ہندوستانی حکومت کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی

(Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

ہم نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا’’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی اے زنانیاں دی‘‘اس کے بر عکس ہندوستان نے 1965میں کہا تھا ’’ایک دھوکہ کھا چکے ہیں اور کھا سکتے نہیں سر کٹاسکتے ہیں لیکن سر جھاسکتے نہیں‘‘اس شعر کو میری قوم نے اسوقت سے ہی پلے باندھ کر ذہنوں میں محفوظ رکھا ہوا ہے اور اس پر ہم مسلسل کاربند بھی ہیں۔یہ ہی وجہ تھی کہ ہم نے دشمن کو 1998 میں ہی اس بات کا جواب دے کر ساری دنیا کو ورتہِ حیرت میں ڈالدیا تھا اررکاروبار اور بڑی مارکیٹ کے بھوکے،جو ہندوستان کی ہاں میں ہاں ملانے میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہے اور مظلوم کشمیریوں کی انہوں نے کبھی بھی داد رسی نہ کی! یہ ہی وجہ ہے کہ میری شہ رگ پر سات لاکھ ہندو درندہ صفت فوجی بیٹھا کر وہ میرے ہم مذہبوں و ہم وطنوں پر 71 سالوں سے غلامی کی زنجیریں پہنانے کی سرتوڑ کوششیں کرتا رہا ہے،جس کے لئے اس غاصب مملکت نے ظلم و تعدی کا کوئی بھی حربہ اور وار کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔مگر الحمدُ لیلہ ان کشمیریوں کے پائیہ استقلال میں ذرہ برابربھی فرق نہیں آیا۔کشمیر کے لوگ تو پاکستان بننے سے بھی کئی سال پہلے سے یہ نعرہ لگاتے چلے آئے ہیں کہ’’ بٹ رہے کا ہندوستا ن، کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ ساری دنیا کے جغرافیہ دان جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر ہر لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے۔جس کے تمام داخلی و خارجی زمنی راستے پاکستا ن سے ہی ہو کر گذرتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ پلوامہ حملے سے پہلے ہندوستانی فوجیوں نے اپنی حکومت سے منتیں کر کے درخواست کی تھی کہ ہمیں مقبوضہ علاقے میں زمینی راستے سے نہ بھیجا ئے۔مگر چونکہ ہندوستان کا یہ پلانٹیڈ منصوبہ تھا اور وہ خو د الیکشن کمپین کے لئے اپنے سپاہیوں کی لاشیں گرانا چاہتا تھا۔ جس کا بھانڈا خو دبی جے پی کے لوگوں نے ہی پھوڑ دیا ہے۔

ہندوستانی اخبار انڈین ایکسپریس نے نرندر مودی حکومت کے دعوے جیشِ محمد کے ٹھکانے کی تباہی کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ 25 اور 26 فروری کی شب بالا کوٹ پر حملہ کر کے 350 ہلاکتوں کا جودعویٰ ہندوستان کی حکومت کی طرف سے کیا گیا تھا وہ صرف قیاس آرائی پر مبنی تھا! انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ ہندوستان کی ٹیکنیکل اور گراؤ نڈ انٹیلی جینس محدود ہے ۔دوسری جانب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہندوستانیوں کی کسی بھی کاروائی سے پہلے ہی اس کے طیاروں کو الٹے پاؤں فرار پر مجبور کیا تو جاتے جاتے اپنے طیاروں کو ایبٹ آباد میں ہی اَن لوڈ کرکے اپنے بم گرا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے تھے۔جہاں چند درختوں کو گرا کر اپنی بہادری اور کامیابی کا لوہا منوانے پر مصر ہے۔

ہندوستا میں بھرمیں ہر جانب سے مودی کی جنگ کی گیدڑ بھپکیوں کی حرکتوں کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ ہندوستان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اسکالر پرو فیسر اشوک سوائن نے واضح کیا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ ہندوستانی حکومت اور ہمارے میڈیا کا روئیہ ایسا ہے کہ جیسے جنگ ہوا چاہتی ہے۔ موجودہ صورتِ حال سے وقتی طور پر مودی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف بات کرنے سے انہیں سیا سی فادہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح دہلی کے وزیرِ اعلیٰ نے نرندر مودی سے سوال کیا ہے کہ لوک سبھا کی 300سیٹوں کے لئے مودی جی کتنے ہندوستان فوجی مرواؤگے؟ در حقیقت یہ ہندو ستانیوں کی طرف سے مودی کی بد اعمالیوں پر آوازیں ہیں جن کو دبانا ہندوستان کی را کے بس کی بھی بات نہیں ہے ۔ایک ہندوستان نزاد امریکی نے بی جے پی کیودسال پہلے کی تین رہنماؤں کی گفتگو انٹر نیٹ پر جاری کر کے الیکشن کی فتح کے لئے پلوامہ حملے کا پول کھول کے رکھ دیا ہے۔اس گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دو سال قبل ہی یہ منصوبہ تر تیب دیدیا گیا تھا کہ الیکشن کے قریب جنگی ماحول پیدا کر کے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے انتخابات کے میدان میں اترا جائے گا۔مگر مودی کی بد قسمتی کہ اس مرتبہ یہ سازش ناکام ہوئی اور مودی کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔دوسری جانب ہندو میڈیا اسقدر اشتعا ل انگیزی پر اترا ہوا ہے جس سے ہندوستان میں جنگی ماحول پیداکرنے کی کوششیں پروان چڑھائی جا رہی ہیں۔

پاکستان جنگ کے شعلے بھڑکانا نہیں چاہتا ہے ۔کیونکہ پاکستان کو دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ہونے والی جنگ سے دنیا کی تباہی کے واضح اثرات نظر آرہے ہیں۔مودی ہم سے جنگ کا تو متحمل ہو نہیں سکتا ہے۔مگر وہ آنیوالے انتخابات میں اپنی واضح ناکامی کو پسِ آیئنہ دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔جسکی وجہ سے وہ اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی جدو جہد میں پاکستان کے خلاف جنگی ماحول پیدا کر نے میں لگا ہوا ہے۔ جب ہندوستان کو جنگی محاذ پر شکست کا سامنا ہو اوراسکا ایئر اسٹرئک بھی ناکام ہوا۔جس کے بعد دو مگ 19تباہ کروا لیئے اور کی پاکستان کے ہاتھوں ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد مودی کوسبکیپر سُبک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تو اس کے کس بل نکل گئے۔

ہندوستان کے تباہ گئے مگ21 کے پائلٹ ابھی نندن کو ہندوستان اپنا ہیرو ڈکلیئر کرتا رہا ۔مگرجب پاکستان نے جذبہِ خیر سگالی کے طور پر ابھی نندن کو رہا کیا تو ساری دنیا نے پاکستان کے اس عمل کی بھر پور تعریف کی ۔مگر ابھی نندن نے جیسے ہی واگہ بارڈرکراس کیا و ہ ہیرو سے زیرو بنا دیا گیا۔ اور اسے ہندوستان کے اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔یہ ہے ہندوستان کا اپنے لوگوں اور مصنوی ہیروزکے ساتھ اصل چہرہ ۔آج اس مکار دشمن کی سفاکیوں کا اندازہ لگانا کسی طرح بھی دشوار نہیں ہے۔ہندوستان کے جنگی ماحول پیدا کئے جانے کے باوجود بھی پاکستا ن امن کی ہی باتیں کرتا رہا ہے۔

ہندوستان نے پاکستان کو ہر محاذ پر اپنی چالاکیوں سے آج ہی نہیں ہمیشہ سے ہی نیچا دکھانے کی بھر پور کوششیں جاری رکھی ہیں۔مگر اس مرتبہ مودی کی تمام چالاکیاں اور مکاریا ں ہر محاذ پر ناکام رہی ہیں۔موجودہ جنگی ماحول سے پہلے ہندستان کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو اوآئی سی کے پلیٹ فارم پر مدعو کیا جا چکا تھا۔مگرجب ہندوستان نے ہم پر جارحیت کی تو پاکستان نے او آئی سی کے اجلاس کا سشما کی موجود گی بائکاٹ کر دیا تھا ۔ او آئی سی اجلاس کے اختتام پر پاکستان نے اپنا احتجاج ریکارڈ بھی کرایا۔ مگراسکے باوجودجب اوآئی سی اجلا س کا اعلامیہ امار ات کے وزیرِخارجہ شیخ عبداللہ نے پڑھ کر سُنایا تو ہندوستان کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔جس میں مسئلہِ کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک بڑا تنازعہ قرار دیا گیااور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس تنازعہ کو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرائے۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ او آئی سی مظلوم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس اجلاس میں پاکستان کو ایشیا میں انسانی حقوق کا مستقل رکن بھی منتخب کر لیا گیا۔اس طرح او آئی سی کے اجلاس میں ہی نہیں بلکہ عالمی محاذ پر بھی ہندوستان کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ اور پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا مودی کا خواب ہمیشہ کے لئے چکنا چور ہوگیا۔آج ہندستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے،مگر پاکستان نہیں!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 331 Print Article Print
About the Author: Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Shabbir Ahmed Khursheed: 263 Articles with 91206 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: