یہ ہے میرا مسکن جسے کہتے ہیں وادی ہنزہ

(Naik Bano, Rawalpindi/Gilgit)
گلگت بلتستان کی پر بہار وادی سیر و سیاحت کے لئے دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت کی حامل ہے قدرت نے اس وادی کو حسن اور دلکشی کے ان گنت رنگوں سے سجا دیا ہے یہاں کی فضائیں اور مناظر سحر انگیز ہیں برف پوش چوٹیوں ابشاروں، نباتات سے پر،قدرتی صاف وشفاف پانی کے چشموں ،پر شوراور دریا ئے گلگت اس مہکتی وادی کا ہر رنگ اتنا دل پذیر ہے کہ ےہاں انے والا ہر شخص اس کی خو بصورتی مےں کھو جاتا ہے۔

یوں تو دنیا میں خوبصورت جگہوں کی کمی نہیں بہت سے ممالک ہیں جو اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے اپنی مشال آپ ہیں جن کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے لوگ امڈ آتے ہیں ان خوبصورت وادیوں میں سے ایک خوبصورت وادی ہنزہ بھی ہے جس کی خوبصورتی دنیا بھر میں خاص مقام اور خا ص اہمیت رکھتی ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں اور حسین لمحات کو یادگار بنا کے جاتے ہیں۔میرے خیال میں اس خوبصورتی میں شامل وہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی ہے ان کی معصومیت ہے۔ صاف ستھرا ماحول ہے،تعلیم یافتہ اور مہذب ہونا ہے۔جو ہر آنے والے کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو مفلسی میں بھی گھر آئے ہوئے مہمان کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔وہاں کے لوگوں کی خاص خوبی یہ ہے کہ وہاں مہذبانہ رویہ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے.

گلگت ،ہنزہ وہ واحد علاقہ ہے جہاں خوبصورتی کی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔وہاں کے تمام لوگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی وطن پہ جان چھڑکنے سے گریز نہیں کرینگے۔چاہے بزرگ ہو جوان ہو جان کا نذرانہ دینے والے وہاں ملینگے.
دلریش نے کیا خوب کہا ہے۔
بلند و بالا تیری پہاڑیں
سر سبز وشاداب تمھاری کھیتیں
کہیں یہ جھیلیں کہیں آبشاریں
کتنے دلکش ہیں تیرے نظاریں
تجھ کو دیکھا تو بس دل پکارا
ہے بلتستان ہمارا کتنا پیارا۔

تاریخی عمارات اور بلند و بالا پہاڑوں کا مسکن اور ،مہذب لوگوں کے ساتھ۔وطن پرست لوگ
اس وادی کی خوبصورتی میں اہم کردار وہاں موجود تاریخی قلعے بھی ہیں جو ہر آنے والے کو اپنی جال میں پھنسا دیتا ہے لوگ جب بھی قلعے کا دورہ کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس میں ہمیشہ کے لئے بسیرا کریں۔

کیونکہ اس قلعے میں ایک روحانی روشنی کے ساتھ ایک خاص اور دلچسپ تاریخ لوگوں کے لئے موجود ہے۔جو ہر آنے والا اس روشنی میں ہمیشہ کے لئے گم جانا چاہتا ہے۔قدیم تاریخی قلعے تاریخی مقامات،اثار قدیمہ،عمارتیں ،وادیاں،دریا،ندیاں،جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہیں شمالی عللاقہ جات کا تعلق ان خوش قسمت علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بلند و بالا پہاڑ بھی ہیں اور ساتھ وسیع و عریض زرخیز میدان بھی قدرت نے چار موسموں سے نوازا ہے، مختلف میٹھی زبانیں اور اسلامی رواج اور تہوار ،دنیا کا سب سے خو بصورت سیر گاہ موجود ہیں۔

اس خوبصورتی میں وہاں کے کوہسار پہاڑ،دنیا کی چھت دیو سائی ،محاز سیاچن،خوبصورت آبشاریں، خوبصورت جانور ،دنیا کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ خوبصورت میوزیکل زبانیں،ذہانت کے لحاظ سے اعلی تعلیم یافتہ لوگ وہاں موجود ہیں۔اور ساتھ عورتوں کا سب سے زیادہ احترام کرنے والی جگہ دنیا میں سب سے زیادہ سادہ ترین اور مخلص لوگ اس خطے میں موجود ہیں۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی گلگت کی سر زمین پر واقع ہیں اس کے علاوہ راکھا پوشی جسے برفیلی دلہن کہا جاتاہے خوبصورت مناظر کا مظاہرہ کرتے ہوے ہر آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور گلگت بلتستان کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتا ہے۔

شمالی علاقے میں قدرت کے بے شمار حسین نظارے موجود ہیں پہاڑوں کا سلسلہ سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں قدرت کے حسین شاہکاروں میں سے ایک وادی ہنزہ ہے،ہم اکثر دنیا کی اس شوروغل،اس مصنوعی خوبصورتی، سے تنگ آکر کہں دور جانا چاہتے ہیں اس مشینی اور پر تکلف زندگی سے بہت دور کسی ایسی جگہ جہاں سکونہو جہاں ہم اپنی آواز سن سکیں خود سے خود کی باتیں کہ سکیں جو اس برق رفتار زندگی میں کہیں ان کہیں رہ گئیں اس مقصد کے لئے زمین پر جنت کہلائے جانے والی وادی ہنزہ سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔

تاہم اگر دنیا میں کسی کو جنت دیکھنے کی خواہش ہو تو وادی ہنزہ کے حسین سفر کو نکل جائیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 729 Print Article Print
About the Author: Naik Bano

Read More Articles by Naik Bano: 17 Articles with 7978 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: