”رات کا طوطا“

(Irfan Mustafa Sehrai, Lahore)
تحریک انصاف ہر بڑی پارٹی کو ختم کرنے کے در پر کمر بستہ ہے ۔کیا یہ سوچ ملک و عوام کی بہتری کے لئے ہے؟اگر ابھی بھی انہوں نے اپنی کنٹینر والی روش نہ بدلی،تو ان کا حال بھی ”رات کے طوطے “کی طرح ہی ہو گا،جس کی نسل ختم کر کے رکھ دی جائے گی اور سو سال تک نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔

”رات کا طوطا“ کے متعلق خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کی نسل ختم ہو چکی ہے،کیونکہ وہ کئی عشروں سے کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا،لیکن سو سال تک نظروں سے اوجھل رہنے کے بعد ”رات کا طوطا“ایک بار پھر اسٹریلیا میں دکھائی دیا ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رات کے طوطے کی نسل تقریباً33لاکھ سال پہلے دوسرے طوطوں سے الگ ہو گئی تھی۔اسے رات کا طوطا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ عام طوطوں اور پرندوں کے برعکس خوراک کی تلاش میں رات کے وقت باہر نکلتا ہے ۔یہ طوطا جسامت ،رنگت اور ساخت کے اعتبار سے سبز رنگ کے عام طوطوں سے کافی مشابہت رکھتا ہے ۔

ایم کیو ایم بھی ”رات کے طوطے“کی طرح کی پارٹی ہے ،کبھی غائب اور کبھی نمودار ہو جاتی ہے۔الطاف حسین کے بعد فاروق ستار نے ریاست پاکستان سے ایک موقع مانگا،لیکن ایم کیو ایم کے ممبران میں الطاف حسین کی لا تعلقی سے شکوک ایسے بڑھے کہ بہت سے رہنما پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ۔فاروق ستار کہتے تھے کہ الٹا پہیہ گھومے گا،مگر فاروق ستار کا اپنوں نے ہی اپنا پہیہ گھما دیا۔ماضی کی طرح اس بار ایم کیو ایم کا سیاست سے رول ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ،بلکہ انہیں ٹکڑوں میں بانٹ کر ان کی نسل کشی کر دی گئی ۔کراچی کی ترقی اور مہاجر کی خوشحالی کے دعوے کرنے والی ایم کیو ایم کراچی میں ہر سانحہ اور ہر واقعہ میں ملوث ہونے کے الزام کی زد میں رہی ہے ۔لیکن ان کے خلاف کوئی بڑا فیصلہ بھی نہیں آتا،ہر فیصلے کو مصلحت کے قالین کے نیچے دبا دیا جاتا رہا ہے ۔بلدیہ فیکڑی میں بھتہ نہ دینے پر سیکڑوں بے گناہ ورکروں سمیت فیکڑی کو کوئلہ بنانے کا اندوہناک واقعہ یا 12مئی 2007ءکو خونکی ہولی کے بعد سینکڑوں کراچی والوں کی لاشیں ،ٹارچر سیل،اغوا برائے تاوان ، کھلے عام بھتہ خوری ،سیاسی مخالفین کی سرکوبی اور یہاں تک کہ شہر میں محض خوف کی فضا قائم رکھنے کے لئے ہزاروں افراد کے قتل کے الزامات متحدہ کی تاریخ ہے ،جسے کیوں بھلا دیا گیا ہے ؟کیونکہ اب یہ لوگ تحریک انصاف حکومت کے اتحادی ہیں ۔جس ایم کیو ایم کے خلاف ثبوتوں کے صندوق بھر کر لندن لے جانے والے عمران خان نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے اسی ایم کیو ایم کو سینے سے لگا رکھا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی عوام سے غداری کہ سیاسی مصلحتوں کے لئے مسلم لیگ (ق) کو گلے کا ہار بنا لیا ،پہلے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے ڈاکو کہتے نہیں تھکتے تھے۔ایم کیو ایم کی سیاست یا مجبوری ہے کہ اسے حکومت کی سیاسی پارٹی بن کر رہنا ہے ،ورنہ ان کے کاندھوں پر جرائم کی تفصیل انہیں زندہ درگور کرنے کے لئے کافی ہے ۔متحدہ قومی مومنٹ پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو ان کے ساتھ ،مسلم لیگ (ن)کا دور آیا تو ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا لیا ،اب قلابازی کھائی اورتحریک انصاف کی گود میں آپڑی ہے ،اسے کراچی سے غرض ہے اور نہ ہی مہاجروں کا دکھ کھائے جا رہا ہے ،اسے صرف وزارتیں چاہیں ، جب تک سیاسی مصلحت کا شکار ریاستی عنصر موجود ہیں،ان کے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے ۔ماضی کی غلطیوں کو درست کئے بغیر متحدہ کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو ایک ایسے کنارے لگا دیا گیا ،جہاں ایک بار پھر ظلم کی گھٹائیں کراچی والوں پر گرج برس رہی ہیں ۔

تحریک انصاف ہر بڑی پارٹی کو ختم کرنے کے در پر کمر بستہ ہے ۔کیا یہ سوچ ملک و عوام کی بہتری کے لئے ہے؟پیپلز پارٹی وفاق کی بڑی پارٹی تھی ،مگر ان کی قیادت کی غلطیوں نے انہیں سندھ تک محدود کر دیا ہے ۔لیکن آج بھی پیپلز پارٹی کو ہلکا لینا یا اسے ہلکا کرنے کی کوشش کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے ۔بلاول بھٹو ٹرین مارچ کر رہے ہیں ،انہیں یہ موقع حکومت نے دیا ہے ۔تحریک چند افراد کے جمع ہونے سے ہی شروع ہوتی ہے جو قوموں کی تحریک بن جاتی ہے ۔سیاست میں چند درجن افراد کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑانے والا انتہائی بےوقوف ہوتا ہے ۔تحریک انصاف کیا تھی؟چند لوگ ہوتے تھے،وہ بھی عمران خان کو دیکھنے والے،جن کا سیاست سے دور کا لینا دینا نہیں تھا۔آج وہ حکمران پارٹی ہے۔پیپلز پارٹی کی ملکی سیاست میں جڑھیں بہت مضبوط ہیں ،کیونکہ پاکستانی شخصیت پرست قوم ہے ، ”بھٹو“کے نام کا حصار کسی صورت کم نہیں کیا جا سکا۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بعد ان کا بیٹا بلاول بھٹو سیاست میں جلوہ گر ہوا ہے ۔یہ ایک پڑھا لکھا اور جمہوری روایات کو سمجھنے والا نوجوان ہے ،جس سے عوام نے بہت سی امیدیں وابسطہ کر لی ہیں ۔عمران خان حکومت میں آ کر سیکھ رہے ہیں ،مگر پیپلز پارٹی کا طرہ امتیاز رہا ہے کہ ان کے پاس سیاسی اساتذہ کی بھرمار ہے اور ان کی مشاورت کافی مضبوط ہوتی ہے ۔اس لئے بلاول بھٹوکا ٹرین مارچ پاکستان کی سیاسی مستقبل میں تبدیلی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے ۔

عمران خان کو پرانی عوامی مقبولیت کی سوچ سے باہر آ کر حقیقت پر توجہ دینا ہو گی ۔آج انہیں عوامی مسائل کا بہت کم اندازہ ہے ۔ان کے مشیران سب اچھے کی آوازیں لگا رہے ہیں ، مشاورت نہ ہونے کے برابر ہے ۔نا اہلی اور نا تجربہ کاری کیبنٹ کی خاص خصوصیات ہیں ۔پی ٹی آئی کی حکومت میں مہنگائی ،بے روزگاری اور معاشی بدحالی ماضی سے کہیں زیادہ ہے ،مگر قیادت اپنے مزے میں ہے ۔کرپشن کے خاتمے کا دعوہ کرنے والے خود کرپشن کر رہے ہیں ۔ عمران خان کے مشیران بلاول بھٹو کو بچہ سمجھ کر توجہ آصف علی زرداری کی جانب دے رہے ہیں ،مگر شاید کنگ میکرز کی بلاول بھٹو پر گہری نظر پڑ گئی ہے ۔ان کا یہ فیصلہ درست بھی ہے ،کیونکہ ملک کو نئی قیادت کی ضرورت ہے اور جواں سال قیادت ہی ملک کے لئے بہترین ثابت ہوگی ۔دوسری جانب مریم نواز میں بھی قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں ۔لگتا ہے کہ مستقبل کی باگ دوڑ بلاول بھٹو اور مریم نواز کے پلڑے میں پڑیں گی ۔تحریک انصاف کا انجام مسلم لیگ (ق) سے بھی بُرا ہو گا ،اگر ابھی بھی انہوں نے اپنی کنٹینر والی روش نہ بدلی،تو ان کا حال بھی ”رات کے طوطے “کی طرح ہی ہو گا،جس کی نسل ختم کر کے رکھ دی جائے گی اور سو سال تک نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 258 Print Article Print
About the Author: Irfan Mustafa Sehrai

Read More Articles by Irfan Mustafa Sehrai: 119 Articles with 29320 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: