محمد بن سلمان کا پاک سرزمین پر فقید المثال استقبال

(Mehr Basharat Siddiqui, )

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان2 روزہ تاریخی دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔نورخان ایئر بیس پر وزیر اعظم عمران خان،وفاقی کابینہ کے ارکان،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،پاکستان میں تعینات سعودی سفیراور دیگر اعلٰی عہدیداروں نے معزز مہمان کا شاندار استقبال کیا۔محمد بن سلمان کو 21توپوں کی سلامی دی گئی اور مسلح افواج کے چاق وچوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کی ساتویں اہم شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان کا پہلا دورہ جس سعودی فرمانروا نے کیا وہ شاہ سعود بن عبدالعزیز ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کے 7برس بعد 1954میں سرکاری طورپر پاکستان کا دورہ کیا، شاہ سعود بن عبدالعزیز کے دورہ پاکستان کے دوران ان کے 5بھائی شہزادہ فیصل، شہزادہ سعد، شہزادہ فہد، شہزادہ منصور اور شہزادہ عبداﷲ ان کے ہمراہ تھے، 1954میں سعودی عرب کے شاہ سعود نے پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی میں ہاؤسنگ سکیم کا بھی افتتاح کیا، جس کو سعود آباد کہا جاتا ہے، شاہ فیصل سے قبل ان کے والد شاہ عبدالعزیز بھی پاکستان آچکے ہیں۔ شاہ سعود کویت میں 1902میں پیدا ہوئے کیونکہ ان دنوں ان کا خاندان جلاوطن تھا، شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے 1966ء میں پاکستان کا دورہ کیا، 1968میں شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز پاکستان آئے، وہ اس وقت سعودی عرب کے وزیر دفاع تھے، اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے 1974میں شاہ فیصل دوبارہ پاکستان آئے، شاہ فیصل کا یہ دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ انہوں نے ایک برس قبل 1973میں امریکہ کو تیل کی سپلائی بند کر دی تھی، جس وجہ سے امریکہ غصے میں تھا اور امریکہ نے سعودی پر بم گرانے کی دھمکی دی، جس پر شاہ فیصل نے کہا کہ امریکہ تیل کے بغیر تباہ ہو جائے گا لیکن ہم کھجوریں کھا کر اور دودھ پی کر دوبارہ پہلے کی طرح زندہ رہ سکتے ہیں، ہم صحرا میں رہنے کے عادی ہیں ، فروری 2006ء میں سعودی عرب کے شاہ عبداﷲ پاکستان آئے، جبکہ اس سے پہلے 2003ء میں وہ بطور ولی عہد سعودی عرب بھی پاکستان آچکے تھے، 2014ء اور 2016میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔سعودی ایئرلائن کا خصوصی طیارہ ولی عہد محمد بن سلمان کولیکر جیسے ہی پسنی سے پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو معزز مہمان کا شاندار فضائی استقبال کیاگیا، پاک فضائیہ کے جے ایف 17تھنڈر اور ایف 16 طیاروں نے معزز مہمان کو پروٹوکول دیتے ہوئے طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا۔ پاک فضائیہ کے طیارے مہمان کے طیارے کے دائیں اور بائیں جانب فار میشن میں پرواز کرتے ہوئے انہیں بحفاظت نور خان ایئربیس پر لائے۔اس موقع پر طیاروں نے شاہی مہمان کوسلامی بھی پیش کی۔ محمد بن سلمان طیارے سے مسکراتے ہوئے باہر آئے ،ان کے استقبال کیلئے وزیر اعظم عمران خان،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر مہمان داری خسرو بختیار طیارے کے قریب آگئے تھے۔محمد بن سلمان وزیراعظم عمران خان سے پرجوش انداز میں گلے ملے۔معززمہمان نے آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔دوننھے بچوں نے شاہی مہمان کو پھول پیش کیے جس پر انہوں نے بچوں کے رخسار پر بوسہ لیا۔وزیر اعظم عمران خان معزز مہمان کی گاڑی خود چلاتے ہوئے انہیں ساتھ بٹھا کروزیر اعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوئے۔اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے۔محمد بن سلمان کو 5 حصاروں پر مشتمل سکیورٹی فراہم کی گئی،نور خان ایئربیس سے وزیراعظم ہاؤس تک سعودی ولی عہد کے قافلے کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی،قافلے کی جدید ہیلی کاپٹر نگرانی کرتا رہا۔ جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں پرشاہی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے بڑے بڑے بل بورڈز نصب کیے گئے تھے۔ وی وی آئی پی روٹ پر پاکستانی اور سعودی پرچم بھی لگائے گئے تھے۔ رات8 بج کر 49 منٹ پر سعودی ولی عہد وزیر اعظم ہاؤس پہنچے۔مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی،اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ معزز مہمان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد کا اپنی کابینہ سے تعارف کروایا،اس کے بعدسعودی ولی عہد نے وزیر اعظم سے اپنے اہم وزرا کا تعارف کروایا۔ بعدازاں سعودی ولی عہد نے وزیراعظم ہاؤس میں یادگاری پودا بھی لگایا۔استقبالیہ تقریب کے اختتام پر وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد کی ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پرتبادلہ خیال کیاگیا۔سعودی ولی عہد کے اعزاز میں وزیر اعظم عمران خان نے رات دس بجے عشائیے کا اہتمام کیا۔عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد کو پاکستان آمد پرخوش آمدیدکہتے ہیں، پاکستان کیلئے ایک تاریخی دن ہے ، چھ ماہ قبل جب میں وزیراعظم کی حیثیت سے مکہ اور مدینہ گیا اس موقع پر میں نے خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ کے اندر جاکر حاضری دی جو میری زندگی کے بہترین لمحات تھے اس پر میں ذاتی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں،سعودی عرب کی قیادت اور عوام مکہ اور مدینہ کی وجہ سے ہمارے دلوں میں رہتے ہیں بلکہ سعودی عرب ہمارا عظیم دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور بہترین دوست ثابت ہوا۔ سعودی عرب نے ہمارے برے معاشی حالات میں مدد کی جو قابل تحسین ہے۔ ہمارے باہمی تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں لیکن ہم ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اور شراکت داری سے ہمارے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ پاکستان کے معدنیات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ، سیاحت کے شعبہ کے حوالے سے میری سعودی ولی عہد کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس آتے ہوئے گاڑی میں تفصیلی بات ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی طرح پاکستان بھی سیاحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ سعودی عرب میں اس وقت 80 ملین سیاح آتے ہیں جن کی تعدادسعودی عرب 100 ملین تک بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان میں بھی سیاحت کا شعبہ میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے ، سعودی عرب سیاحت میں پاکستان سے آگے ہوسکتا ہے لیکن پہاڑوں کے معاملے میں ہم سب سے آگے ہیں۔ وزیر اعظم کی اس بات پر سعودی ولی عہد سمیت شرکا قہقہے لگانے پر مجبور ہوگئے۔ ایم او یوز سائن کرنے پربہت خوش ہوں،اب دونوں ممالک میں ایسی ریلیشن شپ بننے جارہی ہے جو پہلے نہیں تھی،ہم سی پیک کے تحت دنیا کی بڑی مارکیٹ چین سے منسلک ہو رہے ہیں اور میں سعودی عرب کو اس میں شراکت داری کی دعوت دیتا ہوں۔ میں ولی عہد کے طویل دورہ کی خواہش رکھتا تھا لیکن سکیورٹی مسائل کی وجہ سے وہ دو روزہ دورہ کر رہے ہیں۔سکیورٹی کا مسئلہ نہ ہوتا تو آپ دیکھتے کہ کیسے گلیوں میں لاکھوں لوگ آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی ہر سال فریضہ حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں لیکن انھیں وہاں امیگریشن کے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد سے درخواست کی کہ عمر رسیدہ حاجیوں کی امیگریشن کا بندوبست پاکستان کے کچھ شہروں میں کیا جائے جس سے ‘اﷲ تعالی ان سے بہت خوش ہو گا۔عشائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان برادر اور دوست ملک ہیں۔میں آج پاکستان میں بہت خوش ہوں، ہم پاکستان کے دوست اور برادرملک رہے ہیں، ہم نے مشکل اور سازگار حالات میں مل کر کام کیا ہے ،ہم اسی کو جاری رکھیں گے ،پاکستان کا عظیم قیادت کے ساتھ بہترین مستقبل ہے ،گزشتہ برس 2018 میں پاکستان کی جی ڈی پی 5 فیصد تھی ، پاکستان کو مستقبل قریب میں بہت اہم ملک سمجھتے ہیں،ہمیں انتظار ہے کہ ہمارے شراکت دارہوں گے ،بہت ساری چیزیں ساتھ کریں گے۔ ہمیں مل کر بہت کچھ کرنا ہے۔پاکستان کی معیشت کا مستقبل روشن ہے۔ ہم نے اسی لیے 20 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے ہیں جو پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا پہلا مرحلہ ہے۔ ہر مہینے اور ہرسال کے ساتھ بڑے نمبرز کے ساتھ یہ سرمایہ کاری بڑھتی جائے گی اور دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ہم اپنے خطے پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں کہ ایک دن عظیم مشرق وسطیٰ بنے گا اور مشرق میں پاکستان ہوگا۔محمد بن سلمان نے کہا کہ ولی عہد بننے کے بعد مشرق کا میرا پہلا دورہ ہے اور پہلا ملک پاکستان ہے۔ ہم نہ صرف باہمی ترقی اور استحکام کیلئے کام کریں گے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب مل کر علاقائی اور خطے کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب میں کام کرنے والے کارکنوں کی سہولیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کیلئے ہرطرح کی ممکنہ سہولیات فراہم کریں گے۔ آپ مجھے پاکستان کا سعودی عرب میں سفیر سمجھیں۔ ہمارے لیے پاکستان بہت اہم ملک ہے ،پاکستان کیساتھ دوستی اوربھائی چارے کومزیدبڑھائیں گے ،یقین ہے پاکستان سیاحت کے لحاظ سے پرکشش ملک بنے گا، اگلے 20 سال میں پاکستان میں سیاحت کاشعبہ فروغ پائے گا،شہزادہ محمدبن سلمان نے کہا سعودی عرب پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 136 Print Article Print
About the Author: Mehr Basharat Siddiqui

Read More Articles by Mehr Basharat Siddiqui: 18 Articles with 3714 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: