تاریخ سلطنت مسلمانان ہند

(جاوید صدیقی‎, Karachi)

ہند کی تاریخ پر اگر مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس خطے پر مسلمانوں نے کس انداز میں اور کتنے عرصے تک حکمرانی کی ہے وہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے، زمانہ ماضی کی یادوں اور تحریروں کو بڑی سے بڑی طاقت بھی مٹا نہیں سکتی، موجودہ بھارت بھول گیا ہے کہ آج وہ جس انداز میں دنیاکے سامنے خود کو پیش کررہا ہے کم از کم ایک بار اپنے ماضی کی جانب جھانک لےتو اس میں بسنے والے مدلل، با شعور،تہذیب یافتہ ، پڑھے لکھے ہندو حقیقت سے کم از کم انکار نہیں کرسکیں گے اور موجودہ دور کے جاہل ، اوجھٹ، گنوار قسم کے سربراہوں کے تکلیف دہ عوامل کو اچھی طرح سمجھ لیں گے، بھارت کو انتہا پسندی، خود ساختہ دہشتگردی ہی لے ڈوب رہی ہے ، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ سیکولر ملک میں تمام مذاہب، تمام مسالک، تمام قوموں کو ساتھ لیکر ترقی کی جانب گامزن ہوتے مگرآج کا بھارت چند انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں یرغمال بن گیا ہے ،یہی یرغمالی بھارت کو لے ڈوب سکتی ہے۔ ۔۔معزز قارئین !! ہم جب تاریخ ہند کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے غوری کا دور حکومت نظر آتا ہے اور موجودہ دور نریندر مودی کا ۔۔۔۔ ہندوستان میں کس کس نے اپنی ریاستیں قائم کی تھیں اس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:غوری سلطنت سن گیارہ سو تیرانوے میں قائم ہوئی،سن بارہ سو چھ میں قطب الدین ایبک، سن بارہ سو دس میں آرام شاہ، سن بارہ سو گیا رہ میں التمش، سن بارہ سو چھتیس میں رکن الدین فیروز شاہ ، سن بارہ سو چھتیس میں رضیہ سلطانہ، سن بارہ سو چالیس میں معیز الدین بہرام شاہ، سن بارہ سو بیالیس میں الہ دین مسعود شاہ، سن بارہ سو چھیالیس میں ناصر الدین محمود، سن بارہ سو چھیاسٹھ میں غیاث الدین بلبن، سن بارہ سو چھیاسی میں رنگ کھشرو، سن بارہ سو سینتالیس میں مذدن کے کباد، سن بارہ سو نوے میں سمش الدین کے مرس: غوری سلطنت یہاں اختتام پزیر ہوئی ،اس طرح غوری سلطنت کا دورانیہ ستانوے سال پر محیط تھا، اس کے بعد خلجی سلطنت کا آغاز ہوا۔خلجی سلطنت سن بارہ سو نوے میں جلال الدین فیروزخلجی نےقائم کی ، سن بارہ سو بیانوے میں الہ دین خلجی، سن تیرہ سو سولہ میں شہاب الدین عمر شاہ اورسن تیرہ سو سولہ میں ہی قطب الدین مبارک شاہ، سن تیرہ سو بیس میں ناصر الدین خسرو شاہ ۔خلجی سلطنت اختتام پزیر ہوئی اس طرح خلجی سلطنت کے دور حکومت کا دورانیہ تیس سال کے قریب رہااس کے بعد تغلق سلطنت کا آغاز ہوا، تغلق سلطنت غیاث الدین تغلق کا آغازسن تیرہ سو بیس میں ہوا، سن تیرہ سو پچیس میں محمد بن تغلق، سن تیرہ سو اکیاون میں فیروز شاہ تغلق،سن تیرہ سو اٹھاسی میں غیاث الدین تغلق (دوئم)، سن تیرہ سو نواسی میں ابوبکر شاہ، سن تیرہ سو نواسی میں ہی محمد تغلق (سوئم)، سن تیرہ سو چورانوے میں الیگزینڈر شاہ (اول)، سن تیرہ سو چورانوے ہی میں ناصر الدین شاہ (دوئم)، سن تیرہ سو پچانوے میں نصرت شاہ، سن تیرہ سو ننانوے میں ناصر الدین شاہ (دوئم)،سن چودہ سو سولہ میں دولت شاہ کی سلطنت رہی ان کی سلطنت تغلق خاندان کی آخری تھی اس طرح تغلق سلطنت کا دور حکومت کا دورانیہ تقریباً چورانوے سال تک رہا،سلطنت سعید کا آغاز سن چودہ سو چودہ سے شروع ہوا، سن چودہ سو چودہ میں سعید سلطنت، سن چودہ سو اکیس میں معیزالدین مبارک شاہ (دوم)، سن چودہ سو چونتیس میں محمد شاہ(چہارم)، سن چودہ سو پینتالیس میں الہ دین عالم شاہ کے دور کے بعد سعید سلطنت اختتام ہوا اس طرح اس سلطنت کا دور حکومت تقریباً سینتالیس سال پر محیط رہا،اس کے بعد لودھی سلطنت کا آغاز ہوا، سن چودہ سو اکیاون میں بھلول لودھی، سن چودہ سو نواسی میں الیگزینڈر لودھی (دوم)، سن پندرہ سو سترہ میں ابراہیم لودھی کا دور رہا، اس طرح لودھی سلطنت اختتام پزیر ہوئی گویا لودھی سلطنت کا دور حکومت تقریباً پچہتر سال پر محیط رہا، اس کے بعد مغلیہ سلطنت سن پندرہ سو چھبیس میں ظہیرالدين بابرنے آغازکیا، سن پندرہ سو تیس میں ہمایوں کا دورکے بعد مغلیہ سلطنت اختتام پزیر ہوگئی ، پھر سوری سلطنت قائم ہوئی، سن پندرہ سو انتالیس میں شیر شاہ سوری، سن پندرہ سو پینتالیس میں اسلام شاہ سوری، سن پندرہ سو باون میں محمود شاہ سوری، پندرہ سو تریپن ابراہیم سوری، پندرہ سو چوون میں پرویز شاہ سوری، پندرہ سو چوون میں ہی مبارک خان سوری، سن پندرہ سو پچپن میں الیگزینڈر سوری سوری کی سلطنت اختتام پزیر ہوجاتی ہے، سوری سلطنت کا دور حکومت کا دورانیہ تقریبا ً سولہ سال پر محیط رہا ،مغلیہ سلطنت دوبارہ آغاز ہوتا ہے، سن پندرہ سو پچپن میں ہمایوں دوبارہ گدی نشین ہوا،سن پندرہ سو چھپن میں جلال الدين اکبر، سن سولہ سو پانچ میں جہانگیر سلیم، سن سولہ سو اٹھائیس میں شاہ جہاں، سن سولہ سو انسٹھ میں اورنگ زیب، سن سترہ سو سات میں شاہ عالم (اول)، سن سترہ سو بارہ میں بہادر شاہ، سن سترہ سو تیرہ میں پھارو کھشیر، سن سترہ سو انیس میں ریپھد راجت، ریپھد دولا،کشييار اور سترہ سو انیس میں ہی محمود شاہ رہے، سن سترہ سو اڑتالیس میں احمد شاہ، سن سترہ سو چون میں عالمگیر، سن سترہ سو انسٹھ میں شاہ عالم، سن اٹھارہ سو چھ میں اکبر شاہ، سن اٹھارہ سو سینتیس میں بہادر شاہ ظفر یعنی مغلیہ سلطنت کااختتام ہوا، مغلیہ سلطنت کا دور حکومت تین سو پندرہ سال کے لگ بھگ رہے،اس کے بعد برطانوی راج کا آغاز ہوا، سن اٹھارہ سو اٹھاون میں لارڈ گینگ ، اٹھارہ سو باسٹھ میں لارڈ جیمز بروس یلگن، اٹھارہ سو چونسٹھ میں لارڈ جھن لورینش، سن اٹھارہ انہتر میں لارڈ رچارڈ میو، اٹھارہ سو باہتر لارڈ نورتھبک،اٹھارہ سو چہترلارڈ ایڈورڈ لٹین، سن اٹھارہ سو اسی میں لارڈ جيورج ریپن، سن اٹھارہ سو چوراسی میں لارڈ ڈفرین، سن اٹھارہ سو اٹھاسی میں لارڈ ہنني لےسڈون، سن اٹھارہ سو چورانوے میں لارڈ وکٹر بروس یلگن، سن اٹھارہ سو ننانوے میںلارڈ جيور ج کرجھن، سن انیس سو پانچ میں لارڈ گلبرٹ منٹو، سن انیس سو دس لارڈ چارلس ھارڈج ، سن انیس سو سولہ میں لارڈ فریڈرک سےلمسپھور ڈ، سن انیس سو اکیس میں لارڈ ر کس ايجک رڈيگ، سن انیس سو چھبیس میں لارڈ ایڈورڈ ارون، ان انیس سو اکتیس میں لارڈ پھرمین ویلگدن، سن انیس سو چھتیس میں لارڈ ایلگزڈ لنلتھگو، سن انیس سو تینتالیس میں لارڈ ار کبالڈ ویویل، سن انیس سو سینتالیس میں لارڈ ماؤنٹ بینٹن بر طانوی سامراج کا اختتام ہوا ،پھر بھارت میں وزرائے اعظم کا سلسلہ شروع ہوا،سن انیس سو سینتالیس میں سب سے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو تھے، سن انیس سو چونسٹھ میں گلزاری لال نندا، انیس سو چونسٹھ میں ہی لال بہادر شاستری، انیس سوچھیاسٹھ میں ایک بار پھر گلزاری لال نندا، انیس چھیاسٹھ میں اندرا گاندھی، سن انیس سو ستتر میں مرارجی ڈیسائی، سن انیس سو نواسی میں چرن سنگھ، سن انیس سو اسی میں ایک بار پھر اندرا گاندھی، سن انیس سو چوراسی میں راجیو گاندھی، سن انیس سو نواسی میں وشوناتھ پرتاپسہ، سن انیس سو نوے میں چندرشیکھر، سن انیس سو اکیانوے میں پيوينرسہ راؤ، سن انیس سو بیانوے میں اٹل بہاری واجپائی، سن انیس سو چھیانوے میں چڈيدے گوڑا، سن انیس سو ستانوے میں ایل کےگجرال، سن انیس سو اٹھانوے میں دوبارہ اٹل بہاری واجپائی، سن د ہزار چار میںمنموھن سنگھ، سن دوہزار چودہ میں نریندر مودی ۔۔۔ معزز قارئین!! سات سو چونسٹھ سالوں تک مسلم بادشاہت ہونے کے باوجودبھی ہندو، ہندوستان میں باقی ہے،تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے کبھی بھی ہندوؤں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیااور ہندوں کو اب تک سو سال بھی نہیں ہوئے اور یہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، موجودہ دور بھارت سیکیولر نظام سے نکل چکا ہے ،بھارتی ریاستوں میں انتہا پسند ہندوؤں کا غلبہ جاری ہے ، قارئین کو یاد ہوگا کہ برما میں مسلمانوں پر جس قدر ظلم و بربریت کے پہاڑ کھڑے کیئے گئے تھے ان سب کے پیچھے بھی بھارتی انتہا پسند دہشت گرد ہندوؤں کی جماعت اور گروہ کی کارفرمائی تھی، ایک طرف پاکستان ہے جہاں اقلیتیوں کے حقوق کا مکمل خیال کیا جاتا ہے دوسری جانب بھارت ہے جہاں اقلیتوں کا جینا محال ہے، بھارت کے اقلیتی جماعتوں کو اپنی بقا کیلئے یکجا ہونا پڑیگا اور انتہا پسند دہشت گرد ہندو جماعت اور ان کے کارندوں کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑا ہونا پڑیگا بصورت یہ ظالم و جابر انتہا پسند اور دہشت گردان کی عبادت گاہوں کو مسمار کردیںگے، ان کی عزتوں کا جنازہ نکال دیں گے اس کی سب سے بڑی مثال جموں کشمیر ہے جہاں ستر سالوں سے بھارت ان کے حقوق سلب کیئے بیٹھا ہے اور اب تو مکمل دہشت گردی کا بازار گرم کیئے ہوئے ہے، نہتے کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا جارہا ہے ،دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں ، کشمیر اور فلسطین یہ دونوں مسلم اکژیتی علاقے ہیں جہاں غیر مسلم بربریت کا پہاڑ کیئے ہوئے ہیں، بھارت اسرائیل کے چکر سے باہر نہیں نکلا تو یہ خود بھارت کیلئے تباہی و بربادی کا ساماں ہوگا ،اللہ ہم سب مسلمانوں اور خاص کر مسلم ملکوں میں اتفاق و اتحادکیساتھ قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثما آمین ۔۔۔۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 366 Print Article Print
About the Author: جاوید صدیقی‎

Read More Articles by جاوید صدیقی‎: 306 Articles with 129328 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: