کیا جو گانچھے کے پہاڑوں میں واقع قدرت کا ایک شاہکار ہے۔ ہم نے تھلے گیسٹ ہاوس میں گاڑی پارک کی ۔ پھر تھلے بروق کے لیے روانہ ہوگئے۔ بروق جانے کے لیے چیر لفٹ کا انتظام تھا۔ ایک لفٹ آدھا گھنٹے کی مسافت پر رکتی تھی ۔ وہاں سے آگے دوسری لفٹ پر بیٹھنا پڑتا تھا۔ لفٹ میں ایک ٹکٹ دوسو روپے کا تھا۔ اسی طرح ہم تقریباً تین یا چار گھنٹوں میں تھلے بروق پہنچ گئے۔ وہاں بھی سیاحوں کا رش تھا۔ وہاں سے پہاڑوں کے درمیان سے ٹنل اور لفٹ کے ذریعے خپلو کے لیے راستہ بنا ہوا تھا۔ ہم پہاڑوں اور دیگر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ راستے میں مختلف مقامات پر فوڈ ہٹس موجودتھے۔ ہم نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ گاڑی کھرمنگ پاری لے کر آجائے۔ ہم نے پورا گانچھے کا سیر چیرلفٹ اور پیدل چل کر کیا۔ حسین وادیوں کو لفٹ میں بیٹھ کر دیکھنے کا اپنا ہی مزا تھا۔ ایک لفٹ مالک سے کمائی کے بارے میں پوچھا تو کہا :دن میں تقریباً تیس سے پچاس ہزار روپے کماتا ہوں۔گیسٹ ہاوسیز اور ہوٹلز مالکان بھی زبردست کما رہے تھے۔ ٹریول ایجنسیاں بھی لوگوں کو سیر کراتے ہوے بہترین بزنس کر رہے تھیں۔وہاں سے ٹنلز اور لفٹ کے زریعے ہم کھرمنگ کی طرف نکل پڑے۔ کھرمنگ پاری میں ہم نے پڑاؤ لگایا اور سیب کی خوشبو سونگھتے ہوئے تھکاوٹ دور کی۔ یہاں ہم نے پاری پیلس میں با ربی کیو کا مزا چھکاجو آج بھی محسوس کررہا ہوں۔اگلے دن خوموش آبشار اور منٹھوکھہ آبشار سے ہوتے ہوئے سکردو واپس آگئے۔ دو دن آرام کرنے کے بعد ہم دیوسائی کے لیے روانہ ہوگئے۔ دیوسائی کی جھیلوں کی سیر کرنے کے بعد ہم نے وہاں گیسٹ ہاوس میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ تین دونوں میں پورے دیوسائی کا لفٹ میں بیٹھ کر نظارہ کیا۔ ایک لفٹ میں ایک ٹکٹ تین سے روپے کا تھا۔ جو آدھا گھنٹے میں اگلے لفٹ پر چھوڑ دیتی تھی۔ سرسبروشاداب میدانوں میں پیدل چلتے ہوے جیک نے ہزاروں اقسام کے پھولوں اور جڑی بوٹیوں کی تصویریں بنائی۔ جسٹن اور سوفیہ خوشی سے پاگل ہورہے تھے۔ سوفیہ کہتی ہے: کاش میں یہاں مر جاؤں اور ان سر سبز میدانوں میں دفن ہو جاؤں۔پھر میں نے خوبصورت پھولوں کا گلدستہ بنا کر انہیں پیا ر سے پیش کیا۔ جو انہوں نے پیار سے پرس میں ڈالتے ہوے کہا: جب بھی آپ کی یاد آئے گی تو میں ان پھولوں سے گفتگو کروں گی اور ان پھولوں کو کبھی مرجھانے نہیں دوں گی۔ جسٹن نے کہا: اس جنت نظیر میدان میں ضرور قدرت کا کوئی نہ کوئی راز چھپا ہوا ہے۔ دیوسائی میں تین دن گزارنے کے بعد ہم واپس سکردو آگئے۔ ہم ساری رات باتیں کرتے رہے۔ کیونکہ جیک اینڈ فیملی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ یہ میرے بلتستان کی سیاحت کے حوالے سے محض ایک خواب تھا جو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ اس میں لکھی ہوئی ہر بات فکشن پر مبنی ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 825 Print Article Print
About the Author: Abdul Rehman Mir

Read More Articles by Abdul Rehman Mir: 30 Articles with 24445 views »
I am a poet, Columnist, writer, social Worker and a lecturer in English Language and Literature at University level. .. View More

Reviews & Comments

Language: