بھارت کی ایک اور سرینڈر پالیسی

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

سال 2019میں بھارتی حکومت تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ایک نیا سرینڈر نما آبادکاری منصوبہ تشکیل دے رہی ہے۔ جس کے چند خدو خال سامنے آ رہے ہیں۔ بھارتی عام انتخابات کی مہم کے دوران مقبوضہ کشمیر کے بھارتی گورنر ستیہ پال ملک کی سربراہی میں یہ منصوبہ بن رہا ہے۔ اسی کے تحت گورنر بار بار مجاہدین کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ مگر مجاہدین اس پیشکش کو ٹھکرا کر اس کا جواب گولیوں سے دے رہے ہیں۔ آج تک کسی ایک بھی مجاہد نے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ لڑتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ منصب پر سرفراز ہونے کو ترجیح دی۔گورنر کی منطق ہے کہ عسکریت پسندوں کے بجائے عسکریت ختم کرنا لازمی ہے کیوں کہ عسکریت ہتھیار میں نہیں بلکہ دماغ میں ہے۔ ، مگر گورنر کو یہی بات اپنے پالیسی سازوں کو سمجھانی لازمی ہے کہ بھارت جدید ترین اسلحہ اور تمام حربے آزما کر بھی جدوجہد ختم کرنے میں ناکام ہو گیا ،اس لئے بھارت کشمیریوں کو طاقت سے کچلنے کا ذہن بدل دے۔ مجاہدین پر کشمیری رائے عامہ یہاں تک کے ان کے والدین، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کی بھی یہی توقعات رہی ہیں کہ وہ سرینڈر کے بجائے شہادت کو ترجیح دیں۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی کئیموبائل آڈیوز میں کئی کشمیری بہنوں اور ماؤں نے بھارتی فوج کے نرغے میں پھنسے مجاہدین کوہر گز سرینڈر نہ کرنے کی تلقین کی۔مجاہدین کو فورسز کے محاصرے سے نکالنے کے لئے علاقے کے بچوں، خواتین، بزرگوں نے فورسز کا محاصرہ کر کے ان پر پتھراؤ کیا اور درجنوں کشمیری جن میں خواتین بھی شامل ہیں ، پتھراؤ کرتے ہوئے بھارتی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ یہ سب جاننے کے باوجود بھارت مجاہدین کو سرینڈر کرنے کے لئے کہہ رہا ہے اور سرینڈر کرنے والوں کو آبادکاری اور پیسے کی لالچ دے رہا ہے۔ اس پر مقبوضہ کشمیر کے ایک سرکردہ دانشور اور ایک اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب منظور انجم نے کچھ روشنی ڈالی ہے۔ نئے سرینڈر منصوبے کے تحت سرینڈر کرنے والے کو ماہانہ چند ہزار روپے اور چند لاکھ بھارتی کرنسی میں رقم فکسڈ ڈیپازٹ کے طور پر دی جائے گی۔یہ پالیسی بھارت سے لڑنے والے مجاہدین کے لئے ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان اور آزاد کشمیر ہجرت کرنے والوں کے لئے محفوظ راہداری اور آبادکاری کے کئی منصوبوں کا علان کیا گیا۔ جس کے تحت کئی نوجوان نیپال کے راستے واپس مقبوضہ کشمیر پہنچے لیکن ان کو حراست میں لے کر ان پر تشدد کیا گیا ۔ ان کی آبادکاری کا وعدہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ یہ سب منصوبے ناکام ہوئے۔ یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت نے ہمیشہ دھوکہ کیا ہے۔ آج مجاہدین محدود وسائل کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فورسز اور ان کے جدید ترین وافر عسکری وسائل کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مجاہدین کی عوامی حمایت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر زیر تعلیم بچے عسکریت کی طرف مائل ہو رہے ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی سکالرز بھی فورسز کے ساتھ لڑتے لڑتے شہید ہونا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ منظور انجم سوال کرتے ہیں کہ کسی کو یہ پروا نہیں کہ قوم کا سب سے بڑا اثاثہ کس بے دردی کے ساتھ ضائع ہو رہا ہے۔ کیسی جوانیاں خاک میں مل رہی ہیں اور پورے سماج پر کیسے دوررس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایکباعزت راستہ تلاش کرنے اور ان خطرات سے نپٹنے کیلئے، جو اس وقت ریاست کی انفرادیت اور تشخص پر منڈلا رہے ہیں، کسی فکری اور عملی جدوجہد کا خیال تک کہیں موجود نہیں۔ مزاحمتی قیادت بھی مجموعی صورتحال کا احساس کرنے سے قاصر ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر موقف صداقت پر مبنی ہے تو اس سے انحراف گناہ عظیم ہے لیکن کہتے ہیں کہ موقف جس قوم کو عزت و آبرو سر فراز کرنے کے لئے ہے، اس کا اگر وجود ہی خطرے میں ہو تو اس وقت موقف اورقوم کے وجود میں سے کس کو فوقیت دی جا سکتی ہے، یہ سوچنا بھی ضروری ہے۔ اپنے موقف پر کسی سمجھوتے کے بغیر بھی راستے تلاش کئے جا سکتے ہیں جن سے قوم کے وجود کو بھی بچایا جا سکتا ہے اور اہداف حاصل کرنے کی گنجائش بھی باقی رکھی جا سکتی ہے۔ انجم صاحب کا قابل غور موقف بھارتی گورنر کی سرینڈر پالیسی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ بلا شبہ وہ مزید سوچ و بچار کی گنجائش پیدا کرنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ بلا شبہ آج ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ بھارت کو کشمیریوں کے قتل عام اور نسل کشی کے تمام مواقع اور جواز زیرو کر دیئے جائیں ، کسی نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بھارت کی اصلی قوت اور معیشت کو شدید نقصان یا تباہی کا احساس دلایا جائے تا کہ بھارتی پالیسی ساز سمجھ لیں کہ مسلہ کشمیر کو حل نہ کرنا اور کشمیریوں کا قتل عام اسے ایسی لا تعداد تباہیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔ بجائے اس کے اس ہاتھی کو گرانے کے لئے سوئی چبونے کا کیا فائدہ، اس سے تو اس کی چمڑی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اسے یہ بھی پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں کا گزشتہ71سال بالعموم اور 30سال بالخصوص کے دوران نہ خریدا جا سکا اور نہ ہی جھکایا جا سکا۔ کشمیری کسی فریب، ڈر یا لالچ میں نہ آئے۔ کشمیریوں نے کہا کہ اگر بھارت کشمیر کے گلی کوچوں اور سڑکوں پر سونے چاندے اور ہیرے جواہرات کے ڈھیر بچھا دے وہ پھر بھی آزادی کی جدوجہد کو ترک نہیں کر سکتے۔

بھارتی ہدایت پر مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے کئی بار سرینڈر پالیسیوں کا اعلان کیا۔پہلی پالیسی کا اعلان 2004میں اور دوسری کا 2010میں کیا گیا۔ پہلی کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں سرگرم مجاہدین کو سرینڈر کرانا اور ان کی آبادکاری تھا۔ دوسری کا مقصد آزاد کشمیراور پاکستان 1989کے بعدہجرت کرنے والے کشمیریوں کی گھروں کو واپسی تھا۔ اب چوتھی پایسی کاا علان ہو رہا ہے۔ جس کا نشانہ حال ہی میں مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے والے پی ایچ ڈی سکالرز اور زیر تعلیم بچے بھی ہیں۔ جیسے کہ 20سالہ معروف فٹ بال گول کیپر مجاہد خان ۔ جووالدین کے اکلوتے بیٹے اور انڈر گریجویٹ کلاس میں زیر تعلیم تھے۔ والدہ کی آنسو بھری اپیل سوشل میڈیاپر عام ہوئی تو لشکر طیبہ نے انہیں گھر واپس جانے میں مدد کی۔گزشتہ دنوں سرینگر میں ان خواتین کی پریس کانفرنس ہوئی جو پاکستان اور آزاد کشمیرسے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ نیپال یا کسی دوسرے راستے مقبوضہ کشمیر پہنچیں تھیں۔ انھوں نے اپنے ساتھ بھارتی دھوکے کو بے نقاب کیا۔ بھارت کی ماضی میں ایک سرینڈر پالیسی بہت زیادہ ترزیر بحث رہی ہے۔ جس کے تحت یہ نوجوان پاکستان اور آزاد کشمیر میں شادی کرنے کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں سمیت واپس مقبوضہ کشمیر گئے۔ مگر ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ، اس نے ان کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے، اس پالیسی کیکئی اہم نکات یہ تھے۔

1۔یہ پالیسی ان نوجوانوں کے لئے ہے جو 1989تا2009کشمیر سے آزاد کشمیر داخل ہوئے۔
2۔پالیسی کو مقبوضہ حکومت نے تیار کیا اور اس کی توثیق بھارتی وزارت داخلہ نے کی۔
3۔دہلی کی ہدایت پر ریاستی کابینہ نے اس کی منظوری دی۔
4۔جو کشمیری ہتھیاروں کے بغیر واپس آ کر نارمل زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں ان کے لئے واپسی کے چینل کھولے جائیں گے۔
5۔ کشمیر میں اس وقت کی مخلوط حکومتکے سربراہ نیشنل کانفرنس نے دعویٰ کیا کہ اتحادی کانگریس کی مخالفت کے باوجود پالیسی کی منظوری دی گئی۔
6۔ کمشنر/ سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنے گی جو پالیسی کے تحت کیسوں کو کلئیر کرنے کی مجازہو گی۔
7۔پالیسی پر بھارتی وزارت داخلہ نے انڈین آرمی اور خفیہ ایجنسیوں سے مشاورت کی۔
8۔پالیسی ان کے لئے تھی جو تشدد کا راستہ ترک کر کے مین سٹریم میں آنا چاہتے ہیں۔
9۔نوجوان کے والدین اپنے ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ(ایس پی)سے رابطہ کریں گے اور ضمانت دیں گے کہ انکا بیٹا واپس آ کر نارمل زندگی گزارنا چاہتا ہے۔
10۔ریاست میں سرگرم تمام انٹلی جنس ایجنسیوں کی چھان بین کے بعد ایس پی والدین کو آرڈرز دے گا۔
11۔واپس آنے والے نوجوانوں کو ایک کیمپ میں رکھ کر ان کی تین ماہ تکنگرانی کی جائے گی اور روزگار کمانے کے لئے ان کی کونسلنگ کی جائے گی۔
12۔بیوی بچوں کے ہمراہ واپس آنے والوں کو ایمرجنسی سرٹیفکیٹس دئے جائیں گے۔
14۔جن کاوادی میں کوئی رشتہ دار نہیں، وہ اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانے میں سرینڈر درخواست دیں گے۔
15۔ انٹر نیٹ پر بھی آن لائن معلومات اور درخواست فارم دستیاب ہو گا۔
16۔پالیسی کے باعث نیپال،بنگلہ دیش یا واہگہ بارڈر سے جعلی دستاویزات پر کشمیر آنیکا غیر قانونی داخلہ بند ہو گا۔
17۔کلیئرنس پانے والے نوجوان 4انٹری پوائنٹس پونچھ راولاکوٹ(پونچھ)، اوڑی مظفر آباد(اوڑی)، واہگہ(پنجاب)اور اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ(نئی دہلی)پر واپس آ سکیں گے۔
18۔انٹری پوائنٹ پر انہیں گرفتار کر کے کونسلنگ سنٹرز پر پہنچایا جائے گا۔
19۔ یہ یقین دہانی بھی کی جائے گی کہ وہ پاکستان کی طرف سے پلانٹ تو نہیں۔
20۔جن کے خلاف کسی پولیس سٹیشن پر کیس درج ہیں ان کو عدالتوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
21۔جنگ بندی لائن پار کرنے سے قبل اگر کوئی کسی کیس میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف مقدمہ درج ہو گا۔
22۔ریاستی کابینہ کی منظوری کے بعد پالیسی کو حتمی منظوری کے لئے دہلی بھیجا جائے گا۔
23۔حتمی پیکج کا اعلان بھارتی کابینہ کرے گی۔
24۔ کشمیر کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ نے 7فروری 2010ء کے دہلی میں بھارتی وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس میں خطاب کے دوران آبادکاری پالیسی کی بات کی تھی۔
25۔بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے مئی 2004ء کو اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی جانب سے قائم پانچ میں سے ایک ورکنگ گروپ کی سفارشات پرپیکج کو تسلیم کیا۔
26۔ورکنگ گروپ نے بندوق پھینک کر مین سٹریم میں لوٹنے والے ’’گمراہ نوجوانو ں‘‘ کو جنرل ایمنسٹی دینے کی سفارش کی تھی۔
27۔پالیسی کو پاک بھارت مذاکرات کے لئے بڑا سی بی ایم(اعتماد سازی کاقدم)قرار دیا جا رہا ہے۔
28۔آبادکاری پیکج مسلح ٹریننگ کے لئے جانے والوں کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار اقتصادی اور سماجی وجوہات کے باعث جنگ بندی لائن پار جانے والوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔
29۔واپس آنے والوں کو بھارت کی سا لمیت اور آئین تسلیم کرنا ہو گا۔

مندرجہ بالا نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی نئی سرینڈر پالیسی کو سمجھنا قدرے آسان ہوسکتا ہے۔ گو کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں موجود وادی کے نوجوانوں کی واپسی کے لیے’آبادکاری نما ’سرینڈر پالیسی ‘‘کے بعد لا تعداد نوجوان بیوی بچوں سمیت واپس گھروں کو جانے لگے۔ مگر ان کی آبادکاری کے خواب پورے نہ ہو سکے۔ ان کے بچوں کا سکولوں میں داخلہ مسائل کا شکار ہوا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی بیویوں کے لئے مشکلات پیدا ہوئیں۔انہیں جیسے قید کر دیا گیا۔ سفری دستاویزات سے محروم کیا گیا۔جو آج بھی احتجاج کررہی ہیں۔اپنے والدین کو دیکھنے پاکستان اور آزاد کشمیر کا سفر نہیں کر سکتیں۔ اس پالیسی کی کانگریس نے مخالفت کی تھی۔اگر دہلی میں کانگریس حکومت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا تو اسے مقبوضہ کشمیر کی کانگریس کیسے مسترد کر سکتی تھی۔ان دنوں نیشنل کانفرس دہلی میں کانگریس کی اتحادی ، اس کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبد اﷲ بھارت کے وزیر رہے تھے۔اسی طرح کانگریس مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کی اتحادی تھی۔این سی کا کانگریس پر مخالفت کا الزام مشکوک تھا،اس نے اس سارے عمل کو مشکوک بنا دیا ۔البتہ اس وقت کی اپوزیشن بی جے پی کی مخالفت سیاسی نوعیت کی تھی۔بی جے پی نے سرینڈر پالیسی کو خطرناک قدم اور بڑا سکیورٹی رسک قرار دیا ۔بی جے پی نے اس کے خلاف جموں بندھ بھی منایا۔یہ بات قابل زکر ہے کہ بھارت نے مجاہدین کو سرینڈر کرانے اور تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے سرینڈر پالیسیاں بنائیں لیکن یہ تمام پالیساں ناکام ہو گئیں۔لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ 1989ء کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر آنے والے کشمیری نوجوانوں کے لئے نئی سرینڈر اور آبادکاری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔اس سے پہلے جو اعلان جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ کے مطالبے پر سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کیاتھااس سرینڈر اور آبادکاری پالیسی کے13 اہم نکات یوں تھے۔
1۔جو نوجوان سرینڈر کرنا چاہتے ہیں انہیں تحقیقات کے بعد ہی کشمیرمیں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
2۔جن نوجوانوں نے آزاد کشمیر اور پاکستان میں شادی رچائی ہے ان کی اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانے کی اجازت کے بعد ہی بیویوں سمیت واپسی ہو سکے گی۔
3۔سرینڈر کرنے والوں کو ایک ماہ تک زیر حراست رکھا جائے گا،ان کا انٹروگیشن ہوگا اور بعد ازاں ہر ہفتے پولیس سٹیشن میں حاضری دینی ہو گی۔
4۔ بھارتی فورسزسرینڈر نوجوانؤں کی ایک فہرست تیار کریں گی اور ان کی سرگرمیوں کامسلسل جائزہ لیا جائے گا۔
5۔ کشمیر میں ان کے خلاف درج کیا گیا کوئی بھی کریمنل کیس (جرائم کا مقدمہ)ختم نہیں ہو گا بلکہ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
6۔سرینڈر نوجوانؤں کوبھارتی یا سرینگر حکومت کوئی مالی پیکج نہیں دے گی بلکہ ریاستی حکومت کی زیر سرپرستی شروع کئے گئے ووکیشنل ٹریننگ کورسز میں وہ داخلہ لے سکیں گے۔
7۔اگرسرینڈر نوجوانؤں کا طرز عمل اچھا ہوا(Behave well)تو انہیں آباد کاری پیکج دیا جائے گا۔
8۔جموں و کشمیر پولیس سرینڈر نوجوانؤں کے بارے میں ہمہ وقت آگاہ رہے گی۔
9 ۔کشمیر میں جو لوگ اپنے بچوں کی واپسی چاہتے ہیں انہیں ایڈیشنل ڈی آئی جی سی آئی ڈی سے رابطہ کرنا ہوگا۔
10۔سرنڈ ر نوجوان کو حکام کے سامنے حلف لینا ہوگا کہ وہ ملی ٹینسی چھوڑ دیں گے۔
11۔تحقیقاتی عمل سے وہ لوگ باہرہوجائیں گے جو ملی ٹینسی میں ملوث نہیں لیکن مالی پیکج کی خواہش رکھتے ہیں۔
12۔جو لوگ نوجوان نہیں انہیں سفارتی چینل سے داخلہ اور خارجہ وزارتوں کے ذریعے رجوع کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانہ ان کی مدد کرے گا۔
13۔جو لوگ جنگ بندی لائن کراس کرکے پار گئے انکے خلاف غیر قانونی بارڈرکراسنگ کے مقدمات واپس نہیں لئے جائیں گے۔

حتمی پالیسی میں کئی نکات کی ترمیم اور کئی کا اضافہ کیا گیا۔اس سے قبل بھی ایک مالی پیکج کا 24فروری 2009ء کو اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ سری پرکاش جیسوال نے بھارتی لوک سبھا میں ایک تحریری جواب دیتے ہوئے اعلان اور اعتراف کیا تھا کہ جموں و کشمیر میں ایک ایسی سرینڈر پالیسی پر عمل ہو رہا ہے جس کے تحت ہر نوجوان کو سرینڈر کے تین سال تک ماہانہ 2ہزار روپے دیئے جارہے ہیں۔ جب کہ سرینڈر کرنے کے فوری بعد ڈیڑھ لاکھ روپے سرینڈر کرنے والے کے نام پر بنک میں فکسڈ ڈیپازٹ کے طور پر جمع کئے جاتے ہیں۔ اگرنوجوان کا طرز عمل ٹھیک رہا یعنی اس نے دوبارہ ملی ٹینسی میں شمولیت اختیار نہ کی تو اسے 3سال بعد ڈیڑھ لاکھ روپے بنک سے نکالنے کی اجازت دی جاتی ہے۔بھارتی دعوؤں کے مطابق جموں و کشمیر میں 2006ء کے دوران 190،2007ء میں 122،2008ء میں38افراد نے سرینڈر کیا۔ بھارت نے سرینڈر کرنے والوں کے لئے 2005-06ء میں 49لاکھ روپے،2006-07ء میں 31لاکھ ، 2007-08ء میں 66لاکھ ،2008-09میں 71لاکھ روپے تقسیم کئے۔بھارت کی پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ نے یہ اعداد وشمار پیش کئے ۔یاد رہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر میں سابق صدر ہند حامد انصاری کی سربراہی میں قائم کئے گئے اعتماد سازی سے متعلق ورکنگ گروپ کی سفارشات کی روشنی میں کشمیریوں کے لئے سرینڈر پالیسی کا اعلان کیا۔صدر بننے سے پہلے حامد انصاری اس گروپ کے سربراہ تھے جس نے سفارش کی تھی کہ جو لوگ جنگ بندی لائن عبور کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر چلے گئے ہیں ان کو واپس لانے کیلئے حکومت پاکستان سے بات کی جائے۔ بھارت نے یہ مسئلہ دہلی میں منعقد ہ پاک بھارت خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں اٹھایا۔ بھارت نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں بھارت کی مدد کرے تاکہ کشمیریوں کی واپسی(سرینڈر) کی راہیں ہموار ہو سکیں۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ چدمبرم نے انکشاف کیا کہ بنگلہ دیش اور نیپال کے راستے سینکڑوں کشمیری نوجوان بھارت میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری کمیونٹی اس پالیسی پر بحث و مباحثہ کر رہی ہے کہ بھارت نے آزاد کشمیر اور پاکستان میں موجود نوجوانوں کو عام معافی دینے اور انہیں گھروں میں واپسی کا محفوظ راستے دینے کی پالیسی کیوں تیار کی ۔ اس بارے میں مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں لیکن حقیقت میں کشمیری نوجوانوں کی مشروط واپسی کی پالیسی تحریک آزادی کو کچلنے کا ایک حربہ اور ان کی تذلیل کرنے کی ایک کوشش ثابت ہوئی۔ کیا کشمیر ی بھارت کے جھانسے میں آئیں گے۔ اس سوال کا جواب خود بھارتی سیاستدان دے رہے ہیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو کسی بھی طور پر اپنے گھروں کو آنے کے لئے محفوظ راہداری نہیں دینی چاہئے۔ کیونکہ کشمیریوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے وہ اپنے شہداء کو اور قربانیوں کوکبھی نہیں بھول سکتے۔ جبکہ اسی طرح کے خیالات کانگریس لیڈر اور سابقہ وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بھارت کو پاکستان اور آزاد کشمیر سے نوجوانو ں کی واپسی کا پیکج نہیں دینا چاہئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بھارتی سیاستدان جانتے ہیں کہ کشمیری کسی بھی صورت میں بھارت کے آگے سرینڈر نہیں کریں گے۔ کشمیریوں کے خلاف سرحد پار کرنے کا مقدمہ بھی چلایا جائے گاحالانکہ کشمیری سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے کیوں کہ جنگ بندی لکیر کوئی سرحد نہیں بلکہ کشمیر کے درمیان قائم سیزفائر لائین نما خونی لکیر ہے۔ اس لئے اس کو عبور کرکے اپنے علاقے میں داخل ہونا ’’بارڈر کراس‘‘نہیں ہے۔ بھارت کی بھی یہ دو غلانہ پالیسی ہے ۔ ایک طرف بھارت کے سابق کانگریسی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے سرینڈر پالیسی کو درست قرار دے کر کہا کہ چونکہ آزاد کشمیر بھی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اس لئے وہاں جانے والے کشمیریوں کو اپنے گھروں کو واپس آنے کی اجازت دینا درست اقدام ہے۔ اگر بھارت کی پالیسی کو ہی تسلیم کرلیں تو بھی کشمیر کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ میں داخل ہونے پر ’’بارڈرکراس‘‘کامقدمہ قائم نہیں ہوسکتاہے۔ لیکن ماضی کی ’’سرینڈر اور ری ہیبلیٹشن ‘‘پالیسی میں اس بارے میں صاف بتایا گیا کہ واپس آنے والوں کے خلاف مقدمات قائم رہیں گے۔ترمیم میں تو یہاں تک کہا گیا کہ جن پر مقدمہ قائم نہیں ان پر بھی مقدمہ قائم ہو گا۔ جو لوگ نیپال، بنگلہ دیش یا جنگ بندی لائن سے اپنے گھروں کو واپس لوٹے ان میں سے زیادہ کو حراست میں لے کر جنگ بندی لائن پر پہنچا کر دراندازقرار دے کر شہید کیا گیا یا جیلوں میں بھر دیا گیا، نوجوانوں کو انٹروگیشن مراکز پر شدید اذیتیں دی گئیں۔ جبکہ بعض کو روزانہ یا ہر ہفتہ پولیس سٹیشن اور بھارتی فورسز کے کیمپوں میں حاضری دینا پڑتی ہے۔ اگر کسی علاقے میں کوئی دھماکا ہو یا فائرنگ ہو یا ہڑتال ،مظاہرے کئے جائیں تو سب سے پہلے آفت ان نوجوانوں پر ہی آتی ہے اور انہیں حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ بھارت کے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ پر خاص طور پر ان نوجوانوں کو ہفتہ پہلے ہی حراست میں لے لیا جاتا ہے۔

سرینڈر کرنے والوں کے لئے جموں و کشمیر کی کابینہ نے 24اپریل 1997ء کو بھی ایک فیصلہ کیا تھا۔ جس کے تحت ان نوجوانوں کے لئے ’’سٹیٹ ایمپلائمنٹ سکیم‘‘کا اعلان کیا گیا۔ 1998ء میں ایمپلائمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان نوجوانوں کے لئے چھوٹے صنعتی یونٹ اور نوکریاں فراہم کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ۔ اس طرح جیلوں سے رہا ہونے والے نوجوانوں نے بنکوں میں درخواستیں جمع کرائیں ۔ حکومت نے اعلان کیا کہ انہیں 15فیصد بلا سود قرضے دیئے جائیں گے۔بنکوں سے کہا گیا کہ وہ ایسے پروجیکٹوں کے لئے 75فیصد رقم فراہم کریں۔ حکومت نے قرضوں پہ50سے100فیصد بلاسود سبسڈی کا بھی اعلان کیا۔لیکن سکیم کا بھانڈہ اس وقت ہی پھوٹ گیا جب بنکوں نے قرضے دینے سے انکار کر دیا۔ اور سکیم ناکام ہوگئی۔ یہ بھی ایک طرح کا مذاق تھا جو جیلوں سے رہا ہو کر اپنے کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ کیا گیا، اس طرح بھارتی حکومت کا ان نوجوانوں کی آبادکاری اور بحالی کا کوئی بھی منصوبہ کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکا۔ وہ چاہتے بھی یہی تھے کہ نوجوانوں سے انتقام لینے کے لئے ان کی زیادہ سے زیادہ تذلیل کی جائے۔ بھارتی فوج نے بھی ایک ’’Peace Meal‘‘پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت آزاد کشمیر اور پاکستان سے گھروں کو واپس آنے والوں کی بحالی کیلئے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا، بھارتی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ جون 2007ء تک 170نوجوانوں نے جنگ بندی لائن پر خود کو بھارتی فوج کے حوالے کیا، تاہم ایک سرینڈر نوجوان پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کو ہلاک کرنے کے منصوبے میں ملوث قرار دیاگیا جس کے بعد بھارتی وزارت داخلہ نے فوج کی پالیسی کو ختم کر دیا۔کشمیریوں کے لیے نئے سرینڈر منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئے بھارت نے پاکستان سے بھی تعاون کی درخواست کی ۔ اس معاملے کو پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کے مذاکرات میں بھی اٹھایا گیا ۔ پاکستان سے کہا گیا کہ وہ آزاد کشمیر میں موجود کشمیریوں کی فہرستیں فراہم کرے اور ان کی تصدیق کی جائے کہ وہ کن علاقوں میں مقیم ہیں ۔یعنی جس طرح بے نظیر بھٹو نے مبینہ طور پر راجیوگاندھی کو خالصتانی سکھوں کی فہرستیں دی تھیں بھارت نے پاکستان سے کشمیری مجاہدین کی فہرستیں بھی طلب کیں۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے لئے اعلان کردہ سکیم میں سکھوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔خالصتان تحریک کے تحت آزاد ملک کے لئے سرگرم سکھوں سے کہا کہ وہ بندوق پھینک کر واپس آنا چاہیں تو انہیں اجازت دی جائے گی۔مگر وہ بھی سرینڈر پر تیار نہیں ہوئے۔ گولڈن ٹیمپل کو بمباری سے تباہ کرنے اور ہزاروں سکھوؤں کو بے دردی سے ہلاک کرنے پر وہ سرینڈر کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ کشمیری اپنے شہداء سے کیسے غداری کا سوچ سکتے ہیں۔اب بھارتی گورنر کی سرینڈر پالیسی کا بھی یہی حشر ہو سکتا ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 163 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 402 Articles with 112029 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: